دیگر نثری اصناف

نئے انداز کی نظامت کے موجد اور خاتم سے اب اُردو محروم رہے گی

حفیظ نعمانی

ڈاکٹر ملک زادہ منظور جنہیں آج مرحوم لکھنا پڑرہا ہے۔ وہ عمر میں ہم سے تین سال بڑے تھے۔ سنہ تو یاد نہیں۔ یہ یاد ہے کہ تقسیم سے پہلے کی بات ہے کہ بڑے بھائی صاحب دارالعلوم دیوبند میں آخری سال میں تھے۔ اس وقت شیخ الحدیث شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی تھے اور ملک زادہ حضرت مولانا کے رشتہ دار تھے اور ان کے فرزند مولانا اسعد مدنی اور ان کے ایک اور شاید بھانجے مولوی فرید الوحیدی بھی اس سال آخری سال میں تھے۔ دارالعلوم میں حدیث کا آخری درس ختمِ بخاری شریف کی شکل میں ہوتا تھا۔ وہ حضرت مدنی کے دَور میں مثالی درس ہوتا تھا۔ والد ماجد مجلس شوریٰ کے ممبر تھے اور اس کا جلسہ ان ہی دنوں میں تھا تو وہ صرف ختم بخاری کی روحانی تقریب میں شرکت کے لئے ہمیں ساتھ لے گئے تھے۔ شاید رشتہ داری کے سلسلہ میں ہی ملک زادہ بھی دیوبند آئے ہوئے تھے۔ اس وقت وہ شاید پڑھ رہے تھے یا پڑھ چکے تھے۔ ممتاز شاعر یا ناظم نہیں تھے۔
ختم بخاری شریف کا درس تو ایک بجے ختم ہوگیا اس کے بعد پورے دارالعلوم میں جشن کا ماحول تھا اور کھانے کے بعد بھائی فرید الوحیدی کے کمرہ میں شعر و شاعری کی محفل جم گئی جس میں وہ شاعر بھی تھے جو وہاں پڑھ رہے تھے، فرید بھائی بھی تھے جو دوسروں کا کلام پڑھا کرتے تھے مگر ترنم غضب کا تھا اور ملک زادہ صاحب کی غزلیں بھی تھیں۔ اسے ملاقات تو نہیں کہا جاسکتا۔ بس یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں پہلی بار اس وقت دیکھا تھا۔ رہی ان سے دوستی تو اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب وہ شبلی کالج میں پڑھا رہے تھے اور ان کے ساتھیوں میں میرے ایک دوست ظفرالحسن خاں تھے جو فلسفہ کے استاذ تھے وہ بھی بلا کے ذہین تھے اور جب وہ لکھنؤ آگئے اس کے بعد تو ایسی دوستی ہوئی کہ دوستی کے جتنے پڑاؤ ہیں ہر پڑاؤ پر ساتھ ہوجاتا تھا۔
ملک زادہ ان خوش نصیبوں میں تھے جنہیں پاک پروردگار نے ہر طرح سے نوازا تھا۔ وہ شخصیت کے اعتبار سے انتہائی پرکشش آواز کے اعتبار سے منفرد ذہانت کے اعتبار سے مالا مال اور اولاد کے اعتبار سے خوش نصیب۔ مشاعرے تو اس وقت سے ہوتے آرہے ہیں جب سے شعر کہے جارہے ہیں۔ لیکن نظامت بس ایسے ہوتی تھی کہ جو غزل پڑھ کر ہٹا اس کا کوئی اچھا شعر دہرا دیا اور پھر جس شاعر کو بلایا اس کا کوئی شعر پڑھ دیا اور اگر کسی نے بہت ہی اچھی غزل پڑھ دی تو تحسین کے کلمات سے نواز دیا۔
شاید پچاس کی دہائی کی بات ہے ایک دوست محسن عثمانی گورکھ پور کے مشاعرہ میں بلائے گئے وہاں سے وہ ایک تو پاکستان کے حبیب جالب کے اشعار تحفہ میں لائے اور گورکھ پور کے ہی ایک ناظم مشاعرہ کی نظامت کا قصیدہ پڑھتے ہوئے آئے۔ اتفاق سے ہمیں ان کی نظامت سننے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اور وہ بھی شاید دو چار برس کے بعد ملک زادہ منظور کی نظامت میں گم ہوگئے۔ ملک زادہ نے شعر اتنے نہیں کہے جتنا قدرت نے انہیں موقع دیا لیکن نظامت کو انہوں نے ایسا بنا دیا کہ ترازو کے ایک پلڑے میں پورا مشاعرہ ہوتا تھا اور دوسرے میں صرف نظامت اور بار بار دیکھا ہے کہ مشاعرہ کے بعد چرچے میں جتنے شعر ہوتے تھے اتنے ہی جملے ملک زادہ کے ہوتے تھے۔ مشاعروں کی منفرد انداز کی نظامت نے ہی انہیں آسمان پر چڑھایا اور یہ نظامت ہی انہیں کھا گئی۔ انہوں نے جتنے دن استاذ کی حیثیت سے گذارے اور وہ خود جیسے ادیب تھے اتنے اور ایسے کیا کسی درجہ کے بھی شاگرد اُن کے ہمیں نہیں ملے۔ اور یہ بات تو خود ڈاکٹر ملک زادہ نے ہم سے نہ جانے کتنی بار دُکھ کے ساتھ کہی کہ مشاعروں نے پیسوں سے جیبیں بھردیں اور شہرت دنیا کے کونے کونے میں پہونچادی لیکن شاگردوں کا حق ادا نہ ہوسکا۔
