دیگر نثری اصناف

دبستان لکھنؤ و دلی کی شعری خصوصیات

آصف علی

دبستان لکھنؤ سے مراد شعر و ادب کا وه رنگ ہے جو لکھنؤ کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وه رنگ ,قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنؤ مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز دہلی اور دکن شہرت حاصل کر چکے تھے۔ لیکن جب دہلی کا  سہاگ لٹا۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو دہلی کے اہل علم و فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنؤ میں علم و  ادب کی محفلوں نے فروغ پایا۔

پس منظر

سال 1707ء اورنگزیب عالم گیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازه بکھر گیا۔ اُن کے جانشین تخت کے لئے خود لڑنے لگے۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید  کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں، جاٹوں اور نادرشاه افشار اور احمد شاه ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔  سال 1722ء میں بادشاه دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ه اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل  کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لئے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دولت کی فروانی ہوئی۔  صفدر جنگ اور شجاع الدولہ نے اودھ کی آمدنی میں مزید اضافہ کیا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوششیں کیں۔ آصف الدولہ نے مزید اس کام کو آگے بڑھایا۔ لیکن دوسری  طرف دہلی میں حالات مزید خراب ہوتے گئے۔ امن و سکون ختم ہو گیا۔ تو وہاں کے ادباءو شعراءنے دہلی چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اور بہت سے شاعر لکھنؤ میں جا کرآبا د ہوئے۔ جن میں میرتقی میر بھی شامل تھے۔  دولت کی فروانی، امن و امان اور سلطنت کے استحکام کی وجہ سے اودھ کے حکمران عیش و نشاط اور رنگ رلیوں کے دلداده ہوگئے۔ شجاع الدولہ کو عورتوں سے خصوصی  رغبت تھی جس کی بناء پر اس نے محل میں بے شمار عورتوں کو داخل کیا۔ حکمرانوں کی پیروی امراء نے بھی کی اور وه بھی اسی رنگ میں رنگتے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ
بازاری عورتیں ہر گلی کوچے میں پھیل گئیں۔ غازی الدین حیدر اور نصیر اور نصیر الدین حیدر نے آباءو اجداد کی پیروی جاری رکھی اور واجد علی شاه نے تو اس میدان میں  سب کو مات دے دی۔  سلاطین کی عیش پسندی اور پست مذاقی نے طوائف کو معاشرے کا اہم جز بنا دیا۔ طوائفوں کے کوٹھے تہذیب و معاشرت کے نمونے قرار پائے جہاں بچوں کو شائستگی اور آداب  محفل سکھانے کے لئے بھیجا جانےلگا۔

شعرو ادب پر اثرات

عیش و نشاط، امن و امان اور شان و شوکت کے اس ماحول میں فنون نے بہت ترقی کی۔ راگ رنگ اور رقص و سرور کے علاوه شعر و شاعری کو بھی بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ دہلی کی بدامنی اور انتشار پر اہل علم و فن اودھ اورخاص کر لکھنؤ میں اکٹھا ہونا شروع ہوگئے۔ یوں شاعری کا مرکز دہلی کی بجائے لکھنؤ میں قائم ہوا۔ دربار کی  سرپرستی نے شاعری کا ایک عام ماحول پیدا کر دیا۔ جس کی وجہ سے شعر و شاعری کا چرچا اتنا پھیلا کہ جابجا مشاعرے ہونے لگے۔ امرا ء، رؤساء اور عوام سب مشاعروں  کے دیوانے تھے۔ ابتداء میں شعرائے دہلی کے اثر کی وجہ سے زبان کا اثر نمایاں رہا لیکن، آہستہ آہستہ اس میں کمی آنے لگی۔ مصحفی اور انشاءکے عہد تک تو دہلی کی داخلیت اور جذبات نگاری اور لکھنؤ کی خارجیت اور رعایت لفظی ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ لکھنؤ کی اپنی خاص زبان اور لب و لہجہ بھی نمایاں ہوتا گیا۔ اور یوں ایک نئے دبستان کی بنیاد پڑی جس نے اردو ادب کی تاریخ میں دبستان لکھنؤ کے نام سے ایک مستقل باب کی حیثیت اختیار کر لی۔

 دبستان لکھنؤ

دلی اور لکھنؤ کے فرق اور امتیازات کو سب سے پہلے ناسخ نے متعین کیا اور ان خصوصیات کو اپنی شاعری میں ملحوظ خاطر رکھا شاید یہی وجہ ہے کہ ناسخ کو دبستان لکھنؤکا بانی کہا جاتا ہے ۔ سید وقار عظیم نے لکھنوی دبستان شعر کی مندرجہ ذیل خصوصیات قرار دی ہیں  تکلف اور تصنع، محسوسات کی سادگی اور واردات کی سچائی کی بجائے رنگینی اور فکر کی باریک بینی۔لفظی صنعت گری، دوراز کار استعارے اور تشبیہیں، سخت اور سنگلاخ زمینیں، پر شکوه الفاظ اور تراکیب، دل کی بجائے دماغ سے تخاطب، لب و لہجہ میں ہلکا پن جو بار بار بدمستی ہوسنا کی عریانی پر منتج ہوتا ہے.  ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی نے باعتبار زبان لکھنوی شاعری کی حسب ذیل امتیازی خصوصیات گنوائی ہیں:

عربی وفارسی الفاظ کاکثرت استعمال

قافیہ پیمائی:

طویل غزل سے غزل کو فائدے کے بجائے یہ نقصان ہوا کہ بھرتی کے اشعار غزل میں کثرت سے شامل ہونے لگے۔ شعرانے زور کلام دکھانے کے لئے لمبی ردیفیں اختیار کرنی شروع کر دیں جس سے اردو غزل میں غیر مستعمل قافیوں اور بے میل ردیفوں کا رواج شروع ہوا۔ معمولی قافیوں اور ردیفوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جا نے لگا۔  اس سے قافیہ پیمائی کا رواج شروع ہوا۔ ذیل میں بے میل ردیفوں سے قافیوں کی چند مثالیں درج ہیں۔

انتہائی لاغری سے جب نظرآیا نہ میں
ہنس کر کہنے لگے بستر کو جھاڑا چاہیے

فوج لڑکوں کی جڑے کےوں نہ تڑا تڑ پتھر
ایسے خبطی کو جو کھائے ہے کڑا کڑ پتھر

لگی غلیل سے ابرو کی، دل کے داغ کو چوٹ
پر ایسے ہی کہ لگے تڑ سے جیسے زا غ کو چوٹ

بات طویل غزلوں اور، بے میل ردیفوں اور قافیوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ شعرا لکھنو نے اپنی قادر الکلامی اور استادی کا ثبوت دینے کے لئے سنگلاخ زمینوں میں بھی طبع آزمائی کی.

طویل غزلیں:

لکھنوی شاعری کی ایک اور نمایاں بات طویل غزلیں ہیں۔ اگرچہ اس میں شبہ نہیں کہ ابتدا جرات مصحفی نے کی جو دلی دبستا ن سے تعلق رکھتے تھے۔ جو دلی کی تباہی کے بعد لکھنؤ جا بسے تھے۔ لیکن لکھنوی شعرا نے اس کو زیاده پھیلایا اور بڑھایا اور اکثر لکھنوی شعرا کے ہاں طویل غزلیں بلکہ دو غزلہ، اور سہ غزلہ کے نمونے ملتے ہیں۔اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے۔ کہ لکھنؤ کے اس دور میں پرگوئی اور بدیہہ گوئی کو فن قرار دے دیا گیا تھا۔ نیز لوگ قافیہ پیمائی کو عیب نہیں سمجھتے تھے۔ اس لئے  طویل غزلیں بھی لکھی جانے لگیں چنانچہ ٥٢۔٠٣١ اشعار پر مشتمل غزلیں تو اکثر ملتی ہیں۔ بلکہ بقول ڈاکٹر خواجہ زکریا بعض اوقات اس سے بھی زیاده طویل غزلیں بھی  لکھی جاتی تھیں۔

نسائیت:

ڈاکٹر ابوللیث صدیقی نے لکھنوی دبستان کی شاعری کاایک اہم عنصر نسائیت بتایا ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ہر زمامے ہر قصہ اور ہر زبان میں ,عورت, شاعری کا بڑا اہم  موضوع رہا ہے۔ لیکن لکھنؤ کی سوسائٹی میں عورت کو اہم مقام حاصل ہو گیا تھا۔ اس نے ادب پر بھی گہرا اثرا ڈالا۔ اگر یہ عورتیں پاک دامن اور عفت ماب ہوتیں تو سوسائٹی  اور ادب دونوں پر ان کا صحت مند اثر پڑتا لیکن یہ عورتیں بازاری تھیں۔ جو صرف نفس حیوانی کو انگیخت کرتی تھیں۔ جبکہ دوسری طرف عیش و عشرت اور فراغت نے مردوں کو مردانہ خصائل سے محروم کرکے ان کے مردانہ جذبات و خیالات کو کمزور کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مردوں کے جذبات خیالات اور زبان پر نسائیت غالب آگئی۔ چنانچہ ریختہ کے جواب میں ریختی تصنیف ہوئی۔ اس کا سہرا عام طور پر سعادت یا ر خان رنگینؔ کے سر باندھا جاتا ہے۔ رنگینؔ کے بعد انشا اور دوسرے شعرا نے بھی اسے پروان چڑھایا۔ ان شعرا کے ہاں ریختی کے جو نمونے ملتے ہیں ان میں عورتوں کے فاحشانہ جذبات کو ان کے خاص محاوروں میں جس طرح ان لوگوں نے نظم کیا ہے  وه لکھنؤ کی شاعری اور سوسائٹی کے دامن پر نہ مٹنے والا داغ بن کر ره گیا ہے۔

رعایت لفظی:

دبستان لکھنؤ کی ایک اور خصوصیت رعایت لفظی بتائی جاتی ہے اس پہلو کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا لکھتے ہیں۔
لکھنؤ کا معاشره خوش مزاج، مجلس آرا اور فارغ البال لوگوں کا معاشره تھا۔ مجلس زندگی کی جان, لفظی رعایتیں ہوتی ہیں۔ مجلوں میں مقبول وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں “  زبان پر پوری قدرت ہو اور لفظ کا لفظ سے تعلق، اور لفظ کا معنی سے رشتہ پوری طرح سمجھتے ہوں۔ لفظی رعایتیں محفل میں تفریح کا ذریعہ ہوتی ہیں، اور طنز کو گوارا بناتی ہیں۔
لکھنؤ میں لفظی رعایتوں کا از حد شوق تھا۔ خواص و عوام دونوں اس کے بہت شائق تھے۔ رؤسا اور امرا تک بندیاں کرنے والوں کو باقاعده ملازم رکھا کرتے تھے۔ ان ہی اسباب کی بنا پر لکھنوی شاعری میں رعایت لفظی کی بہتات ہے اور لفظی رعایتیں اکثر مفہو م پر غالب آجاتی ہیں۔ بلکہ بعض اوقات محض لفظی رعایت کو منظوم کرنے کے  لئے شعر کہا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر

ہندو پسر کے عشق کا کشتہ ہوں باغباں
لالہ کا پھول رکھنا امانت کی گور پر

غسل کرلے یہیں دریا میں نہانے کو نہ جا
مچھلیاں لپٹیں گی اے یار تیر ے بازوسے

وصل کی شب پلنگ کے اوپر
مثل چیتے کے وه مچلتے ہیں

قبر کے اوپر لگایا نیم کا اس نے درخت
بعد مرنے کے میری توقیر آدھی ره گئی

تشبیہ واستعارات میں پیچ دارباریکی

گرچہ تشبیہ اور استعارے کا استعمال ہر شاعر کرتا ہے لیکن یہ چیز اس وقت اچھی معلوم ہوتی ہے جب حد اعتدال کے اندر ہو۔ شعرا دلی کے ہاں بھی اس کا استعمال ہوا لیکن  لکھنؤ والوں نے اپنی رنگین مزاجی کی بدولت تشبیہوں کا خوب استعمال کیا اور اور ان میں بہت اضافہ کیا۔ محسن کاکوروی، میرانیس، نسیم، دبیر، نے پرکیف، عالمانہ اور  خوب صورت تشبیہیں برتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی شعرا صرف تشبیہ برائے تشبیہ بھی لے آئے ہیں جس سے کلام بے لطف اور بے مزه ہو جاتا ہے۔

سبزه ہے کنارے آب جو پر
یاخضر ہے مستعد وضو پر

محو تکبر فاختہ ہے
قد و قامت سر و دلربا ہے

کیاری ہر ایک اعتکاف میں ہے
ساقی کی مست آنکھ پہ دل ٹوٹ جاتے ہیں اور آب رواں طواف میں ہے

شیشے جھکے ہوئے ہیں پیالوں کے سامنے
آگیا وه شجر حسن نظر جب ہم کو
بوسے لے کے لب شریں کے چھوراے توڑے

مستی میں زلف یارکی جب لہر اگی
بوتل کا منہ ہمیں دہن مار ہوگیا

محاورات والفاظ کااستعمال

دبستان دلی سے وابستہ شاعر اور ادیبوں کی تحریروں میں روز مره بکثرت ملتا ہے۔ کیونکہ دبستان دلی کی بنیاد ہی سادگی اور سلاست پر ہے۔  اس کے برعکس دبستان لکھنؤ والے تکلف، تصنع، تشبیہ، استعارات سے عبارت کو سجاتے ہیں۔ جس سے اصل مقصد و مطلب قاری کی نگاه سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ مثال کے  طور پر نثر میں اس فرق کا بہترین نمونہ میر امن کی شہره آفاق تصنیف ‘‘باغ و بہار’’ اور رجب علی بیگ سرور کی ‘‘فسانہ عجائب’’ ہے۔ شاعری میں میر تقی میر اور آتش لکھنوی اس کی بہترین مثال ہیں۔ محاورے دونوں استعمال کرتے ہیں، دبستان لکھنؤ والے بھی اور دبستان دلی والے بھی۔ لیکن یہاں بھی ایک فرق بہت واضح ہے۔ وه یہ کہ ‘‘دبستان لکھنؤ’’ والے محاوروں کا استعمال غیر ضروری طور پر محض شوقیہ کرتے ہیں۔ جب کہ ‘‘دبستان دلی’’ والے صرف وہیں محاوره استعمال کرتے ہیں جہاں ضروری ہو

ابتذال اور عریانی

محبوب کےبیان میں عریانی وہرزه گوئی کی جو حدیں جرات وانشاءکےکلام سےشروع ہو ئی, ناسخ اوران کےشاگرد انہیں رکاکت وابتذال اورغلوکی حدتک لےگیے_لکھنوی شاعروں نےنہ صرف محبوب کےجسم کاایک ایک عضوگنناشروع کیابلکہ اسےچوٹی سےایڑی تک بےنقاب کرڈالا__ اس ساری بحث سے ہر گز یہ مقصود نہیں کہ لکھنوی شعراءکے ہاں اعلی درجے کی ایسی شاعری موجود نہیں جو ان کے سوز و گداز جذبات اور احساسات اور واردات قلبیہ کی ترجمان ہو۔ تمام نقادوں نے اس بات کی تائید کی ہے بلکہ عذلیب شادنی جنہوں نے لکھنوی شاعری کے خراب پہلوئوں کو تفصیل کے ساتھ نمایاں کرکے پیش کیا ہے وه بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شعرائے لکھنؤکے ہاں ایسے اشعار کی کمی نہیں جو پڑھنے والے کے دل پر گہرااثر چھوڑتے ہیں۔ ایسے نمونے ناسخؔ اور آتشؔ کے علاوه امانتؔ اور رندؔ وغیره  کے ہاں سب سے زیاده ملتے ہیں۔ یہاں اس بات کے ثبوت میں مختلف شعرا کے کلام سے کچھ مثالیں

رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے نہ کوئی
دل ہی دل میں اسے ہم یاد کیا کرتے ہیں

تاب سننے کی نہیں بہر خدا خاموش ہو
ٹکڑے ہوتا ہے جگر ناسخ تیری فریاد سے

آئے بھی لو گ بیٹھے بھی اٹھ بھی کھڑ ے ہوئے
میں جاہی ڈھونڈتا تیری محفل میں ره گیا

کسی نے مول نے پوچھا دل شکستہ کا
کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا

بتوں کے عشق میں کیا جی کو اضطراب دیا
یہ دل دیا کہ خدا نے مجھے عذاب دیا

دل نے شب فرقت میں کیا ساتھ دیا میرا
مونس اسے کہتے ہیں غم خوار اسے کہتے

آعندلیب مل کے کریں آه و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل

ہم اسیروں کو قفس میں بھی ذرا چین نہیں
روز دھڑکا ہے کہ اب کون رہا ہوتا ہے

حرم کو اس لئے اٹھ کر نہ بتکدے سے گئے
خدا کہے گا کہ جور بتاں اٹھا نہ سکا

مولاناعبدالسلام ندوی٫٫ شعرالہند،،میں لکھنؤکی شاعری کاجائزه لیتےہوئےرقم طرازہیں:

لکھنؤکےشعراکےدواوین سےعورتوں کےزیورات وپوشاک اورسامان آرائش کی مفصل فہرست مرتب کی جاسکتی ہے,زنانہ ا لفاظ ومحاورات کےغلبہ سےبھی اندازه ہوتاہےکہ معاشره کےاعصاب پرعورت کس طرح سوارتھی اوروه عورت کس مزاج وافتادطبع اوراخلاقی رتبہ کی حامل تھی, معاشره کےاسی ذوق اوراس شعری اورادبی رجحان کاسلسلہ وه ابتذال اورمعاملہ بندی سےملاتےہیں,نسائیت وفحش گو ئی پرریختی کی بنیادپڑی,جس میں پیشہ ورعورتوں
کےمستبذل جذبات بازاری وعامیانہ زبان میں ا داہوتے ہیں.بطورنمونہ چنداشعارملاحظہ ہوں:

دیکھناکیاحسن کی دولت کاکوٹھاتوڑکر
نکلی ہیں سرپرلیےدوبدرہ زرچھاتیاں

کس قدرصاف ہےتمہاراپیٹ
صاف آئینےکاہے سارا پیٹ

وه توآنچل سےدوپٹے کوچھپاتےہیں بہت
ہےیہ جوبن نکلی ہی پڑتی ہیں باہرچھاتیاں

سمجھوں نہ حباب آپ کےپستانوں کوکیوں کر
دریاشکم صاف ہے دریاکا بھنور ناف

کیاچکنےہیں,کیاصاف ہیں ,کیاگول سریں ہیں
بےجرم ہیں,نایاب ہیں,ان مول سریں ہیں

زانوں کی طرح صاف ہیں اوس حور کی ساقیں
آئینے کی رانیں ہیں تو بلور کی ساقیں

عربی و فارسی الفاظ کا کثرت سے استعمال

ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﻮﻡِ ﻋﺮﺑﯿﮧ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﮔﺮﺍﮞ ﭘﺎﯾﮧ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﺳﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻣﻘﺘﺪﺍﯾﺎﻥِ ﺍﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺸﻮﺍﻥِ ﻣﻠﺖ ﺗﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺬﺏ ﻭ ﻣﻌﺰﺯ ﺻﺤﺒﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﮑﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻭﺩﮪ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺑﯽ ﻭ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺻﺮﻑ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻗﺮﺍﺭ ﭘﺎ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﻋﻠﯽٰ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﮯ ﮨﻨﺪﻭﺅﮞ ﮐﺎ ﻋﺎﻡ ﺭﺟﺤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺍﺩﺏ ﻭ ﺍﻧﺸﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﯽ ﺍﻧﺸﺎﺋﯿﮟ ﮨﻨﺪﻭ ﻣﺼﻨﻔﻮﮞ ﮨﯽ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﺮﺗﺐ ﻭ ﻣﺪﻭﻥ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﭨﯿﮏ ﭼﻨﺪ ﺑﮩﺎﺭ ﻧﮯ ٫٫ﺑﮩﺎﺭِ ﻋﺠﻢ، ،ﮐﯽ ﺳﯽ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﻮ ﻣﺼﻄﻠﺤﺎﺕِ ﺯﺑﺎﻥِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﻋﺪﯾﻞ ﻭ ﻧﻈﯿﺮ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻣﺤﺎﻭﺭﮮ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﻋﺮﻭﺝ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﻓﺎﺋﻖ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺯﺍ ﻗﺘﯿﻞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﻣﺴﻠﻢ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻥ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺗﻮ ﻣﺬﺍﻗﺎً ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﮧ ‘ ﺑﻮﺋﮯ ﮐﺒﺎﺏ ﻣﺮﺍ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﺮﺩ ‘ ﻣﮕﺮ ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ، ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺷﻮﻕ، ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺎﻝِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﻧﮯ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺤﺾ ﺍﺳﯽ ﺷﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ۔ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺷﯿﺮﺍﺯ ﻭ ﺍﺻﻔﮩﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻃﮩﺮﺍﻥ ﻭ ﺁﺫﺭﺑﺎﺋﺠﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﭼﮭﺎﻧﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺩﺏِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﻋﻠﯽٰ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﻮ ﭘﮩﻮﻧﭻ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﮐﻤﺎﻝ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﺍﻥ ﭘﺮ ﺣﺴﺪ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺗﻌﺠﺐ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﻧﮯ ﺟﺎ ﺑﺠﺎ ﻣﺮﺯﺍ ﻗﺘﯿﻞ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮯ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺍﺻﻮﻝ ﭘﺮ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺯﻭﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺳﻮﺍ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﺳﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﻭﺩﮪ ﺳﮯ ﺑﻨﮕﺎﻟﮯ ﺗﮏ ﻟﻮﮒ ﻗﺘﯿﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻗﺘﯿﻞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﻃﯿﺶ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﭘﯿﺮﻭﺍﻥِ ﻗﺘﯿﻞ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ :

ﻓﯿﻀﮯ ﺍﺯ ﺻﺤﺒﺖِ ﻗﺘﯿﻠﻢ ﻧﯿﺴﺖ
ﺭﺷﮏ ﺑﺮ ﺷﮩﺮﺕِ ﻗﺘﯿﻠﻢ ﻧﯿﺴﺖ
ﻣﮕﺮ ﺁﻧﺎﻧﮑﮧ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻧﻨﺪ
ﮨﻢ ﺑﺮﯾﮟ ﺭﺍﺋﮯ ﻭ ﻋﮩﺪ ﻭ ﭘﯿﻤﺎﮞ ﺍﻧﺪ
ﮐﮧ ﺯ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺑﻮﺩ ﻗﺘﯿﻞ
ﮨﺮﮔﺰ ﺍﺯ ﺍﺻﻔﮩﺎﻥ ﻧﮧ ﺑﻮﺩ ﻗﺘﯿﻞ
ﻻﺟﺮﻡ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺭﺍ ﻧﮧ ﺳﺰﺩ
ﮔﻔﺘﮧ ﺍﺵ ﺍﺳﺘﻨﺎﺩ ﺭﺍ ﻧﮧ ﺳﺰﺩ
ﮐﮧ ﺍﯾﮟ ﺯﺑﺎﮞ ﺧﺎﺹِ ﺍﮨﻞِ ﺍﯾﺮﺍﮞ ﺍﺳﺖ
ﻣﺸﮑﻞ ﻣﺎ ﻭ ﺳﮩﻞِ ﺍﯾﺮﺍﮞ ﺍﺳﺖ
ﺳﺨﻦ ﺍﺳﺖ ﺁﺷﮑﺎﺭ ﻭ ﭘﻨﮩﺎﮞ ﻧﯿﺴﺖ
ﺩﮨﻠﯽ ﻭ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﺯ ﺍﯾﺮﺍﮞ ﻧﯿﺴﺖ

ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮐﮧ ﻗﺘﯿﻞ ﻧﮯ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻔﯿﺖ ﻭ ﮐﻤﺎﻝ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺻﺮﻑ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻋﺬﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﻗﺘﯿﻞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻋﻮﯼٰ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﻗﺎﺑﻞِ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺧﻮﺩ ﻗﺘﯿﻞ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮔﺬﺭﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﻗﺘﯿﻞ ﮨﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺧﻮﺩ ﻣﺮﺯﺍ ﻧﻮﺷﮧ ﻏﺎﻟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﺎ ﻣﺤﺎﻭﺭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﮨﻞِ ﻋﺠﻢ ﮐﮯ ﺛﺒﻮﺕ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻧﯽ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺎﺭ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﮐﮧ ﮐﻼﻡِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻭﺳﯿﻊ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻟﻔﻆ ﮐﮯ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺤﻞِ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺳﭻ ﭘﻮﭼﮭﯿﮯ ﺗﻮ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﯿﻞ ﮐﺎ ﭘﺎﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﻠﻨﺪ ﺗﮭﺎ۔ ﻏﺎﻟﺐ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﭼﮭﺎﻧﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻃﻠﺐِ ﻣﻌﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮔﺮﺩﺍﮞ ﺭﮨﮯ۔ ﻗﺘﯿﻞ ﮐﻮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﻼ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺗﻮﮞ ﺧﺎﮎِ ﭘﺎﮎِ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮﯾﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﭘﮭﺮﮮ ﺗﮭﮯ۔

ﺑﮩﺮ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﯽ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﻗﺘﯿﻞ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻼ ﻓﺎﺋﻖ ﻧﮯ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺁﮔﺮﮮ ﺳﮯ ﺁ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕِ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺩﺏ ﻭ ﺍﻧﺸﺎﺋﮯ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻧﻈﻢ ﻭ ﻧﺜﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻧﻈﯿﺮ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﮐﯿﮟ۔ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮔﻮ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻥ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﺬﺭﮮ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﺑﺎﻥِ ﻓﺮﺱ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﻭ ﺿﻮﺍﺑﻂ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺻﺮﻑ ﻭ ﻧﺤﻮ ﮐﮯ ﻣﺪﻭﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮩﻞ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﺍ۔ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺳﭻ ﭘﻮﭼﮭﯿﮯ ﺗﻮ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﻭ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﻋﺎﻡ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﺭﮨﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺎﺏِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﻠﯿﻎ ﻭ ﺩﻗﯿﻖ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﻮ ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺼﺎﺏ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺨﺖ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮨﮯ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﯼ ﻓﺼﯿﺢ ﺯﺑﺎﻥ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﻓﺮﯾﻨﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﻧﺼﺎﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﻓﯽ ﻭ ﻓﯿﻀﯽ ﺍﻭﺭ ﻇﮩﻮﺭﯼ ﻭ ﻧﻌﻤﺖ ﺧﺎﻥ ﻋﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﺎﺯﮎ ﺧﯿﺎﻝ ﺷﻌﺮﺍ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﺩﺍﺧﻞِ ﺩﺭﺱ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﻼ ﻃﻐﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﻨﻒِ ﭘﻨﺞ ﺭﻗﻌﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻗﺖ ﭘﺴﻨﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﺍﻧﯽ ﺍﺱ ﺁﺧﺮ ﻋﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﺭﺳﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﯽ ﺷﺮﺣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﯽ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺣﯿﺮﺕ ﺧﯿﺰ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﻌﺮﺍ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﮨﯽ ﮐﮯ ﺣﻠﻘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺷﺎﻋﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺷﻌﺮﺍ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﯽ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﮔﺬﺷﺘﮧ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﺮﻗﯽ ﻭ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﺎ ﮈﻧﮑﺎ ﺑﺞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺑﭽﮧ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮔﻮ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺎﮨﻞ ﺭﻧﮉﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺯﺍﺭﯼ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﻏﺰﻟﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﻧﮉ ﺗﮏ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﻧﻘﻠﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻗﺼﺒﺎﺕِ ﺍﻭﺩﮪ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﺮﻓﺎ ﮐﺎ ﻣﮩﺬﺏ ﻣﺸﻐﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺫﺭﯾﻌۂ ﻣﻌﺎﺵ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﭘﮍﮬﺎﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﮯ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﺪﺭﺱ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﮮ ﻣﺎﺭﮮ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﺍﻧﯽ ﭘﺮ ﺧﻮﺩ ﺍﮨﻞِ ﻋﺠﻢ ﺑﮭﯽ ﻋﺶ ﻋﺶ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﻟﺐ ﻭ ﻟﮩﺠﮧ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﻭﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﺷﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻭ ﺗﺪﻗﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺍﮨﻞِ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﻻﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﻟﮑﮭﻨﺆ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﯽ ﺍﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﮩﻼ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﺮﮐﯿﺒﯿﮟ، ﺑﻨﺪﺷﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﺎﻓﺘﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﺍﺗﻨﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺳﮑﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﺱ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﻣﻌﯿﺎﺭِ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﭼﯿﺰ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﮭﯽ۔ ﺧﻮﺩ ﺩﮨﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺎﻥِ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﻠﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯ ﺻﺮﻑ ﯾﮩﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ۔
ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻨﺪﻭ ﺑﮭﯽ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﻮﺩ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﯾﮧ ﺍﻣﺮ ﺩﻭﻟﺖِ ﻣﻐﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﻋﮩﺪ ﺳﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺑﻌﺾ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﻭ ﻣﺴﺘﻨﺪ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮔﻮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﻮ ﭘﮩﻧﭻ ﮔﯿﺎ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﺎﮐﻤﺎﻝ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻥ ﮨﻨﺪﻭ ﺳﻮﺍﺩِ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﺎﯾﺴﺘﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﭘﻨﮉﺗﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻌﻠﯿﻢِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﻻﺯﻣﯽ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﯽ ﮐﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﭘﻨﮉﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻣﺎﺩﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﮨﯽ ﺍﺭﺩﻭ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﻓﺮﻕ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﺎﯾﺴﺘﮫ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﻣﺘﻮﻃﻦ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﺎﺷﺎ ﺭﮨﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﮐﺎﯾﺴﺘﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﮒ ﻭ ﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺳﺮﺍﯾﺖ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺑﮯ ﺍﻋﺘﺪﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺭﺑﻄﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﺎﻭﺭﺍﺕِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮨﻨﺪﻭﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﯾﺴﺘﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﻀﺤﮑﮧ ﺍﮌﺍﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﻀﺤﮑﮧ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻋﻠﻤﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﺝ ﮐﻞ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺎ ﻭ ﺑﮯ ﺟﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺩﺍﻥ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻠﻤﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻟﮑﮭﻨﺆ ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺻﺪﮨﺎ ﻧﺜﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻋﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﺸﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ۔ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺷﺮﻓﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺷﻌﺎﺭ ﻭ ﻭﺛﺎﺭ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩﯾﮑﮧ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﻣﺴﻨﺪ ﭘﺮ ﺍﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﻗﺎﺑﺾ ﻭ ﻣﺘﺼﺮﻑ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﮩﺬﺏ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﭘﺮ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﺎ ﺳﮑﮧ ﺟﻤﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻡ ﺧﯿﺎﻝ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﻭ ﻣﮑﺎﺗﺐ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﺼﯿﻞِ ﻣﻌﺎﺵ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻐﯿﺮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﭘﮍﮬﮯ ﻣﮩﺬﺏ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﻌﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥِ ﮐﺎﻣﻞ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﻧﮕﻠﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺏ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻣﺪﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﻐﯿﺮ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﯿﮑﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ۔ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ، ﺍﭨﮭﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ، ﭘﮩﻨﻨﮯ ﺍﻭﮌﮬﻨﮯ، ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﺑﻮﻟﻨﮯ، ﻏﺮﺽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺳﻠﻮﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻭﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺑﻐﯿﺮ ﻓﺮﻧﭻ ﺯﺑﺎﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﮯ ﺷﺎﺋﺴﺘﮧ ﺑﯿﺒﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﺣﺎﻝ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﺌﯽ، ﺧﻂ ﻭ ﮐﺘﺎﺑﺖ ﺳﮯ ﮔﺌﯽ، ﻣﮕﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﻌﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﭘﺎﺋﮯ ﻧﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﯿﻘﮧ ﺁ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﻣﭩﯿﺎ ﺑﺮﺝ ‏( ﮐﻠﮑﺘﮧ ‏) ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺍﻟﻘﺴﻤﺖ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭِ ﺍﻭﺩﮪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮒ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﮑﻮﻧﺖ ﭘﺬﯾﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﻟﮑﮭﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮ۔ ﺩﻓﺘﺮ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﮨﺎ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮔﻮ ﺷﺎﻋﺮ ﺗﮭﮯ۔ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺗﮏ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﻌﺮ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮧ ﺑﭽﮧ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺅﮞ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺎﯾﺴﺘﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮨﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﻭ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻀﺤﮑﮧ ﺍﮌﺍﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﻧﮉ ﺗﮏ ﺍُﺳﯽ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺁﻣﯿﺰ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﻧﻘﻠﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺍﺭﺩﻭ ﺩﺍﻧﯽ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺤﻘﻖِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺰﻡِ ﺳﺨﻦ ﮐﮯ ﯾﺎﺩ ﺩﻻﻧﮯ ﮐﻮ ﭘﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯿﺎﺏ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺳﻦ ﺭﺳﯿﺪﮦ ﮨﻨﺪﻭﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺍﺳﮑﺎﻟﺮ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﺳﻨﺪﯾﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺍﺟﮧ ﺩﺭﮔﺎ ﭘﺮﺷﺎﺩ ﺻﺎﺣﺐ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮐﻤﺎﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺑﺪﻝ ﮔﯿﺎ۔ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ۔ ﺁﺏ ﻭ ﮨﻮﺍ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺩﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺩﺍﺩ ﺩﯾﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻡ ﺧﻮﺭﺩﮦ ﻭﺭﻕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﯿﮟ

دبستان لکھنو کی نمائندگی

آتش و ناسخ کی غزلیں، پنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی گلزار نسیم، امانت لکھنوی کا واسوخت اور رجب علی بیگ سرور کی داستان فسانہ عجائب لکھنوی دبستان شعر وادب کی نمائنده تخلیقات ہیں۔

ذیل میں مشکل ردیف و قافیہ کے نمونے

پرتو سے چاندنی کے ہے صحن باغ ٹھنڈا
پھولوں کی سیج پر آ،کر دے چراغ ٹھنڈا
ہوا پیدا یہ دور دل سے کوه قاف کا جوڑا
کہ واں پریوں نے اک قصہ مرے اوصاف کا جوڑا
نہ لگی مجھ کو جب شوخ طرح دار کی گیند
اس نے محرم کو سنبھال اور ہی تیار کی گیند
کیوں شہر چھوڑ عابد غار جبل میں بیٹھا
تو ڈھونڈتا ہے جس کو ہے وه بغل میں بیٹھا
رہا ہے ہوش کچھ باقی اسے بھی اب نبیڑے جا
یہی آہنگ اے مطرب پیا پے اور چھیڑے جا
جبل میں بیٹھا
محل میں بیٹھا
نبیڑے جا
چھیڑے جا
باغ ٹھنڈا
چراغ ٹھنڈا
کوه قاف کا جوڑا
اوصاف کا جوڑا
وغیره

دبستان دہلی کی خصوصیات

فارسی آمیز زبان

دبستا ن دہلی کے شعرا کے ہاں فارسیت کا بہت غلبہ تھا کیونکہ شعرائے دہلی فارسی کی شعری روایت سے متاثر تھے اور ان پر فارسی شعراءکا گہرا اثر تھا۔ ایران سے جو شعرا آتے تھے ان میں سے اکثر یہاں ہی ره جاتے تھے۔ چنانچہ، خسرو، حسن، عرفی، نظیری، طالب، صائب اور بیدل وغیره مختلف ادوار میں یہاں رہے۔ اس کے علاوه یہاںفارسی, شعراکی زبا ن تھی۔ نیز یہاں کے شعرا اردو اور فارسی زبانوں میں دسترس رکھتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ فارسی اسالیب و موضوعات وغیر ه دہلی کے دبستان شاعری میں شامل ہو گئے۔ اس طرح بہت سے شعرا نے فارسی شعراءسعدی، وحافظ کا ترجمہ کیا۔ اور خزانہ اردو کو مالا مال کیا۔ اس طرح دبستان دہلی کی شاعری میں فارسیت کا غلبہ ہے۔

جذبات عشق کا اظہار 

دبستان دہلی کے شعراءکے ہاں جذبات و احساسات کے اظہار پر زیاده زور ہے۔ دبستان دہلی کے شعراءنے عشق کے جذبے کو اولیت دی۔ بقول ڈاکٹر نور الحسن شعرائے دہلی کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ ان کا اسلوب بیان اور طرز ادا خوب تر ہو بلکہ ان کی کوشش تھی کہ شاعری میں جذبات و احساس کا اظہار ہو جائے۔ اس لئے بعض اوقات تو  یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا شاعر کو عشق سے عشق ہو گیا ہے۔ دہلی کے کچھ شعراءعشق مجازی سے گزر کر عشق حقیقی سے سرشار ہوئے۔ ان لوگوں نے الله تعالٰیٰ سے لو  لگائی اور فیضان عشق کی بدولت ان میں ایسی بصیرت پیدا ہوئی کہ وه تمام بنی نوع انسان سے محبت کرنے لگے۔ جبکہ کچھ لوگ عشق مجازی کی منزل پر رک گئے۔ چنانچہ  ان کی شاعر ی میں محبت کا سوز اور تڑ پ موجود ہے۔ جبکہ کچھ لوگ نفس پر قابو نہ پا سکے اور وه ابولہوسی میں مبتلا ہو کر ره گئے۔ چنانچہ دہلی میں عشق کے یہ تینوں  مدارج موجود ہیں۔مثلاً درد جیسے شاعروں نے صوفی شاعری کی اور عشق حقیقی کو اپنی شاعر ی کا موضوع بنایا۔

قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راه لے
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

جب وه جمال دلفروز صورت مہر نیم روز
آپ ہی ہو نظاره سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں

عشق مجازی

عشق کا دوسرا انداز جو دہلی میں بہت مقبول ہوا اس میں عشق حقیقی کے ساتھ ساتھ عشق مجازی کے جذبات بھی شامل ہوگئے۔ یہ رنگ میرتقی میر نے بہت خوبی سے نبھایا۔ ان کے جذبہ عشق میں وه خلوص اور گہرائی تھی جس نے ان کی شاعری کوحیات جاوداں عطا کی۔ عشق کا یہ تیکھا انداز دبستان دہلی سے مخصوص ہے۔ عشق مجازی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔ جن میں دہلی کے تمام شعرا نے بڑی خوب صورتی سے ان جذبات کو شاعری کا روپ دیا ہے۔

پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے
یہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے
لوگ کہتے ہیں عاشقی جس کو
میں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے
پھر کے جو وه شوخ نظر کر گیا
تیرے کچھ دل میں گزر کر گیا

حزن و یاس

دبستان دہلی کی شاعری کی ایک اور نمایاں خاصیت رنج و الم اور حزن و یاس کا بیان ہے۔ دبستان دہلی کی شاعری کا اگر بحیثیت مجموعی جائزه لیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ دبستان دہلی کی شاعری میں یاس و ناامیدی کے جذبات بکثرت موجود ہیں۔ شاعرخواه کسی موضوع پر بات کرے رنج و الم کا ذکرضرور آجاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس سارے دور میں کسی کو اطمینان و سکون نصیب نہ تھا۔ زندگی ایک خواب پریشاں بن کر ره گئی تھی۔ ہر طرف نفسانفسی کا عالم تھا۔ کسی شے کو ثبات نہ تھا۔ ان حالات کا شاعری پر بھی گہرا عکس نظرآتا ہے۔ خارج میں تباہی و بربادی پھیلی ہوئی تھی اور تباہی و بربادی کے تاریک سائے شاعری میں بھی راه پاتے ہیں۔ چنانچہ فنا کا احساس بہت تیز ہے۔ اس کے ساتھ اجڑے ہوئے شہر، لٹے ہوئے نگر اور ویران گزر گاہیں جا بجا موجود ہیں۔ خصوصاً میر و سودا کے دور میں زندگی کی ناپائیداری کا احساس بہت شدت سے اظہار کی راه پاتا ہے۔ چنانچہ حزن و یاس کے چند شعر ملاحظہ ہوں:

کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
دل کی ویرانی کا کیا مذکور
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن
جب آنکھ گل کی کھلی تو موسم تھا خزاں کا
دل گنوانا تھا اس طرح قائم
کیا کیا تو نے ہائے خانہ خراب
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

اس حزن و یاس کی فضاءکے بارے میں نیاز فتح پوری لکھتے ہیں کہ:

“ ظاہر ہے دہلی کی شاعری یک سر جذبات کی زبان و گفتگو ہے اور جذبات بھی وہی ہیں جن کا تعلق زیاده تر حرماں و مہجوری و ناکامی سے ہے۔”

تصوف

واردات قلبی کے اظہار کے بعد دبستان دہلی کے شعراءکا دوسرا محبوب ترین موضوع تصوف ہے۔ چونکہ ابتداءمیں اردو شاعری پر فارسی شاعری کی شعری روایت کا بہت زیاده غلبہ رہا ہے جس کی وجہ سے اردو شعراءنے غیرشعوری طور پر فارسی شاعری کے اسالیب، سانچے، اور موضوعات قبول کر لئے۔ دوسری طرف اس موضوع کو اسلئے بھی مقبولیت ملی کہ کہ تصوف میں بھی قناعت، صبر و توکل اور نفی ذات کے نظریات نے زیاده زور پکڑا کیونکہ اس زمانے کے حالات ہی ایسے تھے جن کی بناءپر
لوگ ترک دنیا کی طرف مائل ہو رہتے تھے۔ اس زمانے میں یہ خیال عام تھا کہ :

تصوف برائے شعر گفتن خوب است ان میں کچھ تو صوفی شعراءتھے لیکن زیاده تر شعراءنے محض رسمی طور پر تصوف کے مضامین کو نظم کیا۔ چنانچہ ذوق اور غالب کے زمانے تک تقریباً ہر شاعر کے کلاممیں تصوف کے مضامین نظرآتے ہیں۔ تصوف کی مقبولیت کا دوسرا سبب وه تصورات و اقدار تھے جو ہندوستان کی فضا میں رچے بسے ہوئے تھے۔ جن کی بدولت انہوں نے
تصوف کو موضوع بنایا۔

مسافر اٹھ تجھے چلنا ہے جانب منزل
بجے ہیں کوچ کا ہر دم نقاره شاه حاتم

غافل قدم کو اپنے رکھیو سنبھال کر یاں
ہر سنگ راه گزر کا دکاں شیشہ گرکا ہے
ہے جلوه گاه تیرا، کیا غیب کیا شہادت
یاں بھی شہود تیرا، واں بھی شہود تیرا
اس ہستی خراب سے کیا کام تھا ہمیں
اے نشہ ظہور یہ تیری ترنگ تھی
سرسر ی تم جہاں سے گزرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
اس قدر ساده و پرکار کہیں دیکھا ہے
بے خود اتنا نمودار کہیں دیکھا ہے
اسے کو ن دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وه یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
راز پوشیده پوچھے کس سے
بے خبر ہے، جو باخبر ہے

رمزیت اور اشاریت

تصوف کی بدولت اردو شاعری میں بڑی وسعت پیدا ہوئی چنانچہ بقول ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی :
“ دہلی میں تصوف کی تعلیم اور درویشی کی روایت نے خیالات میں بلندی اور گہرائی پیدا کی اور اسلوب میں متانت و سنجیدگی کو برقرار رکھا۔ تصوف کے روایات نے شاعری کو ایک اخلاقی لب و لہجہ دیا اور ابتذال سے دور رکھا۔ ”

مسائل تصوف نے اردو غزل کو رمز و کنایہ کی زبان دی، پیر مغاں، گل، بلبل، چمن، شمع، پروانہ، مےکده، اسی طرح کی اور بہت سی علامتیں تصوف کے راستے اردو شاعری میں داخل ہوئیں۔ تصوف نے اردو شاعری کو فکری پہلو بھی دیا اور استغنا کا درس دے کر دربارداری سے الگ رکھا۔ مزاجوں میں خودداری اور بے نیازی پیدا کی۔ تصوف کی بدولت اردو شاعری میں جو رمزیت اور اشاریت آئی اس سے شعرا نے بہت فائده اٹھایا اور چند لفظوں میں معنی کی دنیائیں آباد کیں۔ ذیل کے اشعار دیکھئے کہ پردوں

میں کتنے جہاں آباد دکھائی دیتے ہیں۔
ساقی ہے اک تبسم گل، فرصت بہار
ظالم بھرے ہے جام تو جلدی سے بھر کہیں
دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے کو گہر ہونے تک
وه باده و شبانہ کی سرمستیاں کہاں
اٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی

داخلیت

دبستان دہلی کی شاعری کا ایک اور نمایاں پہلو داخلیت ہے۔ داخلیت سے مراد یہ ہے کہ شاعر باہر کی دنیا سے غرض نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے دل کی واردات کا اظہار کرتا ہے۔ اگر باہر کی دنیا کے متعلق کچھ کہتا ہے تو اُسے بھی شدید داخلیت میں ڈبو کر پیش کرتا ہے۔ یہ داخلیت دہلی کے ہر شاعر کے یہاں ملتی ہے۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیں کہ شعرائے دہلی کے ہاں خارجیت بالکل نہیں ہے۔ خارجیت بھی ہے۔ لیکن داخلیت میں واردات قلبی یعنی عشق و محبت کے مضامین اور ان مصائب کا بیان شعرائے دہلی نے نہایت
خوش اسلوبی سے کیاہے۔

پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزه پایا
درد کی دوا پائی درد لا دوا پایا

واقعیت و صداقت

دبستان دہلی کی ایک خاصیت واقعیت و صداقت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان شعرا کے ہاں مبالغہ وغیره کم ہے۔ ان شعراءنے مبالغہ سے زیاده کام نہیں لیا اگرچہ مبالغہ کا استعمال شاعری میں برا نہیں ہے لیکن جس کسی چیز کا استعمال حد سے تجاوز کر جائے تو پھر اُسے مناسب و موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ اسی طرح حد سے زیاده مبالغہ شاعری کو مضحکہ خیز بنا دیتا ہے۔ شعراےدہلی کے ہاں اعتدال پایا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ صداقت کے اظہار کے لئے پر تکلف زبان کو بھی موزوں سمجھا جاتا ہے۔

ہر گھڑی کان میں و ه کہتا ہے
کوئی اس بات سے آگاه نہ ہو

سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہب عشق اختیار کیا

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
لڑتےہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے

تم میر ے پاس ہوتے گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

سادگی

شعرائے دہلی کے ہاں زبان میں بھی سادگی، صفائی اور شستگی پائی جاتی ہے۔ شعرائے دہلی نے جس طرح مضامین میں واقعیت و صداقت کو مدنظر رکھا ہے۔ اسی طرح زبان بھی ساده اور عام فہم استعمال کی ہے۔ اگرچہ ان شعرا نے صنعتوں کا استعمال کیا ہے لیکن وه صنعت برائے صنعت کے لئے نہیں ہے۔ اس کی بجائے ان شعراءنے معنوی حسن کی طرف زیاده توجہ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں تشبیہ اور استعارے کا استعمال حد سے آگے نہیں بڑھتا۔

میراُن نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے
آن میں کچھ ہے آن میں کچھ

اختصار

شعرائے دہلی کے کلام میں جہاں زبان میں سلاست و روانی کا عنصر نمایاں ہے وہاں اختصار بھی ہے۔ اس دور میں دوسری اصناف کے مقابلے میں غزل سب سے زیاده نمایاں رہی ہے۔ اور غزل کی شاعری اختصار کی متقاضی ہوتی ہے۔ اس میں نظم کی طرح تفصیل نہیں ہوتی بلکہ بات اشاروں کنایوں میں کی جاتی ہے۔ اس لئے ان شعراءکے ہاں اختصار ملتا ہے۔ نیز غزل کا مخصوص ایمائی رنگ بھی موجود ہے۔ یہاں کے شعراءاپنے دلی جذبات و احساسات کو جو ں کا توں بڑی فنکاری سے پردے ہی پردے میں پیش کر
دیتے ہیں۔ اسی با ت کا ذکر کرتے ہوئے محمد حسن آزاد لکھتے ہیں کہ : ان بزرگوں کے کلام میں تکلف نہیں جو کچھ سامنے آنکھوں کے دیکھتے ہیں اور اس سے خیالات دل پر گزرتے ہیں وہی زبان سے کہہ دیتے ہیں۔ اس واسطے اشعار صاف اور
بے تکلف ہیں۔ ”

ہم نشیں ذکر یار کر کچھ آج
اس حکایت سے جی بہلتا ہے

شائد اسی کا نام محبت ہے شیفتہ
اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

دل مجھے اس گلی میں لے جا کر
اور بھی خاک میں ملا لایا

بے وفائی پہ اس کی دل مت جا
ایسی باتیں ہزار ہوتی ہیں

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل خواب ِ عد م میں شب ہجراں ہوں گے

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تیری عادت ہی سہی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close