سحرالبیان- ایک تنقیدی جائزہ

804

صفدرامام قادری

        ’سحرالبیان‘ کا شمار اردو کی چند لازوال کتابوں میں ہوتاہے۔ اس موضوع پر بھی کوئی اختلاف نہیں کہ اردو کی سب سے اہم مثنوی ہے۔ ’قطب مشتری‘ اور ’گلزارِ نسیم‘ کا تذکرہ بہرطور اس کے بعد آتا ہے۔ میرحسن اپنے دَور کے اہم شاعر اور مشہور معرکہ آرا شخصیت میرضاحک کے صاحب زادے تھے۔ قدرت نے اسی خانوادے میں میرانیس کو بھی جنم دیا۔ میرانیس کے بیٹے نے ’’پانچویں پشت ہے شبّیر کی مداحی میں ‘‘ کہہ کر جس خاندانی تفخّر کی بات کی، اس کی پشت پرمیرحسن کی شخصیت سب سے مضبوط کڑی ہے۔ میرحسن کی عظمت اگر تسلیم نہیں کی گئی ہوتی تو انیس سے پہلے اس خاندان کا شاید ہی کوئی جاننے والاہوتا۔ میرحسن محض پچاس برسوں میں راہیِ ملکِ عدم ہوئے۔ پانچ سوسے زیادہ غزلیں اوربارہ چھوٹی بڑی مثنویاں انھوں نے یادگار چھوڑیں۔ دیگراصناف میں بھی اُن کی مشق جاری تھی لیکن اپنی موت سے دو سال پہلے اگر سحرالبیان جیسی عدیم المثال مثنوی انھوں نے نہیں تخلیق کی ہوتی تو میر، درد اور سودا جیسے بزرگ معاصرین کے نہ وہ ہم پلّہ قرار دیے جاتے اور نہ ہی اردو کی ادبی تاریخ کے لیے سنگِ میل مانے جاتے۔

        سحرالبیان سے پہلے میرحسن کی ایک مثنوی ’گلزارِ ارم‘ سامنے آچکی تھی اور اس کی شہرت کچھ کم نہیں تھی۔ یہ مثنوی خود سوانحی ہے جس میں ابتداء ً  لکھنؤ میں گزارے دن پر افسوس کا اظہار کیا گیاہے۔ دہلی سے اجڑنے کا غم تو ہے لیکن فیض آباد سے لکھنؤ آنے پر نئے شہر کے تعلّق سے ہزار تہمتیں اس میں موجود ہیں۔ بیان میں زور اِس وجہ سے بھی آیا ہے کہ فیض آباد میں میرحسن کسی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہوگئے تھے لیکن آصف الدولہ کے فیصلے کے مطابق نقلِ مکانی کی مصیبت آن پڑی۔ ’گلزارِ ارم‘ میں آصف الدولہ کے تئیں بدخواہی نہیں ہے لیکن میرحسن کے مخالفین نے ایسا ایک ماحول بنایا اور نواب آصف الدولہ نے یہ مانا کہ اس کے خوابوں کے شہر لکھنؤ کی مذمّت ایک نامناسب حرکت ہے۔ میرحسن کو انعام نہیں ملا اور سزا یہ عطا ہوئی کہ گوشے میں وہ پڑے رہیں۔ لکھنؤ میں رہتے ہوئے وہ واقعتا الگ تھلگ ہو کر رہ گئے تھے۔ اس لیے ان کی دِلی خواہش تھی کہ ایک ایسی مثنوی لکھی جائے جس سے نہ صرف گلزارِ ارم کی بدمزگی ضائع ہوجائے بلکہ آصف الدولہ کے ذہن میں ہمدردی کا جذبہ بھی پیدا ہو۔ ’سحرالبیان‘ کی یہی شانِ نزول ہے۔

        سحرالبیان کا قصہ کوئی نئی راہ نہیں دکھاتا۔ عام طور پر داستانوں اور پُرانی مثنویوں میں جس طرح کے قصّے ہیں، سحرالبیان پراُس کی واضح پر چھائیں موجود ہے۔ بعض محقّقین نے اردو اور فارسی کے قصّوں سے مواز نہ کرکے یہ دکھابھی دیا ہے کہ سحرالبیان کا کون حصہ کس قصّے سے متاثر ہے۔ میرحسن نے دیا شنکر نسیم کی طرح کسی ایک مقبول قصّے کو بنیاد بناکر اپنی مثنوی کی عمارت قائم نہیں کی۔ اس طرح الگ الگ قصّوں کے اجزا جمع کرکے میرحسن نے اُن کی ترتیب اور بیان میں توازن کا اپنا حق استعمال کیا۔ قصہ طبع زاد نہیں ہوتے ہوئے بھی ایسے مقام پر شاعرکے لیے یہ موقع تھا کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اس میں ایسا رنگ بھرے کہ پورا قصہ اس کا اپنا ہوجائے۔ میرحسن نے بلاشبہہ قصّے کو اپنا بنانے کے جتنے گرُہوسکتے تھے، انھیں اس مثنوی میں آزمالیا ہے جس کی وجہ سے ’سحرالبیان‘ کے ماخذ کی بحث ضمنی ہوکررہ گئی۔

        قصّے کو نئی ترتیب دیتے وقت میرحسن نے وقت اور مقام کے لچیلے تصوّر سے کام لے کر طبع زاد ہونے کا مزید گمان پیدا کیا ہے۔ قصّہ کسی بے نام اور عظیم الشان سلطنت کا ضرور ہے لیکن لکھنؤ کے مظاہر اس طرح سے اِس میں بکھرے پڑے ہیں کہ پڑھنے والا اسے دوردیس کی کہانی سمجھ کر نہیں پڑھتا بلکہ اودھ کی تہذیبی زندگی کے سنجیدہ مطالعے کا دعواکرتا چلتا ہے۔ قصے کو اس طرح سے ایک ہی وقت میں دوقطبین پر قائم کر دینا میرحسن کا بڑا تخلیقی جوہر ہے۔ کمال یہ ہے کہ جو واقعات پر ستان سے متعلّق ہیں، انھیں پڑھتے وقت بھی ذہن لکھنؤ کے نوابین کے محل سراؤں کی طرف رُخ کرلیتا ہے جن کے قصّے کہانیاں سماج میں بھرپور مبالغے اور رازونیاز کے ساتھ موجود تھے۔ اندازہ یہی ہوتا ہے کہ میرحسن نے یہ التباس بالارادہ پیدا کیا۔

        ’سحرالبیان‘ کا قصہ زیادہ پیچ دار بھی نہیں۔ شہزادہ بے نظیر اور شہزادی بدرِ منیر کی محبت اور عاشقی ہی مقصود ہے لیکن بے نظیر کو بدرِ منیر سے ملنے سے پہلے ایک پری ماہ رُخ اُڑا لے جاتی ہے اور پرستان کے باغ میں اُسے قید کر لیتی ہے۔ بدرِ منیر کے ساتھ وزیرزادی نجم النسا ہے جس پر مُلکِ جن کے باد شاہ کا بیٹا فیروز عاشق ہوجاتا ہے۔ نجم النسا اپنی فراست اور ہوشیاری سے فیروز کی مدد لے کر ماہ رُخ کے چنگل سے بے نظیر کو آزاد کراتی ہے۔ مثنوی کاانجام خوشی اور عافیت پر ہوتا ہے اور شہزادہ بے نظیر کے ساتھ شہزادی بدرِ منیر رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو جاتی ہے۔ قصّے میں زیادہ اُتھل پُتھل اور معرکے نہیں ہیں۔ میرحسن نے ساد گی سے کرداروں کو جوڑ کر ابتداے عشق سے انجام تک قصّے کو بیان کردیاہے۔

        مزاج سے میرحسن روایت پسند رہے ہیں۔ اس لیے انھوں نے مثنوی نگاری کے مشہورانداز کو بہرصورت ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اصل قصّہ شروع ہونے سے پہلے تمام روایتی اجزا کو اسی طرح سے شامل رکھا گیا ہے جیسے قدیم مثنوی نگار کیا کرتے تھے۔ حمد، نعت منقبت، تعریفِ اصحابِ پاک، مناجات، تعریفِ سخن، مدحِ شاہِ عالم، مدحِ آصف الدولہ۔ سخاوت، شجاعت کے ساتھ عجزوانکسار کے باب میں آصف الدولہ کی فضیلت سے اس قصّے کا بنیادی تعلّق نہیں ہے لیکن زمانے کا رواج تھا اور میرحسن نے ’گلزارِ ارم‘ کی کاٹ کے طور پر بھی چوں کہ اس مثنوی کو استعمال کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا، اس لیے تجربہ پسندی کے بجاے روایت کی گود میں چلے جانے میں ہی اُن کے لیے عافیت تھی۔

        بالعموم قصّے کی بنیاد کرداروں پر ہوتی ہے۔ سحرالبیان اس سے الگ نہیں۔ یہ عجیب اتّفاق ہے کہ اس مثنوی کے کردار جب الگ الگ ہمارے مطالعے کے لیے منتخب ہوتے ہیں تو وہ اکثر کم زور، اکہرے اور کبھی کبھی بے جان معلوم ہوتے ہیں۔ بے نظیر شہزادہ ہے، تخت وتاج کا وارث ہے اور علم وفضل میں، بہادری میں وہ بے نظیر ہے لیکن ماہ رُخ کی قید سے نکلنے کے لیے وہ کوئی جتن نہیں کرتا۔ بدرِ منیر سے الگ ہونے پر بھی اُس کے جذبات طوفان نہیں کھڑا کرتے۔ وہ ایک بے حوصلہ انسان ہے۔ محبّت میں نبھانے یاقربانی دینے دونوں کے لیے اُس کے پاس کوئی نظریہ نہیں۔ وہ ماہ رُخ کے ساتھ بھی خوش رہتا ہے اور بدرِ منیر سے ملاقات میں بھی سیراب۔ دونوں مرحلوں میں وہ شہوت پسندی کا مظا ہرہ کرتا ہے۔ اس مثنوی کی ہیروئن بدرِ منیر بھی محبّت میں پاگل تو ہے لیکن اپنے محبوب کو پانے کے لیے دنیا جہان کو ایک کرنے کا اس میں حوصلہ نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں وقت کے ہاتھوں کسی منزل تک پہنچنے کے تمنّائی ہیں۔ ماہ رُخ انسان زادے پر فریفتہ ہونے اور اسے پَرستان لے آنے تک کاحوصلہ تو دکھاتی ہے لیکن فیروز کی ایک دھمکی میں وہ اپنی محبّت کو آزاد کردینے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتی ہے۔ بے نظیر کا با پ ایسابادشاہ ہے جس کی اولاد کے غائب ہونے کے باوجود کوئی نظام درہم برہم نہیں ہوتا اور وہ بھی ایسی اولاد جو ہزار منّت سماجت اور جادو ٹوٹکے کے بعد بڑی عمر میں حاصل ہوئی۔ نجومیوں کی ہدایت کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی حفاظت نہیں کرسکا۔ ’سحرالبیان‘ کے کرداروں میں نجم النسا وہ تنہاکردار ہے جس میں حرکت و حوصلہ اور زندگی کی نشانیاں موجود ہیں۔ اس کی ذہانت اور موقع شناسی کا قائل ہونا پڑتاہے۔ بدرِ منیر کی محبّت کے تئیں اس کی وفاداری اور کسی طرح اُسے بے نظیر مل جائے، اس کی عملی کو ششیں اُس کے کردار کو طاقت بخشتی ہیں لیکن غور سے دیکھیے تو نجم النسابھی انفرادی رنگ میں نہیں اُبھرتی۔ وہ بھی حسین ہے اور اُس کے حُسن پر جِن بھی فریفتہ ہوجاتا ہے لیکن اُس کے نجی جذبات کیا ہیں، یہ دوٗر  دوٗر تک پتا نہیں چلتا۔ اس اعتبار سے ’سحرالبیان‘ کی کردار نگاری عمومی قسم کی ہے اور جن کے لیے قصّہ لکھا گیا، وہ تو بالکل بے جان مُہرے ہی ہیں۔

        ’سحرالبیان‘ کا قصّہ اودھ کی زندگی کا جیتاجاگتا مرقع ہے۔ اس موضوع پر شایدہی کوئی اختلاف ہو کہ لکھنؤ کے جاگیردارانہ نظام کی شان وشوکت اپنی تمام دھڑکنوں کے ساتھ اگر کسی ایک تخلیق میں موجود ہے، تو وہ ’سحرالبیان‘ ہے۔ ’امراوجان ادا‘ میں زوال کی پرچھائیاں اُبھر نے لگتی ہیں اور مرزا رسواایسی جگہ سے تصویر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں جہاں حقیقی چہرے تو مل جائیں گے لیکن اہتمامات اور تصنّع سے بھری لکھنؤ کی تہذیبی زندگی پورے طور پر سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بالخصوص طبقۂ اشرافیہ کی نقل وحرکت جس سے کسی بھی جاگیر دارانہ نظام کا جنم ہوتا ہے، اُس سے ’سحرالبیان‘ پورے طور پر مزیّن ہے۔ تہذیب ومعاشرت کے انفرادی جلوؤں کی پیش کش میں میرحسن وسعتِ نگاہ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ سماجی عادات خواہ وہ اچھّی یا بُری جیسی تسلیم کی جائیں، میرحسن اس کا خیال رکھتے ہیں اور شاعرانہ حسن پر توجّہ کے باوجود تہذیب و ثقافت کے مظاہردونوں ہاتھوں سے سمیٹنے میں ایک لمحہ کے لیے بھی غفلت نہیں کرتے۔

        مثنوی کا قصّہ ہر چند کہ کسی دُور کے ملک کا ہے لیکن اِس کی تخلیق شہرِلکھنؤ میں ہورہی ہے۔ ڈاکٹر راہی معصوم رضانے ’طلسم ہوش ربا‘ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ داستان گوجس وقت اور مقام کے تحت اپنا کام کرتاہے، اسی کا سب سے زیادہ اثرقصّے پر پڑتاہے۔ اس لیے ’سحرالبیان‘ کی بحث میں یہ مان لینے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اس کے قصّے کی روح اودھ کے نوابین کی دنیا میں بستی ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’سحرالبیان‘ کا مطالعہ کیاجائے تو تمام جِن اور پَریاں اِسی تہذیب سے ابھرے ہوئے کردار معلوم ہوں گے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ میرحسن کو واقعتا اودھ کا ہی قصّہ بیان کرنا تھا لیکن بہت دور کے کسی بے نام ملک کا قصہ پیش کرکے انھوں نے داستانی روایت کے ساتھ ساتھ ایک ڈرامائی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

        آصف الدولہ کے عہد میں لکھنؤ نوابی تہذیب کے عروج پر تھا۔ لذّت کوشی اور تصنع اس کی اصل بنیادیں ہیں۔ عمارات، باغات اور جشن وطرب کی محفلوں میں ڈوبے اس نظام کا انجام کیا ہونا تھا، یہ اگلے پچاس برسوں میں ظاہر ہوگیا لیکن اُس زمانے میں لکھنؤ روشنی اور نور کے منار کی طرح عیش اور سرخوشی کے لیے نمایندہ بناہوا تھا۔ میرحسن نے اسی لکھنؤ کی بہاروں اور رونقوں کو ’سحرالبیان‘ میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ شاد یات کی رسمیں، نجومیوں اور موسیقاروں کا دخل اور رقص وسرود کی تفصیلات میرحسن نے اپنی مثنوی میں سب سے زیادہ پیش کی ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ ان علوم وفنون کی اصطلاحات بھی بہ تفصیل پیش کی گئی ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ میرحسن رقص، موسیقی، فنِ تعمیر، خوش نویسی، علمِ نجوم، شادیات اور باغ بانی جیسے کاموں کی حکمت سے علمی طور پر واقفیت رکھتے ہیں۔

        محل سراکی تصو یریں اور شہزادے شہزادیوں کی شبیہہ پیش کرنے میں میرحسن سب سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ انھیں سہولت حاصل ہے کہ مثنوی میں ان کے ہیرواور ہیروئن دونوں بادشاہوں کی اولادہیں۔ اس کے علاوہ خیالی تصویروں کے امکانات انھیں جِن اور پَریوں کے باغ اور محلوں میں پہنچا دیتے ہیں۔ اس طرح حقیقی اور غیر حقیقی دونوں صورتیں آپس میں مِل کر فنّی اظہار کے نئے پیمانے کے طور پر جنم لیتے ہیں۔ ذیل میں کچھ ملی جلی مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ’ سحرالبیان‘ کے صفحات میں اودھ کی تہذیب کے کتنے نمونے بکھرے پڑے ہیں۔ ایک بات یہ دھیان رکھنے کی ہے کہ میرحسن تفصیل نگاری کے قائل ہیں اور مصوّری کی اصطلاح میں کہیں تو منی ایچر (Miniature) سے گریز کرتے ہیں۔ تہذیب ومعاشرت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بیان میں جزئیات کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا ہے جس کی وجہ سے اودھ کی تہذیب کا ایک ایک طَوربلکہ اس کی تمام دھڑکنیں یہاں محفوظ ہوگئی ہیں :

یہ سُن کر وَے رمّالِ طالع شناس

لکھے کھینچنے زائچے بے قیاس

دھرے تختے آگے لیا قرعہ ہاتھ

لگادھیان اولاد کا اس کے ساتھ

جو پھینکیں تو شکلیں کئی  بیٹھی ملِ

کئی شکل سے دِل گیا اُن کا کھِل

ہے اس بات پر اجتماعِ تمام

کہ طالع میں فرزند ہے تیرے نام

(علمِ نجوم)

غلاف اُس پہ باناتِ پُرزرہ کے ٹانک

شتابی سے نقّاروں کو سینک سانک

بہم مل کے بیٹھے جو شہنانواز

بَنا منھ سے پھرکی لگا اس پہ ساز

لگے بجنے قانون و بین و رباب

بہا ہر طرف جوے عشرت کا آب

کمانچوں کو سارنگیوں کو بنا

خوشی سے ہر اک اُن کی تَربیں ملا

[علم موسیقی]

معانیّ ومنطق بیان و ادب

پڑھا اُس نے معقول و منقول سب

خبردار حکمت کے مضمون سے

غرض جو پڑھا اُس نے قانون سے

[شہزادے کی تعلیم]

ہوا جب کہ نو خط وہ شیریں رقم

بڑھا کر لکھے سات سے نو قلم

لیاہاتھ جب خامۂ مُشک بار

لکھا نسخ وریحان وخطِّ غبار

عروس الخطوط اور ثُلث و رقاع

خفیّ و جلی مثلِ خطِّ شعاع

شکستہ لکھا اور تعلیق جب

رہے دیکھ حیراں اتالیق سب

[فنِ خطاطی]

جو دیکھے وہ انگیا جواہر نگار

فرشتہ مَلے ہاتھ بے اختیار

وہ باریک کُرتی مثالِ ہوا

عیاں مو بہ مو جس سے تَن کی صفا

ڈھلک سرخ نیفے کی ابھری ہوئی

گلابی سی گرد ایک تبہ دی ہوئی

مغرّق زری کا وہ شلوار بند

ثریّا سے تابندگی میں دوچند

[لباس]

بھری مانگ موتی سے جلوہ کناں

نمایاں شبِ تیرہ میں کہکشاں

وہ ماتھے پہ بینے کی اس کے جھلک

سحرچاند تاروں کی جیسے چمک

وہ تکمے پہ چمپا کلی کی پھبن

کہ سورج کے آگے ہوجیسے کرن

وہ بھج بند بازو کے اور نورتن

کہ جوں گل سے ہوشاخ زیبِ چمن

[زیورات]

دیا شہ نے ترتیب اک خانہ باغ

ہو رشک سے جس کے لالے کو داغ

زمرّد کی مانند سبزے کا رنگ

روش کا جواہر ہوا جس سے سنگ

[باغ]

چمن سے بھرا باغ، گل سے چمن

کہیں نرگس و گل کہیں یاسمن

چنبیلی کہیں اور کہیں موتیا

کہیں راے بیل اور کہیں موگرا

کہیں جعفری اور گیندا کہیں

سماں شب کو داؤدیوں کا کہیں

کھڑے سرو کی طرح چمپے کے جھاڑ

کہے تو کہ خوشبوئیوں کے پہاڑ

[پھولوں کی قسمیں ]

ہوا جب کہ داخل وہ حمّام میں

عرق آگیا اس کے اندام میں

تنِ نازنیں نم ہوا اُس کا کُل

کہ جس طرح ڈوبے ہے شبنم میں گُل

وہ گورا بدن اور بال اس کے تر

کہے تو کہ ساون کی شام وسحر

 [غسل کابیان]

وہ سونے کا جو تھا جڑاؤ پلنگ

کہ سیمیں تنوں کو ہو جس پر امنگ

کھنچی چادریں اس پہ شبنم کی صاف

کہ ہو چاندنی جس صفا کی غلاف

 [پلنگ]

وہ دولھا کے اٹھتے ہی اک غُل پُرا

لگا دیکھنے اُٹھ کے چھوٹا بڑا

کوئی دوڑ گھوڑوں کو لانے لگا

کوئی ہاتھیوں کو بٹھانے لگا

لگا کہنے کوئی ادھر آئیو

ارے رتھ شتابی مری لائیو

کوئی پالکی میں چلا ہو سوار

پیادوں کی رکھ اپنے آگے قطار

[برات نکلنے کا بیان]

جب آئی وہ دلہن کے گھر پر برات

کہوں وھاں کے عالم کی کیا تجھ سے بات

وہ دولھا کا مسند پہ جا بیٹھنا

برابر رفیقوں کا آ بیٹھنا

قہاقے، ہنسی، شوروغل، تالیاں

سہانی سہانی نئی گالیاں

[بارات کی دلہن کے گھر آمد]

        ان اشعار کی روشنی میں اودھ کا نوابی دَور اپنے چھوٹے چھوٹے اہم اور غیراہم معمولات کے ساتھ ہمارے سامنے چلاآتاہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرحسن نے ارادہ کرکے تہذیب وثقافت کی جلوہ سامانیوں کو اس مثنوی میں آئینہ کردینے کی کوشش کی ہے۔ شاید میرحسن اِس بات سے واقف تھے کہ علاقۂ اودھ کے یہ رنگ وروغن، نور اور چمک شوق اور فراغت آخری سانسیں لے رہے ہیں اس لیے انھوں نے ایک تہذیبی محافظ کی طرح سماجی ثقافتی زندگی کی ہر تصویر کو اپنی مثنوی میں اُبھار نے کی کوشش کی ہے۔ اگر میرحسن جزئیات میں جاکر اور قدرے تفصیل سے احوال نہیں بیان کرتے توعین ممکن تھا کہ اس تہذیب کے ہزاروں جلوے تاریکی میں ایسی جگہ دفن ہوجاتے جہاں سے انھیں کوئی واپس نہیں لے آپاتا۔ ’سحرالبیان‘ تہذیب وثقافت کے باب میں دستاویزی حیثیت کی حامل ہے۔ اسی سے فائدہ اٹھا کر’ امراوجان ادا‘ میں مرزا رسوا اور ’’گذشتہ لکھنؤ‘‘ میں عبدالحلیم شررنے اودھ کی تہذیب وثقافت کی تصویریں بہ شمولِ زوال پیش کی ہیں۔ اگر سحرالبیان میں اس اہتمام سے تہذیبی امور محفوظ نہیں کردیے گئے ہوتے تو پتا نہیں ان کتابوں کی کیا اہمیت ہوتی۔

        کلیم الدین احمد نے مثنوی ’سحرالبیان‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان اور طرزِادا کو بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے۔ ’’عبارت صاف، پاکیزہ اور بامحاورہ ہے، بیان شوخ اور دل پذیر ہے۔ شیرینی اور ترنّم کی بھی کمی نہیں، الفاظ نرم وملائم استعمال ہوئے ہیں۔ کہیں نام کو بھی کرختگی اور بدنمائی نہیں۔ ‘‘ بیش تر ناقدین ’سحرالبیان‘ کی بہترین زبان کے شیدائی ہیں۔ گیان چند جین اور حکم چند نیر نے بہت تلاش کے بعد خلافِ محاورہ چند استعمالات ضرور ڈھونڈنکالے لیکن انھوں نے بھی مانا کہ یہ لغزشیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

        ایسا نہیں ہے کہ ’سحرالبیان‘ میں میرحسن نے کوئی بنی بنائی زبان حاصل کرکے ہمارے سامنے پیش کردی ہے۔ اس وقت تک میرؔ اور سوداؔ نے اردو شاعری کی جو  زبان تیار کی تھی، میرحسن اس کے اتّباع میں چلتے تو شاید اُن کے امتیازات اس طرح روشن نہیں ہوتے۔ مثنویاں کرداروں کی زائیدہ ہوتی ہیں، اس لیے میرحسن نے گفتگو کی ایک زبان کو شاعری میں آزمانے کی کوشش کی۔ مکالمے ابتدائی دور سے ہی شاعری کی اساس رہے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایک زمانے تک ڈرامے بہت آسانی سے اِس صنف میں نہیں لکھے گئے ہوتے۔ میرحسن نے بات چیت کی اسی زبان کے وسیع شعری امکانات تلاش کیے۔ مکالمے بعد میں اقبالؔ اور اخترالایمان کی شاعری کا حصّہ بنے لیکن اُن کے یہاں گفتگو کی عام زبان ایک بھولی بسری کہانی بن جاتی ہے۔ مکالمے وہاں ذہنی ورزش اور فلسفیانہ غوروفکر کے وسیلے کی طرح برسرِ کار ہوتے ہیں۔

        میرحسن نے بول چال کی عمومی زبان کو ’سحرالبیان‘ کی بنیاد میں استعمال کیا۔ شاعرکو اگر بڑی باتیں کہنے کا ہنر عمومی لہجے میں نہیں کہنا آئے تو یہ حکمتِ عملی اسے ناکامی تک پہنچا دے گی۔ اس کے علاوہ میرحسن جس تہذیب و معاشرت کے فرزند تھے اور جہاں یہ مثنوی لکھی جارہی تھی، اس کا بھی تقاضہ تھا کہ زبان کے ایک عالمانہ مزاج اور بلند آہنگی کو آزمایاجائے۔ میرحسن نے اپنی مثنوی کو اودھ کی پوری زندگی کا ترجمان بنانے کے باوجود زبان کی سطح پر مصنوعی پن کے مقابلے فطری عنصر کو اپنے لیے رہنمابنایا۔ میرحسن نے اس زمانے کے ادبی معیاروں کے خلاف جاکر زبان کا یہ نیا مزاج کیوں اپنے لیے منتخب کیا، اس کی سب سے پُراثر تاویل ’آبِ حیات‘ میں محمد حسین آزاد نے دی ہے۔ وہ کہتے ہیں :’’کیا اُسے سوبرس آگے والوں کی باتیں سنائی دیتی تھیں کہ جو کچھ اس وقت کہا، صاف وہی محاورہ اور وہی گفتگوہے جو آج ہم تم بول رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ قبولِ عام نے اسے ہاتھوں میں لے کر آنکھوں پررکھا اور آنکھوں نے دل وزبان کے حوالے کیا۔ اس نے خواصِ اہلِ سخن کی تعریف پر قناعت نہ کی بلکہ عوام جو حرف بھی نہ پہچانتے تھے، وظیفوں کی طرح حفظ کرنے لگے۔ اربابِ نشاط نے محفلوں میں اس کی نغمہ سرائی کرکے لوگوں کو رُلایا۔ ‘‘

        میرحسن نے زبان کا جویہ تجربہ کیا اُس کے کئی اسباب اور بھی ہیں۔ ’ سحرالبیان‘ میں موجود زبان ایک زندہ تحریر ہے۔ وہی تخلیق وقت اور حالات کی الٹی رفتار کے باوجود اپناوجود قائم رکھ سکتی ہے جس میں نہ صرف اپنے زمانے کو سمجھنے کی صلاحیت ہو بلکہ آنے والے دور کی دھڑکنیں بھی موجود ہوں۔ میرحسن کو میرؔ کی رفاقت ملی تھی اور اپنے تذکرے میں انھوں نے میرؔ کی اہمیت کا اقرار کیا۔ میرؔ کے لسانی تجربے سے بھی وہ واقف ہوں گے۔ اس لیے زبان اور طرزِ ادا کو انھوں نے کسی جامد شَے کی طرح نہیں دیکھا۔ زبان بھی زندگی بہ داماں ہوتی ہے اور اُس کی نبض کی رفتار بھی شمار کی جاسکتی ہے۔ ’سحرالبیان‘ اس پہلو سے ایک ایسی بے مثال کتاب ہے جس میں زندگی کی ہزار کروٹیں موجود ہیں۔ زندگی سے بھری ہوئی یہ تحریر صرف اپنے کرداروں کے بَل پر نہیں کھڑی ہوتی۔ ’ سحرالبیان‘ کے کردار اس لیے ذکرکا محور بنتے ہیں کیوں کہ انھیں کے منہ سے میر حسن نے بیان کے وہ اچھوتے اور زندہ وتابندہ نمونے پیش کیے ہیں جن کا بدل اردو شاعری میں نہیں۔

        انسانی شبیہوں کو احساسات وجذبات کے مرقعے کی طرح پیش کرنے میں میرحسن نے اپنی تمام ترتخلیقی جلال آمیزیاں صَرف کردی ہیں۔ خاص طور پر بدرِ منیر، نجم النسا اور بے نظیر کی زندگی میں جب کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے، اُس وقت میرحسن کا قلم بہت تیزروی کے ساتھ چلنے لگتا ہے۔ عام طور پر ناقدین نے میرحسن کو ملاقات اور وصل کی تصویر کشی کا ماہرمانا ہے لیکن سچّی بات تو یہ ہے کہ میر حسن عشق وعاشقی سے متعلّق کسی بھی کیفیت کا بیان موزوں زبان میں کرسکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال بدرِ منیر کے وہ محسوسات ہیں جب اسے پتا چل چکا ہے کہ بے نظیر اب لوٹ کر نہیں آنے والا ہے:

دوانی سی ہرطرف پھرنے لگی

درختوں میں جاجا کے گِرنے لگی

ٹھہرنے لگا جان میں اضطراب

لگی دیکھنے وحشت آلودہ خواب

تپِ ہجر گھر دل میں کرنے لگی

دُرِ اشک سے چشم بھرنے لگی

خفا زندگانی سے ہونے لگی

بہانے سے جاجا کے سونے لگی

تپِ غم کی شدّت سے پھر کانپ کانپ

اکیلی لگی رونے منھ ڈھانپ ڈھانپ

نہ اگلا سا ہنسنا نہ وہ بولنا

نہ کھانا نہ پینا نہ لب کھولنا

جہاں بیٹھنا، پھر نہ اٹھنا اسے

محبّت میں دن رات گھٹنا اسے

کہاگر کسی نے کہ بی بی چلو

تواٹھنا اسے کہہ کے ہاں جی چلو

جوپوچھا کسی نے کہ کیا حال ہے

تو کہنا یہی ہے جو احوال ہے

کسی نے جو کچھ بات کی بات کی

پہ دن کی جو پوچھی کہی رات کی

کہا گر کسی نے کہ کچھ کھا ئیے

کہاخیر بہتر ہے منگوائیے

کسی  نے   کہا   سیر    کیجے    ذرا

کہا سیر سے دل ہے میرا بھرا

جو پانی پلانا تو پینا اُسے

غرض غیر کے ہاتھ جینا اُسے

        ’سحرالبیان‘ کا بڑا حصہ عشق و عاشقی کی کیفیات پر منحصر ہے، قصّے کے بیان میں میر حسن نے اس کے اجزااس طرح سے ترتیب دیے ہیں کہ خواہش، ابتداے عشق، دیوانگی، وصل، جدائی اور آویز شیں تمام کیفیات قصّے کا عنصر بن گئی ہیں۔ جہاں ان میں اضافہ اور غیر متوقّع صورتِ حال کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہیں وہ مافوق فطری عناصر کا استعمال کرکے قصّے کے تحیّر اور دل چسپی میں اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ میرحسن عشق اور معمولاتِ زندگی کے بیش تر مظاہرکی تصویر کشی میں اس لیے کامیاب ہو جاتے ہیں کہ انھوں نے زبان کی عوامی نبض پر اپنی انگلی رکھ چھوڑی ہے۔ اس لیے ان کے کردار اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی میں انسانی فطرت سے الگ نہیں دکھائی دیتے۔ میرحسن کی مہارتِ فن وہاں سب سے زیادہ اُجاگر ہوتی ہے جب وہ جِن اور پریوں کی غیرانسانی فضامیں پہنچتے ہیں۔ ’سحرالبیان‘ کا ایک بھی قاری شاید ہی اس راے کا ہوکہ اِس مثنوی کے غیرانسانی کردار انسانوں کی طرح برتاو نہیں کرتے۔ میر حسن نے جِن اور پَریوں کو بھی انسانی زندگی کے ترجمان کی طرح اس مثنوی میں پیش کرکے ایک بڑا فکری اور فنّی تجربہ کیا ہے۔

        ’سحرالبیان‘ میں بشردوستی اور انسانی ہمدردی کا ایک گہرا شعور ملتا ہے۔ قصّہ جس ملک کا بھی ہو، میرحسن اس کے عروج وزوال سے گہرے طور پر جڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ قصّے میں جب مصیبت آتی ہے تو میرحسن درد میں ڈوبنے لگتے ہیں اور جب جشن کا ماحول ہوتا ہے تو شاعر کی طبیعت رنگ میں ہوتی ہے۔ ’سحرالبیان‘ یوں ہی مقبول نہیں ہوئی۔ لکھنؤ کی تہذیب کے عکس کی وجہ سے بھی اِسے پورے ملک میں پڑھاجائے، یہ قرینِ قیاس نہیں لگتا۔ اس مثنوی میں انسانی ہمدردی اور مسائل کے بعد اُن سے نکلنے کے احساس ایسے گہرے جذباتی عناصرہیں جس نے ہندستانی سماج کو آخری اکائی تک متاثر کیا۔ شاہ وگداسب کے جذبات اِس مثنوی کے بیان میں سمٹ آئے ہیں، اسی لیے لوگوں نے اپنی آرزوؤں اور تمناؤں، محرومیوں اور ناآسودگیوں سب کا محور مان کر ’سحرالبیان‘ کو عزیز جانا۔ اسی کیفیت نے اس مثنوی کو مقبولیت کے آسمان تک پہنچایا۔ یہ بات نہ قطب مشتری میں ہے اور نہ گلزارِ نسیم میں۔ مرزا شوق کی مثنویاں بھی ان خوبیوں تک نہیں پہنچتیں۔ اس لیے اردو مثنوی پر جب بھی گفتگو ہوتی ہے، ہمارے لیے موضوعِ بحث ایک تنہا کتاب ’سحرالبیان‘ ہوتی ہے اور گذشتہ دو صددیوں میں اس معاملے میں کوئی فرق نہیں آیا۔

تبصرے