ہمارے نزدیک پروردگار کے انعامات میں ان کے اعصاب بھی تھے کہ شاید وہ ہزاروں یا کچھ کم راتوں میں دو چار گھنٹے بھی نہ سو سکے ہوں گے۔ مشاعرہ کا شاعر بھی رات کو جاگتا ہے۔ لیکن وہ کمر بھی سیدھی کرلیتا ہے غنودگی بھی اسے مل جاتی ہے۔ لیکن نظامت اتنی سخت ڈیوٹی ہے کہ دماغ پر جتنا بوجھ تمام شاعروں پر پڑتا ہے اتنا اکیلے ناظم پر پڑجاتا ہے۔ وہ صرف حاضری نہیں لیتا بلکہ اسے شاعروں کو بھی اوپر نیچے کرناپڑتا ہے اور سامعین کے ذوق اور جذبات کا بھی خیال کرنا پڑتا ہے۔ اسے جاہل سامعین کی بھی رعایت کرنا پڑتی ہے اور اہل دانش سے بھی داد لینا ہوتی ہے۔ وہ خوش نصیب تھے کہ جتنے دنوں میں شاعر اچھے شعروں کی بناء پر مشہور نہیں ہوپاتے اتنے دن تو ریٹائر ہونے کے بعد شعر کہنے اور نظامت کے پرچم لہرانے میں انہوں نے گذار دیئے۔
والی آسی مرحوم، ڈاکٹر ملک زادہ سے 13 سال چھوٹے تھے۔ اب سے کوئی 15 سال پہلے مجھے وہ ایک دن ہارٹ اسپیشلسٹ وی ایس نرائن کے مطب میں ملے۔ میں ڈاکٹر نرائن کا پرانا مریض تھا۔ میں انہیں ہاتھ پکڑکے اندر لے گیا۔ پہلے چند منٹ میں اپنا حال بتایا پھر والیؔ کا تعارف کراتے ہوئے ان کی پوری تعریف کردی وہ بھی ہر طرح کی رپورٹوں کی فائل لے کر گئے تھے۔ ڈاکٹر نرائن نے آدھے گھنٹے تک سب دیکھا پھر کہا کہ کیا آپ میرا علاج کرائیں گے؟ انہوں نے جواب دیا اسی لئے حاضر ہوا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ آپ علاج کر نہ پائیں گے اس لئے کہ میں سب سے پہلے یہ کہوں گا کہ آپ رات کا جاگنا چھوڑ دیجئے۔ قبل اس کے کہ والیؔ جواب دیتے۔ میں نے کہا کہ تو پھر یہ کھائیں گے کہاں سے؟ اس کا جواب یہ تھا کہ یہ میرا نہیں آپ کا مسئلہ ہے۔ اور والیؔ نے ان کا علاج چند ہفتوں کے بعد چھوڑ دیا پھر کسی اور کو پکڑا اور پھر کسی اور کو اور آخرکار سب کو اللہ کے حوالے کرکے چلے گئے۔ والیؔ آسی نے ڈاکٹر ملک زادہ کے مقابلہ میں شاید آدھی راتیں بھی جاگ کر نہ گذاری ہوں گی۔
میری ٹیلیفون پر تو باتیں ہوجاتی تھیں۔ آخری ملاقات اس دن ہوئی جب وہ شاید وجاہت علی سندیلوی کی یاد میں ہونے والے جلسہ میں آئے تھے یا عابد سہیل کے تعزیتی جلسے میں۔ اس دن دیکھا کہ شیروانی زیب تن نہیں ہے بلکہ ہڈیوں کے ہینگر پر ٹنگی ہوئی ہے۔ آنکھیں تو خشک رہیں دل رو دیا۔ اور وہ ملاقات یاد آئی جو ساٹھ برس پہلے دیوبند میں ہوئی تھی۔ اور پھر ہر انداز میں بھی دیکھا اور ہر لباس میں بھی آج جس مشاعرے جس جلسے جس سیمینار میں نظامت ہورہی ہے اور جب تک اُردو زندہ ہے اور نظامت ہوتی رہے گی ان کی حیثیت وہ ہوگی جو شاعروں میں غالب کی ہے۔ ہرچند کہ مرزا یاس یگانہ چنگیزی جیسے غالب شکن بھی پیدا ہوئے اور غالب کو کسی سے کم ثابت کرنے والے بھی لیکن غالب غالب ہیں اور غالب رہیں گے۔ بالکل اسی طرح نظامت کو ملک زادہ کی پٹری سے اتارکر اپنی پٹری پر لانے والے بھی پیدا ہوئے اور ایسے بھی ناظم ہوئے جنہوں نے فخر کے ساتھ اپنے کو ڈاکٹر صاحب کا شاگرد کہا اور ڈاکٹر صاحب نے انہیں خلافت بھی عطا کی۔ ؂
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
رب کریم ملک زادہ منظور کو ان کے ان ہی عزیزوں کا قرب عطا فرمائے جن سے ان کا شجرہ اور نسب ملتا ہے۔ یعنی شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی علیہ الرحمۃ کا 
دعا کرو مری خوشبو پہ تبصرہ نہ کرو
ہر ایک رات میں کھِلنا بھی تھا بکھرنا بھی

(بشکریہ یواین این)

مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close