دیگر نثری اصناف

ابن صفی کی معنویت آفاقی تناظر میں

روبینہ تبسم
جاسوسی ادب کے معمار ابن صفی وہ پہلے ناول نگار ہیں جنھوں نے ناول کو زندگی کے گوناگوں مسائل سے جوڑ کرجاسوسی ادب کو ایک مستحکم وژن عطا کیا۔ انھوں نے اپنے ناولوں کو اس مقام تک پہنچایا کہ وہ محض تفریحی،عوامی اور بازاری ادب نہ ہوکر ادیبوں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ وہ سرآرتھرکانن ڈایُل اوراگاتھاکرسٹی کی طرح تجسس، حیرت اور استعجاب تک ہی محدود نہیں رہے۔ بلکہ تفریح و تفنن کے پیرایے میں زمانے کی دکھتی رگ کو چھیڑا۔ سوسائٹی کی سماجی و نفسیاتی پہلوؤں کی تصویر کشی کی۔ موجودہ طرز حکومت اور سماج کے ٹھیکیداروں کی قلعی کھولنے کے علاوہ روز بہ روزکی بڑھتی الجھنوں، بدعنوانیوں اور کرپشن پر بھرپور لکھا اور سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ انھوں نے سماج کا مشاہدہ صرف عصری مسائل کے تناظر میں ہی نہیں کیا بلکہ ہر زمانے کے مسائل کو سامنے رکھا اور اسی شعور نے ان کو ایسا آفاقی ناول نگار بنایا جس کی تحریریں ہر دور سے اس قدر ہم آہنگ ہیں کہ انھیں کسی دور میں کوئی بھی زبان نظرانداز نہیں کرسکتی۔ ان کے ناولوں کا بنیادی موضوع جرم ہے اور یہ ایک ایسا آفاقی لفظ ہے جو ابتدائے آفرینش سے چلا آریا ہے۔ جرم تو اسی وقت سے شروع ہوگیا تھاجب قابیل نے ہابیل کا قتل کیا تھا اور اب تک جرائم کی نہ جانے کتنی شکلیں پیدا ہوچکی ہیں جس کا لامتناہی سلسلہ گھٹنے کے بجائے دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ اس طرح ابن صفی نے ایک ایسا وژن قائم کیا جس کی بنیاد ٹھوس اور مستحکم ہے۔
ابن صفی کی پیدائش 26؍جولائی 1928ء کو ہوئی۔ ان کے جاسوسی ناولوں کا سلسلہ 1952ء سے شروع ہوا۔ پہلا ناول ’’دلیرمجرم‘‘ جو ڈکڑ گن کے ناول ’’آئیرن سائیڈزلون ہینڈ‘‘ سے ماخوذ ہے 1952ء میں ماہنامہ نکہت پبلی کیشنز الہ آباد میں ’’جاسوسی دنیا‘‘ کے تحت شائع ہوا۔ ان کا آخری ناول ’’صحرائی دیوانہ (فریدی۔حمید سیریز) ہے۔ وہ بچپن سے ہی داستان ’’طلسم ہوش ربا‘‘ سے بہت متاثر تھے۔
ایک جگہ انٹرویو میں کہتے ہیں:
’’طلسم ہوش ربا اوررائیڈرڈ ہیگرڈ نے آپس میں گڈمڈ ہوکر میرے لیے
ایک عجیب سی ذہنی فضاتیارکردی جس میں ہمہ وقت ڈوبارہتا۔ایسے ایسے
خواب دیکھتاکہ بس،،۔1
انھوں نے 125 (جاسوسی دنیا۔ فریدی۔حمید سیریز) اور120 (عمران سیریز) کے علاوہ بلدان کی ملکہ معززکھو پڑی، شمال کا فتنہ، تزک دو پیازی، پرنس چلی، اب تک تھی کہاں؟ وغیرہ جیسے شاہکار ناول بھی لکھے۔ عمران سیریز کی ابتدا 1955ء میں ’’خوف ناک عمارت‘‘ سے ہوئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے افسانے بھی لکھے۔ شاعری بھی کی اور ’’طغرل فرغان‘‘ کے نام سے طنزیہ و مزاحیہ مضامین بھی تحریر کیے۔ علاوہ ازیں’’سنکی سولجر‘‘، ’’پرکاش سکسینہ ‘‘ اور ’’عقرب بہارستانی‘‘ کے نام سے بھی کچھ تحریریں منظر عام پر آئیں۔ ساتویں جماعت میں انھوں نے پہلا افسانہ ’’آرزو‘‘ لکھا جو ہفت روزہ ’’شاہد‘‘ (بمبئی) میں چھپا۔ آٹھویں اور نویں جماعت میں پہنچ کر ان کی طبیعت شاعری کی طرف مائل ہوئی۔ شاعری میں ’’اسرار تخلص کرتے تھے۔ کم سنی میں ہی انھوں نے بہت سی دیش بھکتی نظمیں لکھیں۔ ان کے آٹھ ناول مکمل طور پر ان کے نہیں تھے۔ یاتو پلاٹ انھوں نے انگریزی سے لیے تھے یا پھر کردار ہاں یہ ضرور ہے کہ فریدی اور حمید جیسے لازوال کردار انہیں کے ذہن کی اختراع تھی۔ 1959ء میں انھوں نے انسانی نفسیات پر ایک کتاب ’’آدمی کی جڑیں،، لکھنا شروع کیں جو ان کی بیماری کی وجہ سے مکمل نہیں ہوپائی۔
ابن صفی پر یہ اعتراض کیا گیا کہ ان کے ناولوں کا اسٹرکچر تجسس اور استعجاب پر قائم ہے۔ لہٰذا جب تک مجرم پردے کے پیچھے رہتا ہے قاری کی دلچسپی اس میں برقرار رہتی ہے۔ لیکن جیسے ہی مجرم پردۂ سیمیں پر آتا ہے ان ناولوں کے متعلق سوچنے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ نہ تو قاری کے ذہن میں کسی کردار کی کوئی نفسیاتی کشمکش رہتی ہے نہ ہی کوئی سماجی و معاشرتی مسائل اور نہ ہی تہذیبی و ثقافتی ہم آہنگی ۔ نیز یہ بھی اعتراض ہوا کہ چونکہ ان ناولوں کا انجام پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے (یعنی ہر حال میں فریدی، حمید اور ہمران کے حصے میں کامیابی آئے گی) لہٰذا ان ناولوں میں یکسانیت نظر آتی ہے۔ وہی جرائم کے کھوج کا طریقہ، وہی تشدد اور قتل کا معمہ وغیرہ وغیرہ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے ناولوں کا انجام بالکل واضح ہے تاہم اس اختتام کے پس پردہ ابن صفی کا ایک خاص مقصد پوشیدہ ہے۔ وہ ہر صورت میں باطل کے سامنے حق کی فتح دکھانا چاہتے ہیں۔ قاری کے دل میں جرائم کے تئیں نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ہرنوع کے جرائم پر قانون کی بالادستی دکھائی ہے۔ گرچہ انھیں ان مجرموں سے ہمدردی ہے جو ظلم اور ناانصافی کے سبب مجرم بننے پر مجبور ہوئے تاہم وہ ان کا ساتھ کبھی نہیں دیتے کیوں کہ دنیا میں ظلم کے شکار افراد کی کمی نہیں ہے۔ وہ مجرم کو مجرم ہی سمجھتے ہیں خواہ اس کے محرکات کچھ بھی ہوں۔
وہ خود کہتے ہیں
’’یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام کرنا سیکھے۔ جاسوسی ناولوں کی راہ میں نے اسی لیے منتخب کی تھی۔ فریدی میرا آئیڈیل ہے جو خود بھی قانون کا احترام کرتا ہے اور دوسروں سے بھی قانون کا احترام کرانے کے لیے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔‘‘ 2؂
انھوں نے اپنے ناولوں میں محض جرائم کی مختلف صورتیں ہی نہیں بتائیں بلکہ جرائم میں مرتکب افراد کے وجوہات نیز اس انحطاط پزیراور انتشار زدہ اور زوال آمادہ حال کے اسباب کی جانب بھی توجہ دلائی۔
