کیا پوچھتے ہو مجھ سے ضرورت حضور کی 

شاہدؔکمال

کیا پوچھتے ہو مجھ سے ضرورت حضور کی

پھر چاہیے جہاں کو قیادت حضور کی

حیرت سے دیکھتا ہے فسوں خانۂ ابد

آئینہ ازل میں ہے صورت حضور کی

یہ امتثال امر حقیقت تو دیکھے

اللہ کی رضا ہے، مشیت حضور کی

یہ ماوراے چشم شہود و غیاب ہے

کثرت میں انضمام ہے وحدت حضور کی

لرزے میں ہے غرور خد و خال کاینات

طاری ہے اس طرح سے کچھ ہیبت حضور کی

حاتم کھڑا ہوا ہے صف کاسہ گر میں خود

دیکھی ہے دو جہاں نے سخاوت حضور کی

میں کیا کرونگا کیسر و قصری کی مملکت

مجھ کو عطا ہوئی ہے محبت حضور کی

جتنے فقیر و پیر و ملنگ صیوف ہیں

اک دن پڑے گی سب کوضرورت حضور کی

موسی نہیں کہ لوٹ کے آجاوں طور سے

مجھ کو عطا ہو اذن زیارت حضور کی

وہ خانہ حریم ازل کے مکین ہیں

،،عرش خدا ہے مسند رفعت حضور کی،،

اے منکر فضایل احمد خبر بھی ہے

دونوں جہان پر حکومت حضور کی

ہم تو گناہ گار ہیں ہم کیا بتایں گے

قرآں سے پوچھ لیجئے عظمت حضور کی

اس پر طلسم ذات کے اسرار فاش کر

شاہدؔکمالکرتا ہے مدحت حضور کی



⋆ شاہد کمال

شاہد کمال

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

سید فخر الدین بَلّے: حرف سے لفظ تک

 سید فخرا لدین بلّے کاحرف سے لفظ تک کا سفر عدم سے وجود کے منطقی جواز کا ایک ایسا اعلامیہ ہے، جس کے بغیر کسی تخلیق کار کے فنی مبادیات کی تکمیل کی مسافت قطی ممکن نہیں، اس کے لۓ ایک تخلیق کار کو بہت سے مراحل و مدارج سے گزرنا پڑتاہے۔ تب جاکر اس کے تخلیقی فن پاروں کو دوامیت کا درجہ استناد حاصل ہوتا ہے۔علامہ اقبال کا یہ شعر اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے