دیگر نثری اصناف

اردو۔ ہندی تراجم کے آئینے میں خواتین کا فکشن- ایک لمحۂ فکریہ

صفدرامام قادری

اردوآبادی اپنے آغاز سے کثیر لسانی ماحول کی پروردہ رہی ہے۔ ابتدا میں عربی، فارسی، تُرکی اوراردوکی ملی جلی وراثت تھی جو عصرِ حاضر میں قدرے تبدیل شدہ شکل میں ہندی، انگریزی اورعلاقائی زبانوں کے ساتھ اردو خواں آبادی کی میراث ہے۔ اس پر اضافہ یہ ہے کہ آج بھی اردو والوں میں ایک بڑا طبقہ ہے جس کا عربی اور فارسی زبانوں سے بہت حدتک رشتہ قائم ہے۔ کثیر لسانی معاشرے کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق اظہار کے لیے نئے مواقع تلاش کرکے لسانی لین دین کا نِت نیا سلسلہ قائم کرلے۔ شاید یہی وجہ ہوگی کہ ہمارے بزرگوں نے ایک سے زیادہ زبانوں میں تخلیقی ادب کی پیش کش کو شعار بنایا اورتحریروتقریر میں مختلف زبانوں کا حسبِ ضرورت استعمال کیا۔ ترجمے کی وہ پہلی شکل ہوتی ہے جب کوئی شاعر یا تخلیق کار خود  دو یا دوسے زائد زبانوں میں بہ یک وقت اپنے جذبات کی پیش کش کرتا ہے۔ امیر خسرو، محمد قلی قطب شاہ، غالب، اقبال اور پریم چندکی سامنے کی مثالوں سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اردوآبادی کثیر لسانی تہذیب کے فیضان سے کسی عہد میں بھی غفلت کا شکا رنہیں رہی۔ اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ کلاسیکی اور اپنے عہد کی باوقار زبانوں کی ہم نشینی کی طاقت پر ہی اردو والوں نے قناعت نہیں کی بلکہ علاقائی اور نئی زبانوں اوربولیوں سے قربت اختیار کرکے ایک امتزاجی ماحول پید اکرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اردو کے اسی مزاج نے بدلتے ہوئے وقت میں اسے زندگی بہ داماں بنائے رکھا۔

بلاشبہ ترجمے کا فن عہدِ جدیدکی کاروباری ضرورتوں سے زیادہ پھلا پھُولا اوراس کے دائرۂ کار میں اسی وجہ سے وسعت بھی آئی۔ ذاتی کوششوں کے علاوہ فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج، علی گڑھ تحریک، انجمنِ پنجاب، دارالترجمہ اورفی زمانہ مولانا آزاد نیشنل اردویونی ورسٹی وغیرہ کی ایک فوری فہرست تیار کی جاسکتی ہے جہاں ادارہ جاتی طورپر تراجم کے لیے ایک موافق ماحول قائم کیاگیا لیکن ان تمام اداروں کے ترجموں پر توجہ دیں تو معلوم ہوگا کہ اس فہرست سے ناول اورافسانے بالعموم غائب ہیں۔ فورٹ ولیم کالج کی شہرت تو داستانوں کے لیے رہی ہے لیکن وہاں بھی تراجم کے مرحلے میں تکنیکی اور علمی کتابوں پر زور زیادہ تھا۔ تراجم کے اس سرمائے میں اور ایک کمی کا احساس ہوتا ہے۔ معاشرے کی’ نصف بہتر‘کی تحریروں کے ترجموں پرکسی نے کوئی توجہ ہی نہیں کی۔ نسوانی اظہار کی لسانی بوقلمونی کو ہمارے مترجمین نے لائقِ اعتنا ہی نہیں سمجھا۔ یہ بھی ایک علاحدہ مسئلہ ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد نے فکشن کو ہی ذریعۂ اظہار کیوں بنایا؟ اسی لیے عورتوں کے فکشن کے ضخیم سرمائے کے باوجود اردو اور ہندی زبانوں میں اس کی منتقلی کا کام آدھا ادھورا ہی ہوا ہے۔ ان تراجم میں نہ کوئی ترتیب ہے او رنہ کوئی ٹھوس معیار کا خیال رکھاگیا ہے۔ دونوں زبانوں میں تراجم کو توجہ سے دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنا نا مناسب نہیں کیوں کہ انفرادی کوششوں سے کوئی مجموعی سمت ورفتار طے نہیں کی جاسکتی۔ جب جس کے ہاتھ کوئی تخلیق لگ گئی، اس نے اس کا ترجمہ کرلیا۔ ان تراجم میں تخلیق کاریاتخلیقات کی کوئی درجہ بندی بھی نہیں ہے۔ ایک انتشار کا ماحول ہے جس سے نہ کسی قومی ضرورت کا تعیّن ہوپا تا ہے اورنہ یہ پتہ چلتا ہے کہ کون سی چیز یں باقی رہ گئیں جنھیں اگلے مرحلے میں ترجمہ کرلینا چاہیے۔

