دیگر نثری اصناف

فیض کی شعری شخصیت کے عناصرِ ثلاثہ

مناظرِ فطرت، عاشقانہ جستجو اور بین الاقوامیت

 صفدرامام قادری

        مابعد عہدِ اقبال کے شعرا میں فیض ایسے پہلے شاعر ہیں جنھیں عالمی شناخت حاصل ہوئی اور اپنی زندگی میں ہی بین الاقوامی سطح پر ان کے شاعرانہ کمالات کو نہ صرف یہ کہ سراہا گیا بلکہ کوئی نصف صدی تک وہ تیسری دنیا کی ادبی آواز کے بہ طور مشرق ومغرب کے اسٹیج پر اردو کی نمایند گی کرتے رہے۔ ایسی عزّت، اتنا اعتبار اور ایسی قبولیت اردو کی ادبی تاریخ میں اقبال کے علاوہ صرف اور صرف فیض احمد فیض کو حاصل ہوئی تھی۔ اس قبول عام میں اُن کے ادبی سرماے کے ساتھ ساتھ اُن کی اُس محبوبانہ اور طلسماتی شخصیت کا بھی بڑ اہاتھ رہاہے جس کے دائرۂ کار میں زبان کی کلاسیکی چاشنی، رومان کا سحر کارانہ تاثر اور عالمی سطح پر حقوقِ انسانی کی بازیابی کی مہم بڑے سجیلے اور نرم روی کے ساتھ سمٹ آئی ہے۔ اقبال کی بین الاقوامیت میں مذہبیت بنیادی سروکار ہے لیکن فیض کے یہاں مذہب بے زاری نہیں ہونے کے باوجود اساسی حوالہ انسان اور انسانیت کا ہے۔ مذہب کی مخالفت بہ وجوہ ممکن ہے لیکن کون ایسا ہے جو انسان دوستی کے تصورات کے خلاف کھڑا ہوسکے؟ اسی لیے فیض کی مقبولیت میں کبھی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوسکی۔

        فیض سیال کوٹ کی خاک سے اٹھے اور لاہور کی ادبی فضا میں ان کی ذہنی نشوونماہوئی۔ یہیں وہ ترقی پسندادیبوں کے ساتھ ہوئے۔ ترقی پسند روایات اور مارکسزم کو انھوں نے اپنی زندگی کا حصہ بنالیا۔ انھیں ناظم حکمت اور پابلو نرودا کے شامل مظلوم عوام کے جذبات کا صحیح عکاس عالمی سطح پر مانا گیا۔ لینن انعام اور رسالہ ’لوٹس‘ کی ادارتِ اعلا کی ذمّہ داری؛ وہ اعلامیہ ہیں کہ فیض کی شاعرانہ عظمت کا ایک عالم قائل ہے۔ اردو ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ موضوع بے حد دل چسپ ہے کہ فیض اپنی ابتدائی شاعری سے لے کر آخری دور تک اپنے ملک اور دوسرے ممالک اور براعظموں تک کس طرح پھیلے اور آخران کی ادبی شخصیت کی نشوونما میں وہ کون سے سنگ ہاے میل تھے جن کے سبب وہ استقلال کے ساتھ ادب کی روشن خیال جہات کی طرف سے ایک لمحے کے لیے بھی بے خبر نہ ہوئے بلکہ اسے ہی زندگی کا ترجمان بنائے رہے۔ ہمارا معروضہ ہے کہ فیض کی ادبی شخصیت کے عناصر ثلاثی ہیں __مناظرِ فطرت، عاشقانہ جستجو اور بین الاقوامیت۔ انھی امور کے ارد گرد فیض کی شخصیت، شاعری اور تمام کارکردگی دکھائی دیتی ہے۔

        فیض نے اپنی ابتدائی زندگی کے تعلق سے مرزا ظفر الحسن سے گفتگو میں مناظرِ فطرت سے اپنے لگاو کا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں :

’’مجھے یاد ہے، ہم مستی دروازے کے اندر رہتے تھے۔ ہمارا گھر بالائی سطح پر تھا۔ نیچے بدروبہتی تھی، چھوٹا سا ایک چمن بھی تھا۔ چار طرف باغات تھے۔ ایک رات چاند نکلا ہوا تھا۔ چاندنی بدرو اور اردگرد کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پڑرہی تھی۔ چاندنی اور سائے یہ سب مل کر کچھ عجیب پراسرار منظر بن گئے تھے۔ چاند کی عنایت سے منظر کی بدوضعی چھپ گئی تھی اور کچھ عجیب ہی قسم کا حسن پیدا ہوگیا تھا‘‘

    ’’گر میوں میں تعطیلات ہوتیں تو .. اپنی سب سے بڑی ہمشیرہ کے یہاں دھرم شالہ چلے جاتے جہاں منظرِ قدرت دیکھنے کا موقع ملتا اور دل پر ایک خاص قسم کا نقش ہوتا‘‘

        اسی زمانے کا ایک اور واقعہ فیض نے یوں بتایا ہے:

        ’’اس زمانے میں کبھی کبھی مجھ پر ایک خاص قسم کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ جیسے یکایک آسمان کا رنگ بدل گیا ہے۔ بعض چیزیں کہیں دور چلی گئی ہیں۔ دھوپ کا رنگ اچانک حنائی ہوگیا۔ پہلے جو دیکھنے میں آیا تھا، اس کی صورت بالکل مختلف ہوگئی ہے۔ دنیا ایک طرح کی پردۂ تصویر کے قسم کی چیز محسوس ہونے لگتی تھی۔ ‘‘

        یہ فیض کا وہ زمانہ ہے جب وہ کوچۂ ادب میں قدم بڑھارہے تھے۔ قدرتی مناظر سے ایسا لگاو زندگی کا کوئی ظاہری تجربہ نہیں تھا۔ مذکورہ آخری اقتباس یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ فیض کی ذہنی کیفیت کس انداز سے بدل رہی تھی اور باطنی طور پر کیسی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ ایک نوخیز شاعر قدرت کی آغوش میں کیسی کیسی تبدیلیوں کا ہم راز بن گیا؟ اس سے یہ سمجھنا دشوار نہیں ہے کہ فیض قدرتی مناظر کے توسط سے زندگی اور کائنات کے پوشیدہ امور کو بھی سمجھنا چاہتے تھے۔

        قدرت اور فطرت کی بوقلمونیوں سے فیض کا جو تعلق ابتدا میں قائم ہوا، وہ کبھی بھی ختم نہیں ہوا۔ دوسرے شعرا کی طرح فیض کے یہاں مناظر صرف منظر نگاری کا سامان بن کر نہیں آتے بلکہ زندگی کا کوئی گہرا تجربہ یا کائنات کا کوئی داخلی ذائقہ پیش کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اکثروبیشتر ان مناظر کی پیش کش میں فیض ایسی تخلیقی روح پرو  دیتے ہیں جیسے مناظر متحرک اور سیّال ہوجاتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں :

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے

جیسے صحرائوں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم

جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے

 [اشعار]

آسماں پر اداس ہیں تارے

چاندنی انتظار کرتی ہے

آکہ تھوڑا سا پیار کرلیں ہم

زندگی زر نگار کر لیں ہم

  [سرود شبانہ]

سو رہی ہے گھنے درختوں پر

چاندنی کی تھکی ہوئی آواز

کہکشاں نیم وا نگاہوں سے

کہہ رہی ہے حدیثِ شوقِ نیاز

  [سرودِ شبانہ دوم]

بام و در خامشی کے بوجھ سے چوٗر

آسمانوں سے جوئے درد رواں

چاند کا دکھ بھرا فسانۂ نور

شاہراہوں کی خاک ہیں غلطاں

خواب گاہوں میں نیم تاریکی

مضمحل لَے ربابِ ہستی کی

ہلکے ہلکے سروں میں نوحہ کناں

[ایک منظر]

پھر کوئی آیا دلِ زار! نہیں کوئی نہیں

راہرو ہوگا، کہیں اور چلاجائے گا

ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار

لڑکھڑا نے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ

سوگئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار

اجنبی خواب نے دھندلادیے قدموں کے سُراغ

گل کروشمعیں، بڑھادو مے ومینا وایاغ

اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفّل کرلو

اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا

  [تنہائی]

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں

تندہیں شعلے، سرخ ہیں آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

     [بول]

        یہ تمام مثالیں فیض کے پہلے شعری مجموعے ’نقش فریادی‘ سے پیش کی گئی ہیں۔ اس سے یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ فیض کے یہاں ابتدائی زمانے میں منظر نگاری یا قدرتی مناظر سے خصوصی رغبت ہے لیکن بعد کے زمانے میں ان کے دیگر ترقی پسندانہ موضوعات کے سبب مناظر قدرت سے رغبت کم ہوجاتی ہے۔ فیض کے ہر شعری مجموعے میں ایسے متفرق اشعار یا نظموں کے ٹکڑے یا مکمل نظمیں موجود ہیں جن میں مناظرِ فطرت کی جلوہ سامانیاں موجود ہیں۔ جیل کے زمانے کی نظموں اور غزلوں میں بھی منظر نگاری کے نمونے مفقود نہیں ہیں۔ خاص طور سے ان کی مندرجہ ذیل نظموں کو اس تناظر میں بہ طور مثال دیکھنے کی ضرورت ہے:  اے دلِ بے تاب ٹھہر، سیاسی لیڈر کے نام، مرے ہم دم مرے دوست، صبحِ آزادی، ترانہ، دوعشق، نثار میں تیری گلیوں کے، شیشوں کا مسیحا، زنداں کی ایک شام، زنداں کی ایک صبح، یاد (دست صبا)؛ ملاقات، اے روشنیوں کے شہر، ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے، یہ فصل امیدوں کی ہم دم (زنداں نامہ)؛ شام، ملاقات مری، ختم ہوئی بارشِ سنگ، کہاں جائو گے، شہریاراں، جب تیری سمندر آنکھوں میں، رنگ ہے دل کا مرے، پاس رہو، منظر (دست تہہِ سنگ)؛ انتساب، لہوکا سراغ، یہاں سے شہر کو دیکھو، سوچنے دو، ہارٹ اٹیک (سرِ وادیِ سینا)؛ جس روز قضا آئے گی، اشک آباد کی شام، گیت (شام شہریاراں )؛ دلِ من مسافرمن، پھول مرجھاگئے ہیں سارے، کوئی عاشق کسی محبوبہ سے، تین آواز یں، یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے (مرے دل مرے مسافر)، تم ہی کہو، کیا کرنا ہے، عشق اپنے مجرموں کو یا بہ جولاں لے چلا، آج شب کوئی نہیں ہے (غبارِ ایّام)۔

        یہ فہرست طویل ترسہی لیکن مختلف طرح کے شبہات کا یہاں ازالہ ہوتا ہے۔ یہ تمام منظومات فیض کے مناظرِ قدرت سے فطری لگاو کا مظہر ہیں۔ ’نقشِ فریادی‘ سے لے کر ’غبارِ ایّام‘ تک فطرت سے ایک تعلق قائم ہے۔ ہر دور میں خاصی تعداد میں ایسی نظمیں دستیاب ہیں جنھیں مناظرِ قدرت سے متاثر ہوکر شاعر نے رقم کیا ہے۔ لیکن یہ نظمیں ایک انداز کی نہیں ہیں۔ ان میں فطرت اپنے ظاہری اور سطحی رنگ میں کم کم دکھائی دیتی ہے بلکہ اس کے سہارے ایک تاثر، تجزیہ، تدارک، تجسس، خواب، تحیّر، تنہائی، وصل، جیت، ہار اور نہ جانے زندگی کے کتنے راگ ہیں جو رہ رہ کر ابھرتے ہیں۔ اس لیے یہ منظر نگاری شاعری میں گھُل کر کائنات کی عظیم صداقت کے طور پر ابھرکر سامنے آتی ہے۔

        فیض کی شاعری میں مناظرِ فطرت سے جو حُسن، راگ اور رنگ پیدا ہوتے ہیں، اگر انھیں شاعر عاشقانہ لہو نہ عطا کرے تو پھر نامرادی ہی ہاتھ آئے گی۔ فیض کی بہترین شاعری کا ایک بڑا حصّہ عاشقانہ افتاد سے عبارت ہے۔ وہ خود کہتے ہیں :

        ’’جوانی کے دنوں میں جو دوسرے واقعات ہوتے ہیں، وہ بھی ہوئے اور ہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ‘‘

        ’’اس فضا میں ابتدائے عشق کا تحیّر بھی شامل تھا۔ لیکن ہم لوگ اس دور کی ایک جھلک بھی ٹھیک سے نہ دیکھ پائے تھے کہ صحبتِ یار آخرشد‘‘۔

        ’’ان سب اشعار کا قریب قریب ایک ہی ذہنی اور جذبات واردات سے تعلق ہے اور اس واردات کا ظاہری محرّک تو وہی ایک حادثہ ہے جو اس عمر میں اکثر نوجوان دلوں پر گزر جایا کرتا ہے‘‘۔

        فیض کے گہرے دوست شیرمحمدحمید نے لکھا ہے:

’’ہر معتدل آدمی کی طرح فیض پر بھی عشق ومحبّت کے حادثے گزرے ہیں۔ کچھ عام نوعیت کے رومانی واقعات جن کا دیرپا اثر فیض کی زندگی اور شاعری پر نہیں پڑا لیکن دو ایک وارداتیں اس قدر شدید تھیں کہ فیض کے قلب وجگر کو برما کے رکھ گئیں۔ ’نقشِ فریادی‘ کی نظمیں __’رقیب سے‘، ’ایک راہ گزرپر‘، ایک ایسے ہی حادثے کی یادگار ہیں جس کا اختتام مرگِ سوزِ محبت پر ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فیض جیسے حسن بیں اور حسن آفریں حسّاس فن کار پر ان کے جو گہرے اثرات مرتّب ہوئے، اُن کا سراغ جابہ جا ان کی شعری تخلیقات میں مل جاتا ہے‘‘۔ [شامِ شہرِ یاراں : فیض سے میری رفاقت]

        ان اقتباسات کے پس منظر میں فیض کی عاشقانہ جستجوئوں کی لکیریں یا خط وخال کھینچے جائیں تو وہ اُسی زمانے میں ایلس فیض تک پہنچتے ہیں۔ زندگی میں اگر قرار محسوس ہوتا ہوتو یہ ہرگزلازمی نہیں کہ فنی سطح پر بھی وہی قرار اورچین میسر آجائے۔ کبھی کبھی یہ سلسلہ مزید کئی جان اور کئی زندگیوں کا لہو اپنے کلیجے میں جذب کر لیتاہے۔ ’نقشِ فریادی‘، ’دستِ صبا‘، ’زنداں نامہ‘، ’دست تہہِ سنگ‘ مجموعوں میں درجنوں ایسی نظمیں ملتی ہیں جو پکار پکارکر میرؔ کے لفظوں میں اعلان کرتی ہیں :       مجنوں مجنوں لوگ کہے ہیں، مجنوں کیا ہم ساہوگا؟

        ایک محرومانہ اور مجنونانہ لہرہمیشہ فیض کوفضا میں دیوانہ بنانے کے لیے مل ہی جاتی ہے۔ اسی لیے عاشقی اور دیوانگی کو فیض نے اپنی زندگی اورشاعری کا ایسا لازمی عنصر بنایا جس کے بغیر اُن کی کوئی نظم نہ مکمل ہوسکتی ہے اور نہ ہی شعروشاعری کا کوئی نیا دریچہ کھل سکتا ہے۔ اسلوب کی سطح پر فیض نے اپنی شاعری میں ایک ایسا عاشقانہ لہوپیوست کیاجو  اُن کے اشعار کا لازمی اور حتمی رنگ بن کر چمکا۔ شاید یہ اقبال کوہی آتا تھا کہ وہ جو بات کہنا چاہیں، اُسے اپنے پُرشکوہ مذہبی آہنگ میں سمودیتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ فیض کے حصے میں آیا جنھیں محبت کا ایسا سُر میّسر آگیا تھا جس کے بغیر زندگی یا موت سب بے معنی ہوجائیں۔ اسلوب کی یہ صلابت اگر میر کے کلیجے کا ذرا سا خون لے لیتی تو فیض، غالب اور میر کی بزم کے مہمان ہوتے۔ لیکن فیض جس عہد میں پیدا ہوئے، اس میں جان کے زیاں کارشاعر دھرتی پر بھیجے ہی نہیں گئے۔ ایسے میں فیض کی عاشقانہ جستجو میں ’جانوں کے کھپنے‘ کی لذّت ادھوری ہی مل سکتی تھی جسے انھوں نے ’بے رحم چومُکھ پتھراو‘ کے باوجود کچھ نہ کچھ ایسا حاصل کرلیا کہ شیشوں کی مسیحائی ممکن ہوسکی۔

        فیض کی شاعری میں عاشقانہ جستجوئوں میں شکست اور شکستِ خواب کے واقعات بار بار اُبھرتے ہیں۔ محبت کے کھیل تماشے میں عاشق آخر کیوں ہارتا ہے، اس پر غور کریں تو فیض کی شاعرانہ شخصیت کا ایک اور رنگ اُبھرکرسامنے آتا ہے۔ زندگی کے ہر مورچے پر، ہر نئے راستے پر کسی نہ کسی طاقت سے نبردآزمائی عاشق کا ایسا مقدر ہے جس کے چارہ گران ہر نسل میں کھیت ہوتے چلے گئے۔ ہر بار ایک نئے دشمن سے رن پڑجاتا ہے۔ فیض نے محبت کے حصول کی ایک نہ ختم ہونے والی کہانی ایک نظم سے دوسری اور دوسری سے تیسری میں رواں رکھی ہے۔ ان سب میں بہ قولِ میرؔ:

اِن صحبتوں میں آخرجانیں ہی جاتیاں ہیں

اور بہ قولِ فیضؔ:

یہ فصل اُمیدوں کی ہمدم

اس بار بھی غارت جائے گی

سب محنت صبح و شاموں کی

اب کے بھی اکارت جائے گی

_______

پھر دنیا والوں نے تم سے

یہ ساغرلے کر پھوڑ دیا

جو مَے تھی بہادی مٹی میں

مہمان کا شہ پر توڑدیا

        محبت کی تلاش وجستجو اور پروانہ وار مجنونانہ  صحراصحرا بھٹکنا فیض کو اس طرح راس آیا کہ اسے انھوں نے اپنی زندگی کا اُسی طرح سے حصہ بنایا جیسے کبھی فرہاد نے اور کبھی مجنوں نے بنایاہوگا۔ فیض کازمانہ دوسرا تھا اور محبت کے قدردانوں کی دنیا بھی ذرا سمٹتی جارہی تھی، اس لیے تاریخ ہو بہ ہو اپنے آپ کو دہرا نہیں سکتی تھی بلکہ اس عاشقانہ جستجو میں مقاصد کی تبدیلی سے فیض نے ایک نئے جہانِ معنی کی وسعت پیداکردی۔ یہیں فیض کی شاعری میں تلاشِ محبت، تلاشِ امن میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اب یہ شاعری داخل سے باہر کی طرف مائلِ پرواز ہوتی ہے۔ زندگی کے اِس نئے موڑ پر فیض کے نتائج کچھ اس طرح سے ہیں :

٭      ’’شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے‘‘۔

٭      ’’حیاتِ انسانی کی اجتماعی جدوجہد کا ادراک اور اس جدوجہد میں حسبِ توفیق شرکت زندگی کا تقاضہ ہی نہیں، فن کا بھی تقاضہ ہے‘‘۔

٭      ’’پھرترقی پسند تحریک کی داغ بیل پڑی، مزدور تحریکوں کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں لگا کہ جیسے گلشن میں ایک نہیں کئی دبستان کھل گئے ہیں۔ اس دبستان میں سب سے پہلا سبق جو ہم نے دیکھا تھا کہ اپنی ذات باقی دنیا سے الگ کرکے سوچنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غیر سود مند فعل ہے۔ ‘‘

٭      ’’جیل خانہ عاشقی کی طرح خود ایک بنیادی تجربہ ہے جس میں فکرونظرکا ایک آدھ دریچہ خود بہ خود کھل جاتا ہے۔ ‘‘

        اب شاعر محبت کی ایسی مہم پہ نکلا ہے جہاں اس کی مٹھی میں پوری کائنات اس طرح سے سمٹ آتی ہے جیسے سب کا اُس سے لازمی تعلق ہو۔ جگر نے جانے کس عالم میں کہہ دیا ہوگا:

سمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے

         لیکن اس کا آخری نسخہ فیض کے یہاں استعمال میں آتاہے۔ ایرانی طلبہ کے مسائل ہوں، یا روزن برگ بہنوں کا واقعہ افریقہ، چین، روس، چیلی اور نہ جانے کتنے ممالک کی زندگیوں کے الجھاوے فیض کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ اقبال کے اشعارمیں ہندستانی سماج کے باہر کے امور مندرج رہتے تھے لیکن جغرافیائی اعتبار سے فیض اقبال سے بھی زیادہ وسیع تر دنیا کے معاملات اپنی شاعری میں شامل کرکے ایک ایسا عالمی نگار خانہ تیار کرتے ہیں جس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور جس کی جڑیں اپنے ملک میں بہت گہری ہیں۔ فیض کی شاعری کا سلسلے وار مطالعہ کرنے والا آسانی سے اس مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈ سکتا کہ اُن کی شاعری ذاتی واردات وکیفیات میں الجھتے الجھتے کس طرح عالمی سماج کی طرف بڑھ گئی ہے۔ دنیا کو سمجھنے کا یہ شعور سیاحت کے شوق سے نہیں پیدا ہوا ہے بلکہ محبت، امن اور آشتی کے پیغام سے پوری کائنات کو سینچنے کا جو نشانہ فیض نے اپنے لیے مقرر کیا، وہ نہایت قیمتی ہے۔

        ادب کے ایک طالبِ علم کی حیثیت سے اس ذہنی گُتھی کو سلجھانا ہمارے لیے لازم ہے کہ فیض ؔ مناظرِ فطرت اور عشق وعاشقی کے پیمانوں کو لٹاتے ہوئے کس طرح بین الاقوامیت کے چراغوں کو روشن کرنے لگے؟ یہیں فیض کی شاعری کے تشکیلی مراحل اور تخلیقی عمل پر غور کرنا لازم ہے۔ ادب اور شاعری میں فیض فطرت کے راستے سے داخل ہوئے، اگلا مرحلہ عاشقانہ جستجوئوں کا رہا اور پھر محبت، امن اور آشتی کی تلاش رہی۔ دنیا کے ضرورت مند اور مشکلات میں پھنسے ہوئے استحصال زدہ افراد کے احساسات اور تصورات کی پیش کش سے فیض کی شاعری میں ذہنی وسعت پیدا ہوتی ہے۔ کہنے کو میں نے اس مضمون میں الگ الگ تین عناصر کی نشاندہی کرکے فیض کی شاعری کے داخلی سُروں کو پکڑنے کی کوشش کی تھی لیکن مطالعے کے بعد یہ عناصر ایک دوسرے کی ایسی پرچھائیں بن جاتے ہیں کہ انھیں الگ الگ پہچاننا ناممکن ہے۔ فیض کی ایک شاعر کی حیثیت سے یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ انھوں نے ان عناصر کو پیوندکی طرح اپنی شاعری اور زندگی میں نہیں آزمایا بلکہ ایک بہتے ہوئے دریا کی یہاں کیفیت پیدا ہورہی ہے۔ جب ایک حصے کا نام گنگوتری ہے تو آگے وہ گنگا ہوجاتی ہے اور پھر سمندر میں ڈوبنے سے پہلے پدما نام سے پہچانی جاتی ہے، لیکن ہے تو وہ گنگا ندی ہی۔ اسی طرح فیض کی شعری شخصیت کے عناصرِ ثلاثہ تو بے شک مناظرِ فطرت، عاشقانہ جستجو اور بین الاقوامیت قرار دیے جاسکتے ہیں لیکن انھیں فیض کی شخصیت اور شاعری میں الگ الگ تلاش کرنا مشکل اور کبھی کبھی ناممکن ہوجاتا ہے۔

مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close