انٹرویودیگر نثری اصناف

پروفیسر رتن لال ہنگلو  سے خصوصی بات چیت

پاسباں مل گئے

ڈاکٹر زمرد مغل

        پروفیسر رتن لال ہنگلو آپ کا تعلق کشمیر سے ہے آپ شاعر بھی ہیں اور اردو ادب کے بہت ہی سنجیدہ قاری۔ کشمیر ہندوستان کی واحد ریاست ہے جہاں کی سرکاری زبان اردو ہے لیکن کشمیر کے علاوہ ہندوستان اور ہندوستان کے باہر کئی اہم یونیورسٹیز میں آپ  نے پڑھایا ہے۔ اس وقت الہ آباد سینٹرل یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ہیں آپ جہاں جہاں بھی رہے جس جس انسٹی ٹیوٹ سے آپ کا تعلق رہا  آرٹ، کلچر اور لٹریچر کے حوالے سے کام کرتے رہے ا۔ اس وقت یونی ورسٹیز کی کیا صورت حال ہے؟ یونی ورسٹیز میں آرٹ، کلچر، لٹریچر اور پھر ہندوستان کے باہر آپ کا سفر رہتا ہے ہندوستان کے باہر آرٹ، کلچر، لٹریچر کی کیا صورت حال ہے اس بارے میں ان سے کچھ جاننے کی کوشش کریں گے۔

سوال:         پروفیسر صاحب بہت بہت شکریہ کہ آپ نے وقت دیا ہے ہمیں ۔

جواب: شکریہ

سوال :        آپ کا تعلق کشمیر سے ہے کشمیر ہندوستان کی واحد ریاست ہے جہاں کی سرکاری زبان اردو ہے، آپ نے جس زمانے میں ایجوکیشن حاصل کی ہے اس زمانے میں ہر طرف اردو ہی اردو تھی، اردو، کشمیری، ڈوگری جو ہماری اپنی زبانیں تھیں ۔ اب دھیرے دھیرے ہم دیکھ رہے ہیں بہتر آپ بتاپائیں گے ہمیں کہ کشمیر میں اردو بھی ہے کشمیری بھی ہے ڈوگری بھی ہے گوجری بھی ہے یہ سب زبانیں تو ہیں ہی لیکن آہستہ آہستہ ہم لوگ جو ہماری اپنی زبانیں تھیں جو ہماری سرکاری زبان تھی یا جو ہماری اپنی مادری زبانیں تھیں ان سے  دور ہوتے جا رہے ہیں کیا واقعی ایسا ہے چوں کہ آپ نے تو وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ سب طرف کشمیری یا اردو یا ڈوگری تھی اور آج انگریزی بھی ہے سائنس ٹکنالوجی بھی ہے تو آپ کو لگتا ہے کہ کچھ زوال آیا ہے ہماری اپنی زبانوں پر کشمیر کے اندر خاص طور سے۔

جواب:  یہ ضرور میں کہوں گا کہ زوال آیا ہے جہاں تک لٹریچر کا تعلق ہے ہمارے یہاں کشمیر نے  اہم لوگ پیدا کئے ہیں بڑے بڑے اردو  پروفیسران اور ہستیاں گزری ہیں ۔ جیسے ایک مولانا شوریدہ صاحب تھے ہندوستان میں ان کا کافی نام تھا اردو لٹریچر کے بہت بڑے پروفیسر مانے جاتے تھے، فارسی زبان کے بڑے بڑے ایکسپرٹس تھے پروفیسر حاجنی صاحب اردو کے بہت بڑے اسکالر مانے جاتے تھے۔ اس طرح کے نام ہمارے سامنے آج کل نہیں آتے ہیں یہ صحیح بات ہے کہ  سائنس، ٹکنالوجی، کمپیوٹرائزیشن، انجینرنگ، میڈسن میں ہم نے کافی ترقی کر لی ہے لیکن اردو لٹریچر کا جہاں تک تعلق ہے یا کشمیری لٹریچر کا جہاں تک تعلق ہے اس میں ضرور تھوڑا سا زوال آیا ہے کہ ہم اس طرح کے شاعر پیدا نہیں کرپائے ہم کیوں ۴۷ سے  لے آج تک دوسرا مہجور  پیدا نہیں کر پائے  ہیں دوسرا کشمیر کا وہاب خان نہیں پیدا کر رہے ہیں ہم دوسرے رحمن ڈار کو کیوں نہیں پروڈیوس کر رہے ہیں کشمیر کو کیوں نہیں انٹروڈیوس کر رہے ہیں کرشن چندر کو ہم نہیں پیدا کر رہے ہیں ۔ ہمارے یہاں دیکھئے ڈوگری زبان میں بھی اتنے اہم لکھنے والے رہے ہیں ان تمام  باتوں کو ٹٹولنے کی بہت ضرورت ہے آج کے زمانے میں ۔

سوال:         تو آپ کو اس کی کیا وجہ لگتی ہے۔ سرکاری سطح پر کچھ کوششیں ہونی چائیے یا انڈی ویجولی جو سوسائٹی ہے  وہ کچھ کرے اس کے لیے یا دونوں کو مل کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے؟

جواب: دونوں کو مل کر کرنے کی ضرورت ہے، دیکھئے اسٹیٹ کی طرف سے جو کوششیں ہونی چایئے وہ نہیں ہوپارہی ہیں اتنا کچھ نہیں مل پارہا ہے جس کی ضرورت ہے ادب دوسرے درجے کی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں تک زبانیں ہیں اور ان کا آگے بڑھنے کی جو روایت ہے اس میں تو ہم کو کوشش کر نی ہوگی کیوں کہ سرکار کے پاس مسائل تو غربت کے رکھے ہیں گورمنٹ کے پاس ٹکنالوجی بڑھانے کے ہیں لیکن ان کو دیکھنا چاہئے کہ سوسائٹی کو آگے بڑھانے اور جوڑنے کے لیے لٹریچر بھی بہت بڑا ذرائع ہے جس کو اہمیت دینی چاہئے اور پیٹرنس دینا چاہئے جہاں تک لوگوں کا سوال ہے لوگ بڑے میٹریلسٹک ہوتے جا رہے ہیں ۔ لوگ چاہتے ہیں راتوں رات کروڑوں میں کھیلیں ، لاکھوں کمائیں ، لیکن اس سے کلچر سے ادب سے کافی دور چلے جاتے ہیں ۔ کہ ہمارا ادب کہاں پہنچ گیا ہمارا خلوص کہاں پہنچ گیا، ہماری ایمانداری کہاں گئی، ہمارا اینٹی گریشن کہاں گیا، اور لٹریچرسے کتنا امپیکٹ ان چیزوں سے پڑتا ہے اس کی لوگوں کو فکر نہیں ہے۔ ہماری جو آج کی نسلیں ہیں ان کو ری انفورس کرنی پڑے گی ان چیزوں کوتب جا کے لٹریچر چاہے ڈوگری ہو، پرشین ہو، اردو ہو، کشمیری ہو، ہماری مادری زبان ہو تب جاکے آگے بڑھ سکتا ہے، حالانکہ آج کل کے حالات  میں تو ہمارے یہاں سب زبانوں کا لٹریچر آگے بڑھنا چاہیے کیوں کہ ایک زمانہ تھا 47 سے لے کر یا اس پہلے جتنے عالم گزرے ہیں ، غربت تھی اس وقت ہندوستان آزاد نہیں تھا۔ اس وقت ڈیجی ٹلائیزشن کا زمانہ نہیں تھا، کمپیوٹر کی فسیلٹی نہیں تھی۔ جس کو ہم موبلٹی کہتے ہیں موبلٹی اتنی نہیں تھی آنا جانا دوسری جگہوں پر اتنا نہیں تھا انٹریکشن اتنا نہیں تھا۔ اب یہ ساری چیزیں ہیں مگر افسوس  لٹریچر تھوڑا سا پیچھے چلا گیا۔

سوال:         یہ جو ہماری مادری زبانیں ہیں آپ چونکہ آج ہندوستان کی ایک بہت بڑی یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ہیں ۔ مادری زبان میں تعلیم ایک مسئلہ تو ہے ہی اور ہندوستان میں اکثر جگہوں پر مادری زبان میں تعلیم نہیں دی جا رہی ہے۔ مادری زبان جو ہماری اپنی زبان ہے آپ اس کے کس حد تک فیور میں ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم دینی چاہئے۔ یا بچہ جب اسکول جانے لگے تو شروع شروع میں جو تعلیم ہوتی ہے چار پانچ سال کی  وہ کم سے کم بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دی جانی چاہئے۔ یا صرف انگریزی میں تعلیم حاصل کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔

جواب: میں تو یہی کہوں گا کہ مادری زبان میں ابتدائی تعلیم دینی چاہئے جب تک مادری زبان کو بچہ مکمل طریقہ سے سیکھ نہیں جاتا ضرور مادری زبان میں تعلیم دینی چاہئے لیکن اس کے ساتھ اگر انگریزی زبان بھی ہے تو بہت اچھا ہوگا، کیوں کہ بچے کو بعد میں باقی لوگوں سے انٹریکٹ کرنا ہے۔ میں جب کلیانی یونی ورسٹی کا وائس جانسلر بنا تو ہم نے دیکھا کہ کلاس روم میں مادری زبان پڑھائی جا رہی ہے۔ ہمارے یہاں ایک لڑکی تھی جس نے  زولوجی میں گولڈ میڈل لیا  بنگلہ زبان میں لیکن جب ان کو کہیں انٹرویو ہوا فیلوشپ لینے کے لئے  تو وہ لے نہیں پائی کیوں کہ وہاں انگریزی بولنا تھا جیسے آئی ایس بنگلور میں ، جے این یو میں اور کئی جگہوں میں تو بڑا افسوس کر رہی تھیں کہ وہاں انگریزی  بول نہیں پائی  اس لیے انگریزی بھی ساتھ رہنی  چاہئے لیکن مادری زبان سے ہمارے پرسیپشن بڑے کلیر ہوتے  ہیں ۔ مادری زبان او ر زبانیں میرا خیال ہے کہ  ساتھ ساتھ ٹرویل کر لیتی ہے۔ اس لیے مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ انگریزی اور دوسری زبانوں کا مطالعہ ہونا چاہئے۔

سوال:         ہندوستان میں جو یونی وسٹیز اور کالجز کی صورت حال ہے آپ مطمئن ہیں وہاں لٹریچر کو لے کر فنون لطیفہ کو لے کر یا ہماری زبانوں کو لے کر جس طرح کا کام ہونا چاہئے تھا ویسا کام  ہو رہا ہے؟

جواب:   بہت ہی عمدہ سوال آپ نے پوچھا ہے ان چیزوں کو لے کر بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ زوال آیا ہے ہماریا تعلیمی نظام بھی اس کا ذمہ دار ہے۔ کیوں کہ جو لیول ریسرچ  کا ہم پہلے دیکھتے تھے وہ اب نہیں رہا۔ میں اس کے لئے اساتذہ کرام کو ہی ذمہ دار سمجھوں گا  کہ ہمارا ریسرچ کا معیار دن بہ دن گرتا جارہا ہے۔ اس لیول کا موٹی ویشن ان میں نہیں ہے ریسرچ کرانے کے لیے یہ بھی ایک بات ہے دوسری بات ہے لڑکے بھی اس میں اتنا انٹرسٹ نہیں لے پارہے ہیں ۔ جیسے ہم پہلے کہہ چکے ہیں لڑکوں کا دھیان اسی میں جاتا ہے کہ ہمارے یہاں اسکل لیول کا پروگرام ہو ہمارے یہاں نوکری ملنی چاہئے تو نوکری ملنے کے  لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے اس کے لیے سرسری طریقے سے لٹریچر کو دیکھتے ہیں ۔ لیکن لٹریچر کو دیکھنا ہے تو میں یہی کہوں گا اس کو بہت ہی سیریس اٹینشن دینا چاہیے۔

سوال: آپ کا ایک بیان ہم نے پڑھا آپ نے باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ آپ کو ایک زندگی اور ملے تو 18 ویں صدی کا اردو  لٹریچر پڑھنا چائیں گے۔

جواب:         اگر میں پھر سے اس دنیا میں پیدا ہوا تو میں یہی کہوں گا کہ میں لٹریچر اسٹڈی کرنا چاہوں گا۔ اٹھارہویں صدی کا اردو لٹریچر، میں اس کہوں گا کہ سونے کی کھان ہے جس نے پورے ہندوستان کو نکھارا ہے۔ اسی زمانے میں میر پیدا ہوئے ہیں میں میر کو پڑھنا چاہوں گا اس کے ایک زندگی بہت کم ہے۔

سوال:  آپ کے پسندیدہ شاعر؟

جواب :میر، غالب، اقبال، فراق میرے دل کے بہت قریب مجھے جب بھی فرصت ملتی ہے یا پریشان ہوتا ہوں تو ان لوگوں کو پڑھتا ہوں پھر تازہ دم ہوکر دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں میں نے بحثیت تاریخ کے طالب اردو شاعری سے بہت مدد لی ہے میں اس کا احسان مند رہوں گا۔

ہنگلو صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ

زمرد مغل صاحب آپ کا بھی بہت بہت شکریہ جو اردو زبان و ادب سے میری اس محبت کو لوگوں کے ساتھ شئیر کریں گے۔

مزید دکھائیں

زمرد مغل

ڈاکٹر زمرد مغل معروف ادبی شخصیت ہیں۔ آپ ریختہ سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان دنوں جشن ادب کے جوائنٹ سکیرٹری کے طور پر اپنے فرائض ادا کررہے ہیں۔

متعلقہ

Close