تبصرۂ کتبدیگر نثری اصناف

تبصرہ نگاری

شادمحمد شاد

کتابوں پر اپنے تأثرات کا اظہار کرنا اور ان پر تبصرہ کرنا  ایک مفید مشغلہ ہے۔ اس سے جہاں تبصرہ نگار  کے مطالعہ ، تجزیہ اور تبصرہ  کی  مہارت کو جلا ملتی ہے، وہاں اس کا بڑا فائدہ کتاب کے مصنف/مؤلف  کا بھی ہوتا ہے کہ عوام  اس کی کتاب سے واقف ہوتی ہے اور خود اُس میں  اپنی کتاب کے مشمولات ومضامین پر نظر ثانی  کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور اگلے ایڈیشن سے پہلے تصحیح وتنقیح کی کسوٹی پر کتاب کو پرکھ لیا جاتا ہے۔

 تبصرہ نگاری ، مضمون نویسی ہی کی ایک شکل ہے۔ تاہم جب سے اردو رسائل وجرائد اور اخبارات کا آغاز ہوا ہے، اُس وقت سے قدیم وجدید مطبوعات پر تبصرہ وتعارف کی باقاعدہ روایت قائم ہوئی ہے اور یوں تبصرہ نگاری نے ایک مستقل فن اور صنف کی شکل اختیار کرلی ہے۔

 کسی بھی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے کتاب  کے موضوع سے مکمل آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔تبصرے سے پہلے کتاب، مصنف اور کتاب کے موضوع سے واقفیت حاصل کرنا ، بلکہ مکمل کتاب کا مطالعہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ اگر مکمل کتاب کا حرف حرف مطالعہ کرنا مشکل ہو تو کم ازکم  کتاب کی فہرست، تمہید، پیش لفظ، تقریظ اور تعارف ومقدمہ کا مطالعہ کرنا از بس ضروری ہے۔ اس کے ساتھ فہرست میں اہم اور چیدہ چیدہ مقامات کو منتخب کرکے ان مقامات کا بغور مطالعہ کرنا اور ان سے متعلق اپنی رائے کو تبصرے میں شامل کرنا بھی ضروری ہے۔

 کتاب پر تبصرہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

1۔تعارف:

 سب سے پہلے  کتاب اور مصنف کا نام ،صفحات کی تعداد اور ناشر کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کتاب اور صاحبِ کتاب کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ پھر تالیف کا پسِ منظر، کتاب کے مشمولات ومضامین اور موضوع کی نوعیت، اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اس حصے میں یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ یہ ایک مستقل کتاب ہے یا کسی دوسری کتاب کی تلخیص، یا شرح ۔اور یہ کہ اس کا موضوع ایک اور مربوط  ہے یا یہ مختلف موضوعات کا مجموعہ ہے۔

2۔مرکزی حصہ:

 تعارف کے بعد کتاب کے علمی وادبی معیار کو جانچا جاتا ہے۔ اس حصے میں کتاب کی بنیادی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔تبصرہ محض کسی کتاب کے حمد وتوصیف کا نام نہیں ہے، کیونکہ اس سے تبصرہ، تبصرہ نہیں رہتا، بلکہ "تذکرہ” یا "تقریظ” میں داخل ہوجاتا ہے۔ معیاری اور منصفانہ تنقید  تبصرے کا بنیادی عنصر اور جزء لاینفک ہے۔ لہذا پوری دیانت وامانت کے ساتھ غیرجانبدارانہ  طور پر تنقید کی جائے اور مصنف کو خیرخواہانہ مشوروں سے نوازا جائے۔

3۔اختتام:

 آخر میں کتاب کی ظاہری خوبیوں اور خامیو ں کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ مثلا کتابت وکمپوزنگ کے معیار اور غلطیوں کی نشاندہی۔ طباعت وکاغذ اور جلدبندی وغیرہ سے متعلق کسی چیز کے اضافے کا مشورہ دیا جاتا ہے ،یا کسی اصلاح یا خامی کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔

مزید دکھائیں

شادمحمد شاؔد

فاضل ومتخصص جامعہ دارالعلوم کراچی

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close