جاری ہے زباں پر صفت شاہ امم

عبدالرشید طلحہ نعماؔنی

’’نعت ‘‘ ادب کی جملہ اصناف میں سب سے محترم ومکرم ،محبوب وپاکیزہ اور تقدس مآب وعمدہ صنف ِ سخن ہے، جو اپنی ابتدائے آفرینش ہی سے سرور دوعالم ﷺکی مدح وتعریف اور ثناء وتوصیف کے اظہار وابلاغ کا اہم وسیلہ سمجھی جاتی ہے، یو ں تو نعت کی ابتداء روز میثاق النبیین ہی سے ہوگئی تھی لیکن باضابطہ اس مقدس صنف کا آغاز بعثت رسول ﷺکے بعد ہوا، تاریخ اسلام میں تین نعت گو اصحاب ِ رسول حضرت حسان بن ثابت ؓ ،حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور حضرت کعب بن زہیر ؓ ’’شعرائے رسول الثقلین ‘‘ کے مہتم بالشان لقب سے یا د کئے جاتے ہیں ، ان حضرات کے علاوہ دوسرے صحابہ کرامؓ نے بھی مدحت ِ سرکار ﷺکے خوب صورت گل بوٹے کھلائے جن کی خوشبو مشام ِ جان وایمان کو معطر کررہی ہیں اور کرتی رہے گی۔
غالباً’’نعت‘‘ ہی وہ واحد صنف سخن ہے جس کے آغاز کا زمانہ بہت آسانی ،وثوق اور وضاحت کے ساتھ متعین کیا جاسکتا ہے جس کی بے شمار فضیلتو میں سے ایک اہم فضیلت یہ بھی ہے کہ آج تک کی محفوظ انسانی تاریخ میں بلکہ اظہار خیال کے سب سے بڑے ذرائع کو ملاکر کسی بھی فرد واحد کی مدح میں اس انداز ومقدار میں نہیں لکھا اور بولا گیا جتنا ہمارے رسول عربی فداہ ابی و امی ﷺکی شان میں لکھا اوربولاگیا ہے کہ ان کی تعریف دنیا کی تقریباً ہر اس زبان میں کی گئی ہے جس کے بولنے والوں میں مسلمان شامل ہیں اور اس صنف کو یہ اختصاص بھی حاصل ہے کہ بہت سے غیر مسلم شاعروں نے بھی نعت کی شکل میں آپ ﷺسے عقیدت اور محبت کا والہانہ اظہار کیا ہے، عقیدت اور محبت کے اعتبار سے توان بے شمار نعت گو شعراء کی درجہ بندی اس لیے مناسب نہیں کہ یہ دلوں کا معاملہ ہے جس کافیصلہ دماغ یا اعدادوشمار یا کسی اور پیمانے سے کیا ہی نہیں جاسکتا، البتہ طرز نگارش ،پیرایۂ اظہار ،مضمون آفرینی ،جذبات کی شدت اورفنی مہارت وغیرہ ایسے شعبے ہیں جن کی بنیاد پر ہر دور میں کچھ مداحان ِ رسول اایک خاص پہچان کے مالک بن گئے ہیں ۔
تیرہویں صدی عیسوی میں ایک شاعر شرف الدین محمد بن سعید البوصیری پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی شاعری میں مدح نبوی ﷺکے بہت اعلی نمونے پیش کئے ،1255ء میں وہ حج بیت اللہ اور روضۂ نبوی ﷺکی زیارت سے مشرف ہوئے اورواپس آکر انہوں نے جو نعتیہ نظمیں کہیں، ان میں ان کا قصیدہ بردہ نعت کی پوری تاریخ میں امتیازی مقام رکھتاہے ،شاعر بوصیری کے بعد بھی عربی زبان میں نعتیں کہی جاتی رہیں اور یہ نعتیں کہنے والوں میں صوفی ابن الفارض (1235ء)مورخ ابن خلدون (1406ء)اور شاہ ولی اللہ دہلوی (1760ء )جیسے کچھ مشہور نام ہیں، لیکن مدح نبوی ﷺمیں بہت خوبصورت اضافہ چار پانچ صدیوں کے بعد مصر کے شاعر دربار احمد شوقی نے کیا جو علامہ اقبال کے ہم عصر تھے۔
نعت کی یہ روایت عرب سے چل کر پہلے ایران اور پھر ہندوستان میں پہنچی ،ایران میں نعت کے موضوع پر بڑے بڑے باکمال شاعروں نے فارسی میں نظمیں کہیں،ان شعراء میں سنائی، خاقانی، نظامی، گنجوی، خواجہ فریدالدین عطار، مولانا جلال الدین رومی، شیخ سعدی شیرازی اور جامی جیسے بڑے بڑے نام شامل ہیں،بالخصوص ماضی قریب میں علماء دیوبندنے سرکاردوعالم ﷺکی شان ِ اقدس میں جو گلہائے عقیدت پیش کئے وہ تو تاریخ کا ایک روشن باب اور بلند مینارہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،اردو زبان میں نعت نگاری کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود اردو شاعری پرانی ہے،چناں چہ اس کے ابتدائی نمونے اردو شاعری کے اوئل زمانے میں بھی دکھائے دیتے ہیں۔
