دیگر نثری اصناف

 خطوطِ غالب  – اردو جدید نثر کا نقطۂ آغاز

صفدرامام قادری

            اٹھارویں صدی کے آخر تک اردو نثر کے مجموعی سرما ے میں چند داستانوں اور مذہبی رسائل کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کا اہمیت کے ساتھ ذکر کیا جائے۔ فورٹ ولیم کالج نے تراجم اور دوسری اصناف کی طرف متوجّہ ہونے کے لیے تھوڑا بہت ماحول بنایا لیکن یہاں کی جو کتابیں مشہور ہوئیں، وہ قصّے کہانیوں سے ہی متعلّق تھیں۔ تھوڑے وقفے کے بعد اردو میں صحافت کا بھی آغاز ہوتا ہے لیکن سچّائی یہ ہے کہ خطوطِ غالب سے پہلے اِن تمام نثری کارناموں کا ماسواے داستان گوئی آزادانہ وجود دکھائی نہیں دیتا۔ ایسا نہیں ہے کہ غالب سے پہلے اردو میں کسی نے خطوط نہیں لکھے۔ غالب کے حلقۂ احباب میں بعض اس طرف متوجہ ہو چکے تھے۔ غالب کی پرورش وپرداخت اور نشوونما ایسے ماحول میں ہوئی تھی جہاں اردو میں تصنیف و تالیف ایک معذرت سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اپنی اہمیت اور عظمت کے لیے وہ باربار فارسی شاعری کو مثال بناتے ہیں۔ ایسے میں نثر لکھتے وقت اردو کی طرف آنا تو اَور بھی ہتکِ عزّت کی بات تھی۔ اسی لیے اردو دیوان پر فارسی کی تقریظ اور سرسیّد کی اردو کتاب پر بھی شعرِ فارسی میں تاثرات کا اظہار اُس زمانے کے چلن کے اعتبار سے کچھ غیر مناسب نہیں۔ لیکن ایک دَور آتا ہے جب انھیں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کا ذہن علمی کام کے لیے تھک چکا ہے، جسم بڑھا پے کا شکار ہے۔ تخلیقی اعتبار سے اُن کے سوتے خشک ہورہے ہیں۔ ایسے میں ایک سلسلے سے وہ اپنے عزیزوں، شاگردوں اور قرابت داروں کو خطوط لکھنا شروع کرتے ہیں۔ اس وقت تک غالبؔ کی عمر پچاس کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انھوں نے اپنی عمر کے آخری بیس برسوں میں یہ خطوط لکھے۔ غور کریں تو  معلوم ہوگا کہ سب سے زیادہ خط ایّامِ غدر اور اس کے بعد کے ہیں۔

            غالب جس طرح اپنی اردو شاعری کو اہمیت نہیں دیتے تھے، اسی طرح اردو میں لکھے ان رقعات کا بھی ان کی نگاہ میں کوئی رتبہ نہیں تھا۔ شاگردوں نے انھیں جمع کر کے اشاعت کے لیے اجازت چاہی تو غالب نے انھیں منع کردیا۔ غالب کا کہنا تھا کہ عبارت کو بنانے سنوارنے کا ان خطوط میں، مَیں نے کوئی کام کیا ہی نہیں۔ ایسی نثرِبے رنگ آخر کیوں شائع ہو؟ غالب سمجھتے تھے کہ اُن کا ذہن بھی کسی نئی بات کی طرف نہیں آتا، اس لیے بُڑھاپے، اضمحلال اور ٹھہرے ہوئے پانی کو کیوں عام کرکے رسوا سرِبازار ہُوا جائے۔ غا لب کی اس دلیل پر لوگوں نے دھیان نہیں دیا۔ غالبؔ کے نتائج سے الگ، پہلے ان کی شاعری کی قدر دانی شروع ہوئی اور دیکھتے دیکھتے اُن کے خطوط کے مجموعے ’اردو ے معلّٰی‘ اور’عودِ ہندی ‘شائع ہوگئے۔ اب عام طور پر یہ مانا جانے لگا کہ اردو نثر نے ایک نئی کائنات کی دریافت کرلی ہے۔ آج اس موضوع پر کسی بحث کی ضرورت نہیں کہ غالبؔ اپنی اردو شاعری اور نثر، دونوں کے بارے میں جس احساسِ کمتری کا شکار تھے، وہ صحیح نہیں تھا۔ آج غالبؔ اپنی اردو تصنیف و تالیف کی وجہ سے ہی نثر ونظم دونوں میں اہمیت اور عظمت کے حامل ہیں۔

            غالب کے بیش تر خطوط ذاتی نوعیت کے ہیں۔ ان میں جو ادبی مسائل ومباحث موجود ہیں، اُن کی حیثیت ضمنی ہے اور اُن پر بھی غالب کی ذات کی ہزار پرچھائیاں موجود ہیں۔ وہ دَور ہند مغل تہذیب کے زوال سے عبارت ہے۔ بادشاہت تھی بھی اور نہیں بھی۔ ۱۸۵۷ء میں غالب نے اس کے وجود کی آخری کڑی بھی اپنی آنکھوں سے ٹوٹتے دیکھی۔ اس کے علاوہ ادب، معیشت، تہذیب وثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں ایک الگ طرح کا بہاو آیا ہوا تھا۔ ایک طرف انتشار اور تاراجی کے مظاہر تھے لیکن دوسری طرف ابھرتے ہوئے سماج کا نقشہ بھی دکھائی دے رہا تھا۔ غالب وقت کی ستم ظریفی اور اپنی بگڑتی ہوئی صحت کے ایسے اسیر ہوئے کہ اُن کی مجلسی زندگی اپنے گھر آنگن میں سمٹ آئی۔ اسی عالم میں انھوں نے اپنے متعلّقین کو بڑی تعداد میں خطوط لکھے اور اپنی تنہائی کو بُھلانے کا ایک مداوا ڈھونڈلیا۔

