دیگر نثری اصناف

انتظار

نظرعرفان

انتظار، ایک اور  انتظار

آج پھر وہ نہ ملی

آج پھر میں انتظار کرتا رہا

پرندے مجھے دیکھتے رہے

اور میری بیکسی پہ روتے رہے

میں ہر طرف دیکھتا رہا

یہ میری زندگی

انکے لئے

پر وہ سمجھی نہیں

لیکن وہ بےقصور

انکی بھی ہیں مجبوریاں

جو بنیں ہم سے انکی دوریاں

جو میں جانا  اورسمجھی وہ

لیکن وہ کہہ نہ پائی مجھے

یہ پرندے جانتے ہیں

چرند تو آخر چرند!

کیا بتاؤں اسے

محبت اسی کا نام ہے

اسے دولت سے کیا  واسطہ

آج پھر وہ نہ ملی

آج پھر میں انتظار کرتا رہا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close