اردو اورہندی زبانوں میں باہمی ترجمے کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس شعبے میں جاں سوزی کے ساتھ کام کرنے والے  مترجمین بڑی تعداد میں سامنے نہیں آسکے۔ روسی زبان سے اردومیں ترجمہ کرنے کے لیے شہرت رکھنے والے ظ۔ انصاری اوراردوسے انگریزی یا انگریزی سے اردو ترجمہ کے ماہر محمد ذاکر (جامعہ ملیہ اسلامیہ)کی مثال پیشِ نظررکھنے سے تقابلی طور پر موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ ظ۔ انصاری نے پوشکن، دستوئیفسکی، مارکس، اینگلس، لینن، اسٹالن اور روسی زبان کے دیگر ادیبوں اور مفکروں کی قدرِ اوّل کی تصنیفات کا نہ صرف یہ کہ ترجمہ کیا بلکہ روس کے تین عظیم مصنّفین  پوشکن، دستوئیفسکی، چے خف کی حیات وخدمات پر ایسے بھر پور مونوگراف شائع کیے جن سے اہل اردو کو روس کے ادبی منظر نامے کا کم وبیش صحیح طور پراندازہ ہو جا تا ہے۔ محمد ذاکر نے تنہا ’باغ وبہار‘، ’ابن الوقت‘، ’نذیر احمد کی کہانی‘، غالب، فیض اور ن۔ م۔ راشد کے معیاری انگریزی تراجم پیش کرکے انگریزی داں طبقے میں اردو کے اعلا ادب سے آشنائی پیدا کی۔

 اردو ہندی ترجمے بالخصوص فکشن کے ترجمے پر غورکریں تو یہاں کوئی اس انداز کا مکمل مترجم دکھائی نہیں دیتا۔ حالاں کہ اچھے خاصے تخلیق کار اس کثیر لسانی ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں سر گرمِ عمل نظر آتے ہیں۔ پریم چند، دیویندرستیارتھی، اپندرناتھ اشک، دیویندر اسّر، جعفر رضا، غزال ضیغم، مشرف عالم ذوقی، سہیل وحید، خورشید اکرم، شموئل احمدوغیر ہ جیسے نام ایک ذراسی کوشش میں یا د آجاتے ہیں جو ایک دوسری زبانوں سے ترجمے کاکام کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر تراجم ان کی اپنی تحریروں کے ہیں۔ یہاں ان کی تخلیق کار کی حیثیت بنیادی ہے۔ وہ کاروباری ضرورتوں کے سبب ترجمے کے دَرتک تو آگئے ہیں لیکن اس سے کوئی باضابطگی نہیں پیدا ہوسکتی۔ پچھلے بیس برسوں سے حیدر جعفری سیّد ہندی سے اردوترجمے میں پیشے ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ان کے ذریعہ ترجمہ شدہ سرمائے میں نہ کوئی سلسلۂ خیال ہے، نہ ادبی درجہ بندی اورنہ مجموعی سرمائے کے احتسا ب کا خیال۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ اس کے سبب ان کے کام کا کوئی بھر پورتاثّر اب تک سامنے نہیں آپا یا ہے۔

اردوفکشن کے ہندی ترجمے کی کوئی فہرست سازی مقصود نہیں لیکن ایک نگاہ میں یہ بات قابلِ غورہے کہ یہ سلسلہ کہیں نہ کہیں ’رانی کیتکی کی کہانی ‘سے شرو ع ہوتا ہے۔ یہ بحث فی الوقت الگ رکھیے کہ انشا ء اللہ خاں انشا کی نگاہ میں ’ ہندی‘ لفظ کا کیا مفہوم تھا لیکن اردوکے اصحابِ قلم کی جو  ابتدائی کتابیں دیوناگری میں تبدیل ہوکر سامنے آئیں، ان میں ’ رانی کیتکی کی کہانی‘ کی اہمیت مسلم ہے۔ 1915ء سے پریم چند کے ذاتی ہندی تراجم کا دور شروع ہوتا ہے۔ ہندی تراجم کی رفتار آزادی کے بعد ذرا تیز ہوتی ہے۔ ا س کا فائدہ ترقی پسندوں کو سب سے پہلے پہنچا۔ لیکن زبان منتقلی کا کام اچانک 1980ء کے بعد تیز تر ہوجاتا ہے۔ یہ زمانہ طباعت، اشاعت او رترسیلِ عامّہ کی بے پناہ ترقی اور وسعت سے پہچانا جاتا ہے۔ جدید وسائل کے استعمال سے ہندستان کا ہندی پریس اسی زمانے میں نئی بلندیاں چھوتا ہے اوراچھے خاصے پیشے ورانہ نقطۂ نظر سے پورے ملک میں ہندی کے پبلشر بازار کی سوجھ بوجھ کے ساتھ میدان میں نئی کاروباری کامیابیوں کے ساتھ سرگرمِ عمل دکھائی دیتے ہیں۔

