تبصرۂ کتبدیگر نثری اصناف

شعری مجموعے ’ظہورِ غزل‘ کا تنقیدی مطالعہ

ابراہیم افسر

 عشق کی چاشنی میں ڈوبے ہوئے اشعار کو عموماً قارئین اور وعوام کے ذریعے سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ عشقیہ شاعری ان دونوں کے دل اور جذبات کے قریب ہوتی ہے۔جہاں تک اُردو کی غزلیہ شاعری کی بات کی جائے تو اس میں کوئی شک اور دو رائے نہیں کہ صرف اور صرف عشقیہ شاعری کا جادو قدیم اور جدیددور میں قاری اور عوام دونوں کے سر چڑھ کر خوب بولا ہے۔قدیم شاعروں میں ہمارے سامنے بارہ پیاریوں کے شاعر قلی قطب شاہ اوراُردو غزل کوایک نئی سمت اور جہت عطا کرنے والے ولیؔ دکنی کا عشقیہ کلام موجود ہے۔ جب ان دونوں بلند پایہ شاعروں کے کلام کو پڑھا اور سُناجاتا ہے توقاری کے ذہن میں ’’عشق‘‘کا الگ ہی تاثر قائم ہوتا ہے۔

اسی طرح خدائے سخن میر تقی میرؔ کی غزلیہ شاعری کا چرچا اور غلغلہ ایک زمانہ گزر جانے کے بعد بھی اُردوحلقوں میں اپنی انفرادیت، اہمیت اور مقبولیت بنائے ہوئے ہے۔اُردو غزل نے ہی دہلی اور لکھنؤ کی ادبی مسافت کو کم کیا۔دہلی کے اُجڑنے کے بعد لکھنوکواپنا ادبی ٹھکانا بنانے والے شاعروں نے دہلوی اور لکھنوی رنگ کو یکجا کراُردو غزل میں ایک نیا تجربہ پیش کیا۔جو بہت مقبول ہوا۔ ترقی پسندد تحریک کے عروج کے دورمیں، جب غزلیہ شاعری کو متروک اور بے معنی قرار دیا جا رہا تھا تو ایسے پُر آسوب ماحول میں بھی غزل گو شاعروں نے اپنے منفرد لب و لہجے سے غزل کی آبرو اور وقارکو نہ صرف بر قرار رکھا بل کہ اسے حیاتِ جاودانی بھی عطا کی۔

در حقیقت یہ دور اُردو غزل کی آواز کو معدوم کرنے والا تھا۔ لیکن حسرتؔ موہانی، مجروحؔ سلطان پوری، جگرؔ مرادآبادی، روشؔ صدیقی،شکیل ؔ بدایونی،معین احسن جذبیؔ،اور حفیظ ؔ یرٹھی جیسے قادر الکلام شاعروں نے اُردوغزل کے دامن میں نئے نئے رنگ بھرکر اسے قوسِ قزح کی شکل میں دُنیائے ادب کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح غزل نے اُردو کے دامن کو نہ صرف مالا مال کیا بل کہ اسے اُردو ادب کی ہر دل عزیز صنف کا تمغہ بھی دلایا۔یہاں یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ اُردو غزل پر ہی سب سے زیادہ اُنگلی ا‘ٹھائی گئی۔کسی نے اسے ’بے وقت کی راگنی‘‘کہا تو کسی نے اسے ’’سنڈاس کی بد بو‘قرار دیا تو کسی نے ’غزل کی گردن کو بلا تکلف اُڑا دینے ‘کی بات کی۔لیکن ان سب باتوں کے درمیان اُردو غزل کے شیدائی بھی صف آور ہوئے اور انھوں غزل کا خوب دفع کیا۔کسی نے اسے تاج محل سے تعبیر کیاتو کسی نے اسے ’اُردو شاعری کی آبرو ‘کہااور کسی نے اسے ’عطر کی خوشبو کے مصداق ‘کہا۔اس طرح اُردو غزل مخالفین کے ہر وار کو سہتے ہوئے اپنی مقبولیت میں روز بہ روز اضافہ کرتی گئی۔یہاں میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم اُردو ادب سے غزل کو ہٹا دیں تو کیا واقعی اُردو ادب، اُردو ادب ہی رہے گا ؟میں سمجھتا ہوں اگر ایسا کیا گیا تو یہ ’بے روح ‘والے مردہ جسم کی مانند رہے گا۔

