دیگر نثری اصناف

حالی کی نثر- غیر افسانوی ادب کا مثالی اسلوب

صفدر امام قادری

          اردو شاعری کے مقابلے نثر کا سفر یوں بھی دیر سے شروع ہوا اور اٹھارھویں صدی کے اواخر تک مُٹّھی بھر داستانوں اور صوفیۂ کرام کے چند رسائل کے علاوہ کوئی خاص علمی سرمایہ ہمیں دستیاب نہیں ہوتا جب کہ دکن سے لے کر شمالی ہندستان تک شعرو شاعری کی جلوہ سامانیاں عام ہیں اور محمد قلی قطب شاہ، ملا وجہی، نصرتی، ولی دکنی کے ساتھ شمالی ہندستان میں سودا، درد اور میر، نظیر اکبرآبادی اور میر حسن جیسے عظیم شعرا کی بدولت ہماری شاعری عہدِ زرّیں میں داخل ہو چکی ہے۔ نثر نگاری کے نمونوں میں ’ کلمۃ الحقائق ‘، ’ سب رس‘، ’قصۂ مہر افروز و  دلبر‘ اور ’نو طرزِ مرصع‘ کے ساتھ ہماری فہرست مختصر تر ہی رہتی ہے۔ اس میں بھی خاص طورسے ملّا وجہی  اور عطا حسین خاں تحسین ہی نثر نگارکی حیثیت سے امتیازات واضح کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بڑی مشکل سے داستانی نثر اٹھارھویں صدی کے بعد ایک کروٹ لیتی ہے اور نثر نگاری کی دوسری شاخیں اب پیدا ہوا چاہتی ہیں جس کے لیے اولاً فورٹ ولیم کالج اور ثانیاً علی گڑھ تحریک کے افراد زرخیز زمین فراہم کرتے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کے بعد ہماری نثر بالخصوص غیر افسانوی نثر اپنی بوقلمونی اور رنگا رنگی کے ساتھ ساتھ بلندی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

          اردو کے غیر افسانوں ادب کی جڑوں کو تلاش کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے لیے داستان گویوں نے ہی نرم مٹّی فراہم کی ہوگی۔ ’سب رس‘ تو بلا شبہہ ادبی نثر کا پہلا نمونہ ہے اور بنیادی طورپر اس کی حیثیت ترجمے کی ہے لیکن داستان گویوں کو ضمنی حکایات یا تبلیغی گفتگو کا شوقِ بے پایاں ہوتاتھا۔ ’سب رس‘ میں ایسے نثری نوشتہ جات بھرے پڑے ہیں جنھیں اگر کتاب سے الگ کرکے ملاحظہ کیا جائے تو اس بات کے تسلیم کیے جانے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے کہ اردو کی غیر افسانوی نثر کے ابتدائی رنگ یہیں قائم ہوئے ہوں گے۔ جاوید وشسٹ نے اپنے مطالعے میں ملّا وجہی کو اردو انشائیے کا ’باوا آدم‘ جن تحریروں کی بنیاد پر قرار دیا ہے، وہ واقعتا غیر افسانوی نثر کے مختصر نمونے ہیں۔ ملّا وجہی کی داستان میں غیر افسانوی نثر کی شمولیت سے اس بات کا اندازہ بھی لگایا جا سکتاہے کہ فکشن اور نان فکشن (Non-Fiction)بھلے دو دنیائوں کی سیر بتائے جاتے ہوں لیکن عظیم مصنفین کے ہاتھوں میں یہ کچھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے دونوں کی بنیادیں ایک ہی ہوں۔ ’سب رس‘ کے متعدد صفحات پڑھتے ہوئے ہمیں داستانوں کے زیرِ سایہ ایک غیر افسانوی نثر بالخصوص علمی نثر پنپتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

          دکن سے ولی کی معرفت شعر کے اصول تو اٹھارھویں صدی کے آغاز ہی میں شمالی ہندستان تک پہنچ گئے اور ہماری زبان کی شاعری تھوڑی ہی مدّت میں عہدِزرّیں میں داخل ہوجاتی ہے لیکن ’سب رس‘ کی روایت کو قومی سطح پر پھلنے پھولنے کے مواقع بہت دیر سے حاصل ہوئے۔ ڈیڑھ سو برس تک تو داستانی سلسلے کا ایک ٹمٹماتا ہوا  دِیا ملتا ہے جو پہلی بار فورٹ ولیم کالج میں ’ باغ و بہار‘ کی شکل میں روشن دکھائی دیتا ہے۔ اس عرصے میں افسانوی ادب کی ایک بھی ایسی مکمل تحریر دیکھنے کو نہیں ملتی جسے غیر افسانوی ادب کے ساتھ مل جل کر ایک نئے صنفی افق کو قائم کرنے کے لیے کسی نے خلق کیا ہو۔ اس طور پر انیسویں صدی کے نصف تک نثر نگاری داستانی تراجم کے دائرے سے نکل کر ایک علاحدہ سانچہ تیار کرنے اور کچھ نئے ذائقے کے ساتھ ادبی مسلّمات قائم کرنے کی منتظر ہی رہ گئی۔

          ’سب رس‘ کے بعد دو سو برسوں سے بھی زیادہ وقت لگا تب جاکر ’خطوط غالب‘ کے صفحات میں غیر افسانوی نثر کا شمالی ہندستان میں پہلا نمونہ سامنے آتا ہے جسے بجا طور پر ایک ایسا نوشتہ کہہ سکتے ہیں جہاں نثر میں صنفی حد بندیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ یہ اچھا ہوا کہ داستان گو ملاوجہیؔ نے جس طرح اپنے متن میں غیر داستانی نمونے خلق کرکے ہمیں ایک نئی ادبی دنیا سے متعارف کرایا تھا، اردو کے عظیم شاعر اور مکتوب نگار غالب نے اپنے متن میں پہلی بار اس بات کی گنجائش پیدا کی کہ کیسے غیر افسانوی نثر میں افسانوی دنیا خلق کی جاسکتی ہے۔ داستان، ناول، افسانہ اور ڈراما نویسی کا کون ساجزوہے جو غالب نے اپنے مکتوبات میں شامل ہونے سے رہنے دیا۔ اس اعتبار سے ’سب رس‘ کے بعد تخلیقی بوقلمونی کا کوئی دوسرا نثری نمونہ ہمیں ملاحظہ کرنا ہو تو خطوط غالب کے علاوہ کوئی دوسری تحریر بہ طور ِمثال نظر نہیں آتی۔ حالاں کہ اس دوران دو سو برسوں سے زیادہ کا وقت گزر جاتا ہے اور شعرا ے کرام کا ایک مضبوط سلسلہ دیکھنے کوملتا ہے۔ اردو بھی دکن کے دائرے سے نکل کرپورے ملک میں پھیل چکی ہے اور کم و بیش ملک کا علمی اور ترسیلی کاروبار اسی زبان میں کامیابی کے ساتھ ہورہا ہے۔

          ’سب رس‘ اور ’خطوط غالب‘ کے بعد ممکن ہے، پھر ایک طویل سنّاٹا ہوتا اگر علی گڑھ تحریک قائم نہ ہوئی ہوتی یا سر سیّد احمدخاں اور ان کے رفقا  یا اس عہد کے دیگر نثر نگار ایک نئی دنیا کے خوابوں کی تسخیر کے لیے ہماری نثر کی طرف پروانہ وار نہ آتے۔ غالب کی یہ خوش نصیبی رہی کہ یہ سب کچھ ان کے جیتے جی قائم ہوتا چلا گیا اور ان کے بتائے ہوئے راستوں پر ایک ایسی نسل چلنے کے لیے کاربند ہوئی جسے ہندستان بالخصوص ہندستانی مسلمانوں کی نشاۃ الثانیہ کی ذمہ داری تفویض ہوئی تھی۔ ’سب رس‘ اور ’خطوطِ غالب‘ ہماری نثر نگاری کی بلاشبہ ایک جادوئی دنیا ہیں جہاں مطالعہ کنندہ کے لیے آزادی ہے کہ وہ جس ارادے سے وہاں پہنچے گا، وہی خزینہ اسے ہاتھ آئے گا۔ یہ دونوں ایسے ادبی نمونے ہیں جیسے لیوناردو  د  ونچی کی ’مونالیزا‘ ہے۔ آپ جس عالَم میں اسے دیکھیں گے، ویسا ہی پائیں گے۔ ’سب رس‘ کو داستان کہیے، انشائیہ کہیے، علمی نثر کا نمونہ قرار دیجیے یا افسانچوں کی داغ بیل سمجھیے؛ خطوط غالب کو باہمی خیریت اور تبادلۂ خیالات کا ذریعہ تسلیم کریں یا مکتوب نگاری کا کوئی نیا آئین، مطلب نویسی کا مدار تلاش کیجیے یا داستان، ناول، افسانہ اور ڈرامہ نگاری کے نمونوں کے طور پر ان پر غور کریں، انشا اور قواعد کی مثال سمجھیں یا غالب اور غدر کے سخت تر احوال کی دستاویزی پیش کش۔ ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے۔

           ہمیں معلوم ہے کہ سحر کاری سے زندگی، سماج اور شاید ادب کا بھی کام نہیں چل سکتا۔ نئے عہد کے تقاضوں میں اب منطقی شعور اور حقیقت کی سخت زمین اس طرح رگ و پَے میں پیوست ہوئے کہ داستانی نثرکے بعد ہمیں ایک جدید نثر درکار تھی جو نصف انیسویں صدی میں اپنے رنگ وروغن متعین کرے اور آنے والے وقت کا وہ مستقل انداز قائم کردے جسے سب آزما سکیں اور جو تمام وقتوں کے لیے کارآمد بن سکے۔ یہ ایسا کام تھا جو انفرادی کوششوں سے شاید ہی انجام تک پہنچ سکتا تھا۔ اردو کی ادبی تاریخ کے اسی موڑ پر علی گڑھ تحریک سامنے آتی ہے جس نے پوری قوم کو اور اس سے بھی بڑھ کر ہماری قوم کے ادیبوں او رشاعروں کو قومی ضرورتوں کے مطابق تصنیف و تالیف کے لیے اُکسایا۔ سر سیّد ایک لائق قائد تھے جنھیں معلوم تھا کہ ہمیں دوسرے تحریکی کاموں کے ساتھ ساتھ علمی نمونے بھی لازماً پیش کرنے ہوں گے۔ سر سیّد نے بہ نفسِ نفیس اپنی تحریروں سے گویا غیر افسانوی نثر کا دبستاں کھول دیا۔ تاریخ نویسی کیسی ہونی چاہیے، ترتیب و تدوین کا کام کس انداز سے کیا جائے، تراجم کی کیا شان ہو، صحافت کا رنگ کیسا ہو، مضمون نویسی کے آداب کیا ہیں، خطبات کس انداز سے تحریر کیے جائیں اور پیش ہوں، سیرت نگاری کا انداز کیسا ہونا چاہیے؛ یہ سب کام تو تنہا سرسیّد نے انجام دیے۔

          سر سید صرف مصنّف ہوتے تو اتنے کام بھی انھیں تادیر  یاد  رکھے جانے کے لیے کافی تھے لیکن حقیقتاً  وہ ایک تحریک کار اور حیرت انگیز منتظم بھی تھے۔ علی گڑھ تحریک کو صرف تصوّر میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے بلکہ وہ نئی ذہن سازی کا مقصد لے کر آگے بڑھے تھے۔ ان کے رفقا میں مقالہ نویس، نقّاد، سوانح نگار بھی تیار ہوئے۔ ناول نگار اور ادبی مورّخ، مبصّر اور تمثیل نگار بھی اُبھر کر سامنے آئے۔ اس عہد کے لکھنے والوں میں نذیر احمد، محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی اور شبلی میں سے اکثر نے اپنے خاص میدان میں سرسیّد سے بڑی لکیریں کھینچیں اور سر سید نے اردو ادب کے دامن کو جس قدر بھی وسیع کرنا چاہا تھا، اس سے زیادہ دور تک لے جانے میں یہ سب کامیاب ہوئے۔ غور کریں تو ’سب رس‘ اور ’خطوطِ غالب‘ سے غیر افسانوی نثر کے جو نمونے ہماری مٹھّیوں میں آئے تھے، وہ عہد ِسرسید میں علی گڑھ تحریک کے عظیم مقاصد کے پَروں سے اُڑتے ہوئے ستاروں کی طرح جگمگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ انیسویں صدی کے اواخر کی یہ وہ دنیا ہے جب غیر افسانوی نثر اپنا مستقل اور بااعتبار رنگ اختیار کرتی ہے۔ ٹھیک جیسے بیسویں صدی کے آغاز میں افسانوی نثر پریم چند کے قالب میں اپنا موزوں ترین اسلوب حاصل کرکے عالم گیری قبولیت کا دعویٰ پیش کرتی ہے۔ غیر افسانوی نثر لکھنے والوں کی ایک کہکشاں تو علی گڑھ تحریک کے زمانے میں دکھائی دیتی ہے لیکن آخر اس میں کون ہے جسے یہ کہا جاسکے کہ اس کے کاندھے پر سوار ہو کر غیر افسانوی نثر بہت قرار کے ساتھ آیندہ کی صدیوں کا سفر طے کرے گی؟

          سرسید، نذیر احمد، محمد حسین آزاد، حالی، شبلی نعمانی، مہدی افادی؛ ان میں سے ہر لکھنے والا اس مقام پر ہے کہ جو کہا وہ معتبر اور جیسا لکھا وہی انشا پردازی کا اصول۔ مقطعے میں سخن گسترانہ بات آپڑی ہے۔ اپنے اسلاف کے آفتابوں کا ایک دوسرے سے کیسے موازنہ کیا جائے؟ کہیں آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے۔ کہیں اپنی عقیدت ہی پہ حرف نہ آجائے۔ سر سید کا وقار، نذیر احمد کی طبیعت کی روانی، محمد حسین آزاد کا لسانی طنطنہ اور شبلی کا رعبِ علمی۔ ان سے حالی کی سادگی کا موازنہ کرکے دیکھیے۔ کمال یہ ہے کہ حالی ان چاروں کے خاص قدرداں اور عقیدت مند ہیں۔ سرسید، محمد حسین آزاد، شبلی، ذکاء اللہ وغیرہ کی تصنیفات پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ خود اُن کی عظمت کے عقیدت مندانہ انداز میں قائل ہیں۔ غالب کے تو وہ قدر شناسِ اوّل ہیں۔ تمام تصنیفات پلٹ کر دیکھ لیجیے؛ اپنے ہم عصروں اور بزرگوں کو ہمیشہ انھوں نے اپنے سے افضل قرار دیا۔ اپنے کاموں کے بارے میں شاید ہی کبھی وہ کوئی دعوا کررہے ہوں۔ ہمیشہ انھوں نے low profile   قائم رکھی۔ ہم عصروں نے اُن پر پَھبتیاں کسیں لیکن انھیں اس کے جواب کی ضرورت نہ پڑی اور اس وجہ سے وہ دوسروں کی قدردانی سے دست بردار نہ ہوئے۔ صرف اور صرف اپنی تصنیفات و تالیفات پر مرکوز  رہے اور کوشش کی کہ شیفتہ، غالب اور سرسیّد کی قربت سے ان کی جو ذہن سازی ہوئی، اس کے صد فی صد تحریری نتائج سامنے آسکیں۔ بہت زیادہ تو نہیں لکھا لیکن نثر اور نظم کی متعدد اصناف میں تھوڑے تھوڑے نمونے کچھ اس انداز سے پیش کیے جیسے اپنے استاد کی زبان میں خاموشی سے یہ دعوا کررہے ہوں : دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بڑھ کرسہرا۔ غزل، نظم، مسدس، طویل نظم، تنقید، سوانح نگاری ؛ ان میں سے کس شعبے میں حالی کو اس عہد کا عظیم نمونہ خلق کرنے والا نہیں کہا جاسکتا۔ حالی نے ہر صنف میں ایسی تحریریں یادگار چھوڑیں جن کی بہ دولت آنے والے دور میں حالی ایک رہنما مصنّف کے طور پر نظر آتے ہیں۔

          حالی کا صرف یہ کارنامہ نہیں کہ انھوں نے اردو نثر میں ’مقدمۂ شعر و شاعری‘، ’یادگارِ غالب‘، اور ’حیات جاوید‘ جیسی عظیم تصنیفات یادگار چھوڑیں۔ ان کے معاصرین میں کون ہے جس کا دامن اس سے خالی ہے؟ ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ پر گفتگو کرتے ہوئے مغربی ادب کے بارے میں حالی کے نقطۂ نظر کی دھجّیاں اڑادینے والے نقّاد کلیم الدین احمد نے’ اردو تنقید پر ایک نظر‘ لکھتے ہوئے کہا:

’’ادبی نقطۂ نظر سے اگر کوئی چیز دائمی ہے تو وہ شاعری نہیں، تنقید بھی نہیں، حالی کی نثر ہے۔ اگر یہ کتاب ’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ پڑھی جاتی ہے اور پڑھی جائے گی تو اپنی بے مثل نثر کے لیے‘‘۔

 کلیم الدین احمد نے جو بات ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ کے سلسلے سے کہی، کیا زبان و اسلوب کی بحث میں ہم حالی کی نثر کی دوسری کتابوں کے بارے میں وہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے؟ ’یادگارِ غالب‘، ’حیات ِجاوید‘، ’ مقالاتِ حالی‘ میں سے ہر کتاب اس عہد کی نثر کا بہترین نمونہ ہے۔ سب کی زبان ایک دوسرے سے کسی خاص سلسلۂ خیال سے متّصل ہوجاتی ہے اور کم و بیش اس عہد کے اجتماعی تصور کے عین مطابق ڈھلنے کی کوشش کرتی ہے۔ سر سید میں روکھاپن بچا رہ گیا، نذیر احمد محاورات کی چاشنی میں اُلجھ جاتے ہیں، آزاد کو انشا پردازی عزیز ہے اور شبلی رومان پرور فضا کے بغیر کب قدم بڑھانے والے تھے۔ سب نے اُس عہد کے اجتماعی ذہن سے مقدور بھر کام لیا مگر سب اپنے ذاتی اسلوبیاتی مدار پر قائم رہنے کی ضِد پر بھی اَڑے رہے۔ ان میں صرف اور صرف حالی ہیں جنھوں نے اس عہد کے اجتماعی مزاج اور ضرورتوں کی بنیاد پر ایک ایسا ذہن و اسلوب تیار کیا جو صد فی صد اس تحریک کی نمایندگی کرتا ہے اور یہ وہی اسلوب ہے جو  آنے والے وقت میں اردو نثر کا مینارۂ نور بن سکتا ہے۔ اس لیے علی گڑھ تحریک سے برآمد ذہنی سطح پر جو سب سے مستحکم اسلوبیاتی سانچہ ہمارے سامنے آتا ہے، وہ حالی کا بنایا ہوا ہے۔

          ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حالی نے 1874ء میں ’مجالس النسا‘لکھ کر ڈپٹی نذیر احمد کے کام ہی کو آگے بڑھایا تھا۔ لیکن حالی پھر ناول نگاری کی طرف نہ پلٹے۔ شاعری اور غیر افسانوی نثر کی دنیا انھیں کچھ ا یسی بھائی کہ پھر وہ وہاں کے مستقل باشندہ ہی ہو گئے۔ حالاں کہ’ مسدس حالی‘ کو بہ غور پڑھاجائے یا حالی کی بہت ساری نظموں کا مطالعہ کیا جائے تو اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ حالی میں قصہ گوئی کی صلاحیت بھی کم نہ تھی۔ قصّے کو وہ پُردرد بنانا بھی جانتے تھے۔ لیکن وہ بنے تھے ہمارے غیر افسانوی ادب کی مزاج سازی کے لیے۔ انھوں نے اپنی تصانیف سے ایسے عملی نمونے پیش کیے جن کی بنیاد پر آیندہ عہد میں نثر کا کوئی بھی صنفی نمونہ تیّار کیاجاسکتا تھا۔ ’یادگارِ غالب‘ اور ’حیات جاوید‘ کو سوانح نگاری کی دستاویز اور ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ یا ’مقالات ِحالی‘ کو صرف تنقید کی کتاب سمجھیں تو یہ شدید ناانصافی ہوگی اور ایسا محسوس ہوگا کہ ہم نے اپنے اسلاف کے کارناموں سے جی لگا کر نہیں سیکھا۔ یہ کتابیں ہمیں اس سے زیادہ روشنی بخشتی ہیں۔

          حالی کی نثر میں ایک تکمیلیت کا احساس ہوتا ہے۔ ان کے مقالات، خطبات، ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ کے ساتھ سوانحی کتابوں کا ایک سرسری مطالعہ ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ وہ اشیا کو ٹکڑوں میں نہیں دیکھتے بلکہ کسی مکمل ہیولا کے الگ نہیں کیے جانے والے اجزا کے طور پر پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے محمد حسین آزاد، شبلی اور ذکاء اللہ جیسے ممتاز مصنّفین کی کتابوں پر تبصرے کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا کہ ان کی مجموعی حیثیت اور مکمل علمی و ادبی شخصیت کے بال و پَر بھی پورے طور پر روشن ہوسکیں۔ اس اندازِ فکر نے اُن کے نثری اسلوب میں دائمیت اور صلابت پیدا کی۔ ’یادگارِ غالب‘ کی تصنیف کا مقصد کیا ہے اور مصنّف نے اس کے لیے کون سا دائرۂ کار متعیّن کیا، اس موضوع سے حالی نے جو  وضاحت کی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حالی کام کے آغاز سے پہلے ’کیا کرنا ہے‘ اور ’کیا نہیں کرنا ہے‘ کی حدیں طے کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کی تحریریں اپنے موضوع پر دستاویزی حیثیت اختیار کرتی چلی گئیں۔ ’یادگارِ غالب‘ سے متعلقہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’اصل مقصود اس کتاب کے لکھنے سے شاعری کے اس عجیب و غریب ملکہ کا لوگوں پر ظاہر کرنا ہے جو خدا تعالیٰ نے مرزا کی فطرت میں ودیعت کیا تھا اور جو کبھی نظم و نثر کے پیرایے میں، کبھی ظرافت اور بذلہ سنجی کے روپ میں، کبھی عشق بازی اور رندِ مشربی کے لباس میں اور کبھی تصوّف اور حُبّ اہلِ بیت کی صورت میں ظہور کرتا تھا۔ پس جو ذکر ان چاروں باتوں سے علاقہ نہیں رکھتا، اس کو کتاب کے موضوع سے خارج سمجھنا چاہیے۔ ‘‘ [یادگارِ غالب؛اترپردیش اردو اکادمی ایڈیشن: 1986، ص:4-5]

          یہ ’یادگارِ غالب‘ کے لیے مخصوص نہیں۔ حالی کی تمام سوانح عمریاں انھی اصولوں کے تحت مکمّل ہوئی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ وہ اصول ہیں جو صنفِ سوانح کے لیے آج بھی لائقِ اتّباع ہیں۔ ہر اچھّا سوانح نگار انھی حدود میں رہ کر دادِ علم دیتا ہے۔ دائرۂ کار کی واضح اور طے شدہ حدیں قائم کرنے کے ہنر سے ہی حالی نے ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ جیسی کتاب مکمل کی۔ وہاں بھی "Do’s”   اور  "Don’ts”  کی واضح لکیر قائم کرلی جاتی ہے جس کے سبب لکھنے والے اور پڑھنے والے دونوں کے دماغ میں کوئی شائبہ نہیں رہتا۔ مصنّف اور قاری کے درمیان کی فکری وحدت سے صرف قبولِ عام کی کونپلیں نہیں پھوٹتیں بلکہ ادبِ عالیہ کے اصول و ضوابط بھی مکمّل ہوتے ہیں۔ اسی لیے حالی کی بالعموم ہر تصنیف مقبولیت کے معاملے میں کسی بھی دوسرے ہم عصر سے بڑھ کر تسلیم کی گئی۔

          حالی کا عہد تہذیبی گھماسان کا عہد ہے۔ ایک پہلو سے غور کریں تو زندگی خس و خاشاک میں ملتی جارہی ہے لیکن دوسرا زاویہ یہ ہے کہ نیا سورج طلوع ہورہا ہے۔ علی گڑھ تحریک کے رکن ہونے کے سبب حالی بدلتی ہوئی نئی دنیا کی طرف رُخ کرتے ہیں لیکن اُن کی شخصیت کا توازن اُس احساسِ زیاں سے رتّی برابر بھی گریزاں نہیں جس کے سبب قوم میں مکمّل پسپائی دیکھی جارہی تھی۔ یہاں حالی کے مزاج کا عمومی سوز کارگر ثابت ہوا اور وہ دونوں صورتوں کو گہرائی سے سمجھنے اور ان کا نہایت دردمندی سے تجزیہ کرنے کی مکمّل اہلیت رکھتے ہیں۔ مسدس اور حالی کی نظمیں تو اس رقّت اور انسانی سوز کی مشہور مثالیں ہیں لیکن ’یادگارِ غالب‘ اور ’حیاتِ جاوید‘ اس کی وہ نثری مثالیں ہیں جن کو بالعموم اس طور پر ملاحظہ نہیں کیا جاتا۔ یہ عام سوانحی کتابیں نہیں بلکہ حالی کی قومی دردمندی کا بَرملا اور بہ صراحت اظہار ہیں۔ ’یادگارِ غالب‘ تو اسی احساس اور انداز کے ساتھ کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے:

’’تیرھویں صدی ہجری میں جب کہ مسلمانوں کا تنزّل درجۂ غایت کو پہنچ چکا تھا اور اُن کی دولت، عزّت اور حکومت کے ساتھ علم و فضل اور کمالات بھی رخصت ہوچکے تھے، حسنِ اتّفاق سے دارالخلافۂ دہلی میں چند اہلِ کمال ایسے جمع ہوگئے تھے جن کی صحبتیں اور جلسے عہدِ اکبری و شاہ جہانی کی صحبتوں اور جلسوں کو یاد دلاتی تھیں۔ ۔ ۔ اگرچہ جس زمانے میں کہ پہلی ہی بار راقم کا دلّی جانا ہوا، اس باغ میں پت جھڑ شروع ہوگئی تھی، کچھ لوگ دلّی سے باہر چلے گئے تھے اور کچھ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے؛ مگر جو باقی تھے اور جن کے دیکھنے کا مجھ کو ہمیشہ فخر رہے گا، وہ بھی ایسے تھے کہ نہ صرف دلّی سے بلکہ ہندستان کی خاک سے پھر کوئی ویسا اٹھتا نظر نہیں آتا کیوں کہ جس سانچے میں وہ ڈھلے تھے، وہ سانچا بدل گیا؛ اور جس ہَوا میں انھوں نے نشوونما پائی تھی، وہ ہوا پلٹ گئی۔ ‘‘[یادگارِ غالب؛اترپردیش اردو اکادمی ایڈیشن: 1986، ص:1-2]

          حالی نے اپنے عہد اور ماقبل عہد کی نثر نگاری پر گفتگو کرتے ہوئے لازماً زبان اور اسلوب کے امور زیرِ بحث رکھے۔ اردو ہی نہیں، فارسی نثر و نظم کے اسالیب پر بھی اُن کی نگاہ تھی ورنہ وہ سعدی کی نثر کے عناصرِ ترکیبی کو کیسے غور و فکر کا حصّہ بناپاتے۔ سرسیّد اور غالب کے اسالیبِ بیان کے مختلف پہلوئوں سے حالی نہ صرف باخبر ہیں بلکہ اس کے لحظہ بہ لحظہ بدلتے زاویوں کو بھی گرفت میں لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ سرسیّد کی نثر ایک کتاب سے دوسری کتاب یا ایک اشاعت سے دوسری اشاعت میں کس انداز سے تبدیل ہوئی اور اس ردّوبدل کے اسباب و محرّکات کیا رہے؛ حالی ان تمام سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک موزوں ترین اسلوبِ بیان کی جستجو میں ہیں اور اسی لیے اپنے اسلاف کی زبان کی قدامت، حسبِ ضرورت تبدیلیوں اور پھر نئے اسلوبِ بیان کی تشکیل کے مراحل پر بہ صراحت گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں :

<        ’’بعضے اسٹائل ایسے اچھوتے اور شارعِ عام سے بعید ہوتے ہیں کہ اور لوگ ان کا تتبع کرنے کی دسترس اپنے میں نہیں پاتے اور بعضے ایسے سپاٹ اور سیٹھے پھیکے ہوتے ہیں کہ ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ اس لیے دونوں قسم کے اسٹائلوں کا عام لٹریچر پر کوئی معتد بہ اثر نہیں ہوتا۔ ‘‘[حیاتِ جاوید]

<        ’’ جو لوگ تصنیف کے درد سے آگاہ ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کلام میں لذّت اور مقبولیت پیدا نہیں ہوسکتی جب تک اس کے ایک ایک لفظ میں مصنّف کے خونِ جگر کی چاشنی نہ ہوا ور جس قدر اس میں صفائی اور گھلاوٹ پائی جائے، اُسی قدر سمجھنا چاہیے کہ اس کی درستی اور کاٹ چھانٹ میں زیادہ دیر لگی ہوگی۔ ‘‘[حیاتِ سعدی]

<        ’’ان دونوں کتابوں [ ’گلستاں ‘ اور ’بوستاں ‘]میں یہ بات بھی تعجب انگیز ہے کہ باوجود یہ کہ صنائع لفظی و معنوی ان میں کثرت سے موجود ہیں اور تقریباً نصف ’گلستاں ‘ کے فقرے مسجع اور مقفّٰی ہیں۔ بہ ایں ہمہ وہ سادگی میں ضرب المثال ہیں۔ ۔ ۔ فی الواقع یہ شیخ [سعدی]کے کمالِ انشا پردازی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ ۔ ۔ شیخ کی نثر میں مسجع اور مرصع فقرے سادے فقروں میں ایسے ملے ہوئے ہیں جیسے پشمینے کی شال میں ریشم کے تار۔ ‘‘[حیاتِ سعدی]

<        ’’نیچر کے بیان میں شیخ  [سعدی]کا کلام واقعی لاثانی ہے۔ خدا کی صنعت اور حکومت (یعنی نیچر) کے متعلق وہ وہی باتیں بیان کرتا ہے جو سب جانتے ہیں لیکن یہ کسی کی طاقت نہیں کہ ان کو ویسے پاکیزہ اور دل نشیں بیان کے ساتھ ادا کرسکے۔ ‘‘[حیاتِ سعدی]

<        ’’معلوم ہوتا ہے کہ گو کہ اس وقت طبعِ سلیم کے اقتضا سے خود سرسیّد کی تحریر سیدھی سادی تھی مگر سوسائٹی کے اثر سے یقینا سادی عبارت لکھنے کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ۔ ۔ مگر وہ بہت جلد متنبّہ ہوئے۔ چنانچہ دوسری مرتبہ اپنے سیدھے سادے نیچرل اسٹائل میں لکھ کر شایع کیا۔ ‘‘[حیاتِ جاوید]

<        ’’ان[سرسیّد] میں بھی قدرتی قابلیت پائی جاتی تھی کہ ہر مضمون پر لکھ سکتے تھے اور عام فہم انداز میں اپنے قدرتی انداز میں لکھ سکتے تھے۔ وہ مشکل مضمون کی خاطر اپنی عام سطح سے نہیں ہٹتے تھے بلکہ مضمون کو عام سطح پر لے آتے تھے۔ ان کے اس وصف سے ادب کو بڑا فائدہ پہنچا۔ ‘‘[حیاتِ جاوید]

<        ’’ہمارے نزدیک کلام کی سادگی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ خیال کیا ہی بلند اور دقیق ہو مگر پیچیدہ اور ناہموار نہ ہو۔ ۔ ۔ الفاظ جہاں تک ممکن ہو، تجاوز اور روزمرہ کی بول چال کے قریب ہوں۔ ۔ ۔ جس قدر شعر کی ترکیب معمولی بول چال سے بعید ہوگی، اسی قدر سادگی کے زور سے معطّل سمجھی جائے گی۔ ‘‘ [مقدمۂ شعر و شاعری]

          یہ اقتباسات صرف اس بات کا مظہر نہیں کہ حالی اپنے بزرگوں کے نثری اسالیب کے حسن و قبح کو موضوعِ گفتگو بنارہے ہیں۔ یہ ایک ابتدائی کام تھا جہاں انھیں اپنی ادبی روایت کا جائزہ لینا تھا لیکن حقیقی بات تو یہ ہے کہ وہ اردو نثر بالخصوص غیر افسانوی نثر کا وہ اسلوبِ بیان تلاش کرنا چاہتے ہیں جو اُن کے عہد کی ضرورتوں کے مطابق تو ہو لیکن مستقبل آشنا بھی ہو۔ کہنا چاہیے کہ وہ اپنی زبان کے لیے ایک مثالی نثر کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور اس کی تعمیر و تشکیل کے اسباب و عَلَل پر ارتکاز کے ساتھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ سعدی، غالب، سرسیّد؛ مقالات میں شبلی اور محمد حسین آزاد سب کے نثری اسالیب کا جائزہ لے کر وہ ایک ’جہانِ دیگر‘ کی جستجو میں مبتلا رہے کہ اردو کا کون سا نثری اسلوب سب سے زیادہ موزوں ہے؟

          حالی کے اسلوبِ بیان کے سلسلے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سید عبداللہ نے ایک پُر لطف بات ان کے تصوّرِ اسلوب کے ضمن میں یوں کہی ہے: ’’حالی کا مثالی اسلوبِ بیان ان کا اپنا اسلوبِ بیان ہے جس میں سر سید کی سادگی اور حالی کے حسنِ بیان کا لطفِ اجتماع ہے۔ ‘‘ حالی نے سعدی اور سرسید کاجائزہ لیتے ہوئے مختلف مقامات پر اسلوبِ بیان کے تصوّرات پر بھی سنجیدگی سے توجّہ کی ہے۔ حالی کے یہاں تنقید سے لے کر سوانح تک سرسید کے اثر سے ’نیچر‘ کی رَٹ بہت ہے لیکن جب اس لفظ کی اُن کی تشریح پر غور کرتے ہیں تو یہ پتا چلتا ہے کہ یہاں حالی کچھ الگ ہی بات کہتے ہیں۔ حالی سادگی، بے ساختگی اور مطلب نگاری کے عناصر کے سہارے جس نئی نثر کو فروغ دینا چاہتے تھے، اس کی حقیقی پہچان اُس غیر شخصی رنگ میں سامنے آتی ہے جہاں وہ غیر افسانوی نثر بالخصوص سوانح نگاری کے لازوال نمونے تیار کرتے ہیں۔ غالب اور سرسید کے بیان میں ان کی اپنی شمولیت آٹے میں نمک کی طرح ہے حالاں کہ دونوں سے ان کے جو دیرینہ تعلّقات قائم رہے، اس کی تفصیل پیش کرنے کے مرحلے میں وہ اپنا ذکر بہ صراحت کرسکتے تھے۔

          حالی کی نثر منطق کے سہارے تو چلتی ہی ہے، اور یہ درست کہ استدلال کی صفت غالب اور سرسید دونوں سے انھیں حاصل ہوئی تھی اور اسے اپنے ہر لفظ میں انھوں نے پیوست کیا۔ کسی بڑی چیز کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں خانہ بندی کرکے سمجھا جائے، اس کا انھوں نے خاص انداز وضع کیا۔ کوشش یہ کی کہ عقلی شواہد میں جذباتیت کی ایک آنچ بھی نہ آنے پائے۔ شبلی اور آزاد اس سے بچ نہیں پاتے تھے۔ حالی نے نشانہ ہمیشہ بڑا رکھا۔ تنقید یا سوانح یا تبصرے کی ورق گردانی کرلیجیے، خطبات یا خطوط کے صفحات پلٹ لیجیے، کبھی ذہن میں کسی چھوٹے خیال کو نہ آنے دیا۔ وسیع المقاصد دائرۂ کار سے گریزاں نہ ہوئے۔ نذیر احمد کی طرح نہ وہ عجلت پسند واقع ہوئے اور نہ تیزرفتاری کے وہ خوٗگر تھے۔ سر سید کی طرح جدت کے لیے تیزی سے بھاگنے دوڑنے کا انداز انھوں نے نہیں اپنایا۔ ’آبِ حیات‘، ’نیرنگِ خیال‘ کے قدرداں توہیں لیکن حالی نے زبان کی اُن کے جیسی رواں دواں فصل اُگانے کی کوشش نہیں کی۔ شبلی کی طرح ہی مشرقی جاہ و جلال کی اہمیت تو وہ سمجھتے تھے لیکن خود کو اس راستے کا مسافر نہ بنایا۔ اپنے عہد میں بڑے بڑے انشا پردازوں کا جلوہ دیکھا لیکن اپنی نثر کو ایک لحظے کے لیے بھی اسی طور پر آزمانے کی ضرورت اُن کی کبھی مجبوری نہ بنی۔

          حالی نے اردو میں غیر افسانوی نثر کا منشور تیار کیا۔ اس میں ایسے عناصرِ ترکیبی شامل کیے جو عقل و شعور اور منطق و استدلال کے ساتھ تو چلیں لیکن اس میں نئے نئے تصورات اور تخیل کے لیے ساری گنجایشیں موجود ہوں۔ قصۂ در د  تو پیش کرنا ہی ہے لیکن قومی تشکیلِ نو کے سب گُل بوٹے اس میں جَڑے ہوئے موجود ہوں۔ اس میں آزمائے ہوئے ادبی اور علمی اطوار تو شامل ہوں ہی لیکن نسلِ نو کی زبان اور شعور سے یہ خالی نہ ہو۔ حالی ماضی اورحال سے بڑھ کر مستقبل کو نگاہ میں رکھتے ہیں۔ اس لیے غیر افسانوی نثر لکھتے ہوئے انھوں نے ایک ایسا اسلوب وضع کیا جس میں موجود اصناف تو شامل ہیں ہی لیکن ایسی صنف یا صنفیں جو  آنے والی نسلوں کی ضرورت بنیں گی، اس کی زبان کی مزاج دانی بھی اُن کے یہاں موجود ہے۔ حالی کے ذہن کی متانت، سنجیدگی، قرار، ٹھہراو  اور سب سے بڑھ کر توازن ایسے اوصاف ہیں جن سے انھوں نے ایک ایسا نثری اسلوب وضع کیا جو کسی بھی موضوع کو خود میں سمیٹ کر لے چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس عہد کے دوسرے نثر نگاروں کے یہاں زبان کی سطح میں اتھل پتھل بہت رہتی ہے۔ ’آب حیات‘ بھی جوش اور قرار کے مدوجزر میں کئی بار بَل کھاتی اور ڈگمگاتی ہوئی ملتی ہے لیکن حالی کی سب سے ضخیم کتاب ’حیاتِ جاوید‘کا ایک ایک صفحہ پڑھ جایئے، ایک جیسے سلسلۂ خیال اور قرارِ واقعی سے ہمارا سامنا ہوگا۔

          اردو میں صاحبِ طرز اور ہنر ور تو بہت آئے لیکن کسی کے پاس حالی جیسی متوازن شخصیت نہ تھی۔ حالی کی سوانح عمریاں ہوں یا تنقید، مکاتیب یا مقالات ؛ہر جگہ لہجے میں قرار اور ہمواری کی ایسی صفات حاصل ہوتی ہیں جن کے بغیر غیر افسانوی اور خاص طور پر کاروباری نثر نہیں لکھی جاسکتی۔ حالی عہد ساز شاعر اور تنقید کے بنیاد گزار  یا  سوانح نگاری کا معمارِ اوّل تو ہیں لیکن ان کا شاید سب سے بڑا کارنامہ یہی تسلیم کیا جائے کہ اپنے بعد کی نثر نگاری بالخصوص غیر افسانوی نثر کے وہ ایک ایسے بانی ہیں جس پر سو برس گزرنے کے باوجود وقت کی نہ گرد پڑی اور نہ ہی کسی کو ایسی ضرورت درپیش ہوئی کہ حالی سے وہ الگ راستہ اختیار کرکے زندگی اور ادب کا کوئی نیا پیمانہ مرتّب کرے۔

مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close