دیگر نثری اصناف

تنقید کا سادہ اور شفاف اسلوب

پروفیسر عرفان فقیہ، ممبئی

        مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا شعبۂ اُردو اپنی ایک علیحدہ پہچان رکھتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اساتذہ اور طلبہ کی تعداد کے اعتبار سے یہ ساری دنیا کا سب سے بڑا شعبۂ اُردو ہے بلکہ اردو زبان و ادب اور ثقافت و تہذیب کو فروغ دینے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بلا خوفِ تردید جہانِ اردو کا مدرسۃ العلم ہے۔ اس میں ایک جانب کوفہ، دمشق، بغداد، قاہرہ اور قرطبہ جیسی علمی فضائیں ہیں تو دوسری طرف کیمبرج، آکسفورڈ، سوبورن اور ہارورڈ جیسی مستحکم روایات ہیں۔ آج بھی یہ شعبۂ اُردو اسی آن بان اور تمکنت و وقار کے ساتھ جہانِ اردو کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اسی شعبے کے ایک  بے حد فعال رُکن ہیں پروفیسر صغیر افراہیم جو نہ صرف ایک مقبول اور کامیاب اُستاد ہیں بلکہ ایک صاحبِ طرز ادیب اور تنقید نگار بھی ہیں جو پچھلی تین دہائیوں سے تصنیف و تالیف کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ وہ بُنیادی طور پر اردو فکشن سے اپنا فکری اور روحانی رشتہ جوڑے ہوئے ہیں اور اس رشتے کو ’’وفاداری بشرط استواری‘‘کے ساتھ نباہ رہے ہیں۔ اُن کی اولین تصنیف ’’پریم چند—–ایک نقیب‘‘1987ء میں شائع ہوئی جس کا ہندی ایڈیشن 1996ء اور اُردو کا ترمیم شدہ ایڈیشن 1999ء میں آیا۔ ’’اردو افسانہ ترقی پسند تحریک سے قبل‘‘کا پہلا ایڈیشن 1991ء میں شائع ہواجس کا ترمیم شدہ ایڈیشن ابھی پچھلے سال(2009ء) منظرِ عام پر آیا۔ ان کی ایک اور اہم کتاب ’’نثری داستانوں کا سفر‘‘1995ء میں شائع ہوئی اور اربابِ علم و فن میں اس کی بڑی پذیرائی ہوئی لہٰذا ترمیم شدہ ایڈیشن بھی پریس جا چکا ہے۔

        اردو فکشن پر اُن کی ایک اور اہم کتاب ’’اردو فکشن: تنقید و تجزیہ‘‘۲۰۰۳ء میں شائع ہوئی اور اس کا شمار اس موضوع پر لکھی جانے والی تمام کتابوں میں ایک اہم دستاویز کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ان کی حالیہ تصنیف ’’اردو کا افسانوی ادب‘‘ (تحقیقی اور تنقیدی مضامین) جو سالِ رواں کے اوائل میں شائع ہوئی ہے، ان کے تمام ادبی کارناموں میں سرخیل کا درجہ رکھتی ہے۔ اِس میں اُن کا طرزِ تحریر اپنے شباب پر نظر آتا ہے۔

        استغراب کے اس ہنگامہ پرور دور میں جب میخانۂ یورپ کے نرالے دستوروں کا غلبہ ہی غلبہ ہے اور ہر خاص و عام کے نزدیک ان اصولوں کا تتبع ہی جزو ایمان سمجھا جا رہا ہے صغیر افراہیم کی Styleایک نئی روش اور ایک نئے چمنستان کی نشاندہی کر رہی ہے۔ موج خرام یار سے گل کترنے کا یہ انداز انھیں مبارک ہو۔

        صغیر افراہیم قدیم اور جدید اردو فکشن پر گہری اور مشفقانہ نظر رکھتے ہیں۔ اُن کی تنقید کا کینوس وسیع اور کثیر الجہات ہے۔ بنیادی طور پر وہ پریم چند کے حلقۂ ارادت میں بیعت ہیں اور غالباً اسی لیے انھوں نے اپنے فکری سرمایہ کا بڑا حصہ پریم چند کے ادب میں Investکیا ہے، اس یقینِ کامل کے ساتھ کہ پریم چند اردو فکشن کا وہ سرمایہ دار ہے جو کبھیBankruptنہیں ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انھوں نے ان تمام خرمنوں کی خوشہ چینی کرنے میں تامل سے کام نہیں لیاجن میں انھوں نے مضامین نوکے انبار دیکھے۔ سجاد ظہیر، کرشن چندر، قرۃ العین حیدر، قاضی عبدالستار، عزیز احمد، خالدہ حسین، انور سجاد سے لے کرعبدالصمد، سید محمد اشرف اور طارق چھتاری تک ان کی بڑی وسیع و عریضRangeہے جس میں انھوں نے ان فنکاروں کو سمویا ہے۔

        ہمارے یہاں تنقید نگار اور قاری کے درمیان ایک خلیج سی رہی ہے۔ تنقید نگار کا عالمانہ تبحراور عاقلانہ تفاخر اور قاری کی خاکسارانہ مرعوبیت اور احساس کم مائیگی باہم نبرد آزما سہی کچھ معکوسی اقلیدس کا سا تناسب ضرور ظاہر کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سقراط کا وہ واقعہ یاد آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب اُن کے ایک شاگرد نے یکے بعد دیگرے کئی سوالات پوچھے اور ہر استفسار کے جواب میں انھوں نے نفی میں جواب دیا کہ ’’مجھے نہیں معلوم۔ ‘‘حیرت زدہ شاگرد نے پژمردہ ہوکر کہا کہ’’اگر آپ بھی نہیں جانتے ہیں تو پھر آپ میں اور ایک جاہل میں کیا فرق ہے؟‘‘اس پر سقراط نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ ’’فرق بس اتنا ہے کہ میں یہ جانتا ہوں کہ میں نہیں جانتا اور وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا۔ ‘‘ہمارے تنقید نگاروں کا المیہ صرف یہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ اُن کا قاری بہت کچھ جانتا ہے۔

        صغیر افراہیم کی تنقید اس مبارزت سے پرے اپنے قاری کو دور ایک جانفزا خیابانِ فکر و نظر کی سیر کراتی ہے جہاں :

’’دامان باغباں و کف گلفروش ہے‘‘

        ان کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ اپنے قاری سے ایک رپورٹ بنا لیتے ہیں کہ اُن کی کتابیں پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ جو کہنے جا رہے ہیں ہم اُسے انہماک سے سننا چاہتے ہیں ایک Fellow feelingکا سا احساس ہوتا ہے جو تنقیدی ادب پڑھتے وقت شاذ ہی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں شارب ردولوی کی رائے سے مکمل اتفاق کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ’’اردو کا افسانوی ادب‘‘کے حرفِ آغاز میں وہ کہتے ہیں :

’’تنقید کی زبان دوسری ادبی اصناف کے مقابلے میں عام طور پر مشکل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنقیدی کتابوں کے قاری کی تعداد محدود ہوتی ہے اور ہر شخص ان سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔ تنقیدی نظریات اپنی فلسفیانہ بنیاد اور ناقد کی مشکل پسندی اسے اور زیادہ دشوار بنا دیتی ہے۔ کبھی تنقیدی مضامین عام قاری کے لیے تجریدی آرٹ بن جاتے ہیں جو اُن کی فہم و فراست سے دور ہوتے ہیں۔ لیکن صغیر افراہیم کے مضامین سادہ اور شفاف زبان میں ہوتے ہیں۔ اُن کے یہاں نہ کوئی پیچیدگی ہے اور نہ اصطلاحات کا غیر ضروری استعمال بلکہ اکثر مضامین میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ قاری سے گفتگو کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان مضامین میں اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے مضامین خاکے کا لطف بھی دیتے ہیں اور تنقید کا بھی۔ ‘‘

        صغیر افراہیم کے چاہنے والوں میں دانشور، نقاد اور ادیب بھی ہیں، یونیورسٹی کے اساتذہ اور طالب علم بھی ہیں اور ایک بڑا حلقہ اُن دوستوں کا ہے جو یا تو خود قلم کار ہیں یا ’’قلم گوید کہ من شاہ جہانم‘‘ کے قائل ہیں۔ یہ بے پناہ مقبولیت اور چاہت انھوں نے بڑی محنت سے کمائی ہے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ مشتاق یوسفی کی طرح ان کا تعلق خطہ مارواڑ سے نہیں ہے ورنہ اُن کی اس کمائی پر ہمیں اور بھی رشک آتا۔ وہ خالصتاً اردو بیلٹ کے پروردہ ہیں (یہ اناؤ کہاں ہے ہے یہ جاننا اب ضروری ہو گیا ہے) اور پھر علی گڑھ تہذیب نے اُن کی شخصیت کو دو آتشہ کر دیا ہے۔

        مشتاق یوسفی تو ہمارے اردو ادب کے Bill Gatesہیں۔ فطرت سے کمائی ہوئی انشاء پردازی کی متاع بے بہا انھوں نے بڑی فراخدلی سے بانٹی ہے۔ صغیر افراہیم کی جمع پونجی کا مجھے صرف Credit sideہی دیکھنا ہے، Debit side تو انھوں نے اپنے بہی کھاتے میں رکھا ہی نہیں اور اگر کہیں کسی کونے کھدرے میں ہے بھی تو مجھے نظر نہیں آیا۔ (شاید مجھے بھی یوسفی کی بائی فوکل عینک کی ضرورت ہے)۔

        ایک انوکھی بات جو میں نے صغیر افراہیم کی تحریروں میں محسوس کی وہ یہ ہے کہ عزیز القدر اُنھیں ادیبوں پر لکھتے ہیں جنھیں وہ دل و جان سے چاہتے ہیں۔ حلقہ ارادت میں بیٹھنے والے ایک مسکین مرید کی طرح وہ اوّل اپنے بزرگوں کی قدم بوسی کرتے ہیں پھر اُن کے ملفوظات کا بیان عقیدت کے جذبات سے مملو ہوکر والہانہ انداز میں کرتے ہیں۔ پھر وہ پریم چند ہوں یا کرشن چندر، قرۃ العین حیدر ہوں یا مشتاق یوسفی یا قاضی عبدالستار یا پھر ان کے دوست سید محمد اشرف اور طارق چھتاری وہ گویا سب سے ’’عرض کیا ہے‘‘ کہہ کر اپنی تازہ غزل کا مطلع پڑھتے ہیں۔ ہمارے تمام مستندنقاد حضرات کے نزدیک یہ صریحاً ایک بدعت ہے۔ میں اس کا شمار بدعت حسنہ میں کرتا ہوں جبکہ متشدد اور غالی علماء ظاہر کے نزدیک ہر بدعت محض بدعت ہوتی ہے۔ (علماء کرام کو ادب اور فکشن کی کسی بھی بدعت سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہیے)۔ الغرض افراہیم کی یہ بدعت حسنہ میرے نزدیک مستحسن اور مستحب ہے اور اس کا ثواب جاریہ موصوف کو یقینا ملے گا۔ میں اُن کی دوستانہ، برادرانہ اور مشفقانہ تنقید کو بہ نظرِ استحسان دیکھتا ہوں۔ ممکن ہے یہ اردو تنقید کے نقار خانے میں طوطی کی صدا لگے لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ صدابصحرا ہرگز نہیں بنے گی۔ تنقید کے بدلتے ہوئے نئے رجحانات میں صغیر افراہیم کا مترنم اور خوش الحان لہجہ اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ ہمارے بیشتر نقادوں نے صرف Lordsکے میدان میں کرکٹ کھیلنے کو اپنا طرۂ امتیاز سمجھا اور گلیوں میں گلی ڈنڈا کھیلنے والے پریم چند کو ذات باہر کرنے کی کوشش کی۔ صغیر افراہیم نے بڑی متانت سے اس کا رد کیا ہے اور Foulکی سیٹی بجائی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close