دیگر نثری اصناف

کرناٹک کی اردوشاعری میں قومی یکجہتی

ڈاکٹر بی محمد داؤد محسنؔ

         گلشن میں مختلف اقسام کے رنگا رنگ پھول ہوتے ہیں تمام پھولوں سے نکلنے والی خوشبو سے ہی گلشن میں دلکشی پائی جاتی ہے اورفضائیں معطر ہو تی ہیں۔ اسی طرح دیگر قوموں کے باشندے ملک کے گلشن میں پھولوں کی مانند ہوتے ہیں جوملک کی آن بان اور شان ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں بسنے والے تما م لوگ موتی کی مالاکی مانندہوتے ہیں جو ایک دھاگے میں پرویے ہوئے ہوتے ہیں اگریہ مالا بکھر جائے تو ملک کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور ملک کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔

         دنیا میں بھارت کے علاوہ کوئی اور ملک نہیں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے، مختلف زبانیں بولنے، مختلف تہذیبوں کے لوگ بستے ہیں۔ جن میں مذہبی، تہذیبی، معاشرتی اختلافات کے ساتھ ساتھ لسانی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ حالانکہ تہذیبی و معاشرتی معاملات میں بہت سی باتوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے جسے ہم مشترکہ تہذیب کہتے ہیں۔ در حقیقت یہ مشترکہ تہذیب ہی ہمارے ملک کی پہچان ہے۔ ملک کی سا  لمیت اور ایکتا کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپسی اختلافات بھلا کر، رنگ و نسل کا فرق مٹا کر ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کریں، ایک دوسرے کی تہذیب سے پیار کریں، جیو اور جینے دو کی پالیسی اختیار کریں، ہر ایک کو ترقی کے مواقع فراہم کریں۔ تہذیبی سطح پر لین دین کا دروازہ کھل جائے، اجنبیت اور بے گانگت کم ہو جائے، ایک قوم سے متعلق دوسری قوم میں جو شکوک و شبہات ہوتے ہیں وہ دور ہو جائیں، قوموں اور دیگرزبانیں بولنے والے لوگوں کے درمیان جو دیوار ہوتی ہے وہ گر جائے، دکھ کا، درد کا اور محبت کارشتہ قائم ہوجائے، جس کا رنگ اور روپ ہر جگہ یکساں ہو۔ یہ کام معروضی، غیر جانبداری اور ربطِ باہمی کے ماحول یا تناظر میں ہونا چاہیے۔ یہی وہ چیزہے جو انسانوں کو اپنے اپنے مذہبی، تہذیبی لسانی اورعلاقائی قید سے آزاد کر کے محض انسانیت کے نام پر ایک کر دیتی ہے۔ اسی باہمی ارتباط، ہم آہنگی، دوستی، رواداری و بھائی چارگی کا نام قومی یکجہتی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو انسان، انسانوں کے جنگل میں جنگلی جانور سے بھی بدتر بن جائے گا۔

        قومی یکجہتی کے لفظی معنی ہیں کسی ملک کے مختلف فرقوں اور علاقوں کو ایک کیا جائے تاکہ وہ ایک سیاسی اکائی کی شکل میں کام کر سکیں، دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں رہنے والے لوگ اپنے فرقہ، مذہب، تہذیب، علاقہ اور زبان سے اوپر اٹھ کر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں۔

        قومی یکجہتی ایک ایسا نفسیاتی عمل ہے جس سے اتفاق اور جذباتی ہم آہنگی کے خیالات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ملک سے وفاداری اور مشترکہ شہریت کا عمل پیدا ہوتا ہے۔ قومی یکجہتی اپنی قوموں کی ذہنی و قلبی پیداوار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں قومی یکجہتی کا تصور اٹھارویں صدی سے پرانا نہیں۔ حالانکہ ہر زمانے میں آپسی اختلافات رہے مگر اپنے وقت کے دانشوروں نے مفاہمت کا پہلو نکالا۔ مگر انیسویں صدی میں اس پرغور کیاجانے لگا۔ اسی لیے سر سید احمد خاں نے اپنے دور میں ہندو مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی کھائی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ ۔ ۔ ۔

        ’’اے میرے دوستو! میں نے بارہا کہا ہے اور پھر کہتا ہوں کہ ہندوستان ایک دلہن کی مانند ہے جس کی خوبصورت اور رسیلی دو آنکھیں ہندو اور مسلمان ہیں۔ اگر یہ دونوں آپس میں نفاق رکھیں گی تو یہ پیاری دلہن بھینگی ہوجائے گی اورا گر ایک دوسرے کو برباد کریں گی توکانی بن جائے گی۔ پس اے ہندوستان کے رہنے والے ہندو مسلمانو! اب تم کو اختیار ہے کہ چاہے اس دلہن کو بھینگا بناؤچاہے کانا۔ ‘‘

        سر سید احمد خاں کے عہد میں بھی نفاق کی آگ دلوں میں بیٹھ گئی تھی اور لوگ ذرا سی بات پر بھڑک اٹھتے تھے۔ سر سید کے اس قول پر بھی اختلاف پیدا ہوا کہ انہوں نے ایک کو دائیں اور دوسری قوم کو بائیں آنکھ قرار دیا ہے۔ جب انہیں لوگوں کے غصّے کاخوف ہوا تو انہوں نے کہا۔

        ’’میں نے کہا کہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو مثل دو آنکھوں کے سمجھتا ہوں مگر اپنے اس قول کو میں زیادہ پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ لوگ عام طور پر یہ فرق قرار دیں گے کہ ایک کو دائیں آنکھ اور دوسرے کو بائیں آنکھ کہا ہے۔ کاش! میری صرف ایک آنکھ ہوتی تومیں اسی حالت میں عمدگی کے ساتھ ان دونوں کو اس آنکھ سے تشبیہ دے سکتا۔ ‘‘

        سچ بات تو یہ ہے کہ آزادی تک قومی یکجہتی کی ضرورت اتنی شدت سے محسوس نہیں ہوئی جتنی کہ آزادی کے بعد۔ جب تک ملک پر انگریزقابض رہے اس وقت تک بلاتفریق مذہب و ملّت ہم سب ایک تھے اور سب ’’ ہندوستانی‘‘ تھے۔ حالانکہ انگریزوں نے ’’ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کررکھی تھی اس کے باوجود ہم سب انیک ہوتے ہوئے بھی ایک تھے۔ کیونکہ ’’ ایکتا ‘‘ ہی ہماری ’’ طاقت ‘‘ تھی۔ اسی ایکتا کی بدولت ملک آزاد ہوا، تقسیم بھی ہوا اور ساتھ ہی دلوں کا بٹوارہ بھی ہوگیا۔ انگریزوں نے جاتے جاتے ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ نفرت کا جو بیج بویا تھاوہ ثمر بار ہونا ہی تھا۔ آزادی تک جو مذہبی آہنگی کی لہر تھی وہ آزادی اور تقسیم ملک کے بعد دھیمی پڑ گئی۔ اس کے چند سالوں بعد اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ اکثریت دھیرے دھیرے اقلیت کے جذبات کو چھیڑنے پر آمادہ ہو گئی۔ بالآخر بیسویں صدی کی چھٹی دہائی سے اس کی ضرورت پر غور و خوص کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو مجسم شکل دینی پڑی۔ پہلی مرتبہ 1961 ء میں راشٹریہ ایکتا سمیلن منعقد کرکے اس میں ان تمام اسباب پر بحث کی گئی جوقومی یکجہتی کے راستے میں روڑا ثابت ہوتے ہیں۔

         اسی زمانے سے ہندوستان کے اکثریتی طبقات کے خاموش اور امن پسندافراد تشدد اور ہنسا کے خلاف رہے۔ وہ’’ جیو اور جینے دو‘‘ کے حامی رہے اور وہ یہ کہتے رہے کہ خدا کے سب بندے آدم کی اولاد ہیں۔ در اصل بیسویں صدی کی آخری دہائی سے ملک کے حالات میں غیر معمولی تبدیلی آئی اس لیے قومی یکجہتی کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی۔ جہاں سماج کے دیگر طبقات اس سے متاثر ہوئے وہیں فن کاروں نے بھی اس طرف توجہ دینی شروع کی اس طرح ادب کا یہ بھی ایک مستقل موضوع بن گیا۔ بابری سے دادری تک ملک کی سالمیت اوراتحاد و اتفاق کو ایک زبر دست جھٹکا لگا۔ جب بابری مسجد شہید کر دی گئی توملک میں امن کو بری طرح دھکّا پہنچا۔ مسجد کی شہادت کے وقت جگن ناتھ آزاد ہوائی جہاز میں سفر کر رہے تھے۔ مسجد کی شہا دت کی خبر سن کر اس کی مذمت کرتے ہوئے سب سے پہلے انہوں نے نظم لکھی اور اس نظم کو پہلی مرتبہ شائع کرنے والا اخبار جنوبی ہندوستان کا ’’ سیاست ‘‘ حیدرآباد تھا۔

        چونکہ اردو ایک زبان ہی نہیں ایک تہذیب اوروہ بھی گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔ اس میں اتحاد و اتفاق، محبت و الفت، رواداری اور بھائی چارگی کا پیام ملتا ہے۔ جہاں تک ایک منظم اور مربوط پیرائے میں قومی یکجہتی کے عنصرکی بات ہے وہ زیادہ تر وقت ضرورت وجود میں آیایعنی جب بھی کوئی مذہبی، لسانی یا علاقائی تنازعہ پیدا ہوا اور فسادات کی نوبت آئی اس وقت قومی یکجہتی کی لہر چلی اور خوب چلی تاکہ ہندوستان جنت نشان کی سا  لمیت باقی رہے اور اس کی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو سکے۔ حالانکہ زمانۂ دراز سے قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں صوفیائے کرام نے غیر معمولی کردار ادا کیاتھا جن کی ریاضتوں اور محنتوں نے قومی یکجہتی کی فضا قائم کی تھی۔ مگر وقت ڈھلتے ہی یہ موضوع پھر پھیکا پڑتا رہا۔

        اتنی بات توہم سب جانتے ہیں کہ اردو دراصل قومی یکجہتی کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ خسرو کی کہہ مکرنیاں کبیر کے دوہے، نانک کی بانی اور بھکتی تحریک نے اسے پروان چڑھایا۔ آزادی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کرحصّہ لیا۔ اسی لیے کرشن چندر نے قومی یکجہتی میں اردو کے کردار پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا۔

        ’’ اردو ادب کے معماروں کی نظر ہمیشہ انسانیت کی اعلیٰ قدروں پر رہی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ تنگ دلی اور نفرت سے دامن بچایا ہے اور یہی سچّی قومی یکجہتی کی نشانی ہے۔ ‘‘

        جہاں تک ریاست کرناٹک کی اردوشاعری کا سوال ہے یہاں کے فن کاروں پر شمال کی تحریکوں کا اثر کم ہی ہوا ہے۔ چاہے وہ ترقی پسند تحریک ہو، آزادی کی تحریک ہو، جدیدیت ہو یا مابعد جدید۔ ہمارے فنکار آزادانہ طور پر اپنے انداز میں ادب تخلیق کرنے پر آمادہ رہے ہیں۔ آج بھی یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔ لہذا یہاں کے چند شعرا ء نے اپنی شاعری میں زمانے کے تقاضات اور ضروریات کے تحت قومی یکجہتی اور ایکتا کا درس دیاہے جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہماری ریاست میں صابر شاہ آبادی اور حمید الماس دو ایسے شاعرہیں جنہوں نے خالص اس موضوع پر اپنااپنا شعری مجموعہ شائع کروایاہے۔ دیگر شعراء کے یہاں یہ عنصربہت کم ملتا ہے جسے آٹے میں نمک کے برابر کہا جا سکتاہے۔

        صابر شاہ آبادی نے قومی یکجہتی کے موضوع پر لکھی گئی نظموں کا ایک مجموعہ ’’ سیاست: صداقت کی منزل ‘‘ کے نام سے شائع کروایا۔ جن کی ایک نظم کا عنوان ’’ بھارت اور یکجہتی ‘‘ ہے۔ اس طویل نظم میں انہوں نے بھارت کی قومی ایکتاکی روایت کو اپنے لیے باعث فخر ٹہرایا ہے۔ پھر اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ہندو مسلم ایکتا بھارت کی مجبوری نہیں، بھارت کا مزاج اور بھارت کی پہچان ہے۔

ہند کا پہلا فریضہ امن و آزادی رہا

اور آزادی کا مطلب قومی یکجہتی رہا

یہ ہمالہ مشترک تہذیب کا بانی رہا

قومی یکجہتی ہمارا فخر جمہوری رہا

دشمنی سے ہم کو نفرت ہے، یہ سب پر ہے عیاں

تب ہی تو ہے ہندوستاں کے نام میں بھی دوستاں

        صابر شاہ آبادی ہندو مسلم سکھ عیسائی کو ایک ہاتھ کی مختلف انگلیاں سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں پانچ انگلیاں مل کر ہاتھ بنتا ہے۔ اسی طرح مختلف مذاہب کے لوگ پیارے دیش بھارت کی پہچان ہیں۔

ایک گھر میں رہ کے بھائی بھائی سے محروم کیا

آدمی زندہ مگر انسانیت مرحوم کیا

ایک بازو کا ہے مفہوم کیا؟

منتشر ہوں انگلیاں تو ہاتھ کا مفہوم کیا؟

تا بہ منزل ہر قدم کہتے چلو ہم ایک ہیں

تفرقہ پرواز پر ثابت کرو، ہم ایک ہیں

        حمید الماس نے بھی قومی یکجہتی کے موضوع پر مشتمل نظموں کا ایک مجموعہ ’’ جوئے سبز‘‘ کے نام سے شائع کروایا۔ جس میں ایکتا، بھائی چارگی، محبت و الفت کا درس پایا جاتا ہے۔ اردو کے ایک عاشق عثمان شاہد نے قومی یکجہتی کے موضوع پر ایک مختصر کتاب مرتب کر کے شائع کی جس میں ملک کے دیگر شعرا کا کلام شامل ہے۔ مگر کرناٹک کے چند شعرا ء کا کلام بھی اس میں شامل ہے۔ کرناٹک اردو اکاڈمی کی جانب سے اس موضوع پرایک شعری مجموعہ اشاعت پذیر ہوااور اسی کے زیر اہتما م ’’ ٹیپو سلطان شہیدؒ پر ایک کتاب شائع کی جس میں بہت سارا حصّہ قومی یکجہتی پر مشتمل ہے۔

        مظہر محی الدین مظہرؔ کی نظم’’ یکجہتی‘‘ ہے۔ جس میں شاعرملک کے باشندوں سے مخاطب ہوکر نہایت معصومیت کے ساتھ ذہنوں کو جھنجوڑتا اور للکارتاہے۔ اگر ملک میں امن قائم ہونا ہے تویہاں کے لوگوں سے ہی ممکن ہے۔ اے انسانو! اٹھو محبت اور ایکتا کے دیپ جلائو، نفرتوں کے اندھیروں کو مٹائو۔ باپو کے خوابوں کی تعبیر، وید و قرآن کی تفسیر، بھیم و ارجن کی تقدیر اور رام لچھمن کی تصویر، ابن آدم کی للکار، حسین ابنِ حیدرؓ کی تلوا ر، بشر کی حفاظت کی دیوار اور انسانوں سے محبت کا اقرار بن کر اٹھو۔ کنہیا کی مرلی یشودا کی لوری، گوتم کی دھرتی اور روح بلالیؓ تمہاری تلاش میں ہے۔ انگریز چلے گئے مگر نفرتوں کے بیج دلوں میں بو گئے۔ خدارا زبانوں کے نام پرخنجر ہرگز نہ اٹھاؤ۔

اٹھو دیپ پھر ایکتا کے جلائیں

اندھیروں کو نفرت کے دل سے مٹائیں

کنہیا کی مرلی تمہیں ڈھونڈتی ہے

یشودا کی لوری تمہیں ڈھونڈتی ہے

یہ گوتم کی دھرتی تمہیں ڈھونڈتی ہے

یہ روح بلالیؓ تمہیں ڈھونڈتی ہے

اٹھو دیپ پھر ایکتا کے جلائیں

اندھیروں کو نفرت کے دل سے مٹائیں

کہاں ہے وہ اب ایکتا جس کے بل پر

فرنگی نے اپنا لپیٹا تھا بستر

زبانیں پنپتی ہیں بنتی ہیں اکثر

زبانوں کی خاطر اٹھاؤ نہ خنجر

اٹھو دیپ پھر ایکتا کے جلائیں

اندھیروں کو نفرت کے دل سے مٹائیں

اٹھو خواب باپو کی تعبیر بن کر

اٹھو وید و قرآں کی تفسیر بن کر

اٹھو بھیم و ارجن کی تقدیر بن کر

اٹھو رام لچھمن کی تصویر بن کر

اٹھو دیپ پھر ایکتا کے جلائیں

اندھیروں کو نفرت کے دل سے مٹائیں

اٹھو ابن آدم کی للکار بن کر

حسین ابن حیدرؓ کی تلوار بن کر

بشر کی حفاظت کی دیوار بن کر

بشر کی محبت کا اقرار بن کر

اٹھو دیپ پھر ایکتا کے جلائیں

اندھیروں کو نفرت کے دل سے مٹائیں

        اکرم نقاش کی نظم ’’ ہمزاد‘‘  بڑی دلکش، جامع، مرصع اور معنی خیز ہے۔ جس میں شاعر ایک ہمدردو مخلص، وفا شعاراور وطن پرست انسان کے روپ میں اپنے ہم وطن سے مخاطب ہے جسے وہ ہمزاد قرار دیتا ہے اور قومی یکجہتی کا جذبہ پیدا کرنے کی خاطر بڑی سنجیدگی اور متانت کے ساتھ اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ شاعر کے لہجہ میں خلوص ہے، محبت ہے، صداقت ہے، الفت ہے، مروت ہے اور ایک ایک لفظ میں درد پنہاں ہے۔ شاعر محبت بھرے لہجہ میں اپنے ہمزاد سے مخاطب ہوکرکہتا ہے۔ اے میرے ہمزاد ہم ایک ہی ملک کے واسی ہیں۔ تیری سانسوں میں میری مہک ہے، میری تیری ایک ہی تہذیب ہے، میں جو دیکھتا ہوں تیری نظروں کے سامنے بھی وہی منظر ہے۔ تو مرا آئینہ، میرا سایہ، میرا ہمزاد ہے تو پھر میں اور تو کا جھگڑا کیسا۔ کس نے ہمارے درمیان نفرت کا بیج بویا اور نفرت کی دیوا ر اٹھائی۔ ذرا سنجیدگی سے سوچوگے توسارے گلے شکوے مٹ جائیں گے اور ہمارے درمیان وفا کا، خلوص کا، محبت کا، الفت کا اورپیار کا رشتہ قائم ہو جائے گا۔ یہی خلوص اور یہی لہجہ کی سادگی شاعر کو منفرد بنا دیتی ہے۔

تیری سانسوں میں جو گھلتی ہے مہک ہے میری

میری تہذیب، شب و روز مرے ہیں تیرے

میری آنکھوں میں جو تصویر رہا کرتی ہے

تیری آنکھیں بھی وہی دیکھ رہی ہیں منظر

تو جسے کہتا ہے جاگیر ترے پرکھوں کی

میں سمجھتا ہوں اسے اپنی بھی میراثِ کہن

تو جہاں بستا ہے رہتا ہے اے ہمزاد مرے

میری مٹی مرا مسکن بھی وہی تھا وہی ہے

تو مخالف نہیں میرا، میں نہیں تیرے خلاف

تو مرا سایہ مرا آئینہ ہمزاد مرا

یہ من و تو کی فضا کس نے بکھیری دیکھیں

درمیاں کس نے یہ دیوار اٹھائی سوچیں

ہم میں ہی کوئی چھپا ہے جو نہیں ہے اپنا

ہم میں در آیا ہے کوئی جو نہیں ہے اپنا

درمیاں کس نے یہ دیوار اٹھائی سوچیں

        ریاض احمد خمار کی نظم کا عنوان ’’ تقاضائے وقت‘‘ ہے۔ قومی یکجہتی کے عنصرکو وقت کا تقاضا ہی نہیں بلکہ وقت کی ضرورت بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک میں ادھر چند برسوں سے شر پسند عناصر ہمیشہ سر اٹھاتے ہی رہتے ہیں جس پر ہنگامے بھی ہوتے ہیں اور خاموش طبع، امن پسند، دانشوران اور اہل قلم امن کی بات کرتے رہتے ہیں۔ شاعر یہاں یہ کہتا ہے کہ ملک میں قومی یکجہتی کا ماحول پیدا کرنا ہے تو دلوں میں محبت اور خلوص کا دیپ جلاناہو گا، تعصب کے اندھیروں کو مٹاناہوگا، نفرتوں کی دیوار گرانی ہوگی، سب کے دلوں میں گردواروں، مسجدوں اور کلیساؤں کی عظمت و تقدس کا خیال پیدا کرنا ہوگا۔ تب کہیں جاکر ملک میں محبت و الفت کے پھول کھلیں گے اور بھائی چارگی کا ماحول پیدا ہوگا۔

دیپ اخلاص و محبت کے جلانا ہو گا

اب تعصب کے اندھیروں کو مٹانا ہوگا

نفرتوں کی ہمیں دیوار کو ڈھانا ہوگا

اس کا ہر فرد کو احساس دلانا ہوگا

پھول صحراؤں میں الفت کے کھلانا ہوگا

گردوارے کی بھی اب دل سے ہو حرمت کا خیال

اور لازم ہے کلیسا کی بھی عزّت کا خیال

ہو یوں ہر قوم کا ہر مذہب و ملّت کا خیال

رکھنا ہوگا تمہیں مندر کی بھی عظمت کا خیال

تم کو مسجد کا تقدس بھی بچانا ہوگا

پھول صحراؤں میں الفت کے کھلانا ہوگا

        ڈاکٹر ماجد داغی کی بیشتر نظموں اور غزلوں میں قومی یکجہتی کا تصور پایا جاتا ہے۔ ان کی نظموں میں اکیسویں صدی کی نذر، اخوت کا نیا مفہوم، خاک وطن کا ہم کو ہر ذرہ دیوتا ہے مشہور و معروف نظمیں ہیں۔ ’’ اکیسویں صدی کی نذر‘‘ میں شاعر بھارت کو سارے عالم میں گنگا جمنی تہذیب کی بدولت اعلی ٰ و افضل اور نرالا قرار دیتا ہے۔ جہاں ہم سب مل کر دسہرہ، ہولی، دیوالی، راکھی پونم، کرسمس، بدھ پورنیما، عید رمضاں، بقر عید مناتے ہیں، جہاں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جن کی وساطت سے ہر زبان کے فن کار امن کا پیام پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمارے سامنے کئی مسائل ہیں ہم سب اکٹھا ہوکر عہد کریں کہ یہ ساری دنیا خاندانِ ابن آدم ہے اور سب بھائی بھائی ہیں۔ ہمارے درمیان نہ کوئی فرقہ ہے، نہ مذہب ہے نہ نسل کا رشتہ ہے اگر کچھ ہے تو بھائی چارگی اور پیار کا رشتہ ہے۔ اسی طرح نظم ’’ اخوت کا نیا مفہوم ‘‘ میں شاعر جذباتی ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ زبانوں کے نام پر گنگا جمنی تہذیب سے ہٹ کر ہمارے ملک میں کئی لوگ زخمی ہوگئے اور کئی مر گئے۔ ان کے مذاہب مختلف تھے مگر سبھی اولاد آدم تھے۔ اے میرے ہم وطنو! ذرا سوچیں۔ کوئی بھی زبان کیوں نہ ہو وہ ’’امن‘‘سے بڑھ کر نہیں ہے۔ چلو سب مل کر یہ عہد کرلیں کہ سب محبت سے رہیں گے۔ اسی طرح جیسا کہ ہم پہلے تھے۔ ہم سبھی معصوم تھے، ہمارا کوئی مذہب نہیں تھا، نہ نسلوں کا فرق کر تے تھے، نہ فرقے درمیان میں حائل تھے۔ اسی طرح ہم پھر سے مل جل کرخوشی کی گود میں کھیلیں اور معصوم بن کر رہنے لگیں تاکہ اخوت کا نیا مفہوم بن جائیں۔ نظم ’’ خاک وطن کا ہم کو ہر ذرہ دیوتا ہے‘‘ میں بھی شاعر بڑے دلچسپ انداز میں قومی یکجہتی کا درس دیتا ہے۔ کہتا ہے کہ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ زمین پر فساد نہ پھیلاؤاور وطن سے محبت کرو۔ حضور اکرمؐ نے بھی یہی ہدایت فرمائی ہے۔ قرآن کے علاوہ گیتا میں بھی یہی درس پایا جاتا ہے اور گوتم نے بھی اسی کو بنیاد بنایا ہے۔ صوفی سنتوں کا بھی ایمان یہی ہے۔ خسروؒ، خواجہ چشتی ؒ، بندہ نوازؒ، نانک، کبیر اور کرشن کا بھی یہی ایمان ہے۔ تمام ’’ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘‘ کہتے رہے۔ الغرض ایکتا نہایت ضروری ہے۔ میں یہاں حوالہ کے طور پر ان کی ایک طویل نظم ’’ اکیسویں صدی کی نذر‘‘ پیش کرنا چاہتا ہوں۔

        ہمارا دیش بھارت ہے نرالا سارے عالم میں / جو ہے گنگ و جمن تہذیب کا مظہر/ ہے مذہب مختلف سب کا/ سبھی اولادِ آدم ہیں / یہی رشتہ اٹوٹ اپنا/ ہم اپنے ملک کی خاطر/ ہیں سارے متحد یکجا/ دسہرہ ہولی اوردیپاولی، راکھی پونم سارے/ صلیبی عید ہو یا پورنیما گوتم کی سب تیوہار/ ہوچاہے عید رمضان کی یا ہو عید بقر اپنی/ مناتے ہیں سبھی مل کر/ ہمارا جشن آزادی بھی ہے اک عید کے جیسا/ ہے عظمت کا نشاں اعلیٰ ہمارا یومِ جمہوریہ / لسان ہند کنڑا بھی ہے اردو اور ہندی بھی مراٹھی بھی/ ملاباری تمل بھاشا/ ہے پنجابی بھی اپنی ہی اسامی اور بنگالی و تلگو بھی/ کہ جس کے مادھیم سے شاعر و فن کار و دانشور/ پیامِ امن پہنچاتے ہیں عالم میں / سبھی، ہندو، مسلماں، سکھ عیسائی/ سمجھنا یہ ضروری ہے / ہمارے سامنے در پیش ہیں جب سینکڑوں مسئلے/ چلو ہم سب اکٹھے ہوکے ایسا عہد کر لیں کہ/ یہ دنیا ساری ہے خاندانِ ابنِ آدم ہی /جہاں سب بھائی بھائی ہیں / نہ فرقہ ہے نہ مذہب درمیاں کوئی/ نہ کوئی نسل کا رشتہ / جہاں معصومیت ہے پیار ہے اور بھائی چارہ/ یہ ہے تصویردلکش اپنی جنت اپنے بھارت کی۔

        ساجدؔ حمیدکی نظم ’’ہشیار باش‘‘ قومی یکجہتی کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔ جس میں ساجدؔ حمیدجیسا پر شکوہ، زندگی کے اعلیٰ اور مثبت اقدار کا پاسداررجائیت پسند شاعر بھی ملک کی حالت پر افسوس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بھارت جسے اہنسا کی زمین کہتے تھے اسے کس کی نظر لگ گئی یا کس نے بد دعا کی جومصیبتوں کا شکار ہوچکا ہے۔ ملک کے حالات سے شاعر کا دل روتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ملک میں امن قائم ہوجائے فساد برپا نہ ہوں، خون نہ بہے اسی میں آدمیت کی بقا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے لوگو!دلوں میں آپسی نفرتوں کا جوکتّا پال رہے ہو اسے زنجیروں میں جکڑ دو۔ اگر ایسا ہو گیا تو بھارت ماتا کی دھرتی پر خوشیوں کا راج ہوگا۔ کہیں بم نہ پھوٹے گا اور نہ ہی کوئی بھونچال آئے گا۔

خدا جانے یہ کس کی بد دعا ہے

شجر کی ڈالی ڈالی سوختہ ہے

اہنسا کی زمیں کہتے تھے جس کو

وہ اب آسیب مسکن بن گیا ہے

مگر یہ دیکھ کر دل رو رہا ہے

کہ تم مصروف ہو ہشکارنے میں

زمینِ دل میں بو کر تخمِ نفرت

اگانا چاہتے ہو شجرِ الفت

یہ پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے

بھڑک اٹھیں نہ پھر شعلے جنوں کے

کلیجے پھٹ نہ جائیں پھر گلوں کے

کوئی چپّہ لہو اب نہ بھیگے

کوئی اب زندگانی سے نہ کھیلے

تشدد سے پرے سوچو کوئی حل

اسی میں آدمیت کی بقا ہے

نئی سوچیں، نئے سپنے تراشو

نیا آہنگ جینے کا تلاشو

جو کتا اپنے اندر بھونکتا ہے

اگر تم اس کو زنجیروں میں جکڑو

تو سچ کہتا ہوں گوتم کی زمیں پھر

اجالوں کی مہک سے کھل اٹھے گی

نہ بھونچال آئے گا پھر اس زمیں پر

نہ ہوں گے بم دھماگے بھی کہیں پر

        پروفیسر حمید سہروردی ہر بات کو گھما پھرا کر اور الفاظ کے پردے میں لپیٹ کر علامتی پیرائے میں کہنے کے قائل ہیں۔ ’’ نیلے آسمان سے بے خبر‘‘ اور ’’بستی ‘‘ میں قومی یکجہتی کا پہلو پایا جاتا ہے۔ نظم ’’بستی‘‘ میں انہوں نے اس بات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ پہلے لوگ بستی بسا کر خوش ہوتے تھے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتے تھے۔ حالانکہ آج بھی یہی رواج ہے لیکن فرق یہ ہے کہ پہلے زمانے میں لوگ ایک تھے مگر اب انیک ہوگئے ہیں اب ایک بن کر نہیں بلکہ انیک بن کر سوچتے ہیں۔ آج کے دور میں ایک ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ہماری سانسیں۔ نظم’’ نیلے آسمان سے بے خبر‘‘میں علامتی پیرائے میں نہایت پر اثر انداز میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس دھرتی پر سب اپنی گردنوں میں طوق ڈالے مضمحل گھوم رہے ہیں۔ سب اپنے بنائے ہوئے دائرے میں ایک عجیب کردار دھارے ناچ کود رہے ہیں۔ اب سارے سچ اپنی نظریں نیچی کیے ہیں اور آسمان کی طرف نہیں دیکھ رہے ہیں مگر دھرتی ماتاکے کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں۔ جس کی بدولت دھرتی ماتاچیخ رہی ہے۔ ان حالات میں کوئی تو ہوتا جو دھرتی ماتاکی تحفظ کی خاطر سوچتا۔

        کہتے ہیں پرانے زمانے میں / لوگ بستی بسا کر خوش ہوتے تھے/ اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوش و خرم رہتے تھے/ اور اب بھی یہی تو سب کچھ ہوتا ہے/ مگر اب بستی جلائی جاتی ہے/ کیونکہ اب ہم ایک ہوکر نہیں انیک ہو کر سوچتے ہیں / پرانے زمانے میں ایک ہونا اتنا اہم نہیں تھا/ پر اب ایک ہونا اتنا ہی ضروری ہے/ جتنا کہ ہماری جیون کی سانسیں / مگر اب ایسا نہیں ہوتا/ ورنہ اخباروں کے پنوں میں / اور نیتاؤں کی زبانوں پر/ ایکتا کاشبد ہی نہیں ہوتا/ مگر ایسا کیوں ہو رہا ہے/ ہر ایک سوچتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ (بستی)

        را قم الحروف کی کئی نظموں اور غزلوں میں قومی یکجہتی کا پہلو دیکھا جاسکتا ہے۔ ’’پیغام اخوت‘‘ اور’’یکجہتی کے گن گائیں ہم‘‘طویل نظمیں ہیں جن میں قومی یکجہتی کا درس دینے کی حتی المقدور کوشش کی ہے۔ نظم ’’پیغام اخوت‘‘میں خصوصی طور پرنوجوانوں سے خطاب کیا ہے۔ دلوں میں الفت پیدا ہو جائیں، سب آپس میں رنجشیں بھلا دیں، یہ ہمارے اسلاف کی سر زمین ہے اورگنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہے۔ لہذا سب آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں۔ مثال کے طور پر ایک نظم’’یکجہتی کے گن گائیں ہم‘‘ کا کچھ حصّہ ملاحظہ ہو۔

یکجہتی کے گن گائیں ہم

اپنا گلشن مہکائیں ہم

دھرتی نانک اور چشتی کی

ٹیپو نہرو اور گاندھی کی

ایسی دھرتی کے سب واسی

فصلیں کاٹیں یکجہتی کی

من کی بارش برسائیں ہم

اپنا گلشن مہکائیں ہم

ہندو مسلم سکھ عیسائی

ہو جائیں گر بھائی بھائی

پھر کیوں ہو گی ان میں رنجش

اوڑھیں گے سب اک رِضائی

یک دوجے پر مر جائیں ہم

اپنا گلشن مہکائیں ہم

سب کو پیاری اپنی بھاشا

ماں سے الفت کی ہے آشا

دھرتی اس سے سکھ نہ پائے

تو بن جائے بس اک لاشہ

شیریں بولی بن جائیں ہم

اپنا گلشن مہکائیں ہم

        اسی طرح غزلوں میں بھی جابجا اس بات کی تلقین کی ہے کہ اس ملک سے جفائیں ختم ہوجائیں، پیار و محبت کے اینٹ پتھر وں سے ایک ایسا مکان تعمیر ہوجائے جہاں سب ایک چھت کے نیچے امن کے ساتھ رہ سکیں اور ایک نئے بھارت کا نرمان ہو۔

اب مٹا دھرتی سے ہر رسم جفا

اک نیا ہندوستاں تعمیر کر

گل کھلیں اخلاص کے ہر دم جہاں

وہ چمن اے باغباں تعمیر کر

دلبری کے اینٹ پتھر جوڑ کر

اک نیا محسنؔ مکاں تعمیر کر

        وحید واجد کی کئی رباعیات قومی یکجہتی کے موضوع پر ملتی ہیں۔ انہوں نے ان رباعیات میں دیگر قوموں کے افراد کو جگنواورچمن کے پھول قرار دیا ہے۔ سب شیر و شکر کی طرح یہاں اس طرح رہتے ہیں جیسے دو دریا آپس میں ملتے ہیں، یہاں زبانوں کی ہلچل مچی ہے جو ایک عجوبہ سے کم نہیں، یہاں تاج محل سے افضل یہاں کