دیگر نثری اصناف

زمان و مکاں کی زناری سے آزاد پیغام آفاقی کا ناول  پلیتہ

ڈاکٹر سلیم خان

پیغام آفاقی دہلی کے اپنے ’مکان ‘ سے نکلے تو سیدھے انڈمان پہنچ گئے۔ اس دور دراز کے سفر سے واپس آنے میں انہیں 26 سال کا طویل عرصہ لگا لیکن جب لوٹے تو ان کے بغل میں پلیتہ تھا۔ جس کے بارے میں ناول کا ہیرو خالدسہیل کا دعویٰ ہے ’’ ایٹمی توانائی سے  بھرپور ایک گولا اس کتاب میں بند جو اس کی تحریر میں میز پر پڑی تھی اور جو خالد کے  ذہن کا مکمل عکس تھی۔ اور اس گولے  کا پلیتہ دلوں کے  نہاں خانوں میں تھا۔ ‘‘  اس کتاب کا دھماکہ اس قدر  زبردست تھا کہ  ناول کا ہیرو اقبال سہیل بھی اس کی زد میں آگر دارِ فانی سے کوچ کرگیا۔ اردو ادب میں ان دھماکوں کا رتعاش  تادیر محسوس کیا جائے گا اور مکان ہی کی طرح اس کے تراجم ہندی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں دستیاب ہوں گے اس لئے کہ ہر لحاظ سے اس تصنیف کو مکان پر فوقیت حاصل ہے۔

مکان عہد حاضر کا ناول ہے اس میں زمانہ  نہیں بدلتا۔ اس کے برعکس پلیتہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو ماضی ہے جس کی نمائندگی شیر علی کرتا ہے اور دوسراحال ہے جس کا نمائندہ خالد سہیل ہے اس کے علاوہ مستقبل کا ہیرو جیلانی ہے۔ ان تینوں زمانوں کا فرق ہی دراصل  ان تینوں حصوں کے اسلوب بیان میں محسوس ہوتا ہے۔ ماضی دراصل ٹھوس مادہ ہے جس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ جو ہوچکا سو وقت کے قرطاس پر ثبت ہوگیا اب وہ ایسی پتھر کی لکیر ہے ہذف و اضافہ کی صلاحیت سے محروم ہے۔ پیغام آفاقی جس وقت انڈمان کے بارے میں بتلاتے ہیں تو اس کی بنیاد ٹھوس تحقیق و تفتیش اور حوالہ جات پر ہوتی ہے۔

حال کا معاملہ یہ ہے کہ وہ سیال مادہ ہے جو جس برتن میں جاتا ہے اس کا روپ دھارن کرلیتا ہے۔ یہ اس ندی کی مانند ہے جس ہر قطرہ ہر لمحہ اپنی جگہ بدل دیتا ہے۔ کالا پانی جانے سے قبل اور بعد ناول کے ہیرو خالد سہیل کےحالات ِ زندگی میں غیر متوقع تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ اس کاعم  زاد بھائی جمشید بھی عدالت کے اندراسی طرح کی آزمائشوں کا شکار ہوجاتا جس طرح کے مشکلات امیر علی کو انڈمان جانے سے قبل پیش آئی تھیں۔ خالد  کی ایک ملاقاتی خاتون کے ساتھ بنک کےاہلکار وہی سلوک کرتے ہیں جو کالا پانی میں سنہری کے ساتھ کیا گیا تھا۔ جس کیلئے وہ لوگ بالکل بھی تیار نہیں ہوتے۔ وہ سب وقت کے تیز دھارے میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ زندگی نت نئے رنگ بدلتی چلی جاتی ہےاور اس کے پہلو بہ پہلوہمارے سماج  کے مختلف تلخ و شیرین  گوشے اجاگر ہوتے چلے جاتے ہیں۔

وقت کا دھاراتولوٹ کر پیچھے نہیں جاتا لیکن مستقبل کا معاملہ اس سے مختلف ہے وہ مادے کی تیسری نہایت لطیف  ہئیت ہے جس کومحسوس تو کیا جاسکتا ہے  لیکن دیکھناممکن نہیں ہے۔ انسان اپنی آنکھوں سےہوا کو نہیں مگر اس سے اڑنے والے تنکوں کو دیکھ کر اس کی سمت کا اندازہ لگاتا ہے۔ پانی اور ہوا کے بہاؤ میں جہاں یہ مشترک ہے کہ وہ اپنی رفتار بدلتے ہیں وہیں یہ اختلاف بھی ہے  کہ پانی صرف ایک رخ میں بہتا ہے جب کہ ہوا اپنی سمت بدلتی رہتی ہے۔ اس لئے کسی انسان کیلئے ممکن نہیں ہے کہ وہ ہوا کہ بارے میں کوئی متعین پیشن گوئی کرسکے۔ ناول نگار امروز سے فردا میں جانے کیلئے پروازِ تخیل کاسہارہ  لیناپڑتا ہے۔ خالد سہیل کی موت کے بعد ناول زمانۂ حال سے نکل کر مستقبل میں قدم رنجا فرماتا ہے۔ پیغام آفاقی نے اس حصے کو بیان کرنے کیلئے بجاطور پر شاعری کی مدد لی ہے اس لئے اس میں بات تہہ دار ہوتی ہے۔ معنیٰ و مفاہیم کے امکانات وسیع تر ہوجاتے ہیں۔

خالد سہیل کی زندگی اور موت کا اگر ہم اس دنیاوی زندگی اور اخروی حیات سے موازنہ کریں تو ایک دلچسپ مماثلت نظر آتی ہے۔ اول تو یہ کہ اس دنیا کی ہر شۂ بشمول عرصۂ حیات محدود اور فانی ہے۔ ہر لمحہ ہماری زندگی ایک ساعت حال سے نکل کر ماضی کے تا ہے کہ جب یہ سلسلہ تھمتا ہے تو موت واقع ہو جاتی ہے  لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مستقبل کا خزانہ خالی  ہوگیا۔ اس لئے کہ انسان کو بعد از موت جو زندگی ملنے والی ہے وہ لامحدود ہے۔ یہاں زندگی کا موت سے سابقہ پیش آتا ہے  وہاں موت کو موت آجائیگی اور انسان کبھی نہیں مرے گا۔ خالد سہیل کی موت سے ناول کا ایک باب بند ہوتا ہے لیکن ناول ختم نہیں ہوتا  اس لئے زندگی کا تسلسل بھی انسان کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ جاری و ساری رہتا ہے۔ اس کا تعلق چونکہ ابدی مستقبل سے ہے اس لئے وہ نظر تو نہیں آتا لیکن اسے محسوس کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ انسان بصارت کے ساتھ ساتھ ایمانی بصیرت بھی رکھتا ہو۔

ماضی کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ایک ماضی قریب اور دوسرا ماضی بعید۔ قریب و بعید  کی مدت پرقرأۃ العین حیدر اور مشرف عالم ذوقی  کے درمیان یقینا ًاختلاف ہوگا اس لئے اسے زندہ اور مردہ ماضی میں تقسیم کیا جائے۔ زندہ ماضی سے مراد وہ زمانہ جس میں وہی سیاسی و معاشی  نظام نافذ تھا جس میں ہم جی رہے ہیں اس کے برعکس وہ زمانہ جس کا نظام داستان پارینہ بن گیا۔ مثلاً ملوکیت کا یا آمریت دورجو کم از کم ہندوستان کی حد تک ختم ہوگیا اور جمہوریت کا زمانہ جو جاری و ساری ہے۔ اس لحاظ سے کالاپانی کا زمانہ  زندہ ماضی میں شمار ہوگا اس لئے کہ اسے جس برطانوی حکومت نے قائم کیا تھا وہ جمہوریت کی علمبردار تھی اور ہم لوگ آزادی کے بعد بھی اس کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو شیر علی، خالد سہیل اور جیلانی ایک ہی چکی میں پسنے والے دانے بن جاتے ہیں، ان کے مصائب و آلام مشترک ہوجاتے ہیں۔ شیر علی کا انطباق خالد سہیل اپنے حالات پر کر کے اس  کا تجزیہ کرتا ہے۔ جیلانی  اور اس کا میزو ساتھی خالد کی رہنمائی میں مستقبل  کی حکمت عملی طے کرتے ہیں۔

اگر ہم لوٹ کر مکان اور پلیتہ  کا موازنہ کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسان امن و سکون کی خاطر اپنےمکان میں پناہ لیتا ہے لیکن جب کوئی فاسد نظام  اس کوبےمکان کر کے کالا پانی پر روانہ کردے تو وہ وہاں جاکر بارود کا ذخیرہ اپنے ساتھ لے آتا ہے تاکہ ظلم و استحصال کی علمبردار استبدادی قوتوں کو نیست  نابود کرکے عدل و انصاف قائم کرسکے۔ مکان کے اندر پیغام آفاقی نےاپنا زیادہ وقت کرداروں کے قلب و ذہن کی تجزئیے پر صرف کیا لیکن پلیتہ میں وہ باہر کی دنیا میں نکل گئے اور معاشرے کے اندر کارفرما سیاسی عناصر کی حکمت عملی اور معاشی طرز فکر کو اجاگرکرنے میں مصروف عمل ہو گئے۔ اس طرح گویا پیغام آفاقی مکان سے نکل کر زمان میں آگئے۔ انسان بزعم خود زمان و مکان کے حصار میں گرفتار رہتاہے۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے عقل و خرد کو زمان و مکاں کی زناری سے آزاد کرنے کیلئے ضرب لا الہ کا استعمال کیا  اور فرمایا  ؎

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری                     نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ

پیغام آفاقی نے اس کام کیلئے دو ناول لکھے ’مکان‘ اور ’ پلیتہ‘۔ یہ کام آسان نہیں ہے۔ قلب و ذہن کے اندر موجودمضبوط صنم کدوں کو مسمار کرنے کیلئے براہیمی نظر کی ضرورت ہوتی ہے جس کی بابت خود علامہ فرماتے ہیں ؎

براہیمی نظر پیدا مگر مُشکل سے ہوتی ہے              ہوس چھُپ چھُپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

پیغام آفاقی جیسےمردِ حق سے چونکہ یہ نکتہ پوشیدہ نہیں ہوتا کہ اس کی اولین  یہی ذمہ داری ’حکمِ اذاں ہے‘ اس لئے وہ بے خطر آتش نمرود میں بھی کود پڑنے سے بھی پس و پیش نہیں کرتا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے نمرودِ وقت کے ساتھ ساتھ رائج الوقت نظام سے بغاوت کا علم بلند کیا تھا اور عقائد سے لے کر سیاست تمام ہی شعبہ ہائے حیات میں پائے جانے والے بتوں کومصلحت کوشی کی سرحدوں کو عبور کرکے  پاش پاش کردیا تھا۔ اس لئے وہ اپنے منصب و مقام سے واقف تھا۔ پلیتہ کے خالد سہیل  پر بھی اپنا فرضِ منصبی آشکارہ  ہوجاتا ہے تو اپنی کتاب کا آخری صفحہ اس طرح تحریر کرتا ہے۔

لوگو، تمہارے  یہ ظالم آقا آسمان سے  نہیں آتے۔

یہ کوئی اور نہیں یہ تم خود ہو۔

 یہ جو اونچے  اونچے  پیڑ تم دیکھتے  ہو ان کا بیج تم خود ہو۔

یہ ویسے  ہی ہیں جیسے  تم ہو۔

اگر تم اندر سے  بدلتے  تو یہ بدل گئے  ہوتے۔ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

خالد سہیل آگے لکھتا ہے

بتا کہ میری زندگی سنگین خطروں او ر اندھیروں میں گھری ہوئی ہے  او ر میں اس کو بچانا چاہتا ہوں او ر دشمن بڑا ہے او ر اس کو ختم کرنا ہے او ر یہ کام مجھ سے  اکیلے  نہیں ہو گا۔

بتا۔

بتا۔

بتا۔

تو خاموش کیوں ہے  ؟

تو خاموش کیوں ہے  ؟؟؟

تو نہیں بتائے  گا۔

تو نہیں بتائے  گا۔

تو نہیں بتائے  گا۔

 نہیں بتائے  گا۔

 نہیں۔

تو بتائے  گا۔

بتائے  گا۔

بتاؤ۔

 نہیں بتائے  گا۔

لا الاہ ال لاہ

لا الاہ

لا

اس کے  منہ سے  خون آ گیا۔ اور فرش پر جمع ہونے  لگا۔

وقت آخرخالد کی زبان پر یہی کلمۂ لاالہ ہوتا ہے ۔ اس دنیا سے شاداں و فرحاں رخصت ہوتے ہوئے اپنے والد سے کہتا ہے  کہ جو صلاحیت اسے ودیعت کی گئی تھی اس کا بھرپور استعمال کرکے اس نے کتاب لکھ دی۔ یہی اس کی ذمہ داری تھی اور اسی کے بارے میں اس سے سوال کیا جائے گا۔ جوخود شناس  لوگ اس نکتے کو پالیتے ہیں وہی سنت ابراہیمی کو ادا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں ؎

صنم کدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیل                  یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لاَ اِلٰہ میں ہے

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close