اردوسے ہندی فکشن کے ترجمے میں اگر خواتین کی شرکت کا گوشوارہ تیارکیاجائے تو کوئی حوصلہ افزا صورت حال سامنے نہیں آتی۔ عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدرتک اگر فہرست محدود کردیں تو ذرا مناسب حال معلوم ہوتا ہے۔ لیکن کیا ان کی تمام تحریروں کے ہندی تراجم موجود ہیں ؟ نہیں۔ یہاں بھی گنڈے دار صورت حال کا سامنا ہے۔ ناولوں کے تراجم کے مقابلے میں ان دونوں کی کہانیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جس کا ترجمہ ہونا ابھی باقی ہے۔ کسی ایک تخلیق کار کے ہاں عام طورسے افسانوی انتخاب یا ایک دومجموعوں کے تراجم کے بعدیہ سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ جیلانی بانو کے مجموعی ادبی سرمائے کے مقابلے ان کے ہندی تراجم کا تناسب ایک چوتھائی بھی نہیں ہے۔ دیگر خواتین افسانہ نویس اور ناول نگاروں کی حالت ہندی ترجمے کے باب میں اور بھی دگرگو ں ہے۔ یہیں رُک کر ذرا تاریخی طورپر صورت حال کا مجھے اختصار کے ساتھ جائزہ لینے دیجیے تاکہ ترجموں کے سلسلے سے ہماری غفلت شعاری واضح ہوسکے۔

1881ء میں جب عظیم آباد کی خاک سے کسی خاتون کا لکھا ہوا پہلا اردوناول ’’ اصلاح النسا‘ برآمد ہوا، اس وقت کتابوں پر عورتوں کے نام بھی نہیں درج ہوتے تھے۔ رشیدۃ النسا ؛جو  ا س کتاب میں محض’ والدہ بیرسٹر سر محمد سلیمان‘ تھیں، اپنے زمانے سے بہت آگے تھیں لیکن آج تک وہ تاریخی کام نہ ہندی میں منتقل ہوسکا، نہ انگریزی میں۔ 19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں خواتین کے جو  رسائل، گلدستے اور مجلّے لاہو رسے لے کر سیوان تک نکلا کیے اورجن کے اثرات کے طور پر دیکھتے دیکھتے عورتوں میں افسانہ نگاری اورناول نگاری کی ٹھوس شُدبُد پیدا ہوگئی۔ اس کے نتائج بہت حیرت انگیز اورحوصلہ افزا رہے۔ رشیدۃ النسا اور رشید جہاں کے درمیان کم از کم پچیس ایسی خاتون فکشن نویس موجود ہیں جن کے ادبی سرماے کو دیوناگری ہندی میں تلاش کریں تو ہمیں اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دے گا۔ ترجمے میں بے باضابطگی کے نقصانات کیا ہوتے ہیں، ا س کی مثال اس طورپر سمجھنا چاہیے کہ ہندی قارئین کے پاس اردوکے خواتین ادب کا نقطۂ آغازعصمت چغتائی یاترقی پسند عہد کو سمجھنے کے علاوہ چارۂ کار ہی کیاہے؟ اس وجہ سے اردو فکشن کی عورتوں کی کم از کم دونسلیں ہندی عوام سے پوشیدہ رہ گئیں۔ ہندی کا کوئی تجزیہ نگار کیسے اُس ماحول کی درست عکّاسی کرسکتا ہے جس میں عصمت چغتائی جیسی باغی عورت تصنیف وتالیف کے شعبے میں باضابطہ طور پر چلی آتی ہے۔ عصمت چغتائی سے پہلے جن لکھنے والیوں نے سماجی، تہذیبی، مذہبی اورادبی سطح پر جد وجہدکی، وہ جماعت ہندی کے قارئین سے اوجھل ہے۔