موجودہ دور میں اُردو ادب کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کے ماہرین اور شائقین کے درمیان غزل کو سب سے مقبول ترین اور پسندیدہ صنف کا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔سیاسی رہنماؤں کے علاوہ با اختیار اور سرکردہ افرادکا اپنی بات کو با اثر اور وزن دار بنانے کے لیے اُردو غزل کے منتخب اشعار کا سہارا لینا اب عام بات ہو گئی ہے۔پارلیامنٹ ہو یا سیاسی مجمہ، عوامی خطاب ہو یا انفرادی تقریر،عدالت کے فیصلے ہوں یا سرحد پر نگہ بانی کرنے والے ہمارے فوجی، ہر جگہ موزوں اور مناسب اشعارسے اپنی بات کو موثر طریقے سے ہیش کیا جاتا ہے۔اشعار سے اپنی بات کو براہ ِراست کہنے کا رواج نیا نہیں ہے۔ جنگِ آزادی میں اُردو اشعار نے اتنی دھوم مچائی کہ حکومتِ وقت کو ان اشعار کے ساتھ ساتھ شعری مجموعوں پر بھی پابندی عائد کرنا پڑی۔حال ہی میں ایک سروے کے مطابق مترنم غزل اگر کسی مریض کو سنائی جائے تواس کی بیماری کودورانِ علاج بہت جلد قابو میں کیا جا سکتا ہے۔ایسا ماہرین اور سائنس دانوں کا ماننا ہے۔

   اس مقالے میں راقم الحروف جس جواں سال شاعر کی غزلیہ شاعری کے تغزل اور اس کے فن پر تنقیدی گفتگو کرے گا اُسے اُردو ادب میں ڈاکٹر ظہور احمدظہورؔ سہارن پوری(پیدایش 20؍جنوری1975ء )کے نام سے جانا جاتاہے۔موصوف ایک مدّت سے گیسؤ غزل سنوار رہے ہیں ۔ان کی شاعری ملک کے موقر ادبی رسائل و جرائد کے صفحۂ قرطاس کی زینت بنی ہوئی ہے۔موصوف کی غزلیہ شاعری میں موجود نغمگی، جاذبیت اور روحانیت کا جادو قاری ہر وقت محسوس کرتا ہے۔غزل سے والہانہ محبت کے سبب موصوف نے اپنی عمر غزل کی خدمت کے لیے وقف کر دی ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ موصوف غزل کے اسیر ہوگئے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ابتدا سے ہی غزل ان کا اوڑھنا اور بچھونا بنی ہوئی ہے۔موصوف نے طبیب کے پیشے کے ساتھ اُردو معلمی کا عہدہ بھی سنھبال رکھا ہے۔ غزل سے والہانہ عشق کا یہ حال ہے کہ دورانِ ملازمت اور مریضوں کا علاج کرتے وقت ان کے ذہن میں غزل کے مصرعے گردش کرتے رہتے ہیں ۔اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجیے۔

اے چارہ ساز تو یہاں بیٹھا ہے چین سے

حالت وہاں مریض  کی  سنگین  ہو  گئی

اچھی شاعری کرنے کے لیے اچھا انسان ہونے کے ساتھ ساتھ شعری مشق، ابہام و تفہیم میں امتیاز،شعورِ علم، مطالعہ اور فکر و تامل کا احساس کے ساتھ خیالات کی پاکیزگی کاہونا بھی لازمی ہے۔فکری بالیدگی اور شاعری کا بلند ترین معیار ہی شاعر کو ممتازاور اس کی شاعری کومقبول بناتا ہے۔یعنی شاعر اپنے عہد اور معاصرے کا ترجمان ہوتا ہے۔ وہ اپنے عہد کی ادبی، سیاسی، سماجی اور خانگی حالات کا بہ غور مطالعہ کرتا ہے۔ اس لیے بہترین شاعری وہی انسان کر سکتا ہے جس کا ذہن ہر طرح کی سازشوں سے عاری اور پاک صاف ہو۔معاشرے میں لوگوں سے مل جل کر رہتا ہو۔ان کے دکھ درد میں شانہ بشانہ شامل ہوتا ہویہاں تک کہ سماج کا غم اس کا ذاتی درد بن جائے، تبھی وہ بہترین غزل یا اشعار تخلیق کر سکتا ہے۔سماج کے مسائل کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ اور تجزیہ کرنا، ساتھ ہی اپنی شاعری میں ان مسائل کو پیش کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔لیکن میں ظہور احمد کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے اپنی شاعری میں مذکورہ بالا امور کو بھر پور جگہ دی ہے۔ عوامی مسائل کی نمائندگی انھوں نے اس وجہ سے بھی کی کہ ان کا براہ راست تعلق عوام سے ہے۔بقول میر تقی میرؔ   ؎