            خطوطِ غالب کا یہی پس منظر ہے جس نے اُسے ادبی شہہ پارہ بننے کا موقع عنایت کیا۔ یہ خطوط اب بھی ذاتی نوعیت کے ہیں۔ اس میں اپنے زمانے کے جو احوال درج ہوگئے ہیں، انھیں تاریخ کی کتابوں کی طرح نہیں پڑھا جاسکتا۔ ادبی معاملات پر بھی جو حصّہ اس سرماے میں موجود ہے، اُسے قواعد وانشا اور عروض وبیان کی کتاب نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس کے باوجود گذشتہ ڈیڑھ سو برسوں میں اس سرماے کو ایک بے مثال ادبی اور تخلیقی کارنامہ تصوّر کیا گیا۔ لوگوں نے اس سے تاریخی نکات اخذ کیے اور غدر کی سچّی اور دِل دہلا دینے والی تاریخ تیار کرلی۔ ادبی مسئلوںپر غالب کی رائے چُن کر نکال لی گئی اور الگ سے غالب کے افکار کا ادبی منظرنامہ تیار ہوگیا۔ نفسیات کے ماہرین نے یہاں سے الگ الگ جملے اور نثری ٹکڑے منتخب کرکے غالب کی شخصیت کے پیچ وخم پر پوری پوری کتاب بنادی۔ اس کے باوجود یہی سچّائی ہے کہ غالب کا یہ نثری سرمایہ اُن کی ذاتی زندگی اور نجی محسوسات سے الگ کچھ بھی نہیں۔ انھیں غالب کے ’نج‘ سے اگر الگ کیا گیا تو شاید اِن کی روح ہی ختم ہوجائے گی۔

            ایک سوال مختلف ذہنوں میں اکثر اُبھر تا رہتا ہے کہ غالب نے اگر شاعری کی طرف توجّہ نہ کی ہوتی، پھر بھی خطوط کا سرمایہ انھیں عظمت کے اسی مقام تک پہنچاتاجہاں وہ آج موجود ہیں۔ مفروضوں کے حتمی جوابات نہیں دیے جاسکتے لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ غالب نے جب اردو خطوط نگاری کا آغاز کیا، اس وقت اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں اُن کے دواوین شائع ہوچکے تھے اور وہ ایک مستند اردو اور فارسی شاعر کی حیثیت سے تسلیم کیے جا چکے تھے۔ اُن کے اردو خطوط پر جس سنجیدگی سے فوری توجّہ دی گئی، اس کی وجہ بھی ایک عظیم المرتبت شاعر کے ہاتھوں رقم شدہ ہونے کی بات شاملِ حال تھی۔ خطوطِ غالب کی روز افزوں اہمیت اور مقبولیت بڑھی، اس میں بھی یہ نکتہ غیر متنازعہ طور پر سب سے اہم ہے کہ غالب کی شخصیت کے پیچ وخم کو خطوط میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ دیکھ لینے کے بعد ان کی شاعری اور بھی اثر انگیزی کے ساتھ ہمارے روبہ رو ہوتی ہے۔ اس لیے اس ادبی سرماے کی لازوال اہمیت کے باوجود اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ غالب کی شاعرانہ عظمت اوّلیت کی حامل ہے اور ان کی نثر نگاری اس کا تتمہ۔

            مکتوب نویسی تہذیب وثقافت کی تاریخ کا ایک لازمی جزو ہے۔ انسان نے جیسے ہی معاشرت اور ابتدائی تعلیم کا خاکہ بنایا اور نقلِ مکانی ومسافرت کو اپنی زندگی کا حصّہ بنایا، غالباً اسی زمانے میں خطوط سے ایک دوسرے کی خیریت طلب کرنے کا رواج شروع ہوا ہوگا۔ غالب کی مکتوب نویسی بھی دوسروں کا حال جاننے اور اپنی کیفیت بیان کرنے کے مقصد سے کبھی الگ نہیں ہوتی۔ لیکن ان خطوط کا لکھنے والا اپنے زمانے کا بہترین دماغ بھی رکھتا ہے، اس لیے اس کی نگاہ کی تیزی اور شخصیت کی بوقلمونی ہمیں اور بھی کئی منظروں تک پہنچا دیتی ہے۔ غالب کے خطوط کی اہمیت میں وقت کے کارواں کے بڑھتے جانے کے ساتھ جو اضافہ ہورہا ہے، اس کی وجہ وہ رسمیات نہیں جن سے خطوں کی تشکیل ہوتی رہی ہے۔ غالب کا کارنامہ ہے کہ خطوط کی طے شدہ روایتوں کے باوجود اپنے نجی پن کو توسیع دینے کے کچھ ایسے بھی زاویے انھوں نے وہاں رکھ چھوڑے جن کی اہمیت مکتوب نگار اور مکتوب الیہ سے پَرے بھی تھی۔

