دیگر نثری اصناف

تلنگانہ میں فروغ اردو کے عملی اقدامات 

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

تلنگانہ ایک خوابوں کی ریاست ہے اور اس ریاست کی تشکیل کے بعداسے سنہرا تلنگانہ بنانے کے لئے زندگی کے ہر شعبہ سے اونچے عزائم ظاہر کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ کے لئے کامیاب تحریک چلانے والے اور تلنگانہ ریاست کے پہلے وزیر اعلی جناب کے سی آر نے دکنی تہذیب اور یہاں کی وارثت کو برقرار رکھتے ہوئے بہت کم عرصے میں عوام دوست اقدامات کئے اور مقبولیت حاصل کی۔ ریاست میں ملک کی یوم آزادی کی پہلی تقریب قلعہ گولکنڈہ کی فصیل پر منائی گئی۔ تلنگانہ عوام کے عظیم تہوار بتوکما کو حکومت نے سرکاری طور پر منایا اور پہلی مرتبہ اس تہوار کے لئے مدارس کو تعطیلات کا اعلان کیا گیا۔ حکومت تلنگانہ کی تہذیبی شناخت کو بحال کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں تلنگانہ کے جذبے کو پروان چڑھانے والے پرجا کوی کالوجی راؤ کے یوم پیدائیش کی صدی تقاریب کو دھوم دھام سے منایا گیا۔ نئی ریاست کے پہلے یوم تاسیس کو سرکاری سطح پر جشن کے طور پر منایا گیا۔ جس میں دیگر پروگراموں کے ساتھ اردو تہذیب و ثقافت کے پروگرام بھی شامل کئے گئے۔ جہاں تک تلنگانہ علاقے کی زبان کا معاملہ ہے تلگو اور اردو اس علاقے کی اہم زبانیں رہیں ہیں اور دکنی زبان کے اثرات کے سبب یہاں تلگو عوام بھی آسانی سے اردو میں بات چیت کرتے ہیں۔ موجودہ وزیر اعلی اور حکومت کے دیگر وزراء بھی تقاریب میں اردو میں بات کرتے ہیں۔ نائب وزیر اعلی جناب محمود علی صاحب کے تقرر بھی تلنگانہ حکومت کی گنگاجمنی پالیسی کا مظہر ہے۔ یہاں دفاتر میں اردو بات چیت کا چلن عام بات ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اب تلنگانہ میں اردو کو اس کا جائز مقام دلایا جائے۔ تہذیبی اور سماجی اعتبا ر سے بھی علاقہ تلنگانہ کی الگ پہچان رہی ہے اور اردو زبان اس علاقے کے عوام کی ایک لحاظ سے مادری زبان ہے۔ تلنگانہ کے اضلاع نظام آباد، ورنگل، محبوب نگر، کریم نگر، نلگنڈہ، میدک، عادل آباد اور حیدرآباد سبھی اردو کے گہوارے ہیں۔ اور ان اضلاع میں دیکھا جائے تو تلگو کا نمبر دوسرا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ علاقہ تلنگانہ کی تہذیبی شان کی برقراری اور اس میں مزید اضافہ کے لئے تشکیل تلنگانہ کے ساتھ فوری سرکاری، علمی اور تہذیبی سطح پر ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے اردو اس علاقہ کی سرکاری زبان بن جائے اور حکومت اور تعلیمی سطح پر اس کا استعمال عام ہوجائے۔
تلنگانہ تحریک عوامی تحریک تھی۔ نئی نسل کے بچے اور نوجوان اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ انہوں نے اپنی نظروں کے سامنے ایک تحریک کو زور پکڑتے دیکھا۔ ہم نے دیکھا کہ لوگ رات میں اپنے ہاتھوں میں جلتی موم بتیاں لئے گاؤں اور شہروں میں تلنگانہ کی حمایت میں جلوس کی شکل میں جار ہے ہیں۔ کہیں تلنگانہ دھوم دھام ہورہا تھا تو کہیں تلنگانہ تہذیب کو اجاگر کیا جارہا تھا۔ کسی بھی تحریک کو پروان چڑھانے میں زبان کا اہم رول ہوتا ہے۔ اور تلنگانہ کے علاقے کی مقبول زبان اُردو ہے۔ اردو الوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران اپنی تقاریر نظموں اور گیتوں کی پیشکشی کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ تلنگانہ کے لئے اردو بہت کچھ کر سکتی ہے۔ اردو میں تلنگانہ کے حق میں نعرے بھی دئے گئے کہ ’’لگاؤ ایک اور دھکہ تلنگانہ پکا، ،۔ اگر اُردو والے اُردو کی شناخت بر قرار رکھیں تو تلنگانہ کی تشکیل کے بعد نئی ریاست میں اُردو کو اس کا جائز مقام مل سکتا ہے۔ 1956 ؁ء میں زبان کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل جدید میں تلگو بولنے والی آبادی کے اضلاع کو ملا کر علاقہ تلنگانہ کے ساتھ دکن میں ریاست آندھرا پردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ جبکہ سابق ریاست حیدرآباد میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ کونسی زبان بولنے والے کتنی تعداد میں کہا ں رہتے ہیں۔ اور تلنگانہ کے علاقے میں اردو بولنے والوں کی کثرت تھی۔ جامعہ عثمانیہ کی تاریخ شاہد ہے کہ کیا ہندو کیا مسلمان سب کالی شیروانی پہنے اردو میڈیم سے اس جامعہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے تھے۔ گھروں میں اردو تہذیب زندہ تھی۔ لوگ بلا لحاظ مذہب و ملت اردو اخبار پڑھتے تھے اردو میں بات کرتے تھے۔ اور اسکولوں میں سب اردو بہ حیثیت زبان پڑھتے تھے۔ اب ان ہی علاقوں کے ساتھ تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میں آئی ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد آندھرا کا علاقہ خالص تلگو کا علاقہ ہوگیا آج بھی آندھرا میں اردو کا چلن صرف ٹوٹی پھوٹی بولی کی حد تک ہے۔ آندھرا ریاست مکمل تلگو زبان کی حامل ہوگی۔ تلگو زبان کے بعض غیر جانبدار دانشور اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ آندھرا پردیش میں گذشتہ پچاس سال میں صرف تلگو کا کلچر ہی پروان چڑھتا رہا تلگو میڈیا، فلموں اور دیگر ذرائع سے تلنگانہ کے علاقے میں آندھرا کا کلچر اور تہذیب پروان چڑھائی گئی۔ اور تلنگانہ کی گنگا جمنی اردو تلگو تہذیب آندھرائی تہذیب کے اثرات میں دب گئی۔ اب تلنگانہ کے اردو دانشوروں کے لئے یہ لمحہ فکر ہے کہ کیا وہ تلنگانہ کے نام پر تلگو زبان والی دوسری ریاست برداشت کریں گے۔ کیونکہ تلنگانہ کے موجود ہ اردو حلقوں سے اب تک یہ بات سامنے نہیں آئی کہ تلنگانہ کی پہلی سرکاری زبان اردو ہوگی۔ اگر ہم ابھی سے تلنگانہ کی پہلی سرکاری زبان کے اردو ہونے کا مطالبہ نہ پیش کریں اور تلنگانہ تحریک میں اردو کو پیش نہ کریں تو ہمیں ایک اور تلگو ریاست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور آندھراا پردیش میں تلنگانہ کے اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنائے جانے کے سبز باغ کی طرح ایک مرتبہ پھر اردو اپنے ہی گھر میں اپنوں کے ہاتھو ں اجنبی ہوجائے گی۔ زبان ایک نامیاتی شئے ہے اگر اسے برتا گیا تو وہ زند ہ رہے گی ورنہ پہلے اس کا رسم الخط مر جائے گا اور پھر اس کے بعد بہ حیثیت بولی بھی ایک زندہ زبان تاریخ کے صفحات میں گم ہوجائے گی۔ دکن کے علاقے میں دکنی زبان کے مٹ جانے کی کہانی ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ اس لئے یہ اچھا موقع ہے کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اردو کے دانشور تلنگانہ میں اردو کے موقف کو بھی مضبوط پیش کرتے جائیں۔ اگر ہم اردو کا ماحول بنائیں گے تو غیر اردو داں بھی پہلے اردو میں بات کریں گے اور پھر حکومت کی مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ سب کے لئے اردو تعلیم کا طریقہ کار بھی طے کیا جا سکتا ہے۔
ابھی کچھ دن قبل تلنگانہ کہ اردو دوست وزیر اعلی جناب کے چندر شیکھر راؤ نے ایک اعلان کیا کہ اقلیتی طلبا ء کے لئے اردو کو بہ حیثیت زبان اول کے پڑھانے کی اجازت رہے گی۔ اس اعلان کو اردو اخبارات اور عوام نے اس انداز میں پیش کیا کہ واقعی اردو تلنگانہ کی سرکاری زبان بنا دی گئی ہے جب کہ اس فیصلے کا سیاق و سباق یہ ہے کہ اردو مادری زبان والے طلبا جو اب تک اسکول اور کالج کی سطح پر اردو کو زبان دوم کے طور پر پڑھ رہے تھے وہ اب اسے تلگو یا انگریزی کی طرح زبان اول کے طور پر پڑھیں گے۔ اس فیصلے سے اردو طلبا کی زبان دانی میں اضافہ ہوگا اور اردو کی زبان اول کی تدریسی کتابیں تیار کرنے کی راہ ہموار ہوگی لیکن ریاستی سطح پر اردو کو سرکاری زبان بنانے میں پیشرفت کا اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔ صرف ایک پیش قدمی ہے کہ تلنگانہ میں اردو مادری زبان والوں کو اپنی زبان زبان اول کے طور پر پڑھنے کا موقع ملے گا۔
یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ حیدرآباد میں اُردو کی مرکزی یو نیورسٹی مولانا آزاد اردو یونیور سٹی قائم ہے۔ یہاں موجود اردو یونیورسٹی کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ماضی کی جامعہ عثمانیہ کی طرح اب اردو میں روایتی کورسز کے ساتھ تکنیکی کورسزبھی اردو میں پڑھائے جا سکتے ہیں۔ جب اردو یونیورسٹی میں ایم بی اے اور دیگر پی جی کورسز اردو میڈیم سے کامیابی کے ساتھ پڑھائے جارہے ہوں تو پھر ایم بی بی ایس یا انجینئرنگ کورسز کو اردو میڈیم میں کیوں نہیں پڑھایا جا سکتا ہے۔ لیکن حالیہ عرصہ میں اردو یونیورسٹی کی مایوس کن کارکردگی کے بعد تلنگانہ کے اردو حلقوں کو حکومت سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ تلنگانہ کے لئے ایک علٰحیدہ اردو یونیورسٹی قائم ہو اور اس کے لئے ایس جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں ابھی ضلعی سطح کی یونیورسٹی نہیں ہے جیسے ضلع میدک وغیرہ۔ یا پھر حیدرآباد میں نواحی علاقوں میں ریاستی سطح کی اردو یونیورسٹی قائم کی جاسکتی ہے اس یونیورسٹی کے تحت تمام اردو میڈیم اسکولوں اور کالجوں کی نصابی کتابوں کی تیاری اورتعلیمی پیشرفت کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ حیدرآباد میں نظامیہ طبی کالج چارمینار میں بی یو ایم ایس کی تعلیم اردو میڈیم سے ہے۔ اسی طرح عثمانیہ یونیورسٹی کے علاوہ تلنگانہ یونیورسٹی، شاتاواہانا یونیورسٹی میں اعلی تعلیم کے لئے اردو کے شعبے قائم ہیں۔ اور تمام ڈگری کالجوں اور جونیر کالجوں میں اردو زبان دوم پڑھائی جارہی ہے۔ اسے زبان اول کرتے ہوئے اردو میڈیم سے روایتی ڈگری اور پی جی کورسز شروع کئے جاسکتے ہیں۔ حال ہی میں ظہیر آباد ڈگری کالج میں اردو میڈیم سے بی ایس سی کا آغاز ہوا۔ حیدرآباد کے بعد شائد یہ علاقہ تلنگانہ کا واحد کالج ہے جہاں اردو میڈیم بی ایس سی ہے۔ اس لئے تعلیم کے شعبے میں یہ مطالبہ کیا جائے کہ ہر ضلع مستقر پر اردو میڈیم کا علٰحیدہ جونیر و ڈگری کالج قائم کیا جائے اور اس کے لئے دارلترجمہ کے طور پر اردو اکیڈیمی سے اردو میں کتابیں تیار کی جائیں یہ کام اکیڈیمی انٹر کی سطح پر کامبیابی سے کرچکی ہے اسے آگے بڑھاتے ہوئے ڈگری کی سطح پر سائینس، آرٹس اور کامرس کی کتابیں بھی اردو میں ترجمہ کرائی جائیں۔ اور امید ہے کہ اکیڈیمی یہ کام بھی کرے گی۔
تلنگانہ میں اردو کے فروغ کے ضمن میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اب تلنگانہ میں اردو والوں کو اپنی حکومت سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ یہاں کے تمام سرکاری و خانگی مدارس چاہے وہ اردو میڈیم ہوں تلگو میڈیم ہوں یا انگریزی میڈیم سب مدارس میں ارد و مضمون کو لازمی قرار دے۔ جب اسکول کی سطح سے سب لوگ اردو پڑھے ہوئے ہوں تو انہیں اردو میڈیم میں اعلیٰ تعلیم میں دشواری نہیں پیش آسکتی۔ جیسا کہ سابق میں جامعہ عثمانیہ کے عظیم سپوتوں نے کر دکھایا۔ یہ بھی ایک حقیقت رہی ہے کہ ماضی میں اردو میڈیم سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی انگریزی جتنی اچھی تھی اتنی آ ج کے انگریزی میڈیم تعلیم حاصل کرنے والوں کی نہیں ہے۔ اس لئے یہ خدشہ دل سے نکال دینا چاہئے کہ اردو میڈیم سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ آندھرا پردیش میں اردو بولنے والوں کو گذشتہ نصف صدی سے اسکول کی سطح پر لازمی طور پر تلگو پڑھایا گیا۔ تو اب اردو والوں کو یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ تلنگانہ میں سب کو اردو پڑھنا ہوگا۔ اس لئے تلنگانہ کے محبان اردو سے گذارش ہے کہ وہ سب کے لئے اردو تعلیم لازمی کا نعرہ لگانا شروع کردیں تو ایک طرف اردو کو زندگی مل جائے گی تو دوسری طر ف خود انہیں بھی۔ اس کے لئے ہندی کے طرز پر ابتدائی جماعتوں میں تمام مدارس میں اردو کو متعارف کرایا جائے۔ جب تمام مدارس میں اردو کی تدریس کا انتظام ہوگا تو اردو اساتذہ کی جائیدادیں بھی بڑھیں گی اور اردو سے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔ اردو دلوں کو جوڑنے والی زبان ہے اردو مشاعرے اور اردو غزل کی مقبولیت سے کئی غیر اردو داں متاثر ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ اردو سیکھی جائے۔ اس کے لئے قومی کونسل کے طرز پر اردو اکیڈیمی تلنگانہ سے اردو کے سرٹفکیٹ کورسز شروع کئے جائیں اور اردو اکیڈیمی مراکز پر غیر اردو دانوں کے لئے اردو سیکھنے کا انتظام کرایا جائے۔ اس کے لئے سرکاری سطح پر اردو کے ابتدائی کتابچے تیار کئے جائی اور اردو سیکھئے انگریزی کی مدد سے کے عنوان سے ایسا آڈیو ویژول پراجکٹ تیار کیا جائے کہ لوگ گھر بیٹھے کمپیوٹر کی مدد سے اردو سیکھ سکیں۔ اردو والے اردو کا ماحول پیش کریں گے تو امید ہے کہ تلنگانہ میں بہت جلد اردو تہذیب لوٹ آئے گی۔
اردو کے بارے میں غلط فہمی پر مبنی یہ بات عام کردی گئی کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے جب کہ ماہرین لسانیات نے یہ کہہ دیا کہ زبان کا تعلق مذہب سے نہیں ہوتا بلکہ یہ علاقے کے تہذیبی و ثقافتی اثرات کے سبب پروان چڑھتی ہے۔ اردو بولنے والے تعداد میں زیادہ مسلمان ہیں لیکن شمالی ہند میں ہندی کے نام پر غیر مسلمین جو زبان بولتے ہیں اور ہماری فلموں اور ٹیلی ویژن سیریلیوں میں جو زبان استعمال ہوتی ہے وہ اردو ہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ گذرتے وقت کے ساتھ اردو کو نقصان اردو بولنے والوں سے ہوا جنہوں نے اپنی زبان کو اہمیت نہیں دی اور دیگر زبانوں میں تعلیم کو فخر محسوس کیا۔ جب کہ ماہرین تعلیم کی متفقہ رائے ہے کہ ہر بچے کی ابتدائی تعلیم اس کی مادری زبان میں ہو۔ تلنگانہ میں ایک مرتبہ پھر پہلے اہل اردو پھر دوسرے لوگ اردو میں اپنے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا آغاز کردیں تو اردو کی ایک نئی نسل تیار ہوگی۔ انگریزی میڈیم اسکولوں میں بھی ہندی کی جگہ اردو پڑھائی جائے اس سے آگے چل کر اردو میڈیم کی اساتذہ کی جائیدادوں پر تقررات میں سہولت ہوگی۔
اردو کی بقا کے لئے تلنگانہ میں اردو کے مضبوط موقف کی بات کرنے والے سپاہیوں کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا دانشور طبقہ سیاست سے دور رہا ہے اور وہ خاموش تماشائی بنا حالا ت کو بگڑتا دیکھ رہا ہے۔ عام آدمی کے جذبات اچھے ہیں لیکن اسے روٹی کپڑے اور مکان کی جد جہد میں ایسے گھسیٹ دیا گیا ہے کہ وہ جوش میں قطار میں ٹہر کر اس امید میں الیکشن میں اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں وو ٹ ڈالتا ہے کہ کم از کم اب کی بار اس کے روز مرہ کے مسائل حل کرنے والا کوئی مسیحاآئے گا۔ لیکن ہر بار کی طرح الیکشن جیتنے کے بعد ہمارے سیاست دان عوام سے ایسے دور ہوجاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ عوام کو اپنے روز مرہ کے مسائل سے اتنی فرصت ہی نہیں کہ وہ اپنے بنیادی مسائل کی جانب توجہ دیں۔ اس لئے اردو والوں کو بھی ابھی سے اس تلاش میں لگ جانا چاہئے کہ تلنگانہ میں اردو کا سچا ہمدرد کون ہوگا۔ تلنگانہ میں اردو بولنے والوں کا فیصد تقریباً 40ہوگا۔ اگر یہ چالیس فیصد متحد ہوں تو تو حکومت سے اردو کو پہلی یا دوسری سرکاری زبان بنانے کا کامیاب مطالبہ کر سکتے ہیں۔ سرکاری زبان کمیشن کے ذریعے بھی اردو کو سرکاری زبان کا موقف عطا کرنے کی مہم چلائی جائے۔ اردو تحریک چلانے کے لئے ضروری ہے کہ اردو کا الیکٹرانک میڈیا فعال ہو کیونکہ گذشتہ ایک سال میں دیکھا گیا ہے کہ آندھرا پردیش میں تلگو الیکٹرانک میڈیا بہت حد تک رجحان ساز ہوگیا ہے۔ اردو کا واحد کامیاب اردو چینل ای ٹی وی اُردو تلگو میڈیا کی عبقری شخصیت رامو جی راؤ کی ملکیت ہے۔ اور وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر کام کر رہا ہے۔ جب کہ تلنگانہ کی سطح پر ایک مکمل اردو چینل کی ضرورت ہے جو تلنگانہ تہذیب کو پیش کرے۔ آج اردو کی اہمیت سمجھتے ہوئے تلگو نیوز چینلوں ایچ ایم ٹی وی ساکشی، تلنگانہ ٹی وی، ایچ وائی ٹی وی نے اردو نیوز بلیٹن شروع کردیے ہیں۔ دوردرشن سپتا گری سے اردو خبروں کے وقت اور نیوز بلیٹن کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ کیا جائے۔ حیدرآباد میں 4ٹی وی، روبی اور دیگر چینل اردو میں کام کر رہے ہیں۔ تلنگانہ کے ضلع نظام آباد میں مقامی ارد و چینل روشنی ٹی وی نے کام کرنا شرو ع کردیا ہے۔ اور اردو نیوز کے ساتھ عوامی دلچسپی کے پروگرام اردو میں پیش ہورہے ہیں۔ اب ہر ضلع مستقر پر مقامی کیبل کے ذریعے اردو چینل شروع کردیا جائے۔ جس پر اردو خبروں کی پیشکشی کے علاوہ اردو شعرا اور ادیبوں اردو اساتذہ اور مقامی اہم شخصیات کے اردو میں انٹرویو نشر کئے جائیں۔ تلنگانہ تحریک کے پروگراموں کی ریکارڈنگ دکھائی جائے اس سے خواتین بھی تلنگانہ اور اردو کے بارے میں باخبر ہونگی۔ اخبارات کے مقابل ٹیلی ویژن نیو ز چینل ذیادہ بر وقت اور موثر طریقے سے اپنی بات لوگوں تک پہونچا سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک کڑوی حقیقت بن گئی ہے کہ آ ج اردو پڑھ کر سمجھنے والوں کے مقابلے میں اردو سن کر سمجھنے والے لوگ ذیادہ ہیں۔ اس لئے اردو اخبارات کے مالکین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اور اردو کی بقاء کے لئے فوری اردو نیوز اور اردو تہذیبی و تعلیمی چینل شروع کردیں۔ ٹی چینل میں اردو کانصف سے ذائد موقف طلب کیا جائے۔ اردو یونیورسٹی میں موجود ماس میڈیا کے کورسز سے اردو چینل چلانے والوں کی ایک ٹیم تیار کی جا سکتی ہے۔ اردو کے چینل عام ہونگے تو تلگو چینلوں کا زور بھی کم ہوگا۔ آج چینل چلانے کے لئے بھاری سرمائے کی ضرورت ہے۔ اور اردو والوں کے پاس سرمایا نہیں تو اردو والے بڑے تجارتی گھرانوں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ایف ایم ریڈیو بھی ان دنوں نوجوانوں میں مقبول ہے اس پر اردو کے مقبول عام پروگرام پیش کئے جاسکتے ہیں۔ مرکزی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے آل انڈیا ریڈیو کے اردو پروگرام نیرنگ کو مقبول بنیا یا جائے اور اس کی فریکوینسی ساری ریاست تلنگانہ تک بڑھائی جائے۔ یا ضلعی آل انڈیا ریڈیو مراکز سے نیرنگ طرز کے پروگرام نشر کئے جائیں۔ زبان کے فروغ میں ڈرامے نے بھی اہم رول اد ا کیا ہے۔ ڈرامہ تھیٹر کو متحرک کیا جائے اور نکڑ ڈرامے کو فروغ دیا جائے۔ اردو اکیڈیمی میں ثقافتی شعبہ قائم کیا جائے اور ساری ریاست میں اردو تہذیبی و ثقافتی پروگراموں کو عام کیا جائے۔ سابقہ ریاست میں آندھرا پردیش کے نام سے تین زبانوں میں سرکاری میگزین نکلتا تھا۔ اردو کا میگزین تلنگانہ کے نام سے نکلنا سنا لیکن ایک سال گذر گیا ابھی تک اس میگزین کی اجرائی عمل میں نہیں آئی اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔ حکومت جشن تلنگانہ کے نام سے دیگر زبانوں کے ساتھ اردو زبان کے پروگرام بھی منعقد رکر رہی ہے ان پروگراموں کو صرف ایک ہفتہ منعقد کرنے کے بجائے سال بھر مرحلہ وار منعقد کئے جائیں۔ اردو کلچر عام ہو اس کے لئے لوگوں کو اردو اخبارات اور کتابوں کے مطالعے کی جانب راغب کرایا جائے۔ تمام ضلعی سطح اور منڈل سطح کر کتب خانوں اور سرکاری مدارس کے کتب خانوں میں اردو اخبارات او ر کتابیں رکھی جائیں۔ اسکولوں میں اساتذہ اس بات کی کوشش کریں کہ طلبا روزانہ اردو اخبارات کو پڑھیں اس کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اردو اکیڈیمی کی جانب سے ریاست گیر سطح پر گشتی کتاب خانے کی وین چلائی جائے۔ اس میں اکیڈیمی کے زیر اہتمام شائع ہونے والی درسی اور نصابی کتابوں کے علاوہ اردو کی مقبول کتابیں مناسب داموں پر فروخت کے لئے رکھی جائیں۔ اردو کتابوں کی فروخت کو حوصلہ افزا بنانے کے لئے ایک تجویز یہ ہے کہ وہ منافع کے بغیر صرف کتاب کی اشاعت کی قیمت پر اگر اسے فروخت کرنے کے لئے سامنے لائیں تو لوگ کم قیمت پر اردو کتابیں خریدنے کے لئے تیار ہونگے۔ تلنگانہ میں اردو کے فروغ میں اردو اکیڈیمی اپنا رول ادا کررہی ہے۔ اردو اکیڈیمی سے ماہنامہ قومی زبان پابندی سے شائع ہورہا ہے جس کی تخلیقات اردو ادب اور تعلیم کو فروغ دے رہی ہیں۔ اکیڈیمی کی مختلف فلاحی اسکیمات جیسے اردو ادیبوں کی کتابوں کی اشاعت میں مالی امداد جس میں ابھرتے قلم کاروں کو بھی موقع دیا جارہا ہے۔ معیاروں کتابوں پر اکیڈیمی کی جانب سے انعامات کا اعلان، ریاستی سطح کے باوقار ایوارڈز کی تقسیم، اردو میڈیم اساتذہ کو بیسٹ ٹیچر ایوارڈ اور طلبا کو بیسٹ اسٹوڈنٹ ایوارڈ اور چھوٹے اخبارات کو مالی امداد اور تعلیمی اداروں میں انفرااسٹرکچر کے لئے مالی امداد شامل ہے۔ اکیڈیمی سے گذارش ہے کہ وہ فروغ اردو کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے تمام یونیورسٹیوں، کالج اور اسکولوں میں ہرسال اردو فیسٹیول کے انعقاد کے لئے مالی امداد کا زمرہ شروع کرے۔ اور یونورسٹیوں کے اردو شعبہ جات کی جانب سے منعقد ہونے والے اردو فیسٹیول سے اردو طلبا میں اردو زبان دانی اور تحریر و تقریر کا ذوق بڑھ رہا ہے اس میں مزیدہ اضافہ ممکن ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ادیبوں کو کتابوں کی اشاعت کے لئے جو مالی امداد دی جارہی ہے اس کی رقم میں اضافہ کرکے دس کے بجائے سو کتابیں اکیڈیمی حاصل کرے اور ان کتابوں کو اکیڈیمی کی ضلعی لائبریریوں کے علاوہ اردو اسکولوں اور کالج کی لائبریریوں کو مفت فراہم کرے تاکہ اردو کی کتابیں اردو کے قاری تک پہونچ سکیں۔ زبان کے فروغ میں اردو اخبارات اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اضلاع سے نکلنے والے چھوٹے اخبارات کی مالی امداد اور انہیں سرکاری اشتہارات دینے کے ضمن میں پیشرفت کی جائے۔ نا مساعد حالات میں حیدرآباد کے بعد سب سے زیادہ اردو روزنامے شام نامے اور ہفتہ وار اخبار نظام آباد سے نکلتے ہیں اور وہاں آج کا تلنگانہ اور نظام آباد مارننگ ٹائمز آن لائن اخبارات بھی نکل رہے ہیں جو ساری دنیا میں دیکھے جارہے ہیں اب وقت ضائع کئے بغیر ضلع واری سطح پر اردو کے جائز مقام کے حصول کی کمیٹیاں بنائی جائیں۔ اردو کا موقف واضح کرایا جائے کے۔ تلنگانہ کے سرکاری دفاتر میں مرکز کے ہندی بورڈ کے طرز پر روزانہ ایک اردو لفظ سکھانے کا عمل شروع کردیا جائے۔ اردو زبان کو دیگر زبانیں بولنے والے سیکھنے کی آسان کتابیں تیار کرکے عام کی جائیں۔ فون کے ذریعے ایس ایم ایس بات پہنچانے کا فی زمانہ موثر ذریعہ مانا جا رہا ہے۔ اردو والے اپنے تلگو داں بھائیوں کوروزانہ اردو میں کوئی نہ کوئی پیغام آسان جملوں میں بھیجنا شروع کردیں۔ خود اردو والے بھی اسمارٹ فون میں اردو کا استعمال شروع کردیں۔ واٹس اپ پر اردو کلچر کے نام سے ایک گروپ چل رہا ہے جس میں اردو کے ادیب اور دانشور اردو میں لکھتے ہیں۔ فیس بک پر تلنگانہ میں اردو کے کئی گروپ ہیں جو اردو تحریر کو فروغ دیتے ہیں۔ اردو اب انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جڑ گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری سطح پر بھی خط و کتابت اور درخواست دینے اور قبول کرنے میں اردو کا استعمال عام ہو۔ دفاتر میں اردو مترجمین کے عہدوں پر اردو دانوں کے تقرر کے لئے مطالبہ کیا جائے۔ اقلیتی بہبود کے تمام دفاتر میں سرکاری کام کاج اردو میں ہو اس بات کو یقینی بنایا جائے۔ تلنگانہ کے تمام ریلوے اسٹیشن بس اسٹیشن سرکاری عمارتوں کے بورڈ پر اردو نام لازمی ہو اسی طرح تمام کاروباری ادارے اپنی دکانات کے نام اردو میں تحریر کرائیں۔ کاروباری ایجینسیاں بھی اشتہارات میں اردو کو استعمال کریں۔ تلنگانہ سلام کے طور پر آداب کورواج دیا جائے۔ تلنگانہ کے تمام اجلاسوں میں اردو تقاریر اور اردو پروگرام شروع کئے جائیں۔ زبان کے ساتھ تہذیب جڑی رہتی ہے اگر زبان مٹ گئی تو تہذیب بھی مٹ جائے گی اس لئے اردو تہذیب کی تلنگانہ میں بقا اور ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہم نئی ریاست تلنگانہ کو اردو کی ریاست کے طور پر دیکھیں۔ اگر ہم مضبوط دعوے کے ساتھ اردو کو تلنگانہ کی پہلی سرکاری زبان بنانے کا دعوی اور دلیل پیش کرتے رہیں تو کم از کم خوابوں کی تعبیر بن کرتشکیل پانے والے تلنگانہ میں اردو پہلی نہیں تو دوسری سرکاری زبان ضرور بنے گی۔ ان تجاویز کو سارے تلنگانہ میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیے تلنگانہ کے خواب کو اردو کی بقا ء کے ساتھ شرمندہ تعبیر کریں۔ اگر تلنگانہ میں اردو فروغ پائے گی تو شہر اردو حیدرآباد سے اردو کے ثمرات سارے تلنگانہ اور پھر ساری دنیا تک پہونچنے لگیں گے۔ اور ہمیں داغ کا یہ شعر کچھ اس انداز میں پڑھنا پڑے گا؂

 اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ سارے تلنگانہ میں دھوم ہماری زبان کی ہے

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی سینیئر صحافی اور صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد ہیں ۔اس سے پہلے روزنامہ سیاست حیدرآباد میں بحیثیت سب ایڈیٹر اپنی خدمات دے چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close