تقسیمِ ملک کے بعد حکومتِ وقت کا جبر، نئے سماجی وسیاسی حالات اورپیچیدہ لسانی صورتِ حال کے ملے جلے اسباب سے اردوخواں آبادی کی تعداد میں گراوٹ اور ہندی آبادی میں اضافے سے پہلی تبدیلی یہ پیداہوئی کہ ہندی زبان جاننے والوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھی۔ اتّر پردیش اور ملک کے متعددصوبوں میں نچلی سطح پر اردو تعلیم کے مواقع محدود تر کر دیے گئے یا ختم کرد یے گئے۔ اس سے روایتی اردوخواں آبادی میں سے ایک ایسا بڑا طبقہ سامنے آیا جس نے ہندی کو مادری زبان یا سرکاری زبان کے طورپر اپنا لیا۔ لیکن اپنی تہذیبی اور موروثی زبان یعنی اردو سے وہ پورے طورپرواقف نہ تھا۔ یہیں ترجمے کی ایک نئی کاروباری جہت واضح ہوئی اور اردو کے ہندی تراجم کی ضرورت اور نئی آبادی کی پہچان قائم ہوئی۔ ترجمہ جب بازار کی ضرورت بن جاتا ہے؛ تبھی اس کے پھلنے پھولنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ اردو شاعری اور اُس زمانے کے افسانہ نگار بالخصوص منٹو، بیدی، عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر جیسے فن کارادبی منظر نامے اور ادبی بازار میں چھائے ہوئے تھے۔ انھیں سب پڑھنا چاہتے تھے اور صرف اردورسم خط نہیں جاننے کی وجہ سے اتنی بڑی محرومی گذشتہ نسل کو قبول نہیں تھی۔ اس لیے کتابوں کے ہندی تراجم اور   Transcriptions  کا دور دورہ تھا۔

 آزادی کے بعد کی صورت حال پر غورکریں تو ہندستانی اکیڈمی، الہ آبادنے باضابطہ اردو سے خود کو علاحدہ کرنے کا فیصلہ لے لیا۔ جب کہ اردواورہندی زبانوں کی مشترکہ وراثت کو استحکام دینے کے لیے یہ ادارہ قائم ہوا تھا جہاں کلاسیکی اہمیت کے بعض یادگار ترجمے کیے گئے۔ ایک مختصر مدت تک اسی طرح کی متعدد غلط فہمیوں کی وجہ سے اردو تراجم کے کام پر سیاسی دبائو کی وجہ سے سستی قائم رہی لیکن رفتہ رفتہ اس صورت حال میں تبدیلی آنے لگی۔ ہندستان اور پاکستان کے ما بین سیاسی روابط کی بحالی نے بھی اندیشہ، نفرت اور غلط فہمیوں کی مفروضہ دیوار منہدم کردی اور وہ شوق جو دہائیوں سے تہہ نشیں موجوں کی طرح جاں گزیں تھا، اُسے اچانک زبان مل گئی۔ اردو زبان کے سرمائے کی واقفیت اوراس کی جادونگاری سے قربت کو جیسے پَر لگ گئے ہوں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں ہندی کے تمام اہم ناشرین فراوانی سے اردو شاعری اورنثرکی معروف اور غیر معروف کتابیں جس بڑی تعداد میں شائع کرکے فروخت کررہے ہیں، وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ارد وزبان اورادب کے پڑھنے والے ہندی میں بڑی تعداد موجود ہیں۔ 1980 ء کے آس پاس جب ہند پاک ادبی اور سیاسی رشتوں میں موافقت کی ایک لہر چلی، اُسی وقت انتظار حسین کے ناول ’بستی ‘ کا ہندی ترجمہ بھی سامنے آیا۔ اسی کے ساتھ انتظار حسین کی پرانی اور نئی کہانیوں پر ہند ی مترجمین کی نگاہ گئی۔ انتظار حسین کی موضوعاتی دنیا ہندی داں عوام کے لیے اجنبی نہیں تھی۔ اس پر مستزاد  ان کا اسلوب بھی ہندی عوام کے لیے اپنائیت بھرا تھا۔ ہندی زبان میں اردو فکشن کی منتقلی کا جو عہدِ زرّیں شروع ہوا، اس کا نقطۂ آغاز بلا شبہ انتظار حسین ہی ہیں۔ اس کے بعد یہ سلسلہ بہت تیزی سے بڑھا۔ فہمیدہ ریاض کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے ناولوں اور کہانیوں کے ہندی تراجم بھی سامنے آئے۔ کشور ناہید کی خود نوشت کا بھی ہندی میں ترجمہ سامنے آیا۔

اردو ادب با لخصوص اردو فکشن کے ہندی تراجم کی فصلِ بہار ہندی کے ان رسائل و جرائد کی مرہونِ منّت ہے جنھیں خاص طور سے کہانیوں کا رسالہ کہا جاتاہے۔ ہندی رسالے ’ساریکا ‘ نے اردو زبان کے تعلق سے نہایت سلجھے ہوئے شعور کا مظاہرہ کیا تھا۔ خاص طور سے موہن راکیش، کنھیالال نندن اور کچھ حد تک اودھ نارائن مدگل وغیرہ کی ادارت میں اس رسالے نے منٹو، پریم چند، اردو کہانی اور دیگر موضوعات پربہترین خاص نمبرشائع کیے جن میں اردو کا بہترین ادب ہندی میں منتقل ہوکر سامنے آیا۔ اس رسالے کے شانہ بہ شانہ ’دھرم یُگ‘ اور ’ساپتاہک ہندستان ‘ محدود پیمانے پر اردو کے معیار ی فکشن کو پہلے ہی سے پیش کر رہے تھے۔ ۱۹۸۶ء میں ممتاز افسانہ نگار راجندر یادو کی ادارت میں رسالہ ’ہنس ‘ کی اشاعت شروع ہوئی۔ تھوڑے وقفے کے ساتھ ’کتھا دیش ‘ نے بھی’ ہنس‘ کی ہی راہ منتخب کی۔ ہندی کی ادبی صحافت پر’ ہنس‘ کے واضح اور گونا گوں اثرات ہوئے۔ اردو کی بہترین اور یاد گار کہانیوں کی ہر شمارے میں شمولیت اور اس کے پہلو بہ پہلو پرانے اور نئے اردو افسانہ نویسوں کو ایک سلسلے سے متعارف کرانے کا سلسلہ بھی پسند یدہ  قرار دیا گیا۔ پچھلے پچیس برس میں ہندی کے چھوٹے بڑے تمام ادبی رسائل میں کم از کم دس فیصد اردو ادب کے ترجموں کے لیے لازمی طور پر جگہ پیدا ہوگئی ہے۔ رسالہ ’پہل ‘ نے پاکستانی اردو ادب پر جو شمارہ مخصوص کیا، اسے دوبارہ چھاپنا پڑا۔ ’کتھا دیش‘ نے اردو کہانی کے تعلق سے جو خصوصی اشاعت پیش کی، اسے کئی بار ری پرنٹ کرنا پڑا۔ ’نیا پتھ ‘اور ’وسدھا‘ کے بھی اردو کے خاص نمبر بے حد مقبول ہوئے۔ اردو کہانیوں کے بار بار اور ہر رسالے میں شائع ہونے کی وجہ سے ہندی کے ادبی قارئین کو اردو فکشن کی مجموعی صورت حال سے بڑی حد تک واقفیت حاصل ہوگئی ہے۔ ہندی کے پچاس فیصد قارئین بلاشبہ اس بات کو جانتے ہیں کہ ان کے زمانے میں اور پچھلے دور میں کون کون سے اہم فکشن نویس ہیں ؟ان کی نمایندہ تخلیقات کی کون سی فہرست قائم ہوسکتی ہے ؟ ہندی فکشن کے نقادوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ آسانی سے پتا چلتا ہے کہ عہد ِحاضر کے شو کت حیات، سلام بن رزاق، غضنفر، طارق چھتاری، سید محمداشرف، شموئل احمد، سہیل وحید، ساجد رشید، شاہد اختر، عبدالصمداو رخواتین میں ترنم ریاض، غزال ضیغم، ثروت خاں، ذکیہ مشہدی وغیرہ کی تحریروں سے وہ پورے طورپر آشنا ہیں۔ مشرف عالم ذوقی تو ہندی زبان میں پورے طورپر پڑھے ہی جاتے ہیں۔

ہندی میں خواتین فکشن نویسوں کے پچھلے تیس برس میں سامنے آئے تراجم کی درجہ بندی کریں تو محسوس ہوتاہے کہ عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، جیلانی بانووغیرہ پر بزرگ افسانہ نگاروں اور ناول نویسوں کی فہرست ختم ہوجاتی ہے۔ ان کے بھی سارے کام معیاری ترجمہ کا حصہ نہیں بنے۔ اس دوران رشید جہاں، شکیلہ اختر، صدیقہ بیگم، صالحہ عابد حسین، عفّت موہانی، آمنہ ابوالحسن، اعجاز شاہین، شمیم صادقہ وغیرہ کی طرف مترجمین نے سرسری طور پر بھی توجہ نہیں کی۔ ان سے قبل کے بزرگ اور ہم عصر لکھنے والیوں میں نذر سجاد حید ر، صغریٰ ہمایوں مرزا، حجاب امتیاز علی، رضیہ فصیح احمد، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، جمیلہ ہاشمی وغیرہ بھی ہندی عوام سے بہت حد تک دور ہیں۔ ان میں سے کسی کا ایک ناول یا ایک دو افسانے کسی مترجم کی مہربانی سے ہندی قالب اختیار کرسکا ورنہ ان کی سیکڑوں بیش قیمت تحریریں اردو میں محدود ہو کررہ گئیں اور ہندی جاننے والوں نے انھیں پڑھا ہی نہیں۔ پچھلی تین دہائیو ں میں اردو ادب کے ہندی ترجمے کی طرف جو رغبت بڑھی ہے، اس کا بھی سب سے زیادہ فائدہ ہم عصر لکھنے والوں کو حاصل ہوا۔