’’ناول پُراسرار وصیت‘‘ میں ایک بھائی ناصر جب دوسرے بھائی مخدوم کی جان لینا چاہتا ہے تو اس وقت فریدی مخدوم سے ناصر کے جرم کے سلسلے میں ایک بہت نکتے کی بات کہتا ہے:
’’حرام خوری آدمی کو سنگ دل بنادیتی ہے ۔فریدی نے کہا ۔اگر ناصر اپنی روزی خود کماتا ہوتا تو اس سے یہ حرکت کبھی سرزد نہ ہوتی۔ قصور سراسر آپ کا ہے۔ آپ کو اسے اپاہج نہ بنانا چاہئے تھا۔ اگر یہ ایک ایماندار آدمی کی طرح اپنی روزی خود کماتا ہوتا تو اس کے بچے شرابی اور جواری نہیں ہوسکتے تھے۔ بے مشقت ہاتھ آے ہوئے پیسے آدمی کو شیطنیت کی طرف لے جاتے ہیں۔ ناصر محض اس لیے آپ کی جان لینا چاہتا ہے کہ وہ جائیداد کا مالک بننے کے بعد دانش کا قرض ادا کرسکے۔‘‘ 3؂
ابن صفی کا یہ ماننا تھاکہ مستقبل سے مایوسی انسان کو غلط راستے پر لے جاتی ہے اور ایک دوسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ قانون کے محافظوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔
فریدی کس طرح سے جرائم کے اسباب کی طرف توجہ دلاتا ہے مندرجہ ذیل اقتباس میں دیکھئے:

’’کرنل صاحب! آخر یہ جرائم اتنے کیوں بڑھ گئے ہیں؟،،
’’جھلاہٹ کی بنا پر! فریدی بولا‘‘
’’میں نہیں سمجھا‘‘
’’آبادی بڑھ گئی ہے، وسائل محدود ہیں اور چند ہاتھوں کا ان پر قبضہ ہے۔‘‘
’’جھلاہٹ والی بات تو رہ ہی گئی‘‘
’’اسی طرف آرہا ہوں۔ دولت مندوں کو مزید دولت مند بننے کی آزادی ہے اور عوام کو قناعت پسندی کا سبق پڑھایاجارہا ہے۔‘‘
ایسی صورت میں ا س کے علاوہ اور چارہ بھی کیا ہے؟
چارہ ہی چارہ ہے۔ اگر خود غرضی اور جاہ پسندی سے منھ موڑ لیا جائے۔ ایک نئے انداز کی سرمایہ داری کی بنیاد ڈالنے کے بجائے خلوص نیت سے وہی کیا جائے جو کہا جارہا ہے تو عوام کی جھلاہٹ رفع ہوجائے گی۔ ضرورت ہے کہ انہیں قناعت کا سبق پڑھانے کے بجائے ان کی ’’خودی‘‘ کو ابھارا جائے جیسے بعض دوسرے ممالک میں ہوا۔‘‘ 4؂
ایک دوسرا اقتباس ملاحظہ ہو:
’’کیا بات ہے؟ حمید نے پوچھا
پتہ نہیں یہ آدمیوں کی سوسائٹی ہے یا جانوروں کا ریوڑاخبار اٹھاؤ ۔۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔۔ قتل و خوں اغوا اور عصمت دری کے علاوہ کسی قسم کی خبریں نہیں دکھائی دیتیں۔‘‘
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
مستقبل کی طرف سے بے اطمینانی۔۔۔۔۔۔ خود اعتمادی کا فقدان۔
اس کا علاج بھی ہے کوئی؟
شافی علاج ہے۔ مگر یہ دور ہے نئے تجربات کا۔ ایک اسٹیج پر نئے تجربات بھی ختم ہوجائیں گے۔ اس کے بعد پھر اسی دقیانوسی علاج کی طرف دنیا دوڑے گی۔
اعتدال قناعت اور جہد مسلسل۔‘‘ 5؂
