دیگر نثری اصناف

پردیسی یار

عظمت علی

 راسکو ان کے ساتھ پہاڑ کی سیر و تفریح کے لیے نکل گیا تھا۔ اب جو لوٹا توتما م اعضاو جوارح دم توڑ چکے تھے۔ بالکل خستہ حال ہوگیا تھا۔ بس یوں سمجھ لیں کہ رمق حیات باقی تھی۔ جیسے ہی کمرے میں آیا۔ شام کا وقت ہوچکا تھا۔ سوچا ذرا استراحت کرلے اور۔ ۔ ۔ لیکن اب جو سویا تواتنی گہری نیند سویا کہ  گویا اصحاب کہف۔ کمرے میں کل سات طالب علم رہتے تھے۔ اسکول میں کھانا وغیرہ ملتا نہیں تھا۔ ہر روز معمول کے مطابق ایک لڑکا کھانا بناتا اور دوسرے اپنے دیگر کاموں میں مصروف ہوتے۔

دوستوں نے بڑی کدو کاوش کہ وہ  بیدارہوجائے لیکن مردہ بھی کہیں اٹھتا ہے۔ بڑی کوششوں کے باوجود جب انہیں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آئی تو وہ بے چارے تھک ہار کے بیٹھ گئے۔ اور ویسے کرتے بھی کیا !

خیر جب اس کی نیند پوری ہوگئی تودیر رات اٹھا۔  دیکھا سب آگ بگولا ہیں اور اسے ایسا گھورہے ہیں جیسے کہ ابھی نگل جائیں گے۔ اسے خیال سوجھاکہ  بہتر ی تو اسی میں نظر آتی  ہے کہ یہاں سے نو دو گیا رہ ہوجاؤں ۔ کمرہ سے باہر آیا۔ دیکھا رات بہت ہوچکی ہے۔ تیزی سے باسن کی طرف گیا،  ہاتھ منھ دھلا اور بھیگی بلی کے مثل کمرہ میں آگیا۔ روم میں آتے ہی اس کی نظر سامنے آویزہ لسٹ پڑی تو اس کے حواس باختہ ہوگئے کہ اوہ! آج تو میرا کھانا بنانے کا نمبر ہے۔ جلدی سے کپڑے زیب تن کئے اور جوتا پہنا۔ ابھی دروازہ سے نکل ہی رہا تھا کہ اس  کا ایک خاص دوست مرزا جو اسی ہاسٹل میں رہتاتھا، مل گیا۔ البتہ اس کے روم میں نہیں ۔ اس نے اسے دیکھا اور بے ساختہ سوال کرلیا۔ راسکوبھائی کہاں ؟اتنی رات گئے کہاں کی روانگی ہے؟سب ٹھیک ٹھیک تو ہے نا؟

کہا:کہیں تو نہیں !

اس نے کہا:تب یہ لباس اور جوتے کا کیا تک  بنتا ہے اتنی اندھیر میں ۔ کیا ہوا سب اپنی جگہ پر تو ہے۔ بتادو! کوئی مسئلہ ہوتو؟اب ہم لوگوں سے نہیں بتاؤگے توکس سے بتاؤگے ؟چلو اب بتاہی دو۔ کیا پریشانی لاحق واقع ہوگئی اتنی رات میں ؟

کھانا بنانے کا نمبر تھا۔ میں اپنے باہر سے آئے چند دوستوں کے ساتھ پہاڑ کی سیر کو چلا گیا تھا۔ پہاڑوں پرتو چڑھتے نہیں ہیں ۔ اب جو چڑھے تو بہت خستہ ہوگیا۔ کمرہ آیا اور سوگیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کافی دیر تک سوگیا۔ اب جو بیدار ہواتو دیکھا کہ نمبر تو میرا ہے کھانا بنانے کا۔ بدقسمتی سے سبزی و غیرہ بھی ختم ہوچکی۔ اب جا رہاہوں پیاز ٹماٹر اور ہری مرچ وغیرہ لینے۔

مرزانے کہا:ایک بات کہوں ؟چاہے تمہیں برا لگے یا اچھا !لیکن حقیقت یہ ہے تم لاابالی بہت ہو!کبھی دوسروں کا خیال نہیں رہتا۔ کب اور کہاں کیاکرنا ہے اس کا بھی خیال نہیں رہتا۔ چلو مان لیا کہ تمہیں بھوک نہیں لگی ہے۔ لیکن اپنے کمرے والوں کی فکر تو کیا کروبھائی۔ وہ بھی تمہاری ہی طرح ایک طالب ہیں ۔ وہ اپنی باری پر کھانا بناتے ہیں کہ نہیں ؟

