نعت

نبی نے پاؤں جو رکھا وہاں شب اسریٰ

خوشی سے جھوم اٹھا آسماں شبِ اسریٰ

مجاہد ہادؔی ایلولوی

نبی نے پاؤں جو رکھا وہاں شب اسریٰ
خوشی سے جھوم اٹھا آسماں شبِ اسریٰ

کب آئے اور گئے عرش پر مرے آقا
کسی پہ ہو نہ سکا یہ عیاں شبِ اسریٰ

ملائکہ بھی جہاں تک نہیں پہنچ سکتے
مرے حضور گئے ہیں وہاں  شبِ اسریٰ

اسی سے پوچھ لو حسنِ محمدِ عربی
جَلَو میں ان کے تھا خود کہکشاں شبِ اسریٰ

یہ انتخابِ سفر بھی بڑا غضب کا تھا
گئے رسول خدا لا مکاں شبِ اسریٰ

ہمارے  واسطے   تحفہ  نماز  کا  لائے
ہوئے ہیں ایسے نبی مہرباں شبِ اسریٰ

وہ دھام دھوم سے پہنچے تھے عرش پر ہادؔی
ہر ایک سمت تھی تیّاریاں شبِ اسریٰ

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Close