            غالب نے اپنے کئی دوستوں اور شاگردوں کو خط لکھتے ہوئے یہ دعوا کیا کہ انھوں نے نامہ نگاری کا نیا آئین بنایا۔ وہ ذاتی خطوط کی عوامی روایت سے خود کو الگ کرکے دیکھنا چاہتے تھے۔ دوباتوں پر اُن کا اصرار ہے کہ انھوں نے فضولیات میں پڑنے یا رسمی معاملات میں زیادہ دل چسپی لینے کے بجاے کام کی باتوں، ضروری معاملات اور مطلب نویسی پر اپنے خطوط کا مدار رکھا۔ ان کا دوسرا دعوا ہے کہ ان نوشتوں کو انھوں نے گفتگو کے انداز میں برتا ہے۔ یہ بحث یہاں ضروری نہیں کہ تحریر کو گفتگو بنادینا ہر وقت کیا فنّی حُسن کاکام ہے؟ غالب کی تاویل ہے کہ مراسلے کو مکالمہ اس لیے بنایا کہ ہزاروں کوس دور سے بہ زبانِ قلم باتیں ہوجائیں۔ اسی کے ساتھ عشق وعاشقی کا روز مرّہ بھی وہ آزمالیتے ہیں کہ خط میں مکالمے کو شامل کرنے سے ہجر میں وصال کے مزے آجائیں گے۔ غالب کے اس دعوے میں نہ کوئی مبالغہ ہے اور نہ غیر ضروری طور پر اپنا دفاع۔ اس اَمر کو اردو نثر کی تاریخ غالب کی فتوحات سے ہی تعبیر کر چکی ہے۔

            غالب کے خطوط میں مکتوب الیہ اور مکتوب نگار کے درمیان تو بات چیت ہوتی ہی ہے لیکن دورانِ گفتگو وہ دوسرے متعلّقین کو بھی شامل کرلیتے ہیں۔ بعض خطوط میں محسوس ہوتا ہے کہ ایک حلقے کی سمائی ہوگئی ہے۔ کئی بار خط کسی اَور کو لکھا جا رہا ہے لیکن غالب گفتگو کسی دوسرے سے کررہے ہیں۔ چند خطوط اس طرح سے شروع ہوتے ہیں کہ جب تک مکتوب الیہ غالب کے سامنے آنہیں جائے، وہ یک قلم آگے نہیں بڑھیں گے۔ بار بار وہ مکتوب الیہ کی آمد پر استقبالیہ انداز میں اپنے خطوط کی ابتدا کرتے ہیں۔ تکنیک کی سطح پر زندگی سے بھرپور یہ ادا خطوط کی روایتی بوسیدگی سے فوری طور پر ہمیں الگ کر دیتی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے مکتوب الیہ کی غیر ضروری اور معمولی شخصیت بھی ہم سے علاحدہ ہوجاتی ہے اور ہم مکتوب نگار غالب کے اسلوب اور طرزِ ادا پر سَر دُھننے لگتے ہیں۔

            القاب وآداب خطوط نگاری میں غزل کی ردیف یا قافیے کے بہ طور بندھن بنے رہے۔ غالب کو جب غزل کی تنگ دامانی کا احساس تھا تو بھلا القاب وآداب کی روایتی زنجیروں میں وہ کتنے دنوں تک خود کو قید کرکے رکھ سکتے تھے۔ غالب کے چند خطوط میں القاب وآداب کی عدم موجود گی دیکھ کر یہ اعلان کر دینا کہ انھوں نے القاب وآداب کی روایت سے خود کو آزاد کر لیا تھا، صحیح نہیں۔ غالب کے خطوط کا ضخیم سرمایہ اس مفروضے کی نفی کرتا ہے۔ یہ سچّائی ہے کہ القاب وآداب کا انھوں نے اچھّا خاصا استعمال کیا۔ لیکن روایت سے چلی آرہی پونجی پر غالب قناعت کرلیتے تو پھر وہ غالب نہیں ہوتے۔ انھوں نے بنے بنائے اور صدیوں سے متعیّن ہو چکے القاب وآداب سے مقدور بھر گریز کیا۔ انھوں نے اپنے مخاطبین کے لیے خود سے بنائے ہوئے القاب استعمال کیے۔ جب پورا خط ایک نجی بیان ہے تو مخاطبت کے فقرے کیوں اُدھار لیے جائیں۔ اس لیے غالب نے طرح طرح کے القاب وآداب ایجاد کیے۔ جب جیسی ضرورت ہوئی، ویسا لفظ مخاطبت کے لیے منتخب کرلیا۔ غم کا موقع ہے تو دُکھ بھرا اور خوشی کی صورت میں فرحت بخش۔ جب مذاق کی طرف طبیعت مائل ہوئی تو ظریفانہ انداز سے بھی اپنے مکتوب الیہ کو یاد کرلیا۔ اس طرح مخاطبت میں بھی غالب نے ایک رنگارنگی اور نجی پن کو دل وجان سے قائم رکھا۔

            غالب کے مخاطبین میں اپنے زمانے کے امرا، رؤسا، اہالیانِ وقت سے لے کر دوٗر دراز تک پھیلے ہوئے ادیب وشاعر اور اُن کے شاگردسب شامل تھے۔ غالب بھلے دہلی میں مقیم ہیں لیکن اُن کے شاگرد پانی پت سے لاہور، بہار و بنگال تک پھیلے ہوئے تھے۔ بعض سے رسمی، کچھ ایک لوگوں سے بے تکلّفانہ اور چند اصحاب سے غرض مندانہ رشتہ بھی تھا۔ تعلّقات کی یہ وسعت اور شخصیت کے پھیلاو نے غالب کے خطوط کو عمومیت کی زنجیروں میں جکڑنے سے باز رکھا۔ غالب نے اپنے خطوں کواطّلاع نامہ اور اخبار بننے سے اس وجہ سے بچالیا کیوںکہ ایک ہی ساتھ مخاطبین سے انھوں نے اپنی شخصیت کے الگ الگ کرداروں سے معاملہ طے کرایا۔ اب کسی کو ہندستان کا سب سے بڑا اردو شاعر مطلوب ہے تو غالب حاضر ہیں۔ دوستوں پر جان نچھاور کرنے والا کسی کو چاہیے تو اس کے لیے ایک الگ غالب موجود ہیں۔ عزیزوں کا ماتم دار، بات بے بات ہنسی مذاق کی پھلجھڑیاں چھوڑنے ولا، شراب اور آم کا ازلی لالچی، موقع ملے تو ڈومنی کے پیچھے بھی بھاگ لے، دوسروں کی دولت پر تیز نظر رکھے، اپنی کمیوں کی ایک ایک پَرت کھول کر سب کے سامنے رکھ دے اور آپ اپنا تماشائی بھی بن جائے۔ سب طرح کے غالب اور اُن کے مخصوص مکتوب الیہ ان خطوط میں ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔

            معاملات اور زندگی کی گوناگوں کیفیات کو غالب نے ادبی اعتبار سے ایک معمولی صنف مکتوب نگاری میں کیسے قید کرلیا؟ غالب کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ لاکھ اپنی شخصیت کے الگ کردار تراشیں اور طرح طرح کے بھیس بدل کر سامنے آئیں، اُن کے اندر ایک ایسا شخص بیٹھا رہتا ہے جو کبھی اُن سے  علاحدہ نہیں ہو سکتا۔ شمیم حنفی اس کردار کو ’بوڑھے غالب‘ کے بہ طور پہچانتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت میں تجربہ کار اور زندگی کے سردوگرم احوال کو ہمّت کے ساتھ گزار لینے کی بات کا اضافہ کیا جانا چاہیے۔ یہ سامنے کی حقیقت ہے کہ غالب کے خطوط نصف صدی کی عمر کے بعد لکھے گئے۔ بڑھاپے کا یہ آغاز تو ہے لیکن اِن خطوط میں ایک عام شہری کی حیثیت سے غالب کی چَھٹ پٹاہٹ، بے بسی اور بے چارگی بہ تدریج نقطۂ عروج تک پہنچتی ہے تو وہ ۱۸۵۷ء کے بعد کا دور ہے، جب مالی اعتبار سے غالب چہار طرف سے لاچار اور بے یارو مدد گارہوگئے تھے۔

            خطوط ِغالب میں غالب صرف معیشت کی سطح پر نہیں ٹوٹتے بلکہ شکست وریخت کے اور بھی کئی منظرنامے ہیں۔ ایک بڑی سچّائی بڑھاپے کے ساتھ تیزی سے گِر رہی غالب کی صحت بھی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ہو جس نے اپنے کم سننے اور بہرے پن کا غالب کی طرح اشتہار کیا ہو یامذاق اڑایا ہو۔ جسم میں پھوڑے پُھنسیاں موجود ہیں تو درجنوں خطوط میں اِن کا تفصیل سے تذکرہ کیا جاتا ہے۔ ہاتھ میں رَعشہ ہے تو اس پر الگ سے غالب کا بیان ملاحظہ کیجیے۔ اس بے چارگی میں مکان کی خستہ حالی اور برسات کے عتابات اضافہ کیے دے رہے ہیں۔ ایک ایک کرکے عزیز، دوست اور شاگردوں کی جماعت غدر کے بعد بکھرتی چلی گئی۔ بہت سارے اپنی جان گنوا بیٹھے۔ سب نے مل کر غالب کو باہر اور اندر دونوں طرف سے تنہا کردیا۔ یہ ایسی تنہائی ہے جس میں وصل کی کوئی آس نہیں۔ حالات کے بدلنے کی کوئی توقّع نہیں اور اگر بدلیں بھی تو کھوئے چہرے اب کہاں سے لائے جائیں گے۔ پوری دلّی میں غالب خود کو ایک اکیلا تصوّر کرنے پر مجبور ہوئے۔

            اسی لیے غالب اپنی موت کا انتظار کرنے والی اکیلی، خائف اور نڈھال شخصیت کی طرح ہمارے سامنے آتے ہیں۔ لیکن ایک چنگیزی کا مزاج کتنا بدل سکتا تھا؟ اسی لیے شراب وگلاب کی دعوتوں اور ملازمین کے لیے متواتر قرض لینے کا ایک کُل وقتی انتظام یہاں موجود ہے۔ قرض دینے والوں کو یہ امید ہے کہ پنشن کا مقدمہ جیتنے کے بعد سب کچھ ادا کر دیا جائے گا لیکن غالب کو یہ فکر ستاتی ہے کہ ان قرضوں کا سود ماہ بہ ماہ دیا جانا ہے، اس کا انتظام کیسے ہوگا؟ غالب اپنی ذات کے اِن مسائل سے نبرد آزماتو ہیںہی لیکن اُن کے بعض عزیزوں اور یہاں تک کہ خاندانِ مغلیہ کے قرابت داروں پر جینے کے لیے جو آفت آئی ہوئی ہے، غالب اس سے بھی روز بہ روز زخمی اور نڈھال ہوتے جا رہے ہیں۔ غالب نے اپنی شاعری کو ایک جگہ ’شکست کی آواز‘ کہا۔ واقعتا وہ کیسے ٹوٹتے پھوٹتے ہیں یا ان کے یہاں بکھراو کا ایک غیر مختتم سلسلہ کیسے مضبوط ہوتا جارہا ہے، اس کی تفصیل غالب کے خطوط میں سب سے زیادہ ملتی ہے۔ اُن کے پاس ایسا حوصلہ ہے جس کی مدد سے وہ اپنے بکھراو کے اجزا لطف لے کر بیان میں شامل کرسکتے ہیں۔ ’لے، غالب کے ایک اور جوتی پڑی‘، ’ آپ اپنا تماشائی بن گیا ہوں‘، ’دیو نہیں، بھوت نہیں‘ جیسے اجزا چند لفظوں کا مجموعہ نہیں، زندگی کی شکستوں کا ایک محضر نامہ ہیں۔ یہ ایک ایسے آدمی کے بیانات ہیں جس کے مقدّر میں اب کسی بہار کی امید نہیں، جس کے خوابوں میں بھی ویرانی اور محرومی کی تعبیریں درج ہوں، وہی شخص بیان کا ایسا پُراثر اور ماورائی لہجہ ڈھونڈ سکتا ہے۔