آج کے ادبی منظر نامے پر جو خواتین افسانہ نویس موجود ہیں، ان میں غزال ضیغم کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ وہ اردو اور ہندی  کے مابین خود ترجمہ کرلیتی ہیں۔ اسی لئے ان کے افسانے اکثر و بیشتر ہندی رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’ایک تھی سارا ‘کا ہندی سے اردو ترجمہ کیا تھا۔ تبسم فاطمہ کا افسانوی مجموعہ بھی ہندی میں سامنے آیا حالاں کہ ترجمہ اور تخلیق میں وہ اب بہت کم سرگرم ہیں۔ گذشتہ دہائیوں میں ترنم ریاض بہت تیزی سے اردو فکشن میں ابھریں۔ ان کی متعدد کتابیں ہندی میں ترجمہ ہوکر سامنے آگئیں۔ متفرق رسائل میں بھی ان کے مترجمہ افسانے شائع ہوئے۔ ذکیہ مشہدی، نگار عظیم، صادقہ نواب سحر اور ثروت خاں وغیرہ پر بھی مترجمین کی فیاضی شروع نہیں ہوئی ہے۔ ذکیہ مشہدی خود بھی مترجم ہیں لیکن ان کا فکشن ابھی ہندی میں منتقل ہونا بہت حد تک باقی ہے۔

 ہندی سے اردو تراجم کے موضوع پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ صورت حال واقعتاً تشویش ناک ہے۔ متعدد رسائل بالخصوص ’ایوان اردو ‘ اور پاکستان کے ’آج‘ نے ہندی ادب کے خصوصی شمارے شائع کیے۔ اردو کے اکثر رسائل میں ہندی کی تخلیقات ترجمہ ہوکر شائع ہوجاتی ہیں۔ ’آج کل‘، ’نیاورق‘، ’ذہن جدید‘، ’ ایوان اردو ‘، ’زبان و ادب ‘، ’روح ادب ‘ اور کئی دستاویزی رسائل میں ہندی کا ادب شائع ہوتا رہا ہے۔ انفرادی طور پر بہت سارے ہندی ادیبوں کی تحریریں کتابی شکل میں بھی سامنے آئیں۔ پریم چند تو مشترکہ میراث ہیں، ان کے بعد کی نسل کے اہم فکشن نویس یش پال، بھیشم سا  ہنی کی تحریروں کے تو کچھ تراجم اردو میں سامنے آئے لیکن یہ سلسلہ اتنا ناکافی ہے جیسے اس کام کو کسی نے جی لگاکر کیا ہی نہیں۔ موہن راکیش، راجندر یادو، دھرم ویر بھارتی وغیرہ کی تخلیقات بھی بہت معمولی تناسب میں اردو میں سامنے آئیں۔ موجودہ عہد کے لکھنے والوں میں ادے پرکاش، شیومورتی، اودھیش پریت وغیرہ کی متعدد افسانوی تحریریں اردو میں منتقل ہوکر کتابی شکل میں منظر عام پر آچکی ہیں۔

جہاں تک ہندی کی خواتین فکشن نگاروں کا تعلق ہے، اس کی فہرست سامنے رکھتے ہوئے اگر اردو تراجم کا جائزہ لیا جائے تو مَنّو بھنڈاری، شِیوانی، اوشا کرن خان، مرد لاگرگ، ممتاکالیا، میترئی پُشپا، الکاسراوگی، مرنال پانڈے، راجی سیٹھ وغیرہ کے اردو تراجم موجود ہیں لیکن ان سے ہندی کے نسائی ادب کی کوئی ٹھوس، بھر پور اور مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اگر اردو تراجم کا ہندی ترجمے سے موازانہ کیا جائے تو اردو کا سرمایہ نہایت معمولی، کم تر اورغیر نمایندہ معلوم ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندی کی شہ کار تحریر وں کا ترجمہ ابھی ہوا ہی نہیں۔ ہندی سے اردو قالب میں جواصحاب مستعدی سے ترجمہ کر رہے ہیں، ان میں پیشہ ورانہ طور پر نہ مہارت دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی وہ کُل وقتی طور پر اس کوچے کی سیّاحی میں مصروف ہیں۔ اس لیے اگر کوئی ہندی ادیب اردو حلقے پر یہ الزام عائد کردے کہ ہم نے جس قدر اردو ادب کے تراجم کیے، ان کے مقابلے میں پانچ دس فی صد بھی ہندی ادب کا اردو ترجمہ دستیاب نہیں ہے، تو اِس کا جواب ممکن نہیں ہوگا۔ اگر کوئی اسے ہماری کوتاہ ذہنی قرار دے دے تو ہمارے پاس اس الزام سے بری ہونے کے زیادہ ثبوت بھی  نہیں ہیں۔