اس صنف کو مسلسل اور باقاعدہ طور پر ذریعہ اظہار بنانے والے نامور مرحوم شاعروں میں محسن کاکوری ،مولانا حالی، امیر مینائی، علامہ اقبال ، حفیظ جالندھری، مولانامحمد علی جوہر اور جگر مرادآدی وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
محسن کاکوروی(متوفی1905ء):محسن کاکوروی کا شمار ان سعادت مند ،نیک بخت اور خوش قسمت شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تمام تر شاعرانہ صلاحیتیں اور بصیرتیں نعتیہ ادب کے فروغ وارتقاء کے لیے وقف کردیں، فطری اعتبار سے آپ نیک متقی ،پرہیز گاراور پاکیزہ طبیعت کے حامل تھے، دل عشق رسول ﷺسے مجلّٰی ومحلّٰی تھا، اسی لیے ان کے قلم سے نکلا ہوا ہر شعر کیف ومستی اور سوز وگداز میں ڈوباہوا نظر آتا ہے، محسن نے زیادہ تر نعتیہ کلام قصیدے کے انداز میں قلم بند کیے، آپ کے یہاں دیگر شعراء کی طرح خیالات کی بے راہ روی نہیں ملتی، آپ نے محض سولہ سال کی عمر میں ایک شان دار نعتیہ قصیدہ لکھا جو خیالات کی پاکیزگی ،جذبات کی صداقت ،ندرت بیان اور تعظیم ومحبت کے حددو میں قائم رہنے کی وجہ سے ایک شاہ کا ر قصیدہ سمجھا جاتا ہے ، محسن کاکوروی کا قصیدہ’’سراپائے رسول‘‘ بھی کا فی مقبولیت رکھتا ہے، محسن نے قصائد کے علاوہ کئی مذہبی مثنویاں بھی لکھیں ان کے شعری سرمایہ کی تفصیل یہ ہے:
قصائد:(1)گلدستۂ رحمت،2)ابیات نعت،3)مدیح خیر المرسلین،4)نظم دل افروز،5)انیس آخرت
مثنویات:(1)صبح تجلی(2)چراغ کعبہ(3)شفاعت ونجات(4)فغان محسن(5)نگارستان الفت
محسن کی شعری کائنات ،فکری پاکیزگی ،بلند نگاہی ،ندرت بیان اور نادر تشبیہات واستعارات ،اور عمدہ ترکیب سازی کی وجہ سے ایک خصوصی اور انفرادی اہمیت کی حامل ہے،لیکن انھیں شہرت اپنے قصیدۂ لامیہ (سمت کاشی سے چلاجانب متھرا بادل )کی وجہ سے ملی۔
’’صبح تجلی‘‘ میں رسول اکرم ﷺ کی ولادت پاک کا ذکر جمیل بہت ہی حسین اور خوب صورت شاعرانہ انداز میں اس طرح کیا ہے:
بیضاوی صبح کابیاں ہے
تفسیر کتاب آسماں ہے
سبزہ ہے کنارآب جو پر
یا خضر ہے مستعد وضو پر
محسن کی ابتدائی شاعری دیکھ کر انداز ہو تا ہے کہ اگر وہ زلف ورخسار،گل وبلبل اور جیب وگریباں کی شاعری کرتے تب بھی ان کا شمار اپنے دور کے اساتذہ ٔفن میں ہوتا مگر ان کے طالع بیدار نے انہیں محفل اقدس میں پہونچادیا اور نعتیہ شاعری میں انہیں وہ منفرد مقام حاصل ہوا کہ وہ شعراء کی صف اول ہی میں نہیں بلکہ صدر نشین پر آکر زبان حال سے گویا ہوئے
جگہ خالی کرو مداح آتا ہے محمد کا
محمد علی جوہر (متوفی 1931 ء):دست قدرت نے مولانا محمد علی جوہر کو قیادت وسیادت ،خوداعتمادی وخودداری اور مجاہدانہ کردار وحوصلہ مندانہ عزم واستقلال جیسے بیش بہا کمالات کے ساتھ ساتھ شاعری کی نعمت عظمی سے بھی سرفراز فرمایا ، ان کی شاعری میں مرکزیت ؛ جذبہ عشق ہی کے ذریعہ پیدا ہوئی ، یہ عشق وطن کا ،ملت اسلامیہ کا ، اور آزادی ٔ ہند کا عشق ہے ۔۔۔۔