دیگر نثری اصناف

غزل دریافت جبکہ نظم ایجاد ہوتی ہے!

ادریس آزاد

غزل کو اُردو شاعری کی شہزادی کہا جاتا ہے۔ شوق سے غزل کہنے والے اُردو شعرأ اِس پر جان چھڑکتے ہیں ۔ غزل کے تنقید نگار ہزار اِعتراضات کے باوجود غزل کی شانِ بے نیازی اور عظمت سے انکار کا راستہ نہیں پاتے۔ بعض غزل گو شعرأ کا کہنا ہے کہ غزل بڑے نخرے والی ہوتی ہے۔ یہ کسی اجنبی لفظ کو برداشت نہیں کرتی۔ کوئی ایسی اِصطلاح جو غزل کے شاہانہ مزاج سے مطابقت نہ رکھتی ہو، غزل اسے ٹھوکر مار کر باہر پھینک دیتی ہے۔ غزل کے قارئین جانتے ہیں کہ اُردو نثر اور نظم میں استعمال ہونیوالے انگنت الفاظ و تراکیب غزل کے دربار میں شرف باریابی ہی نہیں پا سکتے۔ مثال کے طور پر آپ لفظ ’’گھوڑا، گدھا، ٹھیٹھ، ریڑھ، جبڑا‘‘ وغیرہ … غزل کے اشعار میں استعمال کریں تو شعر یوں لگتا ہے جیسے بقول شخصے …کسی نے صحن چمن میں بھینسا باندھ دیا ہو۔ آپ نظم میں انگریزی کے جتنے چاہیں الفاظ استعمال کرلیں ۔ لیکن غزل میں صدیوں بعد ہی اجنبی زبان کا کوئی لفظ اپنی جگہ بنا پاتا ہے۔ مثلاً یہ شعر …

؎ جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

…اس بات کا ثبوت ہے کہ غزل نے اپنے ایک شعر میں اگر لفظ موڈ کو وقتی طور پر پناہ دے بھی دی ہے تو ضروری نہیں کہ آئندہ یہی لفظ دوبارہ کوئی شاعر اتنی خوبی سے اپنے شعر میں بٹھا سکے۔

غزل کی نزاکت ہمیشہ شستہ اور شائستہ اردو کی متمنی رہتی ہے۔ بے شمار ایسے الفاظ ہیں جو نظم یا اُردو نثر میں پوری قوت کے ساتھ اپنا اظہار کرتے اور جچتے ہیں ۔ لیکن غزل میں ان کے عربی یا فارسی متبادل کو بٹھا کر کام چلایا جاتا ہے…مثلاً آپ نظم میں ’’ماچس‘‘آسانی سے استعمال کرسکتے ہیں ۔ غزل میں ضروری نہیں کہ آپ ’’ماچس‘‘آسانی سے استعمال کرسکیں ۔ اس کی جگہ آپ کو دیا سلائی لانا پڑے گا۔ تھرما میٹر کی جگہ ’’مقیاسِ حرارت‘‘، بلڈنگ کے لیے ’’عمارت‘‘، لوہے کے لیے ’’فولاد‘‘، جوتوں کی جگہ ’’پاپوش‘‘، کپڑوں کے لیے لباس یا پیرہن شلوار کی جگہ ’’پاجامہ‘‘ وغیرہ۔ غرض اردو غزل دنیا کی واحد شاعری ہے جو نفاست میں اپنی مثال فقط آپ ہے۔بات صرف الفاظ و تراکیب تک ہی محدود نہیں ۔ مضامین میں بھی غزل اُسی نزاکت اور نازونیاز کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اگرچہ غزل کے اشعار میں ہرطرح کے موضاعات اور مضامین عام مل جاتے ہیں لیکن آپ دیکھیں گے کہ سیاسی، معاشی، اخلاقی، مذہبی اور معاشرتی موضوعات پر غزل کے اشعار سنتے وقت، خالص غزل کا خالص سامع خاموش رہےگا اور جونہی آپ غزل کے مخصوص مزاج اور مضمون کے اشعار سنائیں گے، چاروں طرف سے آواز آئے گی، ’’سبحان, اللہ سبحان اللہ،یہ غزل کا شعر ہے جناب!‘‘۔
غزل سے شغف رکھنے والے شعرأ میں ایک طبقہ تو خیرغزل پر اس طرح کی تمام پابندیوں کے خلاف ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ غزل کو اب کلاسیکی عہد کے بے جا تسلط سے نکل آنا چاہیے۔

عہدِ حاضر میں منصور آفاق ان کا نمائندہ ہے۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ عرصۂ دراز سے اِس مؤقف کے حاملین کو کبھی مناسب پذیرائی نہیں مل پائی۔سو ایسی صورتحال میں غزل کے ناقد اور قاری کا یہ مطالبہ کہ تازہ کاری ہونا چاہیے شاعر کو جوئے شِیر لانے پر مجبور کردیتاہے۔جبکہ دوسرے طبقہ کا یہ کہنا ہے کہ غزل پر کسی کلاسیکی عہد کا تسلط نہیں ، یہ غزل کی اپنی نفاست پسندی ہے کہ وہ ہر کس و ناکس کو اپنے دربار میں شرفِ باریابی نہیں بخشتی۔اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ اقبال ؒ اور فیض جیسے نظریاتی شعرأ نے ثابت کیا ہے کہ غزل کی نفاست کو متاثر نہ ہونے دیا جائے تو کلاسیکی رنگ سے کسی حد تک نکل کر بھی غزل کامیابی کے ساتھ کہی جاسکتی ہے۔

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ غزل بذاتِ خود سرے سے شاعری ہی نہیں ہے۔ اچھی سے اچھی غزل بھی ہمیشہ محض مشق ِ سخن ہی رہتی ہے۔ میرا یہ خیال عین منطقی بنیادوں پر پیدا ہواہے۔کیونکہ غزل کے اشعار کہنے کے لیے ایک شاعر کو قافیے کی دُم پکڑ کر خیال ڈھونڈنے نکلنا پڑتاہے۔ اور یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔دیکھیے! آپ کے ذہن میں ایک مضمون آتا ہے اور آپ اس مضمون کو منظوم کرنا چاہتے ہیں تو ہم کہیں گے کہ اب آپ نے صحیح راستہ اختیار کیا۔ یعنی پہلے خیال آپ کے پاس آیا اور اس خیال کو شعرمیں ڈھالنے کے لیے آپ اب الفاظ کی تلاش کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ جیسا نظم کہتے ہوئے ہوتاہے۔ جب کہ غزل میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ غزل چاہے غالب کی بھی ہو ہمیشہ پہلے شعر کے بعد قافیے کی مدد سے اگلا خیال دریافت کرنا ہوتاہے۔ چنانچہ میں کہا کرتاہوں کہ نظم ایجاد جب کہ غزل دریافت کی جاتی ہے۔ غزل اور نظم میں وہی فرق ہے جو ایجاد اور دریافت میں ہوتاہے۔ دریافت ہے کسی شئے کا مل جانا۔ ایجاد ہے کسی شئے کو ازخود تخلیق کرنا۔ بالفاظ دیگر دریافت کسی حاد ثے کی طرح ہوتی ہے۔ کسی شئے کا اتفاق سے مل جانا فرد کا ذاتی کمال نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس میں کلام نہیں کہ کہنہ مشق غزل گو شعرأ اور مبتدیوں کے اشعار کو دیکھ کر صاف کہا جاسکتاہے کہ کہنہ مشق شاعر نے کمال کردیا۔اور یہ اس کا ذاتی کمال ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ جنگل جنگل کی خاک چھاننے والے اور کبھی کبھار جنگل سے گزرنے والے، ہر دو طرح کے مہم جوؤں کی دریافتوں میں بھی تو وہی فرق قائم رہتاہے۔

اس کے برعکس نظم کرافٹ بھی ہے اور اس کی خوبیوں میں سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ نظم میں لفظ خیال کی تلاش کے سفر پر نہیں بلکہ خیال لفظوں کی تلاش کے سفر پر نکلتاہے۔اور خیال کو منظوم کرنے کے لیے لفظوں کو تلاش کرنا منطقی اعتبار سے درست اور سنجیدہ عمل ہے جب کہ لفظ کی دُم پکڑ کر اس کوشش پر نکل کھڑے ہونا کہ اب کوئی اچھا سا خیال بھی ہاتھ آجائے محض قسمت آزمائی والی بات ہے جو کہ قطعاً منطقی اعتبار سے درست نہیں ۔ یعنی کہنے کو یوں بھی کہا جاسکتاہے کہ یہ ایک بچکانہ سی حرکت ہوگی۔ جیسے کوئی کھیل۔ یعنی ایک قافیے کو لے کر مختلف خیالات ٹرائی کرتے جائیں ، کوئی تُکا لگ گیا تو بات بن جائے گی۔ اس کی مثال بھی دیتاچلوں ! فرض کریں آپ نے ایک شعر کہا، جس کا مصرع ثانی یہ تھا،

ہمارے آنگن میں شام کرتے تو بات بنتی

اس مصرع میں ، قافیہ ہے ’’شام‘‘ جب کہ ’’کرتے تو بات بنتی‘‘ ردیف ہے۔ اب اگر آپ شاعر ہیں تو آپ غزل کہنے کے لیے کیا کریں گے؟ آپ شام کا کوئی اور قافیہ پہلے ذہن میں لائیں گے۔ فرض کیا آپ نے ’’قیام‘‘ پر شعر کہنے کا فیصلہ کیا۔لفظ قیام آپ نے پکڑلیا ہے اور اس کے ساتھ ردیف ’’کرتے تو بات بنتی‘‘ بھی آپ کے ذہن میں ہے۔ سو آپ ’’قیام کرتے تو بات بنتی‘‘ والا شعر کہنا چاہتے ہیں ۔ اب آپ کو خیال کی تلاش ہے۔ کہاں کہاں قیام کیا جاسکتاہے۔ آسمان پر قیام کی بات کی جائے، یا صحرا میں ؟ مسجد میں قیام کی بات کی جائے ؟ یا کسی کیفیت میں ؟ آپ مختلف طرز کے قیام استعمال میں لائیں گے اور بار بار دہراتے چلے جائیں گے۔ آخر کئی ایک خیالات میں سے جو قیام آپ کو پسندآیا آپ اس پر قیام کرتے ہوئے شعر کا دوسرا مصرع پہلے کہہ دینگے۔ دوسرا مصرع مکمل ہوگیا تو اب آپ نے شعر کا پہلامصرع کہنا ہے۔ اوریوں غزل مکمل ہونے تک آپ کی گنگا اُلٹی ہی بہتی رہےگی۔

مزید دکھائیں
Close