اردو او ر ہندی زبانوں میں ایک دوسرے سے ترجمے کے سرکاری طور پر بڑے ادارے ساہتیہ اکادمی اور نیشنل بک ٹرسٹ ہیں جہاں دیگرزبانوں کے ساتھ ساتھ اردو ہندی زبانوں کے ترجمے کا بڑے پیمانے پر کام ہورہا ہے۔ ان اداروں کے ضابطے اور حکمرانوں کے اضافی ضابطے کچھ ایسا کام کر جاتے ہیں جن سے ترجمے کا کوئی معیار اب تک سامنے نہیں آسکا۔ فورٹ ولیم کالج یا دارالترجمہ کی تاریخ پڑھیے تو ہمیں بڑے مشہور مترجمین کے کارناموں سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ساہتیہ اکادمی یا نیشنل بک ٹرسٹ کے مترجمین کی فہرست نگاہ میں ہو تو یہ اندازہ لگ جائے گا کہ جہاں غیر معروف یا نومشق اور کام چلاو‘مترجمین سے کام چلالیا جاتاہے۔ اس کی وجہ سے بہت ساری اہم کتابیں ترجمہ ہونے سے رہ جاتی ہیں۔ قومی اردو کونسل نے بھی اردو، ہندی کے باہمی ترجمے کی داغ بیل رکھی ہے جہاں معیار اور بھی ناگفتہ بہ ہے۔ ہر جگہ صرف اس بات کو نگاہ میں رکھ کر ترجمے کاکام ہورہاہے کہ اس کی زبان بدل دینی ہے۔ ان تینوں اداروں میں اردو سے ہندی اور ہندی سے اردو ترجمہ شدہ کتابوں کی صرف تعداد طے کرلی جائے تو اس کااندازہ ہزاروں میں ہوگا۔ لیکن ان میں سو کتابیں ہی ایسی ہیں جن کے ترجمے کا کوئی معیار ہے۔

اصل میں ابھی اردو میں تراجم کے معیار اور استناد کے موضوع پر کوئی گفتگو شروع بھی نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے اردو کی ترقی کے وسائل اور مواقع محدود ترہوتے جارہے ہیں۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ ملک میں کئی یونی ور سیٹیوں میں فن ترجمہ کے لیے مکمل شعبے قائم ہوچکے ہیں لیکن وہاں کے ماہرین کون سا عظیم کارنامہ انجام دے رہے ہیں، اسے کوئی نہیں جانتا۔ یہ بات بھی کم افسوس ناک نہیں کہ ایسے اداروں کے تراجم بھی بازار میں ٹھیکے کی بنیاد پر مکمل ہوتے ہیں۔ این۔ سی۔ ای۔ آر۔ ٹی اورریاستی تعلیمی اداروں کے اردو تراجم پہلے سے ہی تدریسی سطح پر اردو کی نامقبولیت کے ضامن رہے ہیں۔ پورے اردو معاشرے میں تراجم کے سلسلے سے ایک سرد مہر ی، بے پروائی اور غیر پیشے ورانہ رجحان دیکھنے کو ملتاہے۔ جن لوگوں نے بھی عام طور پراردو اور ہندی ترجموں سے خود کو جوڑ کررکھا ہے، ان میں نمایاں اصحابِ قلم بہت کم ہیں۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ انگریزی سے اردو اور اردو سے انگریزی یا روسی اور چینی زبان سے اردو میں بہترین ترجمہ کرنے والے مل جاتے ہیں۔ ان میں بہت سے نام ور لکھنے والے بھی ہیں لیکن اردو اور ہندی کے درمیان جو مترجمین ہیں، وہ یا تو غیر پیشے ور ہیں یا بہت معمولی معیار کے اہل قلم ہیں۔ اس لیے ترجمے کی ضرورت، افادیت اور مالی منفعت کے باوجود اس طرف صلاحیتیں نہیں آرہی ہیں۔