غیر مشروط اور ہر طرح کے تحفظات سے مبرا ۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ مشاہدہ ٔ حق کی وہ گفتگو ہے جو بادہ وساغر کی پیرایۂ رنگین میں بیان ہوئی اور اس میں سرشاری اور سرمستی کی والہانہ اور بے تابانہ کیفیت ہے ، یوں تو اس میں جیب وداماں کی شکایت بھی ہے اور زلف پریشاں اور ابرومژگاں کی حکایت بھی؛ لیکن وحشی کو جس ناقہ لیلی کی تلاش ہے اس کا راز غزل کو پوری فضا کو نظرمیں رکھنے سے کھلتا ہے ان غزلوں میں اکثر وبیشتر اشعار لخت لخت نہیں بلکہ ان میں ایک مسلسل کیفیت ہے ، نہ صرف روانی ، تسلسل، بہاؤاور جذباتی ترفع کی بلکہ اس معنیاتی فضاء کی بھی جس کی شیرازہ بندی مولانا کے تصور ملی اور جذبہ حریت سے ہوئی ہے ، ان غزلوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ان کی مجموعی فضا اور قومی وسیاسی محرکات کونظر میں رکھنا بہت ضروری ہے ، یہ قومی عاشقانہ کیفیت اتنی عام ہے کہ محمد علی جوہر کی غزلوں کو کہیں سے بھی دیکھئے ان میں حدیث قوم ووطن کو سردلبراںکے پیرایے میں بیان کرنے کا یہی دلنواز اورلطیف انداز ملے گا، ان سب کے ساتھ ساتھ جوہر کی نعتیہ شاعری بھی ایک امتیازی شان رکھتی ہے ، ان کی نعت خوانی کے منفرد انداز کی ا س طرح تعریف وستائش کی گئی کہ جو ہر کی نعتیہ شاعری جملہ نعتیہ شاعروں کے لیے ایک ماڈل اور معیار کے مترادف بن گئی ،مولانا نادریابادیؒ اس سلسلے میں یوںرقم طراز ہیں:
’’نعت گو شعراء اردو میں کثرت سے ہوچکے ہیں اور بعض کو شہرت عام ،سند امتیاز بھی دے چکی ہے، مثلاً محسن کاکوروی ، آسی غازیپوری لیکن ان حضرات نے عموما مناقب کے صرف خارجہ پہلوؤں پر قناعت کی ہے، او ران کو بھی کثرت تکرار نے کسی قدر بے لطف بنادیا ہے، رخ انور کی تابانی ، گیسوئے اقدس کی سیاہی ،ابروئے مبارک کی کجی وغیرہ گنتی کے چند بندھے ہوئے مضامین ہیں کہ انہی کوالٹ پھیر کر یہ حضرات ہمیشہ باندھتے رہتے ہیں ، جوہر کی شاعری چوںکہ رسمی اور تقلید ی نہیں ، اس لیے انہوں نے اس باب میں بھی اپنے لیے نئی راہ کا انتخاب کیا یعنی بجائے خارجیت کے داخلیت کو اپناموضوع بنایا اور بجائے آثار وشمائل کی نقاشی کے جذبات وواردات کی ترجمانی کی، محمد علی کا اصل موضوع حسن کی رعنائی ، جمال کی زیبائی نہیں بلکہ وہ دل کی چوٹ ،عشق کی تڑپ ،جذبات کے سوز کو سامنے رکھ دیتے ہیں اور یہی ان کے کلام کی تاثیر کا راز ہے: ؎
ہر آن تسلی ہے ہرلحظہ تشفی ہے ہر وقت ہے دلجوئی ہر دم ہیں مداراتیں
معراج کی سی حاصل سجدوں میں ہے کیفیت اک فاسق وفاجر میں اورایسی کراماتیں
بے مایہ سہی لیکن شاید وہ بلا بھیجیں ،بھیجی ہیں درودوں کی کچھ ہم نے بھی سوغاتیں
(مکتوب سلیمانی جلداول ص:186)
علامہ اقبال (متوفی 1938ء):شاعر مشرق علامہ اقبال جہاں ایک معروف مصنف ،مشہور سیاست داں اور عظیم صوفی تھے وہیں ایک متصلب موحد،متفکر رہنما او ر سچے عاشق رسول بھی تھے ، اقبال کو حضورا سے جو والہانہ عشق ومحبت تھی اس کا اظہار اردو اور فارسی کی متعدد نظموں سے ہوتا ہے ،اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسول ا کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا ، اقبال کی طبیعت میں سوزوگداز اورحب رسول اس قدر کوٹ کوٹ کر بھراہوا تھا کہ جب کبھی آپ کے سامنے ذکر رسول ہوتا تو آپ بے کل وبے تاب ہوجاتے اور دیرتک روتے رہتے ،’’روزگار فقیر‘‘ میں سید وحید الدین لکھتے ہیں :’’ اقبال کی شاعری کا خلاصہ: جوہر اور لب لباب عشق رسول اور اطاعت رسول ہے، ان کے قلب وجگر کو عشق رسول نے گداز کررکھا تھا،زندگی کے آخری زمانے میں یہ کیفیت اس انتہاء کو پہنچ گئی تھی کہ بہ وقت ذکرِ رسول ہچکی بندہ جاتی ،آواز بھرا جاتی اور و ہ کئی کئی منٹ سکوت اختیار کرلیتے ؛تاکہ اپنے جذبات پر قابو پاسکیں۔
یہ عشق نبوی کا ہی فیض تھا کہ یورپ میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے باوجود اقبال ،دین محمدی سے منحرف نہ ہوئے اور نہ ان کے مشرقی اقداروافکار میںذرہ برابر تبدیلی واقع ہوئی ؛ اس لئے جب وہ وہاں سے لوٹے تو اسی طرح عشق رسول سے سرشار تھے اور زبان حال سے کہہ رہے تھے: ؎
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے مری آنکھ کا خاک مدینہ ونجف
اردو زبان میں بھی اقبال کے کئی ایک اشعار وہ ہیں جنہیں رسول اکرم ا کی مدح سرائی اورثناء خوانی کا شرف حاصل ہے مثلاً : ؎
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

قوت عشق سے ہرپست کو بالاکردے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے

ہونہ ہو یہ پھول توبلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہوتوپھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہوتم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

وہ دانائے سبل ختم الرسل ،مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادئی سینا

نگاہ ِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰس وہی طہٰ
خلاصہ یہ کہ عشق رسول اقبال کی رگ رگ میں سرایت تھا، جہاں بھی ہوتے مدح رسول سے خود کو قوت وتوانائی بخشتے
محترم حکیم احمد شجاع جو علامہ اقبال کی خدمت میں اکثر حاضر ہوا کرتے تھے ، انھوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اقبال حضور علیہ السلام کی ذات اقدس سے کس درجے والہانہ محبت اور بے پناہ عشق رکھتے تھے ، یہ واقعہ دیکھنے اورپڑھنے میں بہت مختصر ہے مگر حقیقت میں عشق ومحبت کا دفتر بے پایاں ہے۔
ایک روز حکیم صاحب موصوف علامہ کے مکان پر پہنچے تو علامہ کو بہت زیادہ فکر مند، مغموم اور بے چین پایا، حکیم صاحب نے گھبراکر دریافت کیا خیریت تو ہے ؟ آپ آج خلاف معمول بہت زیادہ مضطرب اور پریشان نظر آتے ہیں، علامہ نے خاص انداز میں نظریں اوپر اٹھائیں اور غم انگیز لہجے میں فرمایا: احمد شجاع یہ سوچ کر میں اکثر مضطرب اور پریشان ہوجاتا ہوں کہ کہیں میری عمر رسول اللہ کی عمر سے زیادہ نہ ہوجائے ۔
واضح رہے کہ علامہ مرحوم کی تاریخ پیدائش 9 ؍نومبر 1877ء ہے اس حساب سے1938ء میں انتقال کے وقت اس عاشق رسول کی عمر رسول اکرم کے سن مبارک سے دوسال کم تھی یعنی61 تھی گویا اللہ تعالیٰ نے علامہ کی اس تمنا اور دعا کو قبول فرمالیا۔
رسول اللہ ﷺسے علامہ اقبالؒ کی بے انتہاوارفتگی اور بے پایاں عشق کا احساس ان کے صاف وشفاف کلام کے ہر پیرایہ سے جھلکتا نظر آتا ہے، ان کا ایک قطعہ تو ایسے کمال عشق کا مظہر ہے کہ جس کی مثال خال خال ہی مل سکتی ہے ، بہ روز ِ محشر نبی کریم ا کا مقام عظمت اور اپنی کم مائیگی وانکساری شاید اس سے بہتر الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا :
توغنی از ہر دوعالم من فقیر
روز محشر عذر ہای من پذیر
ورحسابم راتوبینی ناگزیر
از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر
الغرض علامہ اقبالؒ جس عشق وسرمستی کی بات کرتے ہیں یہ سرشاری اور سرمستی آفتاب مصطفوی کے انوار وتجلیات کی ایک کرن ہے جب تک اس کا سوز انسان میں ہے اسی وقت تک اسے حقیقی زندگی میسر ہے، یہی وہ قوت ہے جس سے یقین وایمان میں پختگی آتی ہے ، افکار واقدار کا تحفظ ہوتا ہے اور ایک مومن ، اتباع وانقیاد کی صفت سے آراستہ وپیراستہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبالؒ کی زندگی اور ان کی شاعری محبت رسول کے جذبے سے مملؤ ومعمور ہے ،ذات محمدی تک رسائی کو ہی وہ سراپا دین وایمان قراردیتے ہیں ، اس کے علاوہ سب کچھ ان کی نظروں میں بولہبی اور بے دینی ہے :
بہ مصطفی بہ رساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ اونہ رسیدی تمام بولہبی است
جگر مرادآبادی:(متوفی 1960ء):بیسویں صدی کے نصف اول میں غزل کی زلفیں سنوار کر ’’رئیس المتغزلین ‘‘ او ر’’شہنشاہ غزل ‘‘ کا خطاب پانے والے اردو کے معروف شاعر جگر مرادآبادی بھی ان نیک بخت، خوش قسمت اور قابل قدر شعراء میں ایک ہیں ؛ جنہوں نے اردو غزل کی تمام صالح روایات کو جذب کرکے انہیں ایک لطیف تبسم، حسین آہنگ اور دلکش رمز عطا کیا خاص کر سرکاردوعالم ا کی تعریف وتوصیف میں جگر نے جو کچھ کہا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جگر مرادآبادی ، ایک پاکیزہ شخصیت ، ایک حساس دل اورایک دردمندنگاہ رکھتے تھے ، اردو زبان کے مشہور ادیب اور مفکر رشید احمد صدیقی مرحوم بیان کرتے ہیں کہ حالت خمار میں بھی جگر کے منہ سے کوئی ناشائستہ بات اور قابل گرفت جملہ نہ نکلتا ،وہ شراب کے نشے میں بڑے رکھ رکھاؤ کے قائل تھے، جب نشہ زیادہ گہرا ہوجاتا تو چپ چاپ ایک طرف ہوجاتے اور کسی سے کلام نہ کرتے، ایسے حال میں کوئی دین یا علماء دین کے خلاف کوئی بات کرتا تو حال سے بے حال ہوجاتے اور بدمستی کا پورا زور اس پر صرف کردیتے، اس طرح کے بہت سے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جگر صاحب میں حب دین کا جذبہ بہت غالب تھا، ان کی دین دوستی کی شہادت علامہ سید سلیمان ندوی جیسے بلندپایہ محقق نے دی ہے۔
قیام پاکستان سے پہلے کا واقعہ ہے کہ اجمیر میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر مرادآبادی کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، وہ کھلے رند تھے اور نعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی ، اگر فہرست میں ان جیسے بڑ ے شاعر کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہو؟ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیدا ہوگیا ،کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔
آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر صاحب کو مدعو کیا جانا چاہئے ، یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگر صاحب کی عظمت کا اس سے بڑا اعتراف نہیں ہوسکتا تھا ،جگر کو مدعوکیا گیا تو وہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے ’’میں رند ،سیہ کار،بدبخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔ اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب کو تیار کیسے کیا جائے، ان کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا، نعتیہ شاعرحمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے ،بالآخر اصغر گونڈوی نے ان کے حکماً شرکت کو کہا تو وہ خاموش ہوگئے اور بات مان لی سرہانے بوتل رکھی تھی ، اسے کہیں چھپادیا، دوستوں سے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے ، دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، مجھے نعت لکھنی ہے شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اترا تو کس زبان سے اپنے آقا علیہ السلام کی مدح لکھوںگا، یہ موقع ملا ہے تومجھے اسے کھونا نہیں چاہئے ، شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو، شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شاید مجھ پر اس کملی والے کا کرم ہوجائے ، شاید خدا کو مجھ پر ترس آجائے ۔۔۔۔ایک دن گزرا، دودن گزرگئے، وہ سخت اذیت میں تھے، نعتکا مضمون سوچتے تھے، اور غزل کہنے لگتے تھے ، سوچتے رہے لکھتے رہے ، کاٹتے رہے ، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخرایک دن نعت کا مطلع تیارہوگیا، پھر ایک شعر ہوا پھر توجیسے بارش انوار ہوگئی، نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا ،مشاعرے کے لیے ا س طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں، کونین کی دولت ان کے پاس ہو، جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہی تک پہنچنا ہو، انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا، ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہر کے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے ، لوگ بپھرے ہوئے تھے، اندیشہ تھا کہ جگر صاحب کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھا کہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہو کر نعرے بازی نہ کریں، ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا، وہ کئی دن پہلے اجمیر پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرہ والے دن آئیں گے، جگر اپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرارہے تھے آخر مشاعرے کی رات آگئی ، جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچادیاگیا’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادآبادی‘‘ اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا۔۔۔۔آپ لوگ اپنی نفرت کا نشانہ کسے بنارہے ہیں؟ مجھے یا خدانخواستہ اس نعت کو جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘ مجمع کو جیسے سانپ سونگھ گیا، بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ۔۔۔

اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ
ہاں! کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ
جو جہاں تھا ساکت ہوگیا، یہ معلوم ہوتا تھا جیسے ان کی زبان سے شعرا دا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے ، نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی ، خواہش پناہ تھی ، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی، وہ خود رورہے تھے اور سب کورلارہے تھے ،دل نرم ہوگئے ، اختلاف ختم ہوگئے ، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیوں کر ہری رہتی؟ یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں تھی ، اس سے کہلوائی گئی تھی مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی ، اس نعت کے چند اشعار یوں ہیں:
دامان نظر تنگ وفراوانی جلوہ
ائے طلعت حق طلعت سلطان مدینہ
ائے خاک مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت سلطان مدینہ
اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروف عبادت
دیکھوں میں درِ دولت سلطان مدینہ
اک ننگ غم عشق بھی ہے منتظر دید
صدقے ترے ائے صورت سلطان مدینہ

کونین کا غم یاد ِ خدا اور شفاعت
دولت ہے یہی دولت سلطان مدینہ
کچھ ہم کو نہیں کام جگراور کسی سے
کافی ہے بس ایک نسبت سلطان مدینہ



⋆ عبدالرشیدطلحہ

عبدالرشیدطلحہ
مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