رہا یہ اعتراض کہ مجرم کے سامنے آتے ہی ان کے ناولوں میں کچھ نہیں بچتا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کی تحریروں کا کون سا ایسا سحر آج بھی قائم ہے جو ابن صفی کو قراُت مسلسل کا ہدف بنائے ہوئے ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس نکتے کی تفہیم کے لیے ان کے ناولوں کا معروضی مطالعے کی ضرورت ہے۔ تبھی یہ عقدہ کھلے گا کہ انھوں نے اپنے ناولوں میں صرف تحیر اور تجسس کی دنیا ہی آباد نہیں کی بلکہ ایک ایسی دنیا بسائی ہے جو قاری کو غوروفکر اور ادراک پر مجبور کرتی ہے۔ مثلاً ابن صفی نے آج کے انسان کے نت نئے تجربات کے ضمن میں جو نظریات پیش کی ہیں وہ قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ انھیں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ انسان آج اپنی نت نئی ایجادات سے ترقی کے منازل تو طے کررہا ہے لیکن وہیں دوسری جانب اپنے اقدار و روایات سے دور ہوتا چلا جارہا ہے۔ وہ مصنوعی سیارہ ایجاد کرکے چاند تک تو پہنچ گیا لیکن اپنے معاشرے اور سماج کی پرامن زندگی کے لیے کچھ نہیں کرپایا۔ صرف حرص، خودغرضی اورلالچ اس کے اندر رچتی چلی گئی۔
ناول ’’پیاسا سمندر‘‘ کا ایک کردار ڈاکٹر داور اپنی بیٹی سے کہتا ہے:
’’جانتی ہو آدمیت کی معراج کیا ہے؟ آدمیت کی معراج یہ ہی ہے کہ آدمی خود اپنے ہی مسائل حل کرلے۔ اگر اس نے مصنوعی سیارہ فضا میں پھینکنے کے بجائے سرطان کا کامیاب علاج دریافت کرلیا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ اب اس کے قدم اس راہ کی طرف اٹھ گئے ہیں جس کی انتہا اس کی معراج پر ہوگی اگر اس نے چاند تک پہنچنے کی اسکیم بنانے کے بجائے زمین کے ہنگامے پرامن طور پر فرو کرنے کا کوئی ذریعہ دریافت کرلیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ اب یہ سمندر پیاسا نہیں رہے گا بلکہ خود کو سیراب کرنے کی صلاحیت بھی اس میں پیدا ہوچکی ہے۔‘‘ 6؂
آدمی کے حرص اور لالچ کے سلسلے میں ڈاکٹر داور کی زبانی ابن صفی نے کتنی موثر بات کہی ہے مندرجہ ذیل پیرایے میں دیکھئے:
’خود میری سمجھ میں نہیں آتا کہ بلندیوں میں ہوں یا پستیوں میں۔ اف فوہ بے بی! آدمی کتنا پیاسا ہے اور کس طرح اس کی پیاس بڑھتی رہتی ہے اور کس طرح وہ خوارج میں اپنے لیے تسکین اور آسودگی تلاش کرتا ہے مگر کیا کبھی اسے تسکین حاصل ہوتی ہے کبھی آسودگی ملتی ہے بلکہ وہ بالکل کسی سمندر ہی کی طرح موج در موج آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کبھی چٹانوں کو کاٹتا ہے اور کبھی پہاڑوں میں رخنے پیدا کرکے ان کے پرچخے اڑادیتا ہے اپنی بے چینی کی وجہ وہ خود ہے اور اپنی تسکین کا سامان بھی اپنے ہی دامن میں رکھتا ہے مگر وہ دوسروں کی پیاس تو بجھا دیتا ہے خود اپنی پیاس بجھانے کا سلیقہ نہیں رکھتا۔ تم اسے پیاسا سمندر کہہ سکتی ہو بے بی جو پانی ہی پانی رکھنے کے باوجود بھی ازل سے پیاسا ہے اور اس وقت تک پیاسا ہی رہے گا جب تک کہ اسے عرفا ن نہ ہوجائے لیکن ابھی اس میں ہزارہا سال لگیں گے۔‘‘ 7؂
ان کے ناولوں میں کسی بھی قوم کی پوری ایک تہذیب دکھائی دیتی ہے۔ انھوں نے ناول ’’درندوں کی بستی‘‘ میں کوہستانی علاقہ ’’شکرال‘‘ کے لوگوں کے رہن سہن اور ان کے طور طریقوں پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ یہاں کے باشندوں کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے کہ وہ بہت صاف ستھرے رہتے اور یہ لوگ گھوڑے کی پشت پر مرنا پسند کرتے اور اتنا آہستہ چلتے کہ ابن صفی کے الفاظ میں ’’ان کے انداز سے ایسا لگتا جیسے کسی جگہ بیٹھے بیٹھے اٹھنے کے ارادے میں بھی دس پندرہ منٹ صرف کردیتے ہوں‘‘ (ص 230)۔ یہاں کی عورتوں کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے کہ یہاں کے مرد کاہل ہیں لیکن عورتیں ان کے برخلاف بہت تیز طرار ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ فرمانبردار اور اطاعت شعار ہیں۔ یہ راگ رنگوں کی شوقین ہیں تاہم ان میں جنسی تشنگی نہیں پائی جاتی۔ ان کے مکانات کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ان کے مکان بہت چھوٹے ہوتے دیواریں تو پتھروں کی ہوتیں لیکن چھتیں پھوس کی اور اس کے اوپری سطح پر کھالیں منڈھی ہوتیں بستر ان کا ایسا ہوتا کہ فرش پر پلنگ کی جگہ گھیرے ہوئے لکڑی کی ایک فٹ اونچی دیواریں کھڑی ہوتی اور ان کے بیچ چمڑے کے آرام دہ گدیلے پڑے ہوتے۔
ادیبوں کی نظر میں ابن صفی ہمیشہ اس لیے کھٹکتے رہے کیوں کہ ادیب ان کی تحریروں کی سادہ فطری اور سادہ لوحی کو برداشت نہیں کر پاتے ہیں۔ وہ دو ٹوک جوابوں سے زیادہ ان سوالوں کو اہمیت دیتے ہیں جو پیچیدہ،پائیدار اور دوررس ہوں۔ یہ بات سچ ہے اور تجربہ بھی شاہد ہے کہ تفریحی ناول (خواہ وہ ابن صفی کے ناول ہی کیوں نہ ہو) کا قاری اداس نسلیں اور ٹیڑھی لکیر جیسی پُرپیچ ناولوں کا بار نہیں اٹھا سکتا اور بہت جلد اس سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتا ہے کیوں کہ عام قاری زندگی کے مسائل کو اس کے تمام تر ابعاد کے تناظر میں نہیں دیکھ سکتا۔ وہ ادب کو اس لیے پڑھتا ہے تاکہ اس سے مسرت وحظ حاصل کرسکے نہ کہ اس کے پیش کردہ مسائل میں الجھے۔ تاہم اسی کو بنیاد بنا کر ان کے ناولوں کو ادب کے زمرے سے خارج کرنا اور اس سے صرف نظر کرنا ایک طرح کی ناانصافی ہوگی کیوں کہ ان ناولوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔یہ ناول زندگی کے مسائل پر توجہ دلانے کے ساتھ ہی اپنے قاری کے ذہنی تناؤ کو کم کرکے طمانیت کا احساس دلاتے ہیں۔
ایک جگہ ابن صفی کہتے ہیں:
’’کچھ احباب کا خیال ہے کہ مجھے مقصدی ادب پیش کرنا چاہیے اور میرا خیال ہے تفریح بجائے خود ایک مقصد ہے۔ کھلے ہوئے ذہنوں کے لیے تھوڑی تفریح مہیا کردینا اگر کسی کے بس میں ہو تو اسے بھی ایک مقدس فریضہ سمجھنا چاہیے اور اس سے قطع نظر بھی۔ میر ی کہانیاں مقصدی ہی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔ حیات و کائنات کا کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے میں نے اپنی کسی نہ کسی کتاب میں نہ چھیڑا ہو۔‘‘ 8؂
ابن صفی کی معنویت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ اردو ناول کے قارئین کا اتنا وسیع حلقہ ان سے قبل پیدا ہوا نہ ان کے بعد۔ ایسے بھی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ان کے ناولوں کے مطالعے سے شروع کیا اور ایک ادیب بن گئے اور وہ لوگ بھی ہیں جنھوں نے صرف ان کے ناول پڑھنے کے لیے اردو زبان سیکھی۔
نذیر فتح پوری اپنے انشائیہ ’’میں اور ابن صفی‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’ابن صفی کے جاسوسی ناولوں کے مطالعے کے بعد ہی مجھے اردو نثر لکھنے کا حوصلہ ملا ورنہ میں نے اس وقت تک ادب اور تنقید کی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی۔‘‘ 9؂
ابن صفی خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں:
’’آپ اس وقت میری خوشی کا اندازہ نہیں لگا سکتے جب مجھے کسی سندھی یابنگالی کا خط بہ ایں مضمون ملتا ہے کہ محض آپ کی کتابیں پڑھنے کے شوق میں اردو پڑھ رہا ہوں۔‘‘ 10؂
بہرنوع ابن صفی نے اپنی تحریروں سے اصلاح کی شمعیں روشن کیں۔ جنسی لٹریچر کے اس سیلاب کو روکا جو سفلی جذبات کی تسکین کا ذریعہ تھا اور جو قاری سے غوروفکر، ادراک اور اس کی انفرادی صلاحیتوں کو چھین کر اس کے ذہن و دل پر منفی اثرات مرتب کررہا تھا۔ وہ معاشرے میں اللہ کی ڈکٹیٹرشپ کے قائل تھے۔ وہ اخلاقی اقدار کے پاسباں تھے جو ہمیشہ روایات کو سینے سے لگائے رہے اسی وجہ سے بہت سے لوگوں نے ان کو دقیانوسی خیالات کا حامی کہا۔ ان کے لازوال کردار فریدی، عمران شراب کو ہاتھ لگانا پسند نہیں کرتے۔ یہ کردار عورتوں کو للچائی نظروں سے نہیں دیکھتے۔ حمید گرچہ عورتوں میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن وہ اپنے حدود سے کبھی آگے نہیں نکلتا۔ وہ مغربی تہذیب اور وہاں کی آزادانہ ماحول کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔
ان کے آئیڈیل کردار فریدی کی زبان میں ابن صفی کے سوچ کا انداز لگایے۔
’’قدامت پر پوری طرح جان دینے لگا ہوں۔ عورتوں، مردوں کے آزادانہ تعلقات کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتا۔ جنسی معاملات میں جذبات کی تہذیب ناممکن ہے۔ اس سلسلے میں سائنٹفک بحث قطعی بکواس ہے۔ بچاؤ صرف پابندیوں میں ہے بعض مغربی عالم جنھیں میں گدھا سمجھتا ہوں اس سلسلے میں بڑی سائنٹفک قسم کی بحثیں چھیڑتے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ پابندیاں جنسی بے راہ روی کو جنم دیتی ہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مغرب کدھر جارہا ہے۔ وہاں تو اب دونوں جنسوں کے باہمی تعلقات پر کسی قسم کی بھی پابندی نہیں رہ گئی۔ لیکن میرا دعویٰ ہے کہ بعض مغربی ممالک کا ہر پانچواں آدمی جنسی بے راہ روی کا شکار ہے۔۔۔۔۔۔‘‘11
بے شک ابن صفی ایک مقبول ناول نگار ہیں اور ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ان کے ناول لاکھوں کی تعداد میں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئے۔ بہت سے لوگوں نے’’ ایں صفی‘‘ اور’’ابّن صفی کے فرضی ناموں سے ناول لکھے اور ان کے ناولوں کے نقل میں ان کے جیسے کردار پیش کرنے کی کوشش کی۔ اردو کے بہت سے ڈائجسٹ میں ان کے کسی ایک ناول کو صرف اس لیے شامل کیا جاتا رہا تاکہ یہ ڈائجسٹ زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچیں۔ دیگر زبانوں میں ان کے ناولوں کی ڈیمانڈبڑھی نیز گجراتی، ہندی اور انگلش وغیرہ میں ان ناولوں کے ترجمے بھی ہوئے۔ تاہم ان کی معنویت کا تعین محض ان کی مقبولیت کی بناپر قائم کرنا ممکن نہیں کیوں کہ ان کی معنویت کاانحصاران کے سماجی ومعاشرتی مواد کے ساتھ ساتھ ان کے تخلیقی طریق کارپربھی ہے ۔ ان کی تحریریں محض اس لیے اہم نہیں کہ وہ تھکے تھکے بوجھل لمحات کے لیے اکسیرہیں۔ بلکہ ان کی اہمیت اسلیے قایم ہے کہ وہ ہر عہدکے انتشاروابتری اورگردوپیش کی واقعاتی کائنات سے جڑی ہوئی ہیں۔اس نکتے کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان کے ناولوں کی جانب ازسرنورجوع کرنا ہوگاتاکہ ان کی تحریروں کی وساطت سے سچائی کے اس اسلوب کو دریافت کریں جوابن صفی کا خاصہ تھااور تب ہمیں اس بات کا اندازہ ہوگاکہ ابن صفی وہ ناقابل فراموش ناول نگار ہیں جنھوں نے ادو کے داستانوی ادب سے آگے بڑھ کراپنے تخیل کی تربیت سے ایک ایسی حقیقی زندگی کا تصور پیش کیا جس میں چھپے ہوئے سچ کے ہم آج بھی انکاری نہیں ہوسکتے۔ابن صفی کے شعور کی روشن لکیر اسی بنیاد پر قایم ہے کہ وہ معاشرے میں چند اساسی تبدیلیوں کے تمنائی تھے۔

حواشی
1۔ زبیر احمد، ابن صفی سے باتیں، مشمولہ تلاش جدید، ص14۔15، اگست 1989 نئی دہلی
2۔ ایضاً، ص71

3۔ ابن صفی، پراسرار وصیت (فریدی ۔حمید سیریز)، مشمولہ جنگل کی آگ، ص 324، جنوری 2008ء
4۔ زہریلا سیارہ (فریدی۔حمید سیریز) مشمولہ دہشت گر، ص82، اپریل 2012ء
5۔ ہولناک ویرانے (فریدی۔حمید سیریز)، مشمولہ شعلوں کا ناچ، ص21، اکتوبر 2008ء
6۔ پیاسا سمندر (عمران سیریز)، مشمولہ فریبی مسیحا، ص163، 2006ء
7۔ ایضاً، ص162
8۔ ابن صفی سے باتیں، مشمولہ تلاش جدید، ص16
9۔ نذیر فتح پوری، میں اور ابن صفی، ماہنامہ ہم سخن، بھوپال، ص13، 2014ء
10۔ ابن صفی سے باتیں، ص16
11۔ ہولناک ویرانے، ص59

مزید دکھائیں

روبینہ تبسم

ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

متعلقہ

Close