            یہ سمجھ لینا کہ غالب اپنی بے چارگی میں ضمیر کو بھی کھونے کے درپے ہوگئے، صحیح نہیں ہے۔ جس شخص نے خود کو ’عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ‘ تصور کررکھا ہو، وہ اپنے خیمے اجڑنے کے باوجود طوفان کے ساتھ بھٹک جانے کے بجاے زمین میں گڑ کر اپنے وجود کو بچالینا بہتر تسلیم کرے گا۔ غالب اپنی انفرادیت اور انانیت کے اسیر رہے، اُس دور میں بھی، جب ذوقؔ کا طوطی بولتا تھا اور غالب کو کوئی سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔ غالب کی پوری زندگی اس کی شہادت دیتی ہے کہ اپنی کج ادائیوں پر ہی وہ سب سے زیادہ فریفتہ رہے اور انھیں نازتھا کہ حالات کی کس مپرسی کے باوجود انھوں نے اِس ٹیڑھے پن کو اپنی جان کا حصّہ بنائے رکھا۔ اسی لیے بھوکوں مررہے ہونے کے باوجود کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے گریز کیا۔ جس سے مانگا تو مانگنے کا انداز ایسا نازک کہ اگر اُس نے توجّہ نہ دی تو غالب خالی ہاتھ ہی رہ جائیں گے۔ بادشاہ اور امراے وقت سے بھی طلب کیا تو وہاں بھی غزل کی ایمائیت نشانِ راہ رہی۔ کلب علی خاں کے سامنے بھی دستِ سوال دراز کیا تو ظرافت کو اس طرح شامل رکھا کہ ایک علاحدہ لطف پیدا ہوجائے۔

            غالب نے لکھا کہ وباے عام میں انھوں نے مرنا گوارا نہیں کیا۔ کوئی شاگرد پتا پوچھتا ہے تو غالب بڑے طنطنے سے کہتے ہیں کہ اس شاہ جہاں آباد میں غالب اور قلعۂ معلّٰی کا پتا پوچھتے ہو؟ لفافے پر کسی نے تفصیلی پتا لکھ دیا تو اُس کی شامت آگئی۔ غالب اِسے ہتکِ عزّت سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خط نہیں محکمۂ مردم شماری کا کوئی صحیفہ ہے جسے انھیں بھیجا گیا ہے۔ غالب کا یہ اندازِ گفتار اُسی زمانے کا ہے جب وہ بے یارو مددگار، تنہا اور مسلسل شکست کا پیکر بنے ہوئے تھے۔ ظاہراً یہاں تضاد کی نسبت ہے۔ اصل میں غالب نے اپنی شخصیت کے وقار اور ضمیر کی آواز کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد سے خود کو کبھی الگ نہیں کیا۔ زمانہ اُن کے لیے اچھا ہوجائے یا بُرا رہے لیکن وہ اپنی اَنا کوثابت وسالم رکھنے کی جدّوجہد سے کوئی مختلف راستہ نہیں اپنا سکے۔ وہ شاید چاہتے بھی نہیں تھے۔

            غالب بار بار خود کو بڑا جنگ جوٗ اور مجاہد کہا کرتے تھے۔ وہ سپہہ گری اور اپنی نسل کی چنگیزیت پر اِتراتے رہتے تھے۔ مغلوں کے یہاں پشت درپشت کی منصب داری کو وہ اس عہد کی روایت کے مطابق تعظیم کا محور تصوّر کرتے تھے۔ بار بار وہ حکومتِ مغلیہ کا خود کو جذباتی بہی خواہ مانتے ہیں۔ اپنی حقیقت پسندی کے باوجود غالب میں اس حکمرانی کے زوال کے حوصلے کے ساتھ قبول کرنے کا یارا نہیں تھا۔ حالاں کہ وہ بہت پہلے سے اس بات کا یقین کر چکے تھے کہ مغلیہ حکومت اب دَمِ آخریں میں ہے۔ انگریزی حکومت کے اہالیان سے ربط قائم کرنے کا سلسلہ وہ ۱۸۵۷ء سے پہلے سے شروع کرچکے تھے۔ اس وقت قلعۂ معلّٰی میں کوئی طاقت ور حکمراں بھی کہاں تھا جو مغلیہ سلطنت کے بکھرے تارسمیٹ سکتا تھا۔ غالب یہ سب سمجھتے تھے لیکن وہ جس نسل سے تعلّق رکھتے تھے، اُس کے لیے یہی بہت تھا کہ لال قلعے میں خاندانِ مغلیہ کا ایک فرزند تو موجود ہے۔

            اگر ۱۸۵۷ء کے واقعات سے غالب کا صرف یہ رشتہ ہوتا کہ ان کی پنشن بند ہوگئی تو اُن کے خطوط میں وہ سوز اور ہیبت ناکی کہاں سے آتی؟ غالب کے لیے اس نسل کی آخری امید، موسم ِبہار کا آخری گلاب یعنی بہادرشاہ ظفر کی زمامِ حکومت کا اختتام ایک ایسی تہذیبی اور جذباتی تاراجی ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا تھا۔ غالب اَور بھی بوڑھے ہو چلے تھے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اس المیے کا کوئی مداوا نہیں ڈھونڈسکتے تھے۔ اس وجہ سے خطوطِ غالب میں غدر کے ساتھ ہندستان کے تہذیبی زوال کا جو آغاز ہوا، اس کی ایک ایک سانس، ایک ایک دھڑکن اپنی تمام جذباتی بے چارگی کے ساتھ موجود ہے۔ غالب نے زمانے کے غم کو اپنا ذاتی غم سمجھا۔ عمر اور حالات کے جبر نے غالب کے حصّے میں جو غم بخشے تھے، وہ پہلے ہی سے بہت تھے۔ اس لیے ۱۸۵۷ء سے اپنی موت تک غالب تڑپتے رہے۔ غدر نے ہندستان کے طبقۂ اشراف کو فوری طور پر جس خوف اور ہر اس میں پہنچا دیا تھا، خطوطِ غالب میں اس انتشار کی تفصیلی کہانیاں درج ہیں۔

            غالب کے خطوط میں زمانے کی ہیبت نا کی کی جو تصویریں موجود ہیں، ان میں سب سے زیادہ تفصیل ۱۸۵۷ء سے ۶۲۔ ۱۸۶۱ء تک کے خطوط میں ملتی ہے۔ غالب کا اپنا بھی بہت کچھ لُٹ گیا تھا۔ اُن کے بہت سارے رشتے دار مارے گئے تھے۔ کئی دوست اور ادبی رفیق قتل ہوئے۔ غالب معاشی مصلحت اندیشی کے سبب پہلی نظر میں ہندستانیوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ فارسی میں وہ ’دستنبو‘ غالباً اسی مقصد سے تیّار کرچکے تھے۔ لیکن ایسے گھروں کی عورتیں جن کے مَردوں کے سرپر کبھی تاج ہوا کرتے تھے، انھیں بھیک مانگنے پر مجبور دیکھنے پر غالب کا انسانی سوز مصلحت پسندی سے اوپر اُٹھ جاتا ہے۔ غالب اس موقعے سے خون کے آنسو رُلاتے ہیں۔ غالب کی شخصیت میں غدر نے ایک ایسا احساسِ زیاں ڈال دیا ہے جس نے ٹوٹے ہوئے دل کو اور بھی پارہ پارہ کر دیا۔

            اپنے خطوط میں غالب نے شہرِ دہلی کے اجڑنے کی کیفیات کا بھی گہرے درد وغم کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ غالب پیدا آگرے میں ہوئے لیکن ابتدائے عمر سے موت تک انھوں نے دہلی میں ہی حالات کے بہ دستور بگڑنے کے باوجود بودوباش اختیار کی۔ میر کی طرح غالب نے بھی دہلی سے ایک جذباتی رشتہ رکھا۔ دہلی کو وہ تہذیب وثقافت کے ایک ایسے مرکز کی طرح دیکھتے تھے جس کے وجود سے ہند مغل ثقافت کا تحفظ ہو سکتا تھا۔ اسی وجہ سے حالات کی کس مپرسی میں صرف غالب کی مفلوک الحالی استعارہ نہیں بنتی بلکہ ٹوٹتے ہوئے تارے کی طرح دہلی شہر غالب کے خطوط میں سب سے زیادہ صبر آزما فقروں کا قالب لے لیتا ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ ’یہ شہر نہیں، کیمپ ہے‘، ’دلّی شہرِ خموشاں ہے‘ اور ’دلّی میں صرف تین مسلمان بستے ہیں‘۔ یہ چھوٹے چھوٹے جملے صرف لفظوں کو جوڑ کر نہیں بنائے گئے ہیں۔ ان کے پیچھے قتل وخون، شکست وریخت، لٹنے اور تباہ ہوجانے کا ایک خوف ناک سلسلہ ہے۔ غالب بڑے ضبط کے ساتھ ملک کے اس لوٗٹ لیے جانے کی کہانی دہلی کے حوالے سے شامل کرکے اپنے خطوط کو ایک تاریخی دستاویز بنادیتے ہیں۔

            غالب کے شاگرد اور سوانح نگار الطاف حسین حالی نے انھیں ’’حیوانِ ظریف‘‘ کہا ہے۔ غالب کی شخصیت کے اس راز کو اُن کی شاعری میں شاید دس فی صد سے زیادہ تلاش نہیں کیا جا سکے لیکن غالب کے خطوط ایسا سرمایہ ہیں جن کی بنیاد میں اُن کا حسِ مزاح موجود ہے۔ غالب خوش ہوں یا اُداس، مقابل کی طرف داری میں کھڑے ہوں یا تنقید کی تیّاری ہو، میدان میں جیتنے کے لیے آئے ہوں یا خود سے ہار جانا چاہتے ہوں، ذاتی نقصان کا ذکر ہو یا قتل وخون کے سنّاٹے کی تفصیل مقصود ہو، شعر وادب کا کوئی دقیق مسئلہ ہو یا اپنی بیمار زندگی کا حال۔ کوئی لمحہ ایسا نہیں ملتا جب وہ ہنسنے ہنسانے سے الگ ہوئے ہوں۔ اپنی معیشت کے سارے اُلٹے زاویوں کو بھی انھوں نے اِسی ظرافت کے تار سے جوڑنے کی کوشش کی۔ غالب نے مشکل حالات میں ظرافت کو زندگی کرنے کے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو غالب کے ہنسنے ہنسانے میں پڑھنے والے کی آنکھ آخر کیسے نم ہوجاتی؟

            اردو نثر میں غالب وہ تنہا تجربہ پسند انسان ہیں جس نے ظرافت کو ایسی معنوی سنجیدگی عطا کی جس کا آخری سِراانسانی سوز سے جا ملتا ہے۔ خطوطِ غالب اپنے عہد کے زوال کی پُرتاثیر تفصیل اس وجہ سے بھی بن سکے ہیں کیوں کہ یہاں تاریخ، تہذیب اور عام انسانی کرداروں کو جوڑنے کے لیے ایک ظریفانہ تکنیک ایجاد کی گئی ہے۔ خطوطِ غالب کے بعد گذشتہ ڈیڑھ صدیوں میں اردو نے ایک بھی ایسا نثر نگار پیدا نہیں کیا جس کا دائرۂ عمل اتنا وسیع ہو اور جس کے اسلوب میں یہ قوت ہو کہ ہنسانے میں ہمیں رُلادے اور رُلانے میں ہنسا سکے۔ نہ ناول، نہ ڈرامہ اور نہ ہی افسانے میں ایسا کوئی کارنامہ انجام دیا گیا۔ علمی نثر تو یوں بھی ظرافت سے اچھّی خاصی چھوا چھوت رکھتی ہے۔

            اردو نثر کے تاریخی ارتقا پر بحث کرتے ہوئے اکثر ناقدین خطوطِ غالب کو جدید نثر کا نقطۂ آغاز کہتے رہے ہیں۔ بعض حضرات یہ فضیلت میر امّن کو عطا کرنا چاہتے ہیں۔ علی گڑھ تحریک کی اہمیت کو سمجھنے والے اردو کی نئی نثر کی ابتدا سرسیّدسے مانتے ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ پیچیدہ بن جاتا ہے کہ اردو کی پُرانی نثر کب جدید ہوئی اور کس شخصِ خاص کے کاندھے پر سوار ہو کر ایک نئی دنیا تک پہنچی۔ باغ وبہار داستان کی قدیم روایت سے منسلک ہوتے ہوئے بھی ایک نئی نثر کی داغ بیل ہے، اس سے کس کو انکار ہو سکتا ہے؟ غالب خود بھی میرامّن کے اسلوب کے قدرداں تھے اور اس کے مقابلے میں ’فسانۂ عجائب‘ کی پُرتکّلف زبان کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ غالب پر’ باغ وبہار‘ کی نثر کی پرچھائیں ضرور پڑی ہوگی۔ کم سے کم مقفّٰی عبارتیں لکھنے کے باوجود سادہ نثر نگاری کا شیوہ میرامّن سے ہی غالب نے سیکھا ہوگا۔

            سرسیّد کی دوکتابوں ’آثار الصنادید‘ اور ’آئینِ اکبری‘ کی تقریظ غالب نے لکھی۔ یہ واقعہ غدر سے پہلے کا ہے۔ اس وقت تک سرسیّدابھی تعلیم میں جدید کاری کو اپنا مشن نہیں بنا سکے تھے لیکن غالب نے اپنی تقریظ میں قدامت سے ہٹنے اور سائنسی فکر کو اپنا نے کا مشورہ دیا تھا۔ یورپ کی تازہ ہواؤں سے غالب شاید ہی واقف تھے لیکن نو جوانوں کو جدید کاری کی طرف راغب کرنے کا پروانہ وہ تقسیم کررہے تھے اس لیے سرسید نے اپنی اور اپنے رفیقوں کی تحریروں میں ایک نئی نثر تیار کی تو بلاشبہ اس کے پیچھے غالب کی شخصیت موجود ہے۔ سرسیّدکے عظیم کارنامے اور اردو ادب پر اُن کے وقیع اثرات اپنی جگہ لیکن ذہن کی جدّت اور آزاد اُڑان میں غالب کا مقابلہ اس زمانے میں کون کرسکتا ہے۔ سرسیّد کا اپنا لکھا کم نہیں ہے لیکن کیا ادبی صحیفے کے طور پر انھیں خطوطِ غالب، باغ وبہار یا آبِ حیات کے مقابل رکھا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیشہ نفی میں ہوگا۔

            غالب ایک ایسے مقام پر ایستادہ دکھائی دیتے ہیں جہاں سے بدلتے ہوئے ہندستان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے فکر وخیال اور اصولیات کو بنیاد مانتے ہوئے تغیّر وتبدّل کا ایک خواب دیکھا تھا۔ اس لیے کلامِ غالب اور ان کی خطوط نگاری میں نئے زمانے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ جدید کاری کسی ایک گوشے یا خیمے کی نہیں ہے۔ پورا نظام نئی طرح سے کھڑا ہوجائے، اسی نظریے سے ایک طوفان کی تیّاری ہے۔ ’باغ وبہار‘ اپنی بے مثال نثر کے باوجود جدید کاری کا عَلَم بردار اس لیے نہیں ہے کیوںکہ اس کے پیچھے میرامنؔ کی ایسی شخصیت ہے جس نے زبان اور محاورے کی جدید کاری سے واقفیت تو حاصل کر لی ہے لیکن جدیدیت کا مکمل تصوّر ابھی اس کے ذہن میں نہیں ہے۔ اسی لیے نئی نثر کی قیادت میرامّن کو نہیں مل سکتی تھی اور غالب فطری طور پر اس کے لیے موزوں ترین شخص تھے۔

            یہ صحیح ہے کہ غالب نے کسی تخلیقی صنف کا استعمال نہیں کیا۔ مکتوب نویسی ایک تکنیکی صنف مانی گئی ہے۔ عہدِ غالب تک اردو میں اس کی کچھ خاص اہمیت بھی نہیں تھی۔ اسی وجہ سے اس صنف کے قواعد و ضوابط بھی متعین نہیں ہوئے تھے۔ دائرۂ عمل تو اور بھی محدود تھا۔ آج یہ سوال نِرا تصوّر مانا جائے گا کہ غالب نے فکشن کو اپنے لیے وسیلۂ اظہار بنایا ہوتا اور ناول، افسانہ یاڈراما نگاری کی طرف رجوع ہوگئے ہوتے تو اردو نثر کی تاریخ میں اُن کا مقام کیا ہوتا۔ ہمارے لیے یہی سچّائی ہے کہ غالب نے اردو میں ذاتی نوعیت کے سواہزار خطوط لکھے۔ خطوط آج تک دو لوگوں کے بیچ آپسی بات چیت کا ایک ذریعہ ہیں۔ غالب نے بھی اپنے مکتوبات سے یہی کام لیا ہے۔ اس کے باوجود اردو کی ادبی تاریخ میں ان خطوں کو ایک بہترین ادبی سرمایہ مانا گیا۔

            غالب کے عہد تک اردو نثر اور شاعری دونوں میں موضوعات کی اہمیت خال خال رہی ہے۔ خطوط میں خیریت طلب کرنے اور اطلاع پہنچانے کے علاوہ اور کسی چیز کی شمولیت کیوں کر ہو؟ غالب نے یہ تجربہ کیا کہ خطوط ’کام کی باتوں‘ کے لیے لکھے جانے لگے۔ روایت اور رسمی بندھنوں کو غالب اپنے سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ حقیقی صورتِ حال اور اپنے زمانے کی سچّی تصوریروں کی پیش کش خطوط کے روایتی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کا اضافہ ہے۔ رفتہ رفتہ غالب کے یہ خطوط اپنے عہد کے دستاویزی ترجمان بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہیں تو خطوط لیکن کہیں مکالمہ نویسی ہے اور کہیں کردار نگاری۔ جذبات ومحاکات نگاری تو ہر قدم پر موجود ہے۔ ان خطوں میں قصّہ بھی ہے اور شاعری بھی۔ کبھی واقعہ آنکھوں کے سامنے ہوتا دکھائی دیتا ہے اور کبھی ماضی کا بیان نظر آتا ہے۔ یاد نگاری اور خاکہ نگاری سب اس سرمایے میں موجود ہیں۔ اس طرح یہ مکتوبات غالب کی بزم میں موجود اور ناموجود صنفوں کی ایک ایسی آماج گاہ ہیں جہاں ایک ساتھ درجنوں صنفوں کا  رَس نچوڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ تجربہ پسندی کسی ’’پُرانے ذہن‘‘ سے کبھی ممکن ہے؟

            غالب اپنی شاعری کے ساتھ ان خطوط میں بھی ایک ابھرتے ہوئے سماج کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ جاگیردارانہ نظام کا پروردہ ہونے کے باوجود وہ عوامی زبان کے ساتھ ساتھ عوامی کرداروں کی اہمیت بھی سمجھتے ہیں۔ حیاتِ انسانی کے بیان میں مقام ومرتبہ رکھنے والی شخصیات ضرور انھیں متوجّہ کرتی ہیں لیکن عام چہروں کی تصویریں اُتارنے میں وہ اِن خطوط میں زیادہ دل چسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ اشخاص اور معاملات پر جس بے تکلّفی اور  بے باکی سے وہ اپنی راے دیتے ہیں، یہ اُس دور کا چلن نہیں تھا۔ پُرانی قدروں اور علوم سے الگ نیاز مانہ کس طرف جائے گا، غالب کو اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تھا اور اپنے خطوط میں، خاص طور پر اپنے شاگردوں سے وہ انھی موضوعات پر محوِ گفتگو دکھائی دیتے ہیں۔

            خطوطِ غالب سے ایک نئے ادبی مزاج کی بنیاد پڑی۔ میرامّن زبان وبیان کی انقلاب آفرینیوں سے آگے نہیں بڑھ پائے۔ اُن کا قصّہ بھی پُرانا تھا اور مترجم کے ہاتھ پانو میں سیکڑوں بیڑیاں رہتی ہیں۔ غالب نے اپنے مخاطبین کو سائنسی مزاج عطا کرنے کی کوشش کی۔ اردو میں جدید کاری کے انقلاب آفریں اصول ونظریات سے اپنے خطوط کو انھوں نے ایک لافانی زندگی عطا کی۔ جدید کاری کی یہ ہَوا دنیا بھر میں اُٹھی ہوئی تھی۔ 1857ء کے بعد، انگریزوں کے مزید مستحکم ہونے نے اسے طوفان بنادیا۔ تعلیم کے محاذ پر سرسید الگ سے اِسے رفتار دے رہے تھے لیکن اردو نثر کی حد تک اس پتنگ کی ڈور اسداللہ خاں غالبؔ کے ہاتھ میں تھی۔ بیسویں صدی میں پریم چند نے فکشن کی جو ایک نئی زمین تیار کی، اس میں خطوطِ غالب سے لیا ہوا اصولی ذہن صاف محسوس ہوتا ہے۔ غالب کے بعد اب بھی کوئی ایسا اہم نثری اسلوب ہمیں دکھائی نہیں دیتا جس کی پُشت پر غالب کی جدّت اور اختراع کے کچھ نشانات موجود نہ ہوں۔ غالب کے خطوط سے اردو نثر ایک ایسے عہد میں پہنچ جاتی ہے جس میں نئی روشنی اور چمک دمک کے ساتھ علم وفن کی ہزار برکتیں موجود ہیں۔

٭٭٭

مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close