اردو، ہندی مترجمین کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ تخلیقات کے انتخاب میں کوئی ترجیحی فہرست یا درجہ بندی کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ اس کی وجہ سے بڑے سے بڑا اہل قلم دوسری زبانوں کے لیے اَن جاناہوجاتاہے۔ لیکن اسی زبان کاکوئی معمولی لکھنے والا ناتجربہ کار مترجمین کی بیساکھی پر چڑھ کر دوسری زبان میں اہم لکھنے والے کے طور پر نظر آنے لگتاہے۔ تخلیقات کاا نتخاب درسست نہ ہو اور اپنی زبان سے دوسری زبان میں پیش کش کے وقت یہ خیال نہ ہوکہ بنیادی سوال نمایندہ ادب کا ہونا چاہیے، ایسے عا لم میں ترجمے کے نام پر خانہ پُری ہی ہوتی ہے۔ آج سے تقریباً تیس برس پہلے’ ساریکا‘ میں بنگلہ ادیب اور ساہتیہ اکادمی کے سربراہ سنیل گنگو پا دھیائے(مرحوم) نے اس طرح غیر نمایندہ اور غیر معیاری ترجمے کے بارے میں یہ چبھتا ہوا جملہ کہا تھا:’’کچھ لوگ ہندی میں بنگلہ کے نمایندہ ادیب سمجھے جاتے ہیں ‘‘۔ اردو اور ہندی ترجمے میں بھی ایسی مضحکہ خیز صورتیں روزانہ سامنے آتی رہتی ہیں کیوں کہ اگر مترجم کو نہیں معلوم کہ عصمت چغتائی اور ثروت خان یا ترنم ریاض میں کون اہم ہیں اور کن کی تحریریں ترجمہ کے لیے پہلے منتخب کی جانی چاہییں تو خداہی بھلا کرے۔ ترجمہ جتنا سنجیدہ عمل ہے، اسے اردو اور ہندی کے مترجمین کو بھی اسی طور پر سمجھناچاہیے۔

اردو ہندی تراجم کے سلسلے میں اشاعتی اداروں کے نقطۂ نظر بھی متوقع نتائج کے اعتبار سے خطرناک ہیں۔ ہندی کے صفِ اوّل کے ناشرین دھڑلّے سے دیوناگری رسمِ خط میں ہو بہ ہو  اردو کی کتابیں Transcribe  کر رہے ہیں۔ ضرورت کے مطابق مشکل الفاظ کے معانی بھی درج کردیے جاتے ہیں۔ شاعری کی حد تک تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ بدعت نثر اور بالخصوص فکشن اور نان فکشن سب جگہ عام ہے۔ الفاظ کے معانی درج کرنے میں عجلت کو راہ دینے یا صرف لغات پر قناعت کرنے کے سبب بعض اوقات مضحکہ خیز صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ غیر پیشے ورانہ رویّہ ہے۔ رسمِ خط کی تبدیلی کے مرحلے میں بھی اعراب اور حرکات کی بے شمار غلطیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ غیر ماہرین سے کام لینے کے سبب یہ باتیں سامنے آرہی ہیں۔ ایسی بے اعتدالیاں اردو کے بعض ناشرین بھی کررہے ہیں۔ اس سے بچنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس سے معیاری تراجم کے امکانات گھٹیں گے اور ہماری زبان کا نقصان ہوگا۔

اردو ہندی کے مابین تراجم کی اس صورت حال کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اردو خواں آبادی پچھلے ساٹھ پینسٹھ برسوں میں نئی سیاسی صورتِ حال کا سامنا کرتے ہوئے ہندی زبان سے اس قدر آگاہ ہوگئی جس سے اُسے ہندی کے ادب کو براہِ راست پڑھنے میں کوئی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ذولسانی یا سہ لسانی ماحول کی یہ عجب طرفہ تماشگی بھی ہے کہ یہاں ایک ساتھ ترجمے کی گنجایشیں بھی ہوتی ہیں اور ترجمے کی ضرورت بھی معدوم ہوجاتی ہے۔ عہدِ و سطیٰ میں فارسی کے اردو تراجم اس لیے زیادہ دکھائی نہیں دیتے کیوں کہ اُس عہد کی اردو آبادی بالعموم فارسی سے آشنا تھی۔ آج ہندی اور انگریزی دونوں زبانیں تعلیمی اور تدریسی زینوں سے اردو عوام کے سرچڑھ کر بول رہی ہیں۔ ایک بڑا طبقہ جب تینوں زبانوں میں یکساں طور پر کام کرے گا تو اس حالت میں ترجمے کے امکانات واقعتا گھٹ سکتے ہیں۔ شاید اسی لیے اردو میں ہندی زبان سے زیادہ تراجم دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن اردو سے ہندی ترجمے کے تعلق سے یہ آسانی نہیں ہے جس کی وجہ سے اردو سے ہندی تراجم کی رفتار تیز تر ہے۔ اس بحث کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہندی سے اردو میں تراجم کی ضرورت ہی ختم ہو گئی یا یہ ایک کارِ زیاں ہے۔ مترجمین اگر چاہیں تو ہندی ادب کے بہترین اور بہت سارے گم شدہ کاموں کو اردو میں منتقل کرنے کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں اور اس کے لیے انھیں داد بھی ملتی رہے گی۔

مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Close