دیگر نثری اصناف

عہدساز افسانہ نگار: جوگندرپال

احمد علی جوہر

جوگندرپال اردو کے صفِ اوّل کے افسانہ نگار ہیں۔ وہ 5/ستمبر 1925ء کو سیالکوٹ کے ایک گائوں ’’چاوناں ‘‘ میں پیدا ہوئے اوربی۔ اے تک کی تعلیم وہیں حاصل کی۔ 1947ء میں جب تقسیمِ ہند کا سانحہ پیش آیا تو وہ اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کرکے انبالہ آگئے۔ اس کا اثر ان کے فکروفن پر بھی پڑا۔ ان کے تخلیقی سفر کاآغاز شعرگوئی سے ہوا مگر کہانیوں سے طبعی مناسبت کی وجہ سے وہ بہت جلد اس کی طرف مائل ہوگئے۔ اردوافسانہ کے معتبر محقق مرزا حامد بیگ کے مطابق ان کا پہلا افسانہ ’’تعبیر‘‘ 1944ء میں مرے کالج میگزین میں شائع ہوا تھا۔ (1)۔ ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز ان کی کہانی ’’تیاگ سے پہلے‘‘ سے ہوا۔ یہ کہانی 1945ء میں شاہد احمد دہلوی کے مشہورومعروف رسالہ ’’ساقی‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔ جوگندرپال اردوادبی دنیا میں افسانہ نگار کی حیثیت سے اس وقت مشہور ومقبول ہوئے جب ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’دھرتی کا کال‘‘ کے عنوان سے 1961ء میں شائع ہوکر منظرِ عام پر آیا۔ اس مجموعہ کے علاوہ ان کے دیگر افسانوی مجموعوں میں ’’میں کیوں سوچوں ‘‘، ’’رسائی‘‘، ’’مٹی کے ادراک‘‘، ’’لیکن‘‘، ’’بے محاورہ‘‘، ’’بے ارادہ‘‘، ’’کھلا‘‘، ’’کھودوبابا کا مقبرہ‘‘ ہیں۔

جوگندر پال ایک طویل عرصہ سے بسترِعلالت پر تھے۔ بالآخر، بروز ہفتہ، 23/اپریل، 2016ء کو انھوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔ وہ اگرچہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے مگر اپنی بیش بہا ادبی تخلیقات کی وجہ سے وہ صدیوں ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ ان کا شمار اردو کے چند گنے چنے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے فکروفن کے نئے دریچے کھولے اور فن افسانہ نگاری میں وسعت پیدا کی۔ ان کے افسانوں میں موضوعات کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔ وہ اپنے افسانوں کے موضوعات براہ راست زندگی سے اخذ کرتے ہیں اور کرداروں کے مکالموں کے ذریعے اصل مسئلہ کی طرف کچھ اس طرح اشارہ کرتے ہیں کہ وہ قاری کے حافظہ کا حصّہ بن جاتا ہے۔ موضوعات کی پیش کش کایہ طریقہ جوگندرپال کی فکر کی گہرائی اور وسعت کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی انفرادیت کا پتہ دیتاہے۔ وہاب اشرفی ان کی افسانہ نگاری کے اس پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’جوگندرپال اپنے افسانوں کے موضوعات کے لیے زندگی کے مسائل کی طرف براہ راست رجوع کرتے ہیں اور ان پر اپنے کرداروں کی زبان سے خاصے تیکھے تبصرے کرواتے ہیں۔ ان کے افسانوں کا یہ تیور انھیں ایک فکری ساخت دے دیتا ہے اور ان کی انفرادیت نئے لکھنے والوں میں مسلم ہوجاتی ہے۔ ‘‘ (2)

جوگندرپال کی افسانہ نگاری کا ابتدائی زمانہ کینیا، جنوبی افریقہ میں گذرا۔ وہاں وہ ایک طویل عرصہ تک مقیم رہے۔ اس دوران انھوں نے وہاں کے لوگوں کی زندگی اور اس کی پیچیدگیوں کو بہت قریب سے دیکھا اور اس زندگی کے گوناگوں مسائل ومشکلات کو اپنے افسانوں میں سمونے کی کوشش کی۔ اس لیے ان کے ابتدائی افسانے افریقی زندگی اور ماحول کے عکّاس نظر آتے ہیں۔ ان افسانوں میں انھوں نے مشرقی افریقہ کے سیاسی اور سماجی ماحول کی عکّاسی کرتے ہوئے اس سرزمین پر انگریزوں کی لوٹ کھسوٹ اور انگریزوں کے ذریعے افریقیوں پر ہوئے مظالم واستحصال اور ان کی دُکھ بھری زندگی کو موثر انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ جوگندرپال جب جنوبی افریقہ سے مکمل طور پر واپس ہندوستان آئے تو وہ کچھ دنوں حیدرآباد میں رہے۔ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک اورنگ آباد پھر مکمل طور پر دہلی میں قیام پذیر ہوئے۔ انھوں نے ہندوستان کے چھوٹے بڑے مختلف شہروں کی زیارت کی۔ اس سے انھیں انسانی زندگی کو الگ الگ رنگوں میں دیکھنے کا موقع ملا، ان کے مشاہدہ میں وسعت پیدا ہوئی اور مختلف مسائل وموضوعات نے ان کے افسانوں میں جگہ پائی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کا کینوس وسیع نظر آتا ہے۔

جوگندرپال کی کہانیوں میں بیک وقت دو سطحیں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک وہ جو عام قاری کے ابلاغ کی سطح ہوتی ہے۔ دوسری وہ جو کہانی کی داخلی سطح ہوتی ہے۔ اس میں فکر کا پہلو غالب ہوتا ہے۔ یہ سطح کہانی کو اس کے ظاہری مفہوم سے آگے لے جانے کا مطالبہ کرتی ہے اور اس طرح کہانی میں ایک نئی معنویت پیدا ہوجاتی ہے۔

جوگندرپال نے سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ پر محیط اپنے افسانوی سفر میں کئی نمائندہ افسانے اُردوادب کو دیے جن میں ’’بُو‘‘، ’’رسائی‘‘، ’’مہابھارت‘‘، ’’کتھا ایک پیپل کی‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ’’بُو‘‘ میں اس حقیقت سے پردہ اُٹھایا گیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں کیسے نااہل ڈاکٹر عوام کے علاج ومعالجہ کی خدمات پر مامور کیے جاتے ہیں جن کی ساری توجّہ رشوت خوری اور کالے دھن کی کمائی پر ہوتی ہے۔ یہ نااہل ڈاکٹر اسپتال کی دوائی سے لے کر اوزار تک بیچ ڈالتے ہیں اور اپنی کمائی کے لیے عام انسانی جانوں کے ساتھ بھی کھیلواڑ کرتے ہیں۔ جب زندہ انسانوں سے ان کی ہوس پوری نہیں ہوتی ہے تو اسپتال میں پڑی لاشوں کو بھی فروخت کرنے کا کاروبار کرنے لگتے ہیں۔ افسانہ کا مرکزی کردار ڈاکٹر سروپ ہے جو سرکاری اسپتال کا ایک نااہل ڈاکٹر ہے۔ اسے رشوت کھانے اور کالے دھن کمانے میں بڑی مہارت ہے۔ اسے شراب کی زبردست لت لگی ہوئی ہے۔ انسانی واخلاقی اقدار اس کے لیے بے معنی ہیں۔ اسے اپنی بیوی بچّوں سے بھی محبّت وہمدردی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی پیاس ان سے بھی زندہ نہیں ہوتی۔ اس کی بیوی اس سے کہتی ہے۔

’’ارے او سرو، تمہارے بیوی ہے، پھول سی بچّی ہے ہم سے تمہاری پیاس زندہ کیوں نہیں ہوتی؟‘‘ پھر ناری کو یکلخت اپنی بے بسی پر غصّہ آنے لگتا ہے۔ ’’تم۔ ۔ ۔ ۔ تم مُردوں کے ڈاکٹر ہو سرو، تم کیا جانو، کسی بے کل روح کی بچی کھچی سانسیں اکٹھّی کرکے اسے اپنے پیروں پر کیسے کھڑا کیا جاسکتا ہے؟‘‘ (3)

اس اقتباس میں جوگندرپال نے نااہل اور بے ضمیر ڈاکٹر کی بے حسی پر بڑا گہرا طنز کیا ہے۔ اس افسانہ میں انھوں نے عصر حاضر کے انسان کی بے ضمیری پر ماتم کرتے ہوئے، سماج میں معدوم ہوتی ہوئی انسانیت کے المیہ کو فن کارانہ مہارت سے اُجاگر کیا ہے۔ ’’رسائی‘‘ میں جوگندرپال نے رشوت خوری، منافقت، ریاکاری اور چور بازاری جیسے مسائل کو بے نقاب کیا ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار رام پرشاد ہے جو بظاہر بڑا اچھا جیوتشی ہے مگر دراصل ایک جیوتشی کے بھیس میں وہ نشیلی اشیاء کی سوداگری کرتا ہے اور بہت سارے ممالک کا جاسوس ہے۔ اپنے اسی دھندے کی خاطر اس نے جیوتش کا پیشہ اختیار کیا ہوا ہے۔

’’اب آپ سے کیا پردہ؟ دراصل یہی دھندا کرنے کے لیے میں نے جیوتش کا پیشہ اختیار کر رکھا ہے۔ میرے پاس بے حساب کوکین، افیون، گانجا اور بھانت بھانت کی نشیلی جڑی بوٹیاں مشرقی ممالک سے پہنچتی ہیں اور میرے ایجنٹ میرے جیوتش کے پرستار بن کر آتے ہیں اور میرا مال فوراََ کلئیر ہوجاتا ہے۔ ‘‘ (4)

جوگندرپال نے اس افسانہ میں جاسوسی اداروں کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے عصر حاضر کی گھنائونی سیاست اور حکومت کی خودغرضانہ چالوں پر بڑا گہرا طنز کیا ہے۔ افسانہ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

’’ہمارے دور کا سارا کاروبار ’’ڈرگز‘‘ سے ہی چل رہا ہے۔ ہمارے فنانس منسٹرز اچھی خاصی ڈرگ لینے کے بعد ہی اپنی اپنی قوم کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہیں اور حزبِ مخالف کے ان گنت اعتراضات کا نہایت چین سے مسکرا مسکرا کر جواب دیتے ہیں۔ ‘‘ (5)

’’مہابھارت‘‘ میں جوگندرپال نے دورِ حاضر کی خواتین کے استحصال کی جھلک پیش کی ہے اور ’’کتھا ایک پیپل کی‘‘ میں سماجی ناہمواری، طبقاتی نابرابری اور نچلے اور پست طبقے پر ہورہے ظلم وستم کی پُراثر داستان بیان کی ہے۔ جوگندرپال نے اپنے بعض افسانوں میں شہری زندگی کے بہت اچھے نقوش کھینچے ہیں۔ ’’سواریاں ‘‘ اور ’’بازدید‘‘ کا شمار ان کے ایسے ہی افسانوں میں ہوتا ہے جن میں شہر کی ہنگامہ خیزی، مشینی زندگی اور اس کی مشکلات ومسائل کو دلکش انداز میں پیش کیا گیاہے۔

جوگندرپال نے سیدھے سادے بیانیہ انداز میں بھی افسانے لکھے ہیں اور بہت سے افسانوں میں علامتی طرزِ اظہار اختیار کیا ہے۔ ان کے علامتی افسانوں میں علامت بھرتی کے لیے استعمال نہیں ہوتی بلکہ وہ کہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے کامیاب علامتی افسانے خارجی زندگی کے وسیع تر مفہوم کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں تجریدیت کے تجربے بھی کئے مگر بہت جلد وہ اس تجربہ سے تائب ہوکر کہانی پن اور کردارنگاری کی طرف واپس لوٹ آئے۔

جوگندرپال کے بیشتر افسانوں میں فکر کا عنصر غالب ہے اور ان کا لب ولہجہ استفہامیہ ہے۔ ان کے اکثر افسانے قاری کے لیے سنجیدہ سوال چھوڑ جاتے ہیں اور انھیں غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں۔ ’’عفریت‘‘، ’’عمود‘‘، ’’وادیاں ‘‘، ’’کھودوبابا کا مقبرہ‘‘، ’’بیک لین‘‘، ’’اس طرف‘‘ وغیرہ اس نوع کے نمائندہ افسانے ہیں۔ جوگندرپال کا کمال یہ ہے کہ ان کے اس قسم کے افسانوں میں فکروفلسفہ اور استفہامیہ لب ولہجہ کی کارفرمائی کے باوجودکہانی میں بوجھل پن پیدا نہیں ہوتا بلکہ دلچسپی اور دلکشی کی کیفیت برقرار رہتی ہے۔ وزیرآغا ان کی افسانہ نگاری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’جوگندرپال ان ادیبوں میں سے ایک ہیں جن کی تحریروں میں سوچ کا عنصر روشنی کی درخشندہ گزرگاہوں کی طرح صاف نظر آتا ہے۔ ان کی فکر شبنم کی طرح شفاف اور خوشبو کی طرح تازہ ہے۔ یہ کسی فلسفے یا نقطئہ نظر سے ماخوذ یا اس کی تشہیر کا وسیلہ نہیں بلکہ اس کے حسی تجربات سے پھوٹی ہے۔ اور اسی لئے بے حد دلکش اور منفرد لگتی ہے۔ ‘‘ (6)

پروفیسر قمر رئیس، جوگندرپال کی انفرادیت پر یوں روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’فن کے معاملے میں جوگندرپال نے اس کی ریاضتی تعریف کو قابل اعتنا نہیں سمجھا اور انہوں نے اپنے تخلیقی شعور اور جمالیاتی وجدان پر زیادہ بھروسہ کیا اور اپنے مواد کو تخلیقی اظہار کی ایسی سطح سے پیش کیا کہ افسانہ کی روح سے تعرض کئے بغیر اس کی ایک الگ شناخت بن گئی ہے۔ افسانہ ہو یا ناول جوگندرپال کی ہر نئی تخلیق ایک نئی واردات، نئے تجربے کا مظہر ہوتی ہے۔ ان تخلیقات میں جو شئے مشترک ہوتی وہ ہے مصنف کی دردمندی، عصری مسائل کا ادراک اور عام انسان کے دکھ درد سے گہری وابستگی۔ وہ زندگی کے عام اور معمولی واقعات میں آسانی سے دوررس نفسیاتی اور تہذیبی حقائق کا مشاہدہ کرلیتے ہیں۔ ان کا وژن آفاقی ہے اور ان کے بیشتر افسانے ایک نئی جمالیاتی حسّیت کا احساس دلاتے ہیں جس سے ان کے فن کی منفرد شناخت قائم ہوتی ہے۔ ‘‘ (7)

 جوگندرپال کے افسانوں کے جائزے سے احساس ہوتا ہے کہ ان کے افسانوں میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک اچھے افسانہ نگار کے لیے لازمی ہیں۔ وہ کردار، واقعہ، قصہ پن اور پس منظر کے لوازم کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ پلاٹ کی تشکیل میں وہ ایک خاص معیار قائم رکھتے ہیں۔ وہ واقعات کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ افسانہ پڑھتے وقت قاری کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ کردارنگاری میں بھی ان کا فنّی شعور عروج پر ہے۔ وہ کردار کی داخلی وخارجی دونوں خصوصیات کو اُجاگر کرتے ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں ایک تخلیقی دنیا کو پیش کرتے ہیں اور فرضی واقعات کی مدد سے ایک ایسی صورتِ حال اُبھارتے ہیں کہ ان کی تصویر حقیقی نظر آتی ہے۔ زبان وبیان کے لحاظ سے بھی ان کے افسانے دلکش اور جاذبِ توجّہ ہیں۔ غرض یہ کہ انھوں نے اُردو افسانہ نگاری کے میدان میں اپنی فکری وفنّی مہارت اور اپنے فن کارانہ کمال کا ایسا مظاہرہ کیا ہے کہ ان کاشمار اپنے عہد کے بلندپایہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی افسانہ نگاری کا مطالعہ کرتے ہوئے، م۔ م۔ راجندر نے بڑی دلچسپ رائے کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔

’’جوگندرپال بلاشبہ اپنے عہد کے ایک ایسے جیالے اور پختہ کار افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اپنی لازوال تخلیقات سے اُردو افسانے اور ادب کو مالامال کیا ہے۔ ‘‘ (8)

جوگندرپال آزادی کے بعد کے ایسے نامور افسانہ نگار ہیں جو اپنی فکری وفنّی انفرادیت کی بنا پر اپنے معاصرین میں ممتاز مقام رکھتے ہیں اور اپنے منفرد اسلوب، موزوں تکنیک، دلکش اندازِ بیان اور استفہامیہ طرزِ اظہار کی وجہ سے واضح شناخت کے مالک ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوی فن سے اپنے معاصرین کے مقابلے میں سب سے زیادہ اہلِ ادب کو متاثر کیا ہے اور بعد کے افسانہ نگاروں پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس اعتبار سے انھیں اگر عہد ساز افسانہ نگار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

حوالے

(1) مرزا حامد بیگ، اُردوافسانے کی روایت، ناشر، عالمی میڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ، نئی دہلی، 2014ء، ص: 1025۔

(2) وہاب اشرفی، پال فن اور شخصیت، مشمولہ، جوگندرپال، ذکر، فکر، فن، مرتب، ارتضیٰ کریم، موڈرن پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی، 1999ء، ص: 158۔

(3) جوگندرپال، افسانہ، بُو، مشمولہ، نمائندہ اُردوافسانے، مرتّب، پروفیسر قمررئیس، اُردواکادمی، دہلی، 2014ء، ص: 180۔

(4) جوگندرپال، افسانہ، رسائی، مشمولہ، افسانوی مجموعہ، رسائی، نصرت پبلشرز، لکھنئو، 1969ء، ص: 190۔

(5) ایضا، ص: 189۔

(6) وزیرآغا، جوگندرپال کافن، مشمولہ، جوگندرپال، ذکر، فکر، فن، ص: 44۔

(7) پروفیسر قمر رئیس، جوگندرپال کا فنی اسلوب، مشمولہ، آج کل، (جوگندرپال نمبر)، نئی دہلی، جنوری، 1997ء، ص: 28۔

(8) م۔ م۔ راجندر، جوگندرپال۔ ایک مطالعہ، مشمولہ، ماہنامہ پروازِ ادب، پنجاب، گوشئہ جوگندرپال، جلد 16، شمارہ: 12۔ 9 ستمبر، دسمبر، 1994ء، ص: 149۔

مزید دکھائیں

احمد علی جوہر

ریسرچ اسکالر، ہندوستانی زبانوں کا مرکز جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

متعلقہ

Close