مصائب

0

نظر عرفان

کوئی بات نہیں

زندگی میں مصائب آئیں گے

چٹان بن کر

 کبھی ہوا کے جھونکوں کی طرح

کبھی طوفان بن کر

اور لگ جائیں گے کنارا

سمندر کی لہروں کی طرح

پھر زندگی ہوگی وہی، سمندر کے ٹھراؤ کی طرح

اور ہم بھی ہوں گے وہی اور آپ بھی

ہوگا گلاب وہی، رنگ گلاب وہی، خوشبوۓ گلاب وہی

اور ہوگی بلبل کی ردا بھی وہی

چڑیوں کی چہک بھی وہی

پھولوں کی مہک بھی وہی

میں بھی ہوں گا وہی، ہوگا میرا پیار بھی وہی،

میری محبت بھی وہی

اور رشتہ جو تھا وہ بھی ہوگا وہی

گلاب کی طرح

آہ! کوئی بات نہیں

زندگی میں مصائب آئیں گے

تبصرے