بناتے ہیں ۔ راسکونے کہا۔

 چلو، جاؤ۔  سبزی لاؤ اور بناؤ کھانا۔

اب وہ سبزی منڈی  کی راہ لیتاہے۔ وہاں پہونچتا تو ہکا بکا رہ جا تا ہے۔ کوئی دکان ہی نہیں کھلی۔ سردی ہونے کے سبب ساری دکانیں بند۔ اب کرے تو کیا کرے۔ وہی سے بلاتاخیر کئے، دوسری  سبزی کی دکان کی تلاش میں نکل گیا۔ بڑے فاصلہ کے بعد ایک اور دکان کا سراغ معلوم ہوا توفرحت  محسوس ہوئی کہ چلو اب تووہاں  سبزی مل ہی جائے گی۔ لیکن قسمت کا مارا، جب اس مقام پر پہونچتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس دکان  پر بھی تالا لٹک رہاہے۔ از حد درجہ مایوس و ناامید ہوا اور اپنے وجود سے متنفر ہونے لگا۔ لیکن یک لخت ذہن میں یہ خیال امڈا کہ قرآن کریم میں پڑھا تھا کہ مایوس نہیں ہونا چاہئے اور مایوسی کفر ہے۔ مایوس انسان کبھی ترقی  کی راہوں کو طے نہیں کر پاتا اور وہ ہمیشہ وہی پاتا ہے جو ترقی یافتہ لوگ چھوڑجاتے ہیں اور وغیرہ ۔ ہمت باندھی اور دوسری راہ کو چل پڑا۔ پوچھتے پوچھتے آخر ایک دکان کا پتہ مل ہی گیا۔ بہت مسرور ہوا۔ سوچا دس کے بجائے بیس روپیہ دیدوں گا۔ بس سبزی مل جائے آج !  لیکن واقعا اس دن شامت کا مارا ہواشخص ثابت ہوا! بہت مغموم ہوا اور ایک دم سے اسے گھر کا خیال آگیاکہ وہ بھی کیا زندگی تھی جب بیٹھے بٹھائے، ماں کے پیارے پیارے ہاتھوں کا پکا پکا ہوا کھانا مل جایا کر تا تھا اور کچھ کرنا بھی نہیں پڑتا تھا۔ لیکن جب سے گھر سے وداع ہواہوں تو بس آفت ہی آفت منڈلارہی ہے سر پر۔۔ ۔ اب میں نہیں رہوں گا یہاں ! میں چلا اپنے گھر اور وہی کسی کالج میں پڑھائی کرلیا کروں گا۔ پردیس کی زندگی بڑی سخت ہوتی ہے۔  ماں باپ کے بغیر تاج محل بھی جھونپڑی ہے اور ماں باپ کے ساتھ ہر گھر تاج محل ہے۔ بلکہ اس سے بہتر!مجھے تو نہیں رہنا اور کون سا میں عالم دورہ بن جاؤں گا۔ چلو کل کی ٹرین پکڑ کر گھر اور وہی موج سے پڑھیں گے اور کھیلیں گے۔

بہت رنجیدہ تھا کہ میں تو ٹھیک لیکن ان دوستوں کا کیا ؟ ہاسٹل کی طرف بڑے ہی افسردہ اور بجھے چہرے کے ساتھ لوٹ رہاتھا۔ طرح طرح کے خیالات ذہن میں آرہے تھے کہ ان کو کیا جواب دوں گا۔ آج تو میری شامت آئی  ہے۔ کرنا کیا ہے۔ دو تین قطرے آنسو ٹپکا لیں گے اور ان سے معذرت کرلیں گے کہ بھائی ! اب آپ کو مزید پریشان نہیں کروں گا۔ میں گھر جارہوں ۔ اور مجھے معاف فرمانا!

مگر جیسے ہی اس نے ہاسٹل میں قدم رنجہ ہوا تو اس خام خیالی کے محل چکنا چور ہوگئے۔  کیا کھانا بنا رکھا ہوا اور اس کا دوست مرزا اپنے ماں باپ کی نیک تربیت کے تاج محل میں دسترخوان بچھائے اس کا انتظار کر رہا تھا.

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close