دیگر نثری اصناف

مرزا حامد بیگ کے افسانوں میں روایت کی بازیافت 

 شہناز رحمٰن

        جدید اردو افسانہ پر اعتراض ہے کہ اس میں عجز بیان، بے وجہ علامتوں کے استعمال، شعور کی رو کو برتنے کی بے جاکوشش، سہل پسندی کی وجہ سے واقعہ اور کردار سے گریز، معنویت پیدا کر نے کے لیے فنی ناواقفیت کی بنا پر مشکل پسندی کی طرف رغبت نے اردو افسانہ کو دو کوڑی کا بنا کر رکھ دیا۔ دوسری طرف جدید افسانے کا نقاد جبراًعلامت ا ور چشمہ شعور کی  تلاش میں قدری فیصلوں سے اجتناب کرنے لگا جس کی وجہ سے جدید افسانہ قاری سے محروم ہو گیا اور بہت جلد ہی اس کا پہیہ رک گیا۔ اس طرح کی نظریات کی وجہ سے جدید افسانہ تحسین و تنقیص دونوں اعتبار سے غیر ناقدانہ رویہ کا شکار رہا۔ لہٰذا جدید افسانے پر وارث علوی کی رائے ملاحظہ ہو جو بڑی دلچسپی کا حامل ہے:۔

’’ایک تو ہمارے نئے افسانے اتنے نحیف ہیں کہ لیتھو کے پتھر تلے ہی دم توڑ دیتے ہیں، اور دوسری طرف علامت اسطور اور چشمہ شعور کی وہ لن ترانیاں ہیں جو تنقید کے بجائے جواں مرگ کا کتبہ یا تعزیتی مدح سرائی معلوم ہوتی ہیں۔

خلاق ذہن کو فیشن پرست ذہن سے الگ کرنے میں جب نقاد سے کوتاہی ہوتی ہے تو ادب میں انارکی پھلتی ہے، اور جدید اردو افسانہ اس انارکی کا شکار ہے ‘‘(1)

        لیکن اسی عہد کے آس پاس کے بعض لکھنے والوں نے زبان کو تخلیقی سطح پربرتا، محض تقلید کی بنا پر مشکل ومبہم انداز اختیار نہیں کیابلکہ موضوع و مواد اور کرداروں کے مزاج کا خیال رکھتے ہوئے زبان و بیان کا استعمال کیا۔ اس لیے ان کے افسانوں میں زبان کی پیچیدگی، اسلوب کی تہہ داری، اور تکنیک کا استعمال قاری کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی۔ بلکہ ایک تربیت یافتہ قاری غور وفکر اور تعبیر و تشریح کے مرحلے سے گزرنے کے بعد افسانے کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ان افسانہ نگاروں میں مرزا حامد بیگ، محمدمنشا یاد، خالدہ حسین، غیاث احمد گدی، مشتاق مومن، انور خاں، سلام بن رزاق اور ساجد رشید وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ا س عہد کے افسانہ نگاروں کے تخلیقی عمل کے متعلق محمدحمید شاہد رقمطراز ہیں :۔

’’لطف یہ ہے کہ اس نسل کے افسانہ نگاروں کے ہاں رد عمل کے بجائے تخلیقی تجربے سے وابستگی کا رویہ سامنے آتا ہے ان افسانہ نگاروں کے ہاں نہ تو افراط ذات ہے نہ ہی زبان میں شعری رموز علائم کا ناروا استعمال۔ یہی سبب ہے کہ اس دورانئے میں افسانہ فکشن کی زبان کے لیے نثر کے آہنگ پر اصرار کرتا ہے۔ تخلیق پسند افسانہ نگار اس حقیقت کو تسلیم کر کے تخلیقی عمل میں شریک ہوا ہے کہ اسلوب اور زبان کہانی کی کل ہی سے معنویت پاتے ہیں۔ معنیاتی گہرائی الگ سے علامت کی چیپی کے ذریعے فن پارے کا حصہ بنائی جائے تو وہ اسے بو جھل اور ناگوار بنا دیتی ہے۔ آج کا کہانی لکھنے والا جانتا ہے کہ کہا نی کی فضا اور کیفیت کے بغیر افسانے کا کوئی اسلو ب نہ تو جمالیاتی اقدار کا حصہ ہو سکتا ہے نہ اس میں کسی توسیع کا وسیلہ۔ تخلیقی افسانہ نگار بیانیہ کی راست ترسیل کے پہلو بہ پہلو متن کی معنیاتی گہرائی کو ایک ساتھ متحرک رکھنے پر قادر ہے یہی سبب ہے کہ ایک نامیاتی وحدت میں ڈھلنے کے بعد اس کے افسانوں کے کردار بھی علا مت بن جاتے ہیں اور اس کی فضا بھی۔ (2)

         مرزاحامد بیگ کے افسانوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے افسانے ان خصوصیا ت سے متصف ہیں۔ اگر چہ زمانی اعتبار سے ان کا شمار آٹھویں دہائی کے لکھنے والوں میں ہوتا ہے جسے جدیدیت کے بعدکادور کہا جاتا ہے جس میں علامتی اسلوب کے بجائے راست بیانیہ کو ترجیح دی گئی مگر حامد بیگ کے افسانوں میں فنی تشکیلات اور ٹریٹمنٹ وہی ہیں جو جدید افسانوں میں پائے جاتے ہیں، ابہام، علامتیں، استعارے، رمزیت و ایمائیت، ٹھوس پن کے بجائے سیال کیفیت وغیرہ سے مل کر ان کی کہا نیوں کا خمیر تیار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روایت کی بازیافت کی بھی کوشش ملتی ہے، یعنی جدید افسانوں کی طرح عدم تکمیلیت، واقعہ و کردار سے ماوراء، محض تکنیک کے نو بہ نو تجر بات کا مجموعہ ہونے کا احساس نہیں ہوتابلکہ عصری حسیت کا اظہار داستانوی انداز اور نو کلاسیکی و روایتی طرز میں کیا گیا ہے۔ اس کی  واضح مثال افسانہ’’کالی زبان‘‘ سے ملتی ہے، اس میں واقعہ کی نوعیت، اور بیان کرنے کا انداز داستانوی ہے افسانے کا مرکزی کردار ابو نواس اپنی چچا زاد بہن کے حسن پر فریفتہ ہے جب وہ لڑکی کے یہاں شادی کا پیغام بھیجتا ہے تو یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ قبیلہ بنی بکر کی تیز رفتار گھوڑی بطور مہر ادا کرے چنانچہ اپنی محبوبہ کو حاصل کرنے کے لئے ابونواس غلط طریقے سے سادہ دل لوگوں کو دھوکہ دے کر قبیلہ بنی بکر کے ایک قصبہ سے ’’شبکہ ‘‘نامی تیز رفتار گھوڑی کو چرا کر لے آتا ہے۔ اس طرح مکر وفریب سے وہ شرط تو پوری کر لیتا ہے مگر شادی نہیں ہو پاتی کیوں کہ وہ اس قابل نہیں رہ جاتا کہ شادی کر سکے۔ اس کے کریہہ گناہوں کی وجہ سے ضمیر اسے ملامت کرتا ہے اور وہ اپنے جرم کے ڈر سے خود کومحفوظ کرنے کے لئے آہنی دیواروں میں مقید کر لیتاہے۔ اس طرح اس افسانے کا انجام خیر کی فتح اور شر کی کی شکست پر ہوتاہے۔ اس میں کرداروں کے نام اور استعمال کئے گئے الفاظ سے داستانوی فضا کا احساس ہوتا ہے اور یہ رنگ اختتام تک پہنچتے پہنچتے مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ افسا نے کی آخری سطریں ملاحظہ ہوں۔

’’داستان گو نے بیان ختم کرنے کے بعد دونوں ہونٹوں پر دھیرے دھیرے اپنی زبا ن کو پھیرا، ، ایک ذرا تامل کیا پھر بولا۔

’’ابی طا ہر کے خشک حلق کو تر کرنے کی خاطر پانی نہیں لائوگے‘‘(3)

                  اس میں افسانہ نگار کی فنی پختگی اس طرح پو شیدہ ہے کہ ابتدا سے لے کر وسط تک کہیں اس بات کا احساس نہیں ہونے دیاکہ افسانے کا واحد متکلم راوی خود ابی طاہر ہے جسے ابو نواس نے دھوکہ دے کر گھوڑی حاصل کی ہے۔ بلکہ افسانے کے آخر میں واضح ہو تا ہے افسانے کایہی کردار ابی طاہر ہی راوی بھی ہے۔ یہ مصنف کا کمال ہے کہ بخوبی اس نے ایک ہی شخص کو دو حیثیتوں سے متعاف کرایا۔

                ’’مٹی کا زنگ‘‘ کا مرکزی کردار ایک مردہ شخص ہے جو اسٹیشن پر لاوارث پڑا ہوا ہے لیکن وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔ یہ استعارہ ہے ان بے ضمیر لوگوں کا جو  اس دنیا میں بے بس اور کمزور لوگوں کو دیکھ کر نظر انداز کر جاتے ہیں اور اس قدر خود غرض و بے ضمیر ہو گئے ہیں کہ ایک مردے تک کو نظر انداز کر کے گزر جا رہے ہیں گویا مذہبی و تہذیبی تمام قدریں نیست و نابود ہو چکی ہیں اس افسانے کی خوبی یہ ہے کہ اس میں پر اسرار ماورائیت کے ساتھ واقعیت کا پہلونمایاں ہے۔ اورکرداروں کی پیشکش کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایک نئے تجر بے کا احساس بھی ہوتا ہے جس میں جدت کے ساتھ روایت کی بازیافت بھی موجود ہے۔ وہ اس طرح کہ علامتی پیرایہ میں سہی واقعہ اور کردار کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اور گاہے گاہے مناسب مکالموں کا بھی استعمال ہے۔ اسی طرح افسانہ ’’رات کا جادو‘‘میں رات کے وقت چلتی ہوئی ٹرین کے ایک ڈبے کے مسافروں کی مختلف حالتوں کا بیان نہایت ہی سادہ انداز میں کیا گیا ہے لیکن اس سادگی میں بھی ابہام اور تہہ داری ہے، رات کی مناسبت سے ہر چیز دھندلی اور غیر واضح ہے۔ یہاں تک کہ وہ لڑکی جو زنانہ ڈبے سے نکل کر مردوں کے ڈبے میں آگئی ہے اور مردوں کے توجہ کی مرکز بنی ہوئی ہے افسانے کا مرکزی کردارجو ایک نوجوان ہے اس سے بے نیاز سو رہا ہے اچانک اس کی آنکھ کھلتی ہے تو دیکھتا ہے کہ زنانہ ڈبے سے اس طرف آنے کا کوئی راستہ نہیں ہے وہ حیران ہوتا ہے کہ شاید وہ خواب دیکھ رہا تھا۔ آخر اسٹیشن پر اترنے کے بعد پھر اسی شبیہ کی عورت اسے نظر آتی ہے تب اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ واقعی وہ سب خواب یعنی رات کا جادو تھا۔ اس مرحلے پہ آکر قاری بھی چونک سا جاتا ہے۔ جیسا کہ افسانے کے بعض سطروں سے مترشح ہوتا ہے۔

’’ہاں تو تیسری پور کے اندر رات پھیلی ہوئی ہے اور مرد ہی مرد بھرے ہیں۔ یکایک باہر کے زنانہ ڈبے سے ایک لڑکی ادھر لڑھک آتی ہے۔

لڑکی نے دھیرے دھیرے پہلو بدلااور سب نے دیکھا کہ اس کی کمر پر تنی ہوئی قمیص کے بڑے سرخ پھول اونگھ رہے ہیں۔ ۔

اور وہ یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ برابر کے زنانہ ڈبے سے اس طرف لڑھک آنے کو سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں۔ ۔ ۔ کیا اس نے کوئی خواب دیکھا ہے۔ اس نے ماتھے تک ہاتھ لاتے اور سر کو جھٹکتے ہوئے سوچا۔ ۔

اسٹیشن گہری دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ جب اترا ہے تو اس نے دیکھا کہ بہت سے کچی نیند سے جاگے ہوئے مرد عورتیں اور بچے برابر کے ڈبے میں چڑھنے کی کوشس کر رہے تھے۔ اس طرف جہاں دیہاتی وقت گزاری میں مصروف رہے۔ وہ خود ابھی ابھی جس دروازے سے اترا تھا، اس کی طرف لپک جھپک بڑھتی ہوئی خاتون کو اس نے دیکھا۔ ۔ ۔ اس کے دیکھتے دیکھتے وہ لچکتی ہوئی پائیدان تک گئی۔ ۔ اس کے کندھے جلدی میں چلنے کے سبب جھکے ہوئے تھے اور اس کے کمر پر تنی ہوئی قمیص کے بڑے سرخ پھول روئے روئے سے جیسے آنکھیں مل رہے ہوں۔

وہ اپنی سرخ انگارہ آنکھوں کو ملتا ایک لحظہ ٹھٹکا۔

اس لڑکی کو کہیں دیکھا ہے۔

اس نے ماتھے تک ہاتھ لاتے اور سر کو جھٹکتے ہوئے سوچا۔ وہ چند لمحوں کو رکا بھی۔ لیکن وہ جلدی میں تھا اور اسے کچھ یاد نہیں آرہا تھااور اسٹیشن پر دھند گہری تھی اور لوگوں کا شور۔ (4)

 اس افسانہ کی پر اسرار اور تحیر خیز فضا سے قاری کے تجسس میں اضافہ ہوتا ہے مگراس میں تحیرنہ تو کسی مقصد کے حصول کے لیے ہے اور نہ ہی فنی حربے کے طور پر بلکہ اس اسلوب کو اختیار کرنا موضوع کا تقاضہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر کسی اور اسلوب میں ہوتا تو معاشرے کی بے سرو سامانی اور ایک کردار کی خواب آگیں کیفیت کا تاثر اتنا گہرا نہ ہو سکتا۔ اس افسانے کے کردار کے اعمال وافعال میں وہ منطقیت تو نہیں ہے جو ترقی پسند افسانے میں پیش کردہ کرداروں کی تھی تاہم یہ کردار قدرے متوازن رویوں کا حامل ہے۔ کم ازکم اس کردار میں وہ اضطراب نہیں جو’’سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں ‘‘( قمر احسن )’’اقلیما سے پرے ‘‘(اکرام باگ) ’’کہانی در کہانی ‘‘(حمید سہروردی )وغیرہ کے کرداروں میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ مرزا حامد بیگ کے کئی افسانوں میں اسلوب کی نئی جہتوں میں روایت کی بازیابی دیکھی جا سکتی ہے مثلاًبرج عقرب، دھوپ کا چہرہ، نیند میں چلنے والالڑکااور واپسی وغیرہ۔

             مرزا حامد بیگ کے افسانے یک رنگی و یک جہتی کے عیب سے پاک ہیں کیوں کہ وہ موضوع سے زیادہ اسلوب اور تکنیک پر زور دیتے ہیں اور بیانیے میں نئے امیجزو استعاروں کے ساتھ روایتی رنگ کو بھی باقی رکھتے ہیں مثلًاافسانہ ’’واپسی ‘‘میں تصویر کے رنگوں کے ذریعہ حالات و کیفیات اور تاثرات کو بیان کیاہے۔ ا سی طرح ان کے کئی افسانے تا ریخی واقعات کے پس منظر میں عصری حسیت اور نسلی کرب کو پیش کرتے ہیں۔ حامد بیگ کے افسانوں کے اسلوب کے سلسلے میں فضیل جعفری لکھتے ہیں :۔

 ’’مرزا حامد بیگ کے افسانوی ادب میں آج بھی ندرت وتنوع کی جلوہ سامانیاں ملتی ہیں، اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ان کا تخلیقی مزاج بیک وقت کلاسیکی بھی ہے اور جدید بھی۔ ‘‘(5)

مرزا حامد بیگ کو کلاسیکی ان معنوں میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ جدیدیوں کے برعکس ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جس کی ترسیل میں دشواری نہیں ہوتی اور بیانیہ کا لطف برقرار رہتاہے۔ اس کے علاوہ حتی الامکان علت و معلو ل کی بنیاد پر پلاٹ استوار کرتے ہیں جو جدید افسانوں میں نہ کے برابر ہے۔ لیکن واضح رہے کہ یک رخے اور سطحی بیانیہ سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں زبان کا پر تاو ایسا ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ مفاہیم برآمدہو سکیں۔ اس ضمن میں ان کا افسانہ ’’آوازیں ‘‘قابل ذکر ہے۔ افسانے کی ابتدائی دو سطریں ہی قاری کو اخذ معنی کے کشمکش میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ وہ ان دو سطروں کا سرا کس سے جوڑے۔ تجسس و تحیر افسانہ کے آخر تک موجود رہتا ہے لیکن پوراافسانہ پڑھنے کے بعد معنی کی طرفیں کھلنے لگتی ہیں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ لیکن افسانے کا واحد متکلم ہی اس افسانہ کا مرکزی کردار ہے جوڈاکٹر ہے۔ آفس سے لوٹتے ہوئے  ایک دن راستے میں ایک بوکھلایا ہوا بچہ اس کا راتہ روک کر کہتا ہے کہ اگر آ پ ڈاکٹر ہیں تو میرے ساتھ چلیں، ڈاکٹر جب وہاں پہنچتا ہے تو ایک عورت بستر مرگ پر پڑی ہوئی ملتی ہے، وہ اس کے لیے دوائیاں تجویز کر کے چلا جا تا ہے۔ اچانک ایک دن آفس سے واپسی کے بعد ڈاکٹر کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا کوئی کام ادھورا رہ گیا۔ لہذا وہ گھر کی تما م چیزوں کا جائزہ لینے کے بعدپھربوجھل قدموں کے ساتھ آفس بھی جاتا ہے مگر اسے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ یاد داشت پر بہت زور دینے پر بھی کچھ یاد نہیں۔ یکا یک اس کا قدم ریس کورس یعنی اس بیمار عورت کی کوٹھی کی طرف اٹھ جاتا ہے، وہاں پہنچنے پر گیٹ کیپر آگا ہ کرتا ہے کہ یہاں چوبیس برس سے میرے علاوہ کوئی نہیں آیا ہے۔ لیکن بضد ہو کر وہ حویلی کے اندر داخل ہو جاتا ہے ایک خالی کمرے میں تپائی پر اسے اپنے ہاتھ کے علاوہ اسے کچھ نہیں۔ مگرایک باشعور اور تعلیم یافتہ شخص ہونے کی وجہ سے وہ ما بعد الطبیعاتی باتوں پر یقین نہیں کر سکتاہے تاہم اس کے ساتھ جو واقعہ پیش آتا ہے اس کی بنا پر وہ کہتا ہے۔ ’’نئی نسلیں اپنے بڑے بوڑھوں سے۔ سنتی آئی ہیں کہ ایساہوتا ہے۔ کب ہوتا ہے ؟کیوں کر ہوتا ہے ؟ کچھ پتا نہیں۔ بس ہوتا ہے کوئی پکارتا ہے۔ اور صدیوں کے پھیلائو میں یوں ہی لمحہ بھر کے لیے وقت کروٹ لیتا ہے اور بس۔ ہم آواز کے رخ پر سفر کرتے ہوئے کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں۔ اس روز بھی کچھ یہی ہوا۔ ‘‘(آوازیں )اس کردا ر کے تمام رویوں کا تجزیہ کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لا شعوری طور کچھ واقعات و حادثات کو ذہن میں محفوظ رکھے ہوئے ہے اسی لیے ایک باشعور انسان کی زندگی گزارنے اور مہذب معا شرے میں رہنے کے با وجودکبھی کبھی لاشعور کی اتباع میں مصروف ہو جاتا ہے۔ مصنف کی خوبی یہ ہے کہ ایک شخص کی ایسی نفسیاتی پیچیدگی کو گرفت میں لے پلاٹ تیار کیا ہے جو اوروں میں بھی ہو سکتی۔ ایسے لوگ جو انسانی رشتوں کے معاملے میں سنجیدہ جذبات رکھتے ہیں۔ دوسری اہم خوبی یہ کہ وضاحت و صراحت سے اجتناب کرتے ہوئے چند لفظوں اور جملوں سے قاری کو متن تک رسائی کا ذ ریعہ فراہم کر دیا ہے۔ حامد بیگ کی اسی خصوصیت کے پیش نظر سجاد باقر رضوی لکھتے ہیں :َ۔

’’حامد بیگ کے افسانوں میں تکنیک اور اسلوب خود موضوع ہے۔ وہ کسی موضوع پر افسانے نہیں لکھتے البتہ ان کے افسانوں میں موضوع ڈھونڈھا جا سکتا ہے۔ ان افسانوں کی ایک اور خصوصیت وقت کومختلف صورتوں میں برتنے کی ہے کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ زمانی حدود اور نقطوں کو ملانے والی منطق سے کام ہی نہیں لیتے۔ ماضی حال اور مستقبل کا منطقی تصور وقت کے ساتھ ہمارا ذہنی تعلق قائم کر دیتا ہے۔ اور اس حوالے سے ہم گرد و پیش کی دنیا اور خود اپنی ذات سے ایک قابل فہم رابطہ قائم کر لیتے ہیں۔ ‘‘(6)

مندرجہ بالا اقتباس میں حامد بیگ کے افسانوں کی جو فنی خصو صیات بیان کی گئی ہیں انھیں ’’زمین چلتی ہے، پارس پتھر، دھوپ کا چہرہ، بات، نیند کے ماتے وغیرہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کرداروں کی بھرمار نہیں ہے صرف ایک مرکزی کردار اور کبھی کبھی چند ذیلی کرداروں کے ارد گرد واقعہ کاخاکہ تیار ہو جاتا ہے۔

          خلاصہ یہ کہ مرزا حامد بیگ کے افسانے اس لحاظ بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ دوسری تمام خصوصیات کے ساتھ ساتھ انھوں نے  اپنے مخصوص اسلوب کے ذریعہ اردو افسانے کے روایتی طریقہ ء کار کو دوبارہ زندہ کیا، نہ صرف مختلف پہلوئوں سے حقیقت کا ادراک کیا بلکہ   اپنے ذاتی رد عمل کو آفاقی صورت عطا کر کے افسانے کی صورت میں علامتی و استعاراتی پیرایہ میں پیش کیا۔ ان کے بعض افسانوں کی تہہ میں اخلاقی اصلاح کا رویہ بھی بر سر کار ہوتا ہے مگران میں جذ باتیت کی آمیزش نہیں ہوتی بلکہ اس رویے کی وجہ سے جدید طرز اور روایتی بیانیہ متوازی خطوط پر چلنے لگتے ہیں۔

حواشی۔

(1)ص:530، بت خانہ چین، وارث علوی۔ گجرات اردو ساہتیہ اکیڈمی، 2010۔

(2)ص:186، اردوافسانہ:صورت ومعنیٰ، محمد حمید شاہد۔ برائون بک پبلیکیشنز

، نئی دہلی، 2015۔

(3)ص132، جانکی بائی کی عرضی، مرزا حامد بیگ، دوست پبلی کیشنز، کراچی، 2011۔

(4)ص، 38۔ تار پر چلنے والی، مرزا حامد بیگ۔ 2005۔

(5)ص:18، جانکی بائی کی عرضی، مرزا حامد بیگ۔

(6)ص11، گمشدہ کلمات، مرزا حامد بیگ، دوست پبلی کیشنز، کراچی، 2002۔

مزید دکھائیں

شہناز رحمن

ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

متعلقہ

Close