شعر میرے ہیں سب خواص پسند

پر  مجھے گفتگو  عوام  سے  ہے

اسی طرح ظہور احمد نے عوام کی نمائندگی حاصل کرتے ہوئے کہا   ؎

پہلے مجھے  دنیا  نے  پرکھا  ہے

تب کہیں جا کے مرے ساتھ ہوئی

ظہور احمد کو شاعری وراثت میں ملی۔ان کے والدڈاکٹر جمیل احمد جمیلؔ جوبیک وقت سائنس داں، مؤرخ اور خوش فکر شاعر ہیں ۔یہاں تک کے موصوف کے خُسرعبدالحئی نسیمؔ نگینوی بھی شعری ذوق فرماتے ہیں ۔اس طرح ان کی غزلیہ آب یاری کو شہرت ودوام کو بامِ عروج پر پہنچانے میں ذاتی مشق اورکاوش کے علاوہ ان دو نوں خانوادوں کا کردار نمایاں ہے۔انھیں غزل کہنے کا ذوق شوق بچپن سے ہی تھا۔ گھر پر ادبی ماحول نے اسے مزید تقویت بخشی۔ابتدا میں والدِ محترم نے ان کے اشعار پر اصلاح دی۔ بعد میں خود ہی غزلیہ اشعار پر ذاتی مشق کرنے لگے۔اس طرح ذاتی مشق میں اتنی پختتگی آ گئی کہ ’’ظہورِ غزل‘‘کی شکل میں ان کا پہلا شعری اور غزلیہ مجموعہ2017ء میں منظرِ عام پر ظہور پذیرہوا۔اس مجموعے میں ایک حمد اور دو نعت کے علاوہ 107غزلیں شامل ہیں ۔یہ غزلیں در اصل ان کی تقریباً25سالہ شعری مشق کا سرمایہ اور اثاثہ ہیں ۔ان غزلوں میں موصوف نے بقولِ مولاناالطاف حسین حالیؔ ’’کائنات کا مطالعہ، تخیل اور تفحص الفاظ‘‘کو سامنے رکھا ہے۔حیات اور چمن کی آمیزش اور امتزاج اور استعارہ ان کے اشعار میں جا بجا ملتاہے۔چمن یعنی زندگی کی خوش طبعی کا موجب ہوتا ہے اور حیات ایک بندھن سے آزاد ہوکردوسری ابدی دنیا یعنی موت کی علامت تسلیم کیا گیا ہے۔ موصوف نے کائنات کا مطالعہ کر ان دونوں بلند پایہ تصورات کو اپنے تخیل میں فلسفیانہ انداز میں یوں باندھا ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

چمن کی سیر کرو شوق سے،مگر  دیکھو

کسی شگفتہ کلی کو  مسل  نہیں  دینا

حیات کو ہی سمجھتے رہے اجل  ہم  تو

اجل کو ہم نے کبھی بھی اجل نہیں جانا

 اپنے ایک اور شعر میں ظہور احمد نے زندگی کی تلخ حقیقت کو بیاں کرتے ہوئے، یہاں تک کہ اپنی بات کومعصوم انداز سے واضح کرتے ہوئے زندگی اور موت کے دبیز فرق کوبغیر کسی لاگ لپیٹ اورسیدھے سادے مگر دل چسپ انداز میں لفظوں کی بھول بلیوں سے بالاتر ہو کر یوں پیش کیا   ؎

اے اجل کس کو لینے آئی  ہے

پا چکے  ہم  وفات  پہلے  ہی

اے ظہورؔ اِس حیاتِ فانی میں

چند خوشیاں ہیں غم  زیادہ  ہیں

مذکورہ بالا اشعارکی قرآت کرتے ہوئے ہمیں شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ کی مشہور زمانہ غزل کے یہ اشعار خودبہ خود یا د آ جاتے ہیں جن میں موت اور زندگی کو ایک رحمت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ملاحظہ کیجیے دو اشعار۔

 لائی حیات، آئے، قضا لے چلی،چلے   

   اپنی خوشی نہ آئے، نہ  اپنی  خوشی  چلے

ہو عمرِ خضر بھی تو کہیں گے

بہ وقتِ مرگ  ہم کیا رہے یہاں، ابھی آئے ابھی چلے

اوراسی طرح میر ببّر علی انیسؔ کی رباعی جس میں زندگی اور موت کی کشمکش کے ساتھ دنیا،جوانی اور بڑھاپے کے فلسفے کو آسان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے، کی یاد آ جاتی ہے۔میر انیسؔ کی مشہور رباعی ملاحظہ کیجیے۔

دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی   

   ہر چیز یہاں کی آنی جانی  دیکھی

جو آکے نہ جائے وہ بُڑھاپا دیکھا    

   جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی

  اگر ہم ظہور احمد کی غزلوں میں جمالیات اور پیکر تراشی کی بات نہ کریں تو یہ ان کے کلام کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔کسی بھی غزل گو شاعر کی سب سے بڑی خوبی اس کی غزلوں کی جمالیات ہوتی ہے۔وہ اپنے محبوب کی ایک ایک ادا کا بیان نئے نئیانداز اور طریقوں سے کرتا ہے۔شاعر کواپنے محبوب کا جسم ایک ترشہ ہوا مجسمہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں پر یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ شاعر اپنے محبوب کو محبت کا مجسمہ مان کراس کی ہر ادا، نازو نکھرے کو اتخیل کی چاشنی میں ڈبوکرمنفرد لب و لہجے کے ساتھ بیان کرتا ہے۔اس طرح شاعر ایک سنگ تراش یا مصور کا کام بھی کرتا ہے۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ محبت میں غرق اور فنا ہو کر یا اپنی ہستی اور وجود کوپیوندِ خاک کرکے، اس کی گہرائی اور گیرائی میں غوطہ لگاکر ہی لعل و گوہر کے مترادف غزلیں تخلیق ہوتی ہیں ۔اپنے محبوب کی خدمت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا اس کے لیے باعثِ فخر ہے۔ تبھی تو بات بات میں وہ یہی خواہش ظاہر کرتا ہے کہ  ؎

نہ جانے کتنوں کے سر کٹ گئے محبت میں

مزہ تو جب ہے کہ تو بھی شہید ہو  جائے

  یہاں شاعر عشق کی بے لوث اور غیر یقینی عقیدت میں ڈوب کر وہ اپنی حقیقت اور اپنے حقیقی وجودکوبھی بھول جاتا ہے اور اپنے محبوب کے نقشِ قدم پر اپنی ہستی مٹانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اس طرح ’’محبت زندہ آباد ‘‘کا فلک شغاف نعرہ بلند کرتے ہوئے وہ کلمات بھی ادا کرتا ہے جسے ہم عشقِ معراج سے تعبیر کر سکتے ہیں ۔یہ کلمات اس کے وجود کو ریزہ ریزہ کرکے حیاتِ نو یا حیاتِ جا ودانی عطا کرتے ہیں ۔ظہور احمد نے اپنی غزلیہ شاعری میں عشق کے حسنِ جمال کی انتہا کو بیان کرتے ہوئے کہا۔

جہاں اُن کے نقشِ قدم دیکھتا ہوں

وہیں سر جھکانے کو  جی  چاہتا  ہے

ظہور احمد نے بھی اپنی غزلوں میں جمالیات کو بھرپورجگہ اور ترجیح دی ہے۔ ان کی غزلوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں جمالیات کو اولیت اور فوقیت حاصل ہے۔حسن اور عشق کے جمال کی تعریف اور توصیف کئے بغیر بہترین اشعار کا وجود میں آنایا تخلیق کرنا نا ممکن ہے۔اس معاملے میں ظہور احمدکی کاوش قابل ستائش ہیں کہ انھوں نے جمالیات میں ڈوبی ہوئی غزلوں میں نئے موضوعات کو جگہ دی۔انھوں نے اپنے اشعار میں فکری جمالیات کو وسعت دیتے ہوئے غزلوں میں سہلِ ممتنع کا تنوع پیدا کیا۔ان سے قبل بھی شاعروں نے اپنے یہاں اس طرح کی ترجیحات کو اولیت اور فوقیت دی ہے۔لیکن ہر شاعر کا اپنا علاحدہ اندازِ بیان ہوتا ہے۔ شاعر اپنی جاں فسانی اور کاوش میں کہاں تک کامیاب ہوا یہ تو آنے والا وقت اور نقاد ہی طے کرے گا۔ لیکن ظہور احمدنے اپنی ذات کو کسی دائرے میں قید نہ کرتے ہوئے اپنی راہ الگ نکالی ہے۔معاملہ چاہے کسی بھی طرح کا ہو سادگی ان کی خصوصیت ہے۔یہی سادہ پن ان کا غزلوں اور شاعری کاطرۂ امتیاز ہے۔یہ خصوصیت انھیں اپنے ہم عصروں خاص کر غزل گو شاعروں کی صف میں علاحدہ کھڑاکرتی ہے۔ ان کی قوتِ تخیل کی پروازاشعار کے جمالیات میں نکھار پیدا کرتی ہے۔جمالیات سے سرشار ایسے ہی چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔

خدا نے خوب بنایا ہے  آپ  کا  چہرہ

کہ مثلِ چاند چمکتا ہے  آپ  کا  چہرہ

ہر ایک چہرے سے اچھا ہے آپ کا چہرہ

کہا یہ جس نے بھی دیکھا ہے آپ کا چہرہ

کسی بھی چہرے پہ  یہ  حسن  یہ  نکھار

حضوررشکِ زمانہ  ہے  آپ  کا  چہرہ

جب ظہور احمد نے چہرے کے جمال کو درجۂ کمال تک پہنچا ہی دیا ہے تو بھلا آنکھوں کا جمال اور کمال وہ اپنی غزلوں میں کیوں کر نہ لاتے۔ چہرہ اور آنکھ کسی بھی انسانی جسم کے وجود کو خوب صورتی کے پیکر میں ڈھالنے کے لیے اشد ضروری شے ہیں ۔کسی نے آنکھ نیچی کرنے کے عمل کو حیا سے تعبیر کیا تو کسی نے نظریں اُپر اُٹھنے کی ادا کو قضا سے تعبیر کیا۔میرا ایسا ماننا ہے کہ ان دونوں (آنکھ اور چہرہ) کے بناؤ سنگار پر غزالہ اپنا سب سے زیادہ وقت صرف کرتی ہیں ۔شاعروں نے بھی سراپۂ جسم میں سب سے زیادہ تعریف انہی دونوں کی کی ہے۔اب آنکھوں کا کیا قصور جب دونوں جانب سے اشارے ہوں ۔ اشاروں کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے بھی آنکھوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔آنکھوں کے جمال کا جادو ہر جواں دھڑکن کو عشق کے ٹھاٹھے مارنے پر مجبور کرتا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جب عشق کی انتہا میں ڈوب کر عاشق اپنے آپ کو رانجھا،مجنوں اور فرہاد تصور کرنے لگتا ہے۔معاملہ جب آگے بڑھ جاتا ہے تووہ اپنی کل کائنات کو مغمومیت کا سراپا مان کر شاعر بھی بن جاتا ہے۔اگر شاعر کو عشق ہو جائے تو سونے پر سہاگا۔یہاں پر مرزا غالبؔ کے اس شعر کو بھی ذہن نشیں کر لیجیے جس میں انھوں نے اپنے محبوب کو نگاہوں سے دیکھنے کی خواہش کو ظاہر کیاہے۔

اِک نو بہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ

چہرہ فروغِ مے سے گلستاں کیے ہوئے

عشق کی انتہا اور محبوب کے دیدار کرنے کے بے قرار کر دینے والے عمل کو خدائے سخن میر تقی میرؔ نے اپنی غزل میں یوں باندھا۔

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں

 حالت اب اضطراب کی سی ہے

میں جو بولا کہا کہ  یہ  آواز

  اسی خانہ  خراب  کی  سی ہے

دیوانے پن کی اسی کیفیت اورعشقیہ جنون کی حالتِ گیر اور اس کے عشقیہ جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ظہور احمد نے اسے لفظوں کا جامہ پہناتے ہوئے،ان تمام واقعات کو غزل کے قالب میں ڈھال کر قاری کو واہ اور آہ کہنے پر مجبور کیا ہے۔آنکھوں کے جمال،اس کی نفاست، نزاکت، سلاست، معصومیت،قضا،حیا اور اس کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے موصوف نے اپنی بات کومستی اور رندانہ انداز میں کچھ اس طرح کہا   ؎

دیکھ کر آپ کی پیاری آنکھیں

محوِ حیرت ہیں یہ ساری آنکھیں

رو ہی سکتی ہیں کسی کے غم  میں

کیا کریں اور بیچاری آنکھیں

جو بھی دیکھے یہ کہے  بر  جستہ

کتنی قاتل ہیں تمہاری آنکھیں

آج احساسِ گنہ ہو  ہی  گیا

کھُل گئیں آج ہماری آنکھیں

’’ظہورِ غزل‘‘کی ورق گردانی کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہور احمد نے نیچرل شاعری پر بھی خوب خامہ فرسائی کی ہے۔قدرت کے حسین اور خوب صورت نظاروں کو انھوں نے اپنے خیالات کے اظہار کا وسیلہ بنایا ہے۔ان اشعار میں ان کی نیچر سے والہانہ محبت، اپنایت اورسرزنش کا ظہور ہوتا ہے۔قدرتی علامات کا استعمال کرنے سے ان کی شاعری میں فنی پختگی کا رچاؤاور شعری جمال کے ساتھ کلاسیکل اندازپیدا ہو گیا ہے۔اس طرح موصوف اپنی شاعری میں نیچر سے عقیدت رکھنے والے انسان کے طور پر ایک آفاقی پیغام بھی دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔نیچر کی اہمیت و افادیت کا بر سبیل تذکرہ اس بات کی علامت ہے کہ انھیں ہاڑ مانس کے معشوق کی طرح باغ،باغباں، چمن،جگنو،پھول، فصلِ بہار، فصلِ خزاں، قطرہ، سمندوغیرہ سے بھی سچی محبت اور والہانہ عقیدت ہے۔مذکورہ باتوں کو شعری پیکر تراشی کے ذریعے اپنے سادہ لب و لہجے میں بیان کرتے ہوئے موصوف کہتے ہیں   ؎

شاخ سے ٹوٹنے ہی والا  ہوں

باغباں  آ  ذرا  سنبھال  مجھے

جس پھول کی تقدیر میں رونا ہی لکھا  ہے

اُس پھول سے ہنسنے کی ادا مانگ رہا ہوں

چمن میں باغباں ہے اور میں ہوں

وہی فصلِ خزاں ہے اور میں  ہوں

کیا عجب منظر ہے دیکھو توظہورؔ

چاندنی میں پھول پر شبنم  نہیں

جب یہ قطرہ کبھی دریا  ہوگا

کتنی حیرت میں زمانہ ہوگا

کل اندھیرا ہی رہا آنگن میں

چاند ہی  نکلا  نہ  جگنو  نکلے

زندگی بھر تمام اہلِ چمن

انتظارِ بہار کرتے  ہیں

ظہور احمد نے مرزا غالبؔ،بشیر بدر ؔاور احمد فرازؔجیسے معتبراور قابلِ احترام شاعروں کی زمین میں بھی غزلیں کہیں ہیں ۔یہ ان کے وسیع مطالعے کی ضمانت اور دلالت ہے۔اس طرح ان کی شاعری میں فنی رچاؤ اورنکھار پیدا ہوا ہے۔نئی نئی تمثیلوں کا بھی انھوں نے اپنی غزلوں میں بہترین اندازمیں اور حسبِ موقع استعمال کیا ہے۔جہاں تک ان کی شاعری میں تغزل کی بات ہے تو تغزل ان کے یہاں شروع سے لے کر آخر تک موجود ہے۔ تغزل میں ڈوبی غزلیں اتنی دل کش اور دل نشیں ہیں کہ قاری ان کے سحر سے اپنے آپ کو بندھا ہوا محسوس کرتا ہے۔ان کی غزلیں چھوٹی چھوٹی بحروں میں ہیں ۔ انھیں قاری جلد ہی ذہن نشیں کر لیتا ہے۔نغمگی اورترنم ان کی شاعری کاخاصہ ہے۔اس اعتبار سے ان کی غزلیں مترنم شاعری کی بہترین مثال اور اعلا نمونہ ہیں ۔استعارات اور تلمیحات کی مثالیں بھی ان کی شاعری میں بہ درجہ اتم موجود ہیں ۔ان استعاروں اور تلمیحوں کے استعمال نے ان کے کلام میں جاذبیت پیدا کر دی ہے۔یہ تمام باتیں قاری کو اپنی جانب متوجہ کرانے میں کامیاب ہوئیں ہیں ۔سیدھاسادہ اور سپاٹ لہجہ ان کے فن کو تقویت اور پختگی عطا کرتاہے۔

  ظہور احمدکی شاعری میں سراب، شراب اور مستی کی اشعار پر جب نگاہ ڈالی جاتی ہے تو ان کے ایسے اشعار قاری کے ذہن کو ایک نئے سرور اورخمار میں سرشارکراس میں سر گوشی کا غوطہ لگانے پر مجبور کرتے ہیں ۔یہی خمار قاری کو مستی کی حسین وادیوں کی سیر کراتاہوا اپنی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں اِسے صرف ساقی، صراحی، رقص، سرور،خمار اور سر شاری کے ہی دیدار ہوتے ہیں ۔اس طرح ان کی شاعری میں ایک نیا رنگ، آہنگ اور لب و لہجہ پیدا ہوتا ہے۔جس سے قاری کے تخیل کی پرواز ساتویں آسمان پر جا پہنچتی ہے۔ان کی غزلوں میں عشق کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کے ساتھ ساتھ مے نوشی میں ڈوبے ہوئے انسان کی ترجمانی کلا سیکل اندازمیں کی گئی ہے۔اس طرزِ سخن اور طرزِ اداسے ان کے کلام میں جدّت، ندرت، سائستگی اور شگفتگی کا حسین سنگم بن گیا ہے۔میں اس موقع پر یہ بھی عرض کر دوں کہ ظہور احمد نے خمریات پر پند و نصائح سے کام لیتے ہوئے اپنی شاعری میں ایک داعی کا کردار بھی ادا کیا ہے۔کمال اس بات کا بھی ہے کہ موصوف نے فنی چابک دستی سے شاعرانہ صلاحیت کا استعما ل خوب صورت طریقے سے کیا ہے۔مے نوشی کی لت جب شاعر،ادیب یا کسی بھی انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے اس کا بیان سرور جہان آبادی کے اس شعر سے سمجھا جا سکتا ہے۔

بجائے مئے دیا پانی کا اک گلاس مجھے

سمجھ لیا مرے ساقی نے بد حواس  مجھے

خمریات کے موضوع پرموصوف کے مجموعے سے چند اشعاجن میں شاعر کی حالت گیر کا تذکرہ مے کے پیالے کو ہاتھ میں لے کر کیا گیا ہے آپ کیِ خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں   ؎

جب ہم کبھی شراب  پیتے  ہیں

بے حد و بے حساب  پیتے  ہیں

آج اُس جام میں  پلا  ساقی

جس میں عزت مآب پیتے ہیں

اک سمندر کی  پیاس تھی

وہ ذرا سی پلا کے بیٹھ گئے

ساقی نے  پلا دی تھی  مست  نظر  سے

ہم آج تلک پھرتے ہیں چکرائے ہوئے

شراب پی کے بہکنا تو روز ہوتا ہے

کہ آج پی کے سنبھلنے لگو تو  کیسا  ہو

میرا  دیکھا  ہوا  ہے  میخانہ

دور گھر سے ذرا  ہے  میخانہ

ہم تو سُن کے آئے ہیں ساقی

تیرا سب سے جُدا ہے میخانہ

بس اب تھام بھی لے ہمیں بڑھ کے ساقی

سرِ میکد ہ  لڑ  کھڑائیں  کہا ں   تک

اس مقالے میں، میں یہ تحریر کر چکا ہوں کہ ظہور احمد نے احمدفرازؔ کی زمین میں بھی غزلیں کہیں ہیں ۔میرا مقصد یہ بتانا اور جتانا بالکل نہیں ہے کہ ظہور کی غزلوں میں احمد فرازؔ کا رنگ شامل ہے بل کہ یہاں یہ باور کرانامقصود ہے کہ ایک شاعر دوسرے شاعر کے خیال کو کس طرح اپنے رنگ، ڈھنگ،اسلوب اور نئے لب و لہجے کے سانچے میں ڈھال سکتا ہے۔ اب میں آپ کے سامنے احمد فرازؔ کی مشہور زمانہ غزل ’’رنجش ہی سہی‘‘کے اشعار نقل کر رہا ہوں رتاکہ ظہور احمد کے کلام کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے کے لیے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے  آ

کچھ تو میرے پندارِ  محبت  کا  بھرم  رکھ

تو بھی تو کبھی مجھ کو  منانے  کے  لیے  آ

پہلے سے مراسم نہ سہی  پھر  بھی  کبھی  تو

رسم  و  رہِ  دنیا  نھبانے   کے  لیے  آ

کس کس کو بتائیں گے جُدائی کا سبب  ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو  زمانے  کے  لیے  آ

اِک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم

اے راحتِ جاں مجھ کو رُلانے کے لیے  آ

اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں اُمیدیں

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے  کے  لیے  آ

اسی خیال کو ظہور احمد نے اپنے کلام میں منفردطریقے اور سادہ انداز میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔

چھوڑ   کر   قصے   پُرانے  آ    جا

پیار  کی   جوت   جلانے  آ     جا

اپنے  اِن  بخشے  ہوئے   زخموں   پر

کبھی    مر  ہم  تو   لگانے  آ   جا

تجھ کو روکے گی  یہ   دُنیا   سُن    لے

پُرسشِ  غم  کے  بہانے   آ    جا

میَں بہت دن سے خفا ہوں تجھ    سے

یا ر   اک   روز    منانے  آ     جا

یا تو لے  لے  تو مجھے   ساتھ   اپنے

یا  مرے   سا تھ   زمانے  آ    جا

مر  گیا  آج  ترے  غم   میں  ظہورؔ

اُس  کی  میت  کو  اُ ٹھانے  آ   جا

  اسی طرح ظہور احمد نے اپنی ایک اور غزل جس کا مطلع اس طرح ہے۔ ’’آپ اپنی دوا کرے کوئی چارہ گر کو خفا کرے کوئی ‘‘میں مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ کی غزل کے مصرعے ’’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی‘‘کی طرز اختیار کی ہے۔حالاں کہ ظہور احمدکی مکمل غزل میں مرزا غالب کی غزل کے چند اشعار کا ہی اطباع کیا گیا ہے۔اس کے بعد ظہور احمد نے اپنی روش کا رُخ دوسری جانب موڑ دیا۔اس اتباع میں ظہور احمدنے اپنی غزل میں لفظوں کے انتخاب کا خاص خیال رکھا ہے۔ موصوف نے اپنی غزل میں نگاہ،التجا،طبیعت، افسانہ، عطا، ساقیا اور دعا جیسی تراکیب کا بہ خوبی استعمال کیا  ہے۔جب کہ مرزا غالب کی غزل میں ابنِ مریم،دُکھ،قاتل،مدار،تیر کمان،زبان کٹنا،جنوں، خدا،غلط،خطا،حا جت مند،حاجت رو اخضر،سکندر،رہنما،توقع اور گِلا جیسے الفاظ کا اپنی غزل میں استعمال کیا ہے۔

 بہر کیف!ظہور احمد کے غزلیہ مجموعے کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ان کا شعری ذوق کسی نام و نمود کے لیے نہیں بل کہ خدمتِ اُردوزبان کے ساتھ ساتھ اپنے خانوادے کی روایت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔اس کی وضاحت کے لیے یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ موصوف کو شاعری سے جو بھی شغف اور دل چسپی رہی اس میں ان کے ذاتی مطالعے کی کار فرمائیاں اور خامہ فرسائی کا دخل زیادہ رہاہے۔ایسے نابغۂ روزگار شاعر کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔ کیوں کہ موجودہ حالات میں آج شاعری کے نام پر تُک بندی اور زبان کی خدمت کے نام پر کاروبار زیادہ ہو رہا ہے۔ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہے جو اُردو زبان کے نام پر روزگااور اعلا عہدے ر تو حاصل کر لیتے ہیں مگر اُردو کی خدمت کے نام پرصرف اور صرف دکھاوا کرتے ہیں ۔در اصل یہی لوگ اُردوزبان کے اصل قاتل اور دشمن ہیں ۔لیکن ظہور احمد صاحب کا کمال یہ ہے کہ ان کے سامنے زبان کی خدمت اور ذاتی شعری مشق کے لیے روزگار کبھی مسئلہ بن کر رُکاوٹ نہیں بنا۔باری تعلی اور تقدیر پر انھیں مکمل یقین اوربھروسا تھا۔وسائل کی فراوانی انھیں خوب میسر رہی۔آج اُن کی کاوش اُردو دنیا کے سامنے ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ ان کا یہ شعری مجموعہ اُردو غزل کے فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت سے پذیرائی حاصل ضرور کرے گا۔آخر میں میں ظہور احمد ظہورؔ کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں ۔

شکریہ دوست گل فسانی کا

اِس محبت  کا  مہر بانی  کا

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close