دیگر نثری اصناف

قلبی واردات اور عصری رُجحانات کے شاعر برقی اعظمی

ڈاکٹر مجیب شہزر

ضلع اعظم گڑھ کی مردم خیزمٹّی نے کیفیؔ جیسے گوہر آبدار و تابدار پیداکئے ہیں جنہوں نے پوری دُنیا ئے ادبیات میں اعظم گڑھ کانام روشن کیاہے۔ شہرت و شہامت کے سرتاج شاعر جناب احمد علی برقیؔ اعظمی کاخمیربھی اسی ضلع کی زرخیزمٹّی سے اُٹھاہے۔ موصوف گذشتہ کئی دہوں سے اُردو ادب کی خدمت کافریضہ پائے استقلال کے ساتھ بڑی مستعدی سے لگاتار انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ آپ مقامی مشاعروں میں ہی نہیں بلکہ جموں کشمیرکے مشاعروں میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے پروگراموں میں مشارکت فرماکر دادوستائش اور تحسین وتہنیت کے گرانقدرنذرانے وصول کرتے رہے ہیں۔ اس کے پہلو بہ پہلو ان کی نگارشات بین الملکی اور سرحدپار کے مؤقر رسائل وجرائد کے سرقرطاس ابیض پربھی گہرافشاں ہوکر ارباب نقدونظر اور حلقہ ہائے تشنگانِ شعروسخن کی تعریف وتوصیف سے متصف ہوتی رہتی ہیں۔ خوشی کامقام ہے کہ ان کا اولین شعری مجموعہ زیر عنوان ( روحِ سخن)منظرعام پرطشت ازبام ہوکر اہلیان علم و فن سے داد و تحسین کے نذرانے حاصل کر رہاہے۔

 احمد علی برقیؔ اعظمی حمد، مناجات، نعت، منقبت، قطعہ، رُباعی اورنظم جیسی متعدداصناف میں اپنے تخلیقی اور فنی جوہر آزماچکے ہیں۔ لیکن ان کاپہلاحوالہ پہلی ترجیح اور پہلی محبت اگر کوئی ہے تو بس غزل ہے۔ جس کی توثیق انہیں کے درج ذیل اشعار سے خود بخود ہوجاتی ہے    ؎

احساس کا وسیلۂ اظہار ہے غزل

آئینہ دار ندرتِ افکار ہے غزل

اردو زبان  دل ہے، غزل اس کی جان ہے

نوعِ بشر کی مونس و غمخوار ہے غزل

پہلے ’’حدیثِ دلبری‘‘ کہتے تھے اس کو لوگ

اب ترجمانِ کوچہ و بازار ہے غزل

مشاطۂ عروسِ غزل ہے مری رفیق

ہر غم سے بے نیاز غزل کہہ رہا ہوں میں

احمد علی برقیؔ اعظمی شاعری میں بڑھتی جدّت کی لایعنیت اور الجھن بھرے رویّے کواچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ شاعری کی جڑیں روایت میں پیوست ہیں اس لئے وہ روایت کی بنیاد پر قائم ومستحکم رہ کر ہی اپنی زبان میں عصر حاضر کی سچائیوں کو بیان کرناپسندفرماتے ہیں اور فن کی آبیاری اپنے خون جگر سے کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ہُنربولتاہے کیونکہ شہرکیفی و شبلی کی آبروکابھرم رکھنے کے لئے وہ بہت سوچ سمجھ کر شعر کہتے ہیں۔ ان کے درج ذیل اشعاراز خود میرے دعوے کی معقول ومعتبر دلیل بن جاتے ہیں   ؎

شہرِ اعظم گڑھ ہے برقی میرا آبائی وطن

جس کی عظمت کے نشاں ہیں ہر طرف جلوہ فگن

ہے جگر کی شاعری برقیؔحدیثِ دلبری

اس تغزل نے بنا ڈالا ہے دیوانہ مجھے

میرا سر مایۂ حیات ہے جو

وہ ہے میرے ضمیر کی آواز

طبیعت ہے برقی کی جدت پسند

کسی نے نہیں جو کیا کر چلے

  برقیؔ شُستہ و شائستہ، شگفتہ اور سلیس و سادہ زبان میں شعر کہناپسندکرتے ہیں۔ روایت کی بنیادپر انہوں نے جدیدطرز کی عمارت تعمیرکی ہے۔ وہ سادگی میں پرکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ موقع محل کے لحاظ سے وہ استعارات وعلامات اور رمزواشارات سے بھی کام لینے میں گریزنہیں کرتے۔ مگر یہ علامتیں معنی کے افہام و تفہیم کی راہ کاروڑہ نہیں بنتیں۔ ہر معیار کاقاری ان کے اشعار کے مطالب ومعانی تک بآسانی رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ ان کی شاعری میں ارضی صداقت، تلخ و ترش سچائیوں کے منظر نامے بھی جلوہ طراز نظر آتے ہیں۔ ان کی بصارت وبصیرت درک و آگہی اور مشاہدات و تجربات ہی پرواز تخیل اور فنی بالیدگی کی معاونت سے ان کے شعری پیکرمیں ڈھل جاتے ہیں۔ مذہبی، نسلی، علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصب، فرقہ وارانہ فسادات، دہشت گردی، آتشزدگی، خوں خرابہ، رشتوں کی بے حرمتی، بزرگوں کی بے ادبی جیسے رُجحانات و واقعات جو آج عہدجاریہ کامقدر بن گئے ہیں۔ ان کوبرقیؔنے بڑے پروردگارانہ، آفریدگارانہ، خلاقانہ، ہنرورانہ، فنکارانہ، مخلصانہ، ساحرانہ اور والہانہ اندازمیں شعری اظہار کاخلعت فاخرہ زیب تن کرایاہے۔ عصر حاضر کے متصور اُن کے درج ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیے   ؎

حائل ہے اگر بیچ میں یہ امن و سکوں کے

تم ظلم کی دیوار کو ڈھا کیوں نہیں دیتے

جو جیسا کرے گا وہ یہاں ویسا بھرے گا

ڈستے ہیں اُسے اب وہی جو سانپ ہیں پالے

مزدور کا حق مار کر کے جو کی ہے اکٹھا

اب اس سے سنبھلتی نہیں دولت وہ سنبھالے

رزم گاہِ زیست میں ہر گام پر خنجر ملے

راہزن تھے قافلے میں مجھ کو جو رہبر ملے

مادیت کا ارتقاہی تہذیب کے زوال کاباعث ہے۔ اس زوال زدہ معاشرے میں بدسے بدتر حالات کے باوجودبرقیؔ مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ وہ گُم گشتہ رومانی قدروں کااحترام کرتے ہوئے محبت و اخلاص کے سروکار سے ماضی کی عظیم الشان روایت کو بحال کرنے میں جی جان سے جٹے ہیں   ؎

اسوۂ حیدر ِ کرار کو رکھ پیشِ نظر

رزم میں سینۂ اغیار میں ڈر پیدا کر

وقت یکساں نہیں رہتا ہے ہمیشہ برقیؔ

شبِ تاریک کے دامن سے سحر ہیدا کر

میرا یہی ہے کاتبِ تقدیر سے سوال

کیا ہوگی اپنی عظمتِ رفتہ کبھی بحال

جن میں کوئی بھی نہیں ہے آدمیت کا نشاں

’’جانے کس بنیاد پر انسان کہلاتے ہیں لوگ‘‘

امنِ عالم کی فضا ہموار ہونا چاہئے

آدمی کو آدمی سے پیار ہونا چاہئے

 روایتی شاعری سے لے کر مابعد جدید شاعری تک شاعری کا لازوال اور اہم ترین موضوع عشق و عاشقی اور حسن و جمال کی معاملہ بندی رہاہے۔ لہٰذا حکایات با یار گفتن کے مصداق برقی؎نے بھی اس زرخیززمین میں خوب خوب گل بوٹے کھلائے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں   ؎

ہیں اس کے دستِ ناز میں دلکش حنا کے پھول

اظہارِ عشق اس نے کیا ہے دکھا کے پھول

اُس کے خرامِ ناز کا عالم نہ پوچھئے

ہیں دلفریب غمزہ و ناز و ادا کے پھول

کیف و سرور و عشق میں بل کھا کے پی گیا

اُس کی نگاہِ مست سے بل کھا کے پی گیا

بات ہے ان کی بات پھولوں کی

ذات ہے ان کی ذات پھولوں کی

وہ مجسم بہار ہیں ان میں

ہیں بہت سی صفات پھولوں کی

شمیمِ زلف سے اُن کی فضا تھی عطر بدوش

مشامِ جاں تھی معطر جہاں جہاں گزرے

  برقی اپنے سینے میں ایک خودداردل رکھتے ہیں ۔

نیاز مندی کی حد سے برقی کبھی تجاوز نہیں کیا ہے

ستمگروں کو سلام ہم نے نہیں کیا ہے نہیں کریں گے

عزتِ نفس ہے برقیؔ کو عزیز

وہ اُٹھائے گا نہیں دستِ سوال

٭٭٭

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close