مجھ کو طیبہ کی گلی دیدے

جہاں والوں کو تو چاہے جہاں کی ہر خوشی دیدے
مگر اے دینے والے مجھ کو طیبہ کی گلی دیدے

تو ہی ہے قادرِ مطلق ، ہیں سب تیری پناہوں میں
مسلمانوں کے دل میں اتفاقِ باہمی دیدے

رہے پیشِ نظر ہر وقت میرے گنبدِ خضرا
شفیع المذنبیںؐ سے قلب کو وابستگی دیدے

منور قلب کر دے اپنے انوارِ تجلی سے
نہ ہو تاریک میرا دل تو ایسی روشنی دیدے

نشہ جس کا نہ اترے زندگی بھر اے مرے ساقی
مئے وحدت کی جو طالب ہو ایسی تشنگی دیدے

بھٹکتا پھر رہا ہوں دربدر سارے زمانے میں
مرے اللہ مجھ کو اپنے در کی چاکری دیدے

جئے مردِ مجاہد کی طرح سرورؔ زمانے میں
ہو جس پر زندگی کو ناز ایسی زندگی دیدے



⋆ امجد علی سرور

امجد علی سرور

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

عرشِ مقبولیت – جاہ و حشمت نہ تختِ شہی چاہئے

امجد علی سرور جاہ و حشمت نہ تختِ شہی چاہئے میں ہوں بندہ ، تری …