نعت

 طلوع خورشید رسالت

حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی

ذرا او چشم بینا دیکھ تو وہ کون آتا ہے

کہ جس سے منقلب ہو کر زمانہ تھر تھراتا ہے

جہاں کا آج ہر ذرہ خوشی سے جگمگاتا ہے

فضائیں جگمگا اٹھی ہیں گلشن مسکراتا ہے

مبارک بزم عرفانی کا وہ محبوب آتا ہے

جسے کہتے ہیں سب خیرالبشر تشریف لاتا ہے

سراپا نور حق سرتاج شاہوں کا وزیروں کا

امام الانبیاء رہبر خدا کے کل سفیروں کا

خبر لیوا زمانے بھر کے پیروں کا فقیروں کا

کرم فرما یتیموں کا غریبوں کا اسیروں کا

وہ خورشید رسالت چاروں جانب جگمگاتا ہے

سیاہی گھٹی جاتی ہے اجالا بڑھتا جاتا ہے

محبت میں ہے لاثانی محبت میں جو یکتا ہے

زمیں پر تذکرہ جسکا فلک پر جسکا چرچا ہے

شب اسریٰ زمیں سے عرش اعلیٰ پر جو پہنچا ہے

جمال روئے زیبا کا یہ ادنیٰ سا کرشمہ ہے

نقابِ رُخ اُلٹ کر جس گھڑی جلوہ دکھاتا ہے

تو پردہ درمیان سے ہر من و تو کو ہٹاتا ہے

زمانے میں جو اپنی امت عاصی کا حامی ہے

جہاں میں ہر طرف مشہور جنکی خوش کلامی ہے

جو سردار رسولاں رب اکبر کا پیامی ہے

محمد مصطفیٰؐ جسکا جہاں میں نام نامی ہے

ہراک کو آدمیت جو زمانے میں سکھاتا ہے

مصیبت میں بلاؤں میں ہر اک کے کام آتا ہے

جوحامی امن عالم کا ہے اور محبوب داور بھی

جویکتائے جہاں ہے مالک تسنیم وکوثر بھی

ادب نجاشی جسکا کرتا ہے ففغور و قیصر بھی

شفیعؔ اپنا نبی وہ ہے شفیع روزِ محشر بھی

ہر اک کو وہ غم و اندوہ و آفت سے بچاتا ہے

زمانے بھرکے بگڑے کام جودم بھر میں بناتا ہے

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close