دل جس کا منوّر نہ ہوا نورِ ہدیٰ سے

 افتخار راغبؔ

دل جس کا منوّر نہ ہوا نورِ ہدیٰ سے

ممکن نہیں بچ جائے وہ دوزخ کی سزا سے

تھامے ہوئے رہتے ہیں سدا صبر کا دامن

مومن نہیں گھبراتے کبھی کرب و بلا سے

ناموسِ رسالت کے تحفّظ کے لیے ہم

ٹکرائیں گے ہر دور کی منہ زور ہوا سے

انسان کا دل ہی نہیں ہر گوشۂ عالم

پرنور ہے خورشیدِ رسالتؐ کی ضیا سے

ہم پر بھی کرم ساقیِ کوثر کا ہو یارب

محشر میں نہ رہ پائیں گے اِک آن بھی پیاسے

دنیا میں کوئی دین کوئی اِزم نہیں ہے

بہتر مِرے سرکارؐ کے نقشِ کفِ پا سے

آقاؐ کی محبّت میں تڑپتا ہے مِرا دل

یا کانپتا رہتا ہے سدا خوفِ خدا سے

مل جائے ہمیں بھیک شفاعت کی خدایا

ہاتھوں میں لیے بیٹھے ہیں امیدوں کے کاسے

افسوس ہے اُس قلب کی پتھریلی زمیں پر

جو فیض اُٹھاتی نہیں رحمت کی گھٹا سے

اُس راہِ وفا ہی پہ ہمیں چلنا ہے راغبؔ

جس راہ میں قرباں ہوئے آقاؐ کے نواسے



⋆ افتخار راغب

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور ‘یعنی تو’ منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib – Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں.
افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

خرد گزیدہ جنوں کا شکار یعنی میں

خرد گزیدہ جنوں کا شکار یعنی میں ملا تھا غم کو بھی اک غم گسار یعنی میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے