دیگر نثری اصناف

جدائی کا فلسفیانہ جائزہ

معراج حبیب ندوی

دنیا کا نظام ہی قائم ہے فراق پر جدائی پر، اصل میں انسان کو پیدا کرنے کاایک اہم  مقصد ہے درد دل، بقول علامہ اقبال

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 
  ورنہ طاعت کے لئے کافی تھے یہ کروبیاں

میرا اپنا نظریہ ہیکہ جدائی سے انسان کا دل نرم ہوتا ہے اور انجام کار ایک انسان دوسرے انسان سے ہمدردی کرنے لگتا ہے۔ میں نے کبھی اسی احساس کے زیر اثر کہا تھا کہ

  اے دل ذرا صبر کر رسم دنیا ہے یہی 
    بڑھتا ہے درد یہاں دور ہوکے نظروں سے

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جدائی کا  درد برچھی کی مار سے بھی تیز ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ درد اتنا شدید ہوجاتا ہیکہ یہ قوت برداشت سے باہر ہونے لگتا ہے اور انسان خود کشی کر بیٹھتا ہے۔ سچ میں اس درد کا احساس اسی کو ہو سکتا ہے جس نے کبھی اپنے عزیز، محبوب کو الوداع کہا ہوگا اور اپنے کسی قریب ترین عزیز سے جدا ہوا ہوگا۔ یہ تو اللہ کا بہت بڑا کرم ہیکہ کہ اس نے انسان کا میموری سسٹم ہی اس طرح بنایا کہ کچھ چیزیں خود بخود ڈلیت ہونے لگتی ہیں جس کی وجہ سے انسان کو صبر ہوجاتا ہے۔ ورنہ دنیا پاگل خانہ نظر آتا، کیوں کہ دنیا میں کم و بیش ہر شخص کی زندگی میں کبھی وصال کی راتیں آتی ہیں اور کبھی ہجر کی شب، ہجر کی شب انسان کیلئے بہت ہی الم انگیز ہوتی ہے۔ لیکن بھولنے کی بیماری انسان کیلئے اس موقع پر رحمت خداوندی بن جاتی ہے اور انسان کو سکون ہوجاتا ہے۔ اسی احساس کے زیر اثر میں نے کبھی ایک رباعی کہی تھی کہ

  دوائے صبر گر نہ ہوتی جہاں میں 
تو سب پاگل ہی ہوتے جہاں میں 
مرض نسیاں پہ لوگ حسرت چھوڑ دیں
    بہ شکل مرض یہ نعمت ہے جہاں میں 

واقعہ یہ ہیکہ لوگ عموما بھولنے کی بیماری سے پناہ مانگتے ہیں، لیکن یہی بیماری اس موقع پر درد کا درماں بن جاتا ہے، سچ فرمایا اللہ نے

‘عسي أن تكرهوا شيئا وهو خير لكم

بہر کیف یہ ایک فلسفیانہ تجزیہ تھا، حقیقت کی دنیا میں بھی جدائی کا اثر بہت ہی گہرا ہوتا ہے، انسان کو اس مین توازن برقرار رکھنا چاہئے اور یہ سمجھنا چاہئے کہ دنیا میں کسی بھی چیز کو بقاء نہیں "كل من عليها فان "،ہر چیز کو مٹنا ہے، ہر شخص کو مرنا ہے، ایک عزیز کو دوسرے عزیز سے جدا ہونا ہے، ہاں یہ الگ بات ہیکہ کہ ہر شخص کے جدائی کا وقت الگ ہے، اگر انسان صرف اسی غم میں رہے کہ ہم سے جدا نہ ہونا تھا تو پھر نظام کائنات بگڑ جائے گا، اس کا توازن ختم ہو جائے گا، دنیا  میں پھر سکوت طاری ہوجائے گا، ہا ہو کا عالم ختم ہو جائے گا، زنگی کا معیار بدل جائے گا، اسلئے جدائی کو سہنے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close