دیگر نثری اصناف

دبستان لکھنؤ کا ایک بھولا بسرا شاعر مہندر ناتھ کول یعنی صدف لکھنوی

ڈاکٹر عمیر منظر
ایک ایسے ماحول میں جبکہ ہر طرف نفرت و عداوت کی گرم بازاری ہو ۔ایک ایسے دور میں جبکہ عام انسانی معاشرہ سیاست زدگی کا شکار ہو۔ایک ایسے زمانے میں جبکہ حقیقت کے بجائے وعدوں کی دنیا آباد کی جارہی ہو ،لوگ صرف خوش آیند مستقبل پر زندہ ہو ں،کسے بڑے ستم کا پیش خیمہ نہ سہی مگر کرب و اذیت کی ایسی صورت حال ہے جس میں ہر شہری گرفتار ہے ۔یہاں شعور کی وہی رو انسانی آبادی کو کسی بڑے المیے سے بچا سکتی ہے جس کی آبیاری میں اد ب و شعر سے خاطر خواہ استفادہ کیا گیا ہو ۔ان چیزوں کا یاد آناکوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ ایک خوش گوار احساس ہے جس کی صورت غزلیات صدف کے مطالعہ سے پیدا ہوئی ہے ۔
یا د کی یہ صورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ یہاں انسانی تجربوں کا ایک مہذب شعور کارفرما ہے ۔ مہند رناتھ کول صدف لکھنوی(۱۹۱۳۔۱۹۸۳) نے زندگی کے ان تجربوں کو شاعری کے پیکر میں ڈھالا ہے جس کا غالب پہلو محبت اور صرف محبت ہے ۔خیال رہے کہ شاعری میں محبت کا وہ تصور نہیں ہے جن سے آج کے اخبارات اور فلموں کا کاروبار جاری ہے ۔محبت کا لفظ ہمارے زمانے میں جس قدر بدنام اور رسوا ہواہے شاید ایسا کبھی نہ ہوا ہوگا ۔ صدف لکھنوی کی شاعری میں محبت اور اس کے تلازمے سے جو شعری پیکر ابھرتا ہے وہ متعدد جہات کا حامل ہے ۔اس میں شوخی وشرات بھی ہے ،اندازدل ربائی اور دل نوازی کے ساتھ ساتھ اس کے قدموں پر متاع دل نچھاور کرنے کی کیفیت ،محبت کے ساتھ انتظاراور کشمکش کا لطف بھی جگہ جگہ دامن دل کو کھینچتا ہے ۔ صدف لکھنوی نے محبت کا ایک کلیدی نکتہ یہ پیش کیا ہے ۔
یہی ہے فرض محبت کے کرنے والوں کا
کبھی کسی سے نہ اظہار آرزو کیجئے

ثمر الفت کا کلفت ہے حقیقی ہو مجازی ہو
دل ناداں محبت میں کہیں آرام ملتا ہے
اس سلسلے کے بعض دوسرے اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
سارے عالم کی خاک چھانی ہے
تجھ سا کوئی نہ دوسرا دیکھا
صدف لکھنوی کے اچھے شعروں میں اس شعر کا شمار کیاجاسکتاہے ۔سادگی اور سادہ بیانی کا بے مثال نمونہ اسے نہ کہیں تو اورکیا کہیں ۔ فن کار نے عشق مجازی اور عشق حقیقی کو اس طرح گڈ مڈ کردیا ہے کہ کس کو کس پر ترجیح دی جائے یہ فیصلہ دشوار ہے ۔فنی ریاض کی یہ جہت بلاشبہ قابل ستائش ہے۔ان اشعار میں اس ادبی معاشرہ کے شعری حسن کی نمائندگی ہے جس کے ذرے ذرے میں ادب و شعر کا حسن رچا بسا ہوا تھا ۔روایت سے غیر معمولی استفادہ کی صورت میں ہی اس طرح کی شاعری کا امکان ہوتا ہے ۔
محبت کی کشمکش اور جاں نثاری کی بعض کیفیات بھی ان کی شاعری میں دیدنی ہے ۔بالعموم اردو شاعری میں دل ،محبوب اور اس کی یاد سے آباد رہتا ہے ۔اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ محبت کا غم یا زخم جب تک تازہ رہتا ہے دل آباد رہتا ہے ۔احمد مشتاق نے کہا ہے کہ
روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا
اب جہاں دیوار ہے پہلے یہاں دروازہ تھا
دل پریشاں ہوگا رنگ زوال حسن سے
آگ دیکھی تھی دھواں پہلے کبھی دیکھا تھا
اس مضمون کو صدف لکھنوی اس طرح باندھتے ہیں کہ اس میں روایت سے استفادہ اور اس کا حسن دونوں موجود ہے ۔
میں یہ کہتا ہوں کہ دل میں وہ رہے
دل یہ کہتا ہے کہ اس کا غم رہے
جاں نثاری کی کیفیت یہ ہے کہ ؂
محبت میں وفا کا نام کرجاتے تو اچھا تھا
شہید ناز ہوکر گرچہ مرجاتے تو اچھا تھا
اس کی ایک دوسری صورت یہ بھی ہے کہ ؂
تری جستجو میں یہ مجبور ہستی
مٹی اس طرح بے نشاں ہوگئی ہے
یہ سب جانتے ہیں کہ ہستی گرچہ مجبور محض ہے مگر کسی پر مرمٹنے والا بے نشاں نہیں ہوتا بلکہ کاروان محبت کے لیے نشان راہ بن جاتا ہے ۔ محبت کی یہی منزل خود فراموشی سے دنیا فراموشی تک جاتی ہے ۔
ازل سے جوت محبت کی ہیں جگائے ہوئے
کسی کی یاد میں دنیاکو ہیں بھلائے ہوئے

یاد میں تیری جو لمحے کٹ گئے
ہوگئی وہ زندگی برباد کیا
غزلیات صدف کے مطالعہ سے قاری جن کیفیات سے دوچار ہوتا ہے ان میں عشق و محبت کی لگن اور درد مندی کا جذبہ نمایاں رہتا ہے ۔محبت کایہ جذبہ انسانیت کو ان جذبوں سے ہمکنار کرتا ہے جس کا غالب پہلوخود آگہی و خدا شناسی ہے ۔یہ اردو غزل کا امتیاز ہے کہ اس کے مطالعہ سے تہذیبی شائستگی اور درد مندی کی صورت حال پیدا ہوتی ہے ۔محبت کے نسائی جذبے سے کہیں زیادہ انسانی جذبے کی کارفرمائی ہے، جس میں پوری انسانیت شامل ہے ۔غزل کے اسی فنی امتیاز کے سبب اس کی آبیاری کرنے والوں میں ہر طبقے اور فکر کے لوگ شامل رہے ہیں ۔اور انھی سے غزل اور اردو شاعری دونوں کا دامن روشن ہے ۔غزلوں کی برانڈنگ تو اب شروع ہوئی ہے جس میں دل آزاری اور نفرت کے جذبات کو سامعین کی داد اور ایک مشاعرہ سے دوسرا مشاعرہ حاصل کرنے کی سعی بلیغ کی جاتی ہے ۔غزل کی روایت تو یہ رہی ہے کہ
غم رہا ان کا جو دوزخ میں پڑے جلتے ہیں
میرے خوش رہنے کا جنت میں بھی ساماں نہ ہوا
دراصل صارفی معاشرہ (کنزیومر کلچر )نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ۔بے لوثی اور بے غرضی کے بجائے برانڈ (شے )کا سلسلہ ہر روز بڑھتاہی جاتا ہے ۔شاعری کو ان تماشوں سے کیا واسطہ ۔صدف لکھنوی کی شاعری کا مطالعہ دراصل اپنے اپ کی بازیافت ہے ۔خود سے سرگوشی ہے ۔اپنے جو جاننا اور پہچانناہے ۔یہ راستہ وہی ہے جو ہمیں میر صاحب نے دکھایا تھا ۔

پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دُور تھا
اسی غزل کا ایک اور شعر ہے ؂
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
محبت کے سچے جذبے سے مملو دل ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ ؂
ایک ہی ہے نجات کی صورت
خواہشیں ہوں نہ زندگی کے لیے
آخر میں ان اشعار کا ذکر بھی ضرور ی ہے جن میں انتطار یا ا س کی مختلف جہات کا عکس ہے ۔اس کا اشارہ ابتدائی سطروں میں کیا گیا تھا۔
وعدہ وصل تو ازل سے تھا
عمر بھر ہم نے راستہ دیکھا
کوئی امید تو نہیں پھر بھی
صبح تک انتظار دیکھیں گے
دل میں لے کر آرزو اک دید کی
سال بھر تک راہ دیکھی عید کی
غزلیات صدف کے مطالعہ سے ہمیں شعر وادب کاحقیقی شعور حاصل ہوتا ہے ۔مجموعہ میں شامل بے شمار غزلیں اساتدہ کی زمینوں میں ہیں جن میں سر فہرست نام مرزا غالب کا ہے مگر ان زمینوں میں کہے گئے اشعار سے صدف لکھنوی کے فنی ریاض اور تخلیقی ہنر مندی کا قائل ہونا پڑتا ہے ۔غالب کی مشہور مختلف زمینوں کے چند اشعار سے اس دعوے کی تصدیق ہوسکتی ہے ۔
جستجو یار کی سلامت باد
وصل کاکیا ہوا نہ ہوا

ابتدا کیا ہے انتہا کیا ہے
زندگانی کا مدعا کیا ہے

کچھ تو استقبال کی صورت بنانی چاہیے
ان کی آمد میں مجھے آنکھیں بچھانی چاہیے
فیض کی مشہورغزل ہے ’’تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے ‘‘صدف لکھنوی نے اس زمین میں بھی اپنی ہنر مندی کا مظاہرہ کیا ہے ۔
کیوں بات بڑھاتے ہو بنا کیوں نہیں دیتے
اک جام محبت کا پلا کیوں نہیں دیتے
اساتذہ اور مشہور شعرا کی زمینوں میں اچھے شعر کہنا بہت مشکل کام ہے ۔صدف لکھنوی کے ان اشعار کے مطالعہ سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ انھیں شعری کا خاصا تجربہ تھا اور مشکل راستوں پر چلنے میں انھیں دشواری نہیں تھی ۔کوشش یہ کرتے تھے کہ کسی طرح شعر کو کوئی ایسا رنگ یا اسلوب دے دیں جس سے کہ وہ پڑھنے والے کے ذہن و دماغ میں محفوظ ہوجائے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آنجہانی مہند ر ناتھ کول کو جس معاشرہ نے صدف لکھنوی بننے پر مجبور کیا وہ شعر وادب کا ایک زریں دور تھا ۔انھوں نے نہ صرف اپنے بزرگوں اور اس عہد کی صحبتوں سے فائدہ اٹھایا بلکہ فنی ریاضت اور تخلیقی ہنر مندی کے ایسے ثبوت بھی فراہم کیے کہ ہم انھیں پڑھتے ہوئے دبستان لکھنوکے روشن عہد کو یاد کرنے لگتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ بھی کیا لوگ تھے جنھوں نے شعر و ادب کو اپنی زندگی کا حصہ بنا رکھا تھا۔

مزید دکھائیں

عمیر منظر

ڈاکٹر عمیر منظرشعبۂ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی لکھنؤ کیمپس میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ معروف نقاد، شاعر اور مصنف ہیں۔

متعلقہ

Close