غیر مسلم شعراء اور مدح رسول ﷺ

عبد الرشید طلحہ نعمانیؔ

نعت گوئی اہل ِایمان اور وابستگان مذہب اسلام کا ایک فکری اور فنی عقیدت نامہ اور اصناف سخن کا سب سے اعلیٰ اور پاکیزہ حصہ ہے;مگر یہ جس قدر سعادت وخوش بختی بلکہ آپ ا سے بے پناہ عقیدت ومحبت کی دلیل ہے وہیں سب سے مشکل ،دشوار گزار اور بال سے زیادہ باریک ہے، نعت کا موضوع جتنا اہم ،دل آویز اور شوق انگیز ہے اتنا ہی اس موضوع پر قلم اٹھانا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے، خود شعروادب کی تخلیق کوئی کسبی چیز نہیں کہ جس کے مخصوص اوزان وبحور کو رٹ کر کچھ طبع آزمائی کرلی جائے بلکہ یہ ایک وہبی شئی ہے، اک خدائی ملکہ ہے، اک انعام ِالٰہی ہے جو خالق ِکائنات کی جانب سے بعض مخصوص بندوں ہی کو عطا کیا جاتا ہے ، چہ جائیکہ جب وہ شاہ ِکونین کی شان ِعقیدت میں گلہائے رنگا رنگ کا نذرانہ اور وفورِشوق وخلوص ِ محبت میں ڈوبے ہوئے جذبات کا اظہار ہو ۔یقینا مدحِ نبی اایک واردات ِقلبی ہے جس کا من جانب اللہ القاء ہوتا ہے ، ماضی قریب کے عظیم المرتبت بزرگ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی ؒ نے اسی مناسبت سے فرمایا کہ ؎
کچھ اشارے ہیں ان کی جانب سے
اس لئے یہ غزل سرائی ہے

یہی وجہ ہے اکثر صوفیاء ومشائخ کے یہاں اردو کی ولادت سے قبل فارسی میں شعر وسخن اور حمد ونعت کا ایک طویل سلسلہ ملتا ہے، جن کے کلام اور نام دونوں کوشہرت عام اور بقاءِدوام حاصل ہوا، مولانا روم ، مولانا حالی، حافظ شیرازی، شیخ سعدی، خاقانی رحمہم اللہ وغیرہ جیسے بہت سارے معتبر نام ایسے ہیں جنہوں نے شعریت بالخصوص حمد ونعت کو اعتبار واستناد بخشا؛ اس طرح لوگ ان کے کلام کے دلدادہ اور ان کے سوز ِدروں سے متاثرہوئے ۔
مفکر اسلام علی میاں ندویؒ لکھتے ہیں:اردوشاعری فارسی شاعری کی پروردہ نعمت ہے، اس کا تغزل اس کی تشبیب، بہار کا مضمون، ساقی نامہ، مدحیہ قصائد کا گریز اور اس کی بہت سی مضمون آفر ینیاں اور نازک خیالیاں فارسی شاعری کا چربہ اور کہیںکہیں اساتذہ ایران کے اشعار کا ترجمہ ہے (عرفان محبت ص :4)
یہی وجہ ہے کہ تیرھویں صدی ہجری کے وسط تک کوئی اردو شاعر نعت گوئی کو اپنا شعار نہیں بناسکا ، ہاں تیرھویں صدی ہجری میں نعت نے ایک مستقل فن کی حیثیت اختیار کرلی پھر یکے بعد دیگر مختلف شعرا ءنے اس فن میں ایک نیا احساس اور اجتماعی شعور پیدا کیا جن میں مولانا حالی مولانا ظفر علی خان اور علامہ اقبال وغیرھم کے نام شامل ہیں۔
سرکار دوعالم ﷺ کے اخلاق کریمانہ ، آپ کی انسانیت نوازی ،اپنے تو اپنے اغیار کے ساتھ بھی آپ کا حسن سلوک ، ہمدردی و رواداری ، یہ وہ جلی عناوین ہیں جن کی بنا پر اردو نعت کے سرمائے میں توسیع کا اعزاز ان شعراء کو بھی حاصل ہواجنہیں معروف ایمانی مفہوم کے مطابق وابستگان رسول میں کبھی شمار نہیں کیا گیا،لیکن ان شعراء نے رسول اکرم حضرت محمد ﷺ سے اپنی والہانہ وابستگی اور پر خلوص عقیدت کو ایسے اشعار میں پرویا ہے کہ جنہیں کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
غیرمسلم نعت گو شعراء کے تعارف،تذکرے اور جائزے پر مشتمل کئی مضامین اور کتابیں اس وقت شائع ہوکر قبولیت عام و خاص حاصل کرچکی ہیںخصوصاً جناب نور احمد میرٹھی کی کتاب’’بہر زماں بہر زباں‘‘بڑی اہمیت کی حامل ہے ؛جس میں تین سو سے زائد غیر مسلم شعراء کی نعتیہ شاعری کاتعارف وتذکرہ پیش کیا گیا ہے جن میں سے چند شعراء کے صرف نام لکھے جائیں تو ایک طویل مضمون تیار ہو جائے گا، ان غیر مسلم نعت گو شعراء کے نعتیہ کلام پر مختلف محققین ،ناقدینِ فن اور دانشوران ادب نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے،انہیں اگریہاں پیش کردیا جائے تو جہاں ایک طرف غیر مسلم شعراء کی نعتیہ شاعری میں سرکار دو عالم ﷺ کی توصیف و ثناء کے مختلف پہلو اجاگر ہو کر سامنے آئیںگے وہیں خودان کی قدر و قیمت اور اہمیت بھی ہمارے سامنے آشکارا ہو جائے گی۔
بہ طور’’مشتے نمونہ از خروارے ‘‘چند جھلکیاں پیش خدمت ہے:
جگدیش مہتہ دردؔ
شاہ عرب غم سے عجب حال ہوا ہے
ہے مرنے میں کچھ لطف نہ جینے میں مزا ہے
اور درد عجب ہے !!
ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍخادم ہوں میں جب آپ کا تاخیر یہ کیسی
للہ بتادو مجھے کیا میری خطاہے؟؟؟
کیا اس کا سبب ہے ؟؟
جگن ناتھ آزادؔ
سلام اس ذات اقدس پر سلام اس فخر دوراں پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے انساں پر
مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ
سلام اس پر جلائی شمع عرفاں جس نے سینوں میں
کیا حق کے لئے بے تاب سجدوں کو جبینوں میں
اسی طرح یہ شعر !
کافر نہ کہو شاد کو ہے عارف و صوفی
شیدائے محمد ہے یہ شیدائے مدینہ
پنڈت ہری چند اخترؔ
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کردیا
کس نے ذروںکو اٹھایا اور صحرا کردیا
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کردیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا

اردو نعت کے تمام محققین نے اپنی تصانیف میں غیر مسلم شعراء کے نعتیہ کلا م کے محاسن اور رسول اکرم ﷺ سے ان کی شیفتگی کا ذکر کیا ہے،ڈاکٹر ریاض مجید نے اپنے تحقیقی مقالہ’’ اردو میں نعت گوئی‘‘ میں تحریر کیا ہے’’غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی کا آغاز جنوبی ہند سے ہو چکا تھا اور مسلمان شاعروں کی طرح ہندو شاعروں نے عقیدت و محبت کے اظہار کے لئے حضور اکرم ﷺ کی سیرت و نعت کو بھی اپنی تخلیقات کا موضوع بنا یا ہے۔ لچھمن نرائن شفیقؔ کا معراج نامہ اور راجہ مکھن لال مکھنؔ کا نعتیہ کلام اس اظہار عقیدت کے نمونے ہیں۔
غیر مسلموں کی نعت سے دلچسپی کی وجوہات بھی ڈاکٹر ریاض مجید نے یوں بیان کی ہے: ہندو شاعروں کی نعت گوئی کا حقیقی دور ۱۸۵۷؁ءکی جنگ آزادی کے بعد ہوا ،عصر جدید میں ہمیں متعدد ایسے غیر مسلم شاعر ملتے ہیں جنہوں نے مقدار اور معیار ہر اعتبار سے اس روایت کو آگے بڑھایا ہے۔اس کے بہت سے سیاسی اور معاشرتی عوامل ہیں۔ایک بڑی وجہ وہ رواداری کی فضا ہے جو جنگ آزادی کے بعد ہندو مسلم قوموں میں پہلے کی نسبت کچھ نمایاں ہوگئی تھی۔ انگریز کے خلاف جنگ آزادی میں مقصدو منزل کی ہم آہنگی بھی دونوں میں قدر مشترک رکھتی ہے۔ مخلوط معاشرے میں اگرچہ ہندو مسلم تعلقات میں ایک کشیدگی ہمیشہ رہی اور دونوں قوموں کے تہذیب و تمدن میں واضح اختلاف رہا، اس کے باوجود اہل فکر و قلم کے حلقوں میں ایک رواداری کی فضا ملتی ہے۔‘‘
اب چند دوسرے ادیبو ں کی آراء بھی ملاحظہ فرمائیے،پونا کے انیس چشتی اپنے مقالے ’’اردو کے ہندو نعت گو شعراء‘‘ میں ہندووں کی نعت گوئی کا پس منظر بتاتے ہوئے لکھتے ہیں’’ہندوستان کی سرزمین کو یہ فخر حاصل ہے کہ اسلامی روایات کا پاس رکھنے والے افراد نے یہاں صرف مذہب اسلام کی آبیاری نہیں کی بلکہ یہاں کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں اسلام کے روح رواں رسول اکرم ﷺ کے بارے میں ایسا تاثر دیاکہ اس ملک میں بسنے والے دیگر طبقات سے متعلق افراد نے بھی ایک سچّے محسن انسانیت کی طرز زندگی اور اخلاق و عادات کو اپنی زندگی کا خاصّہ بنایا اور جب شعر گوئی کی طرف رغبت اختیار کی تو مدح رسول ﷺ کے ایسے جوہر دکھائے کہ بے ساختہ ان کی وابستگی اور نسبت پر داد دینے کو جی چاہتا ہے۔‘‘اکثر محققین اور مصنفین نے بعض غیر مسلم شعراء کے نعتیہ کلام پرتبصرے کئے ہیں اور ان کی نعت نگاری کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
مولانا عبد الماجد دریا آبادی ‘ مشہور شاعر بال مکند عرش ملسیانی کی نعتیہ شاعری کے ضمن میں ہندو مسلم مخلوط معاشرے میں اس انداز کی شاعری سے نمایاں ہونے والی باہمی محبت و یگانگت کی فضا کے بارے میں فرماتے ہیں’’قومی اور اجتماعی حیثیت سے وہ اس وقت بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں، ایک پل،اور ایک ربط کا کام دے رہے ہیں ،ملک کی دو بڑی قوتوں ،دو بڑی تہذیبوں ،دو بڑے مذہبوں کے درمیان ‘وہی خدمت جو ماضی قریب میں اس ملک کی دو محترم ہستیاں انجام دے چکی ہیں، ایک مسز سروجنی نائیڈو اور دوسرے سرکشن پرشاد شاد ؔ حیدر آبادی۔‘‘
اردو ادب کی بیشتر اہم شخصیات نے نعتیہ شاعری کے محاسن کو تو نمایاں کیا ہی ہے؛ مگر بعض اہم دانشوروں نے غیر مسلموں کی نعتیہ شاعری کو تنقیدی رخ سے بھی دیکھا ہے ۔
مثال کے طور پر ڈاکٹر فرمان فتح پوری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں’’نعت گوئی سے دلچسپی کا اظہار صرف مسلمانوں نے ہی نہیں غیر مسلم شعراء نے بھی کیا ہے ۔مطالعہ سے پتہ چلتا ہے مسلمان شعراء کی طرح غیر مسلم شعراء کی نعتوں کا بیشتر حصّہ یکسر رسمی ہے۔‘‘ اسی طرح ایک دوسری جگہ راجہ رشید محمود لکھتے ہیں’’ کئی غیر مسلموں کی نعتوں میں بھی ایسے مضامین پائے جاتے ہیں جن میں حمدو نعت کے فرق کو اور ان کے آپس میں تعلق کی نزاکت کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا۔‘‘ان آراء سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بعض غیر مسلموں نے بھی بعض مسلمانوں کی پیروی کی ہے ؛لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی اپنی کتاب’’ اردو شاعری میں نعت گوئی ‘‘ میں غیر مسلم شعراء کی نعت نگاری کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں’’سچّی بات تو یہ ہے کہ ان شعراء نے نبی رحمت ﷺ سے اپنی والہانہ وابستگی اور پر خلوص عقیدت کو ایسے اشعار میں پرو دیا ہے کہ ان نعتوں پر امّتِ محمدی ﷺ سے وابستہ افراد بھی انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔‘‘
مختصر یہ کہ اردو ادب کے بیشتر محققین اور ناقدین نے غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں بہترین خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔



⋆ عبدالرشیدطلحہ

عبدالرشیدطلحہ
مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