دیگر نثری اصناف

خالدہ حسین کی ایک کہانی

پروفیسر صغیر افراہیم

       پچھلے کچھ برسوں سے فکشن تنقید میں کہانی کی واپسی کا غلغلہ بلند ہوا ہے اور چند نام نہاد ’’بڑے افسانہ نگاروں ‘‘ نے چُٹکلوں کو کہانی کا متبادل سمجھ کر اس نوع کے افسانے لکھنے شروع کیے ہیں۔ موضوع کا واشگاف اظہار لازماً کہانی پن کی واپسی پر دلالت نہیں کرتا لہٰذا اِن افسانہ نگاروں کو اظہار کے مختلف اسالیب سے شناسائی حاصل کرنے کے لیے بُزرگ افسانہ نگار، خالدہ حسین کی کہانی ’ہزار پایہ‘ ضرور پڑھنی چاہیے جس میں مصنفہ نے موضوع پر اصرار کے ساتھ اظہار کے پیرائے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ کہانی کی پہلی قرأت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ خالدہ حسین کو کہانی تعمیر کرنے کا ہُنر آتا ہے اور وہ واقعات اور تجربات کو قابلِ قبول ترتیب میں پیش کرتی ہیں۔ یہ فنّی ہُنرمندی اُن کے وسیع مطالعے اور گہرے مشاہدے پر مبنی ہے۔ افسوس ہے کہ اس جانب ہمارے نئے افسانہ نگار توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ شاید اس وجہ سے کہ اُن کے پاس دوسرے فنکاروں کی تخلیقات پڑھنے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ ایسے ’’عدیم الفرصت‘‘ افسانہ نگاروں کا بیشتر وقت اپنی ہی کہانیوں کو سُنانے اور داد و تحسین حاصل کرنے میں گزر جاتا ہے۔ کاش اُنھیں احسا س ہو کہ ’ہزار پایہ‘ جیسے کامیاب افسانوں سے صرف نظر کرکے انھوں نے کچھ کھو یا تو ہے ہی، اپنے مُعاصرین کے فن سے وہ کچھ پا بھی نہیں سکے ہیں۔

       پُر اسرار انداز میں شروع ہونے والی یہ کہانی زبان کے غیر معمولی حُسن اور فضا سازی کی بنا پر منفرد اور ممتاز ہے۔ اس کہانی میں ایک ایسے شدید خوف کا احساس بتدریج بڑھتا جاتا ہے جو ’ہزار پایہ‘ کی طرح رینگتا ہوا موت کی علامت بن جاتا ہے۔ زندگی سے موت تک کے سفر کی وجودی واردات خالدہ حسین نے علامتی پیرائے میں بیان کی ہے۔ جسمانی موت کا یقین فقط مرکزی کردار کو ہی نہیں بلکہ اُس کے افراد خانہ کو بھی ہے۔ اس فیصلہ کُن مرحلہ پر جب زندگی موت کی گرفت میں ہو تو بہت سے سوالات سامنے آتے ہیں مثلاً زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ کیا موت ہر چیز کا خاتمہ ہے؟ کیا کوئی ایسی چیز ہے جسے زندہ رکھا جا سکتا ہے؟ کیا وجود با معنی ہو سکتا ہے؟ ہم کیا ہیں ؟ ہمارے علاوہ کیا ہے؟ خارجی اور باطنی زندگی میں اشیاء اور اُن کے ناموں میں کیا ربط ہے؟

       جب تک انسان صحت مندرہتا ہے، زندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف رہتا ہے۔ اُسے اِن سوالات پر غور کرنے کا موقع نہیں ملتا لیکن جب زندگی ساتھ چھوڑنے لگے تو آدمی زندگی پر نئے سرے سے نظر ڈالتا ہے۔ خالدہ حسین نے مرتے ہوئے آدمی کے تجربات کا ذکر اپنی کئی کہانیوں میں کیا ہے۔ وہ کامو، سارتر اور کافکا وغیرہ سے متاثر نظر آتی ہیں۔ زیر نظر کہانی کے عنوان ’ہزار پایہ‘ سے قاری کا ذہن کافکا کی طویل کہانی، میٹا مار فاسیز (قلب ماہیئت) کی طرف بھی جاتا ہے جس کا ہیرو ایک صبح سو کر اُٹھتا ہے تو اُسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ انسان سے ایک غیر انسانی ہیئت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مغربی فکشن کے ایک معروف کردار (تھیم) کا ’’ہزار پایہ‘‘ میں براہ راست ذکر ہے:

’’ایسے میں مجھے وہ ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ کی کہانی یاد آجاتی ہے اور میں اپنے آپ کو اس بدلتے لمحے میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ ‘‘

آر۔ ایل۔ اسٹیونسن(R.L.Stevenson)کے ناول کا مرکزی کردار ڈاکٹر جیکل دوہری زندگی گزارتا ہے۔ ایک چہرے پر دوسرا چہرہ لگا کر۔ اس میں ایک اچھا ہے، دوسرا بُرا۔ دُنیا اُسے دو حیثیتوں سے پہچانتی ہے جبکہ وہ ایک ہی شخص ہے۔ اِس  ناول میں بھی آئینے کو موتیف کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ خود سے نظر چُرانے اور اپنے اصل چہرے کو نہ دیکھنے کا یہ عمل برسوں سے چل رہا ہے۔ ایک روز ’ہزار پایہ‘ کا راوی خود کو بدلتا ہوا محسوس کرکے سوچتا ہے کہ:

’’میں اپنے آپ کو بدلتے لمحے میں دیکھنا چاہتا ہوں مگر میں اکثر آئینے سے دور رہتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے کمرے میں کوئی آئینہ ہے ہی نہیں۔ ‘‘

آخر ایک رات اُسے آئینہ مل ہی جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو اُسے ناموں کے بے معنی ہونے اور چیزوں کے بے حقیقت ہوجانے کا علم ہوتا ہے:

’’عین وقت پر میرے ہاتھ نے بڑھ کر آئینہ اُٹھایا۔ اور اس آئینے کو دیکھ کر مجھے ناموں کے بے فائدہ ہونے کا یقین آیا۔ میں خود اپنے ساتھ برسوں سے زندہ تھا۔ اور اب تک محض نام سے اپنے آپ کو پہچانتا تھامگر یہ پہچان اوپری تھی۔ اس اوپری پہچان کے اندر ایک اور پہچان تھی۔ سخت چھلکے کے اندر بیج کا گودا اور اس گودے کی کوئی شکل نہیں ہوتی، اس لیے اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ مگر پھر بھی اس کی ایک پہچان ہوتی ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا اور بھک سے کچھ میری کنپٹیوں میں جل اُٹھا۔ ‘‘

       بُنیادی طور پر یہ کہانی (ہزار پایہ) بیماری اور موت کے تجربے کے توسط سے سامنے آنے والی وجودی صورتِ حال کا علامتی اظہار ہے۔ اس کہانی کو آگہی کے کرب یا آشوبِ عصر کے ادراک کا استعارہ تصور کیا جائے تو یہ تفہیم کی ایک نئی جہت ہوگی۔ راوی پر ہزار پایہ کے جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں اُس کا سب سے کریہہ نتیجہ تشخص سے محروم ہونا ہے:

’’مجھے پہلی بار علم ہوا کہ میں چیزوں کے نام بھولتا جا رہا ہوں اور چیزوں کے نام کھو جائیں تو چیزیں مر جاتی ہیں۔ ‘‘

اور یہیں سے سوال اُٹھتا ہے کہ اشیاء اور ناموں کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟ کیا اشیاء کو معنوی رشتہ میں پرویا جا سکتا ہے؟ہم کوشش تو کرتے ہیں لیکن کیا اُن میں واقعی کوئی ربط قائم ہو سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ’’ہزار پایہ‘‘ کا حملہ یاد داشت کے اُس حصہ پر ہے جو ناموں (اسماء)کا تحفظ کرتا ہے۔ اِس طرح مذکورہ افسانہ کی علامتی ساخت میں دو اہم عناصر ہیں :

       1۔ ہزار پایہ

       2۔ اسماء/ یاد داشت/ زبان/تحریر

       ’ہزار پایہ‘ بظاہر ایک زہریلا کیڑا ہے جو کان میں گھُس جاتا ہے یا جسم سے چمٹ کر اپنے پاؤں گاڑ دیتا ہے اور پھر جسم کا خون چوستا رہتا ہے مگر خالدہ حسین نے تخلیقی تصرّف کرکے ہزار پایہ کو وجود کے اندر سر سرانے والے اور فساد پھیلانے والے مادّے کے طور پر پیش کیا ہے۔ تنگ / پریشان کرنے والے عناصر سماعت اور بصارت ہیں اور اس افسانہ میں بھی راوی سماعت اور بصارت ہی کا آشوب جھیل رہا ہے، خواہ اسپتال کا ماحول ہو یا راستہ کے مناظر مثلاً حمیدہ جنرل مرچنٹس، سلمان شوز، سمنا باد یا پھر سماعت کے پردے سے ٹکرانے والے مندر جہ ذیل جملے:

       1۔ روکے زمانہ چاہے روکے خدائی…

       2۔ جلدی کرو، دیکھو آدھا گھنٹہ اوپر ہو گیا۔

       3۔ جلدی کرو، اتنی رات تک جاگ رہے ہو۔

       4۔ دیکھو میرا جبڑا ٹیڑھا ہو رہا ہے۔

       5۔ نہیں، دوا کو دیر ہو گئی ہے۔

       6۔ اب تو یہ ایکس رے کام کے نہیں۔

       7۔ اس ہزار پائے کو ختم کردو، ہلاک کردو۔

       8۔ یہ زہریلا دھڑکتا گودا، یہ جڑوں بھرا، میرے اندر ہر مقام پر، میرے ہر مسام پر اور دنیا کے ہر لفظ پر حاوی ہے۔

       بصارت و سماعت کے یہ چھوٹے چھوٹے تجربے ایک طرح کا کولاژ مرتب کرتے ہیں جس کی بُنت میں عصر کا آشوب شامل ہے۔ اور اس آشوب کا جو سب سے خطرناک اثر نمایاں ہو رہا ہے وہ یہ کہ راوی کو ایک طرح کے معنیاتی خالی پن یعنی Semantic Emptinessکا احساس شدید تر ہوتا جاتا ہے اور وہ چیزوں کے نام (اسم) بھولتا جا رہا ہے اور اگر ’’چیزوں کے نام کھو جائیں تو چیزیں مر جاتی ہیں ‘‘ اس لیے وہ اپنے قریب کی چیزوں کے نام یاد کرنے اور اُن کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے تب اُسے لکھنے کی خواہش کا احساس ہوتا ہے:

’’چند سطریں پڑھ کر مجھے لگتا کہ اب میں لکھوں گا۔ میں قلم اٹھاتا مگر لکھ نہ پاتا۔ دراصل مجھے کوئی ایسی چیز لکھنی تھی جس کے لیے لفظ نہیں تھے اس لیے قلم پھر رکھ دیتا اور پڑھنے لگتا۔ ‘‘

پھر ایک منزل پر پہنچ کر اُس کو احساس ہوتا ہے کہ دوسروں کے تجربات کو اپنے تجربات میں شریک سمجھا جائے شاید اس طرح الفاظ کو ایک دائمی شکل دی جا سکتی ہے لیکن یہاں بھی جواب نفی میں آتا ہے۔

       زیر مطالعہ کہانی کو لسانی اظہار کے حوالے سے بھی پڑھا جا سکتا ہے کہ لسانی اظہار کسی روحانی تشفی کا ذریعہ ہو سکتا ہے یا جو کچھ ہم اپنے وجود میں محسوس کرتے ہیں کیا ہم اس کو بیان بھی کر سکتے ہیں ؟ خالدہ حسین نے اس وجودی واردات کو پیش کرتے ہوئے ’’ہزار پایہ‘‘میں زبان کی نا رسائی کی تھیم کو اُجاگر کیا ہے اور ساری توجہ اس سوال پر مرکوز کی ہے کہ زبان کے توسط سے باطن کا اظہار ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اور کیا آدمی کے باطن کو الفاظ دائمی شکل دے سکتے ہیں ؟ اور ایک بار پھر قاری کا ذہن اس طرف متوجہ ہو تا ہے کہ کیا لفظ اور شئے میں کوئی رشتہ ہے؟ کیا زبان حقیقت کا بیان کر سکتی ہے؟ کیا اظہار کی ترسیل ممکن ہے؟ اور اس طرح راوی اور قاری کی غور و فکر یکساں محسوس ہوتی ہیں۔ کہانی کے راوی کا تجسس کسی لمحہ قرار نہیں پاتا۔ اُس کی اضطرابی کیفیت حقیقت کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔ آخر اُس نے لکھنا شروع کیا اور مستقل لکھتا رہا محض اپنے تجربے کو دستاویزی شکل دینے کے لیے لیکن صفحۂ قرطاس پر حروف کے منتقل ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ جو کچھ کاغذ پر لکھا گیا ہے اُس میں کوئی ربط نہیں ہے۔ کوئی با معنی جملہ نہیں ہے بلکہ یہ تو محض نام ہیں جن کے کوئی معنی نہیں۔ یعنی زبان سے جو علم حاصل ہوا اُس سے کوئی رہنمائی حاصل نہیں ہوئی۔ اِس اعتبار سے تو زندگی کی تشکیلِ نو ہی نہیں ہوئی جبکہ دنیا نے خدا کو خلق کیا اور اشیاء کو نام دیا۔ اور یہ غالباً بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ انسان (انسانِ اوّل، آدمؑ) کو جو پہلی چیز سکھائی گئی وہ اسماء ہی تھے(علّم آدم اَلاسماء کُلّہا)۔ اولاً آدم ؑ کو اسم کیوں سکھائے گئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسم شئے کے جوہر کے مترادف ہے۔ حضرت آدمؑ کو بھی اللہ نے تمام اشیاء کے جوہر سے آشنا کرایا۔ یہ شناخت کی پہلی (اور شاید آخری بھی) منزل ہے۔ کہانی کا راوی جس منزل پر ہے وہاں شے اور اُس کے نام کا رشتہ ختم ہو چکا ہے۔ اس ربط کا قائم ہونا ایک طرح سے زندگی کی ابتدا تھی۔ اب جبکہ یہ ربط باقی نہیں رہا تو آگے صرف موت ہے۔ راوی نے اِس اُمید پر کہ شاید اُس کا وجود زبان کے وسیلے سے برقرار رہے، کاغذ پر لکھنا شروع کیا لیکن اُس نے جو لکھا وہ مفرد الفاظ تھے۔ لکھنے کے بعد اُس کو اپنا باطن خالی محسوس ہوا:

’’مجھے لگتا ہے اب میرے تمام نام ختم ہو گئے ہیں۔ اب میں روز کے تین چار نام بھی نہیں لکھ سکتا۔ اور قلم لے کر دیر تک بیٹھا رہتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک طرح سے ناموں کا خاتمہ ہو چکا ہے کیونکہ میں انہیں اپنے سے باہر لے آیا ہوں۔ اور باہر آکر یہ لفظ بن گئے ہیں۔ اِسی لیے میں اپنے آپ کو بالکل خالی محسوس کر تا ہوں۔ ‘‘

اس بیان سے اظہار کی نا رسائی تو ظاہر ہی ہے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہو گیا کہ راوی کے پاس کہنے کے لیے کچھ تھا بھی یا نہیں اور کیا راوی بغیر لکھے اُس کوسمجھنے کا اہل تھا۔ جب اُس نے کچھ لکھا تو اُس کی تحریر معنی سے عاری ہو گئی۔ اس طرح آدمی کے اظہار کا جو غالب وسیلہ ہے یعنی زبان اُسی کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ آج جبکہ یہ بحث بڑے زور و شور سے ہو رہی ہے کہ زبان انسانی زندگی اور تہذیب کی تشکیل کس طرح کرتی ہے اور کن معنوں میں آدمی زبان کا دست نگر ہے، خالدہ حسین کی تقریباً بتیس برس پُرانی کہانی ’’ہزار پایہ‘‘میں دوبارہ دلچسپی اور معنویت کی از سرِ نو تلاش کا مناسب وقت ہے لیکن چونکہ اِس کہانی کا بُنیادی تناظر وجودی ہے اس لیے عصری اور تاریخی توجیہیں ثانوی ہی ہو سکتی ہیں۔ غالبؔ نے کہا تھا   ؎

’’مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی‘

’’ہزار پایہ‘ میں ہر اثبات کی نفی وجودی شواہد کے وسیلہ سے اس طرح ہوتی ہے گویا کہانی کا اصولِ تعمیر لا تشکیلی ہے۔

مزید دکھائیں

صغیر افراہیم

پروفیسر، شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ مدیر ’’تہذیب الاخلاق‘‘

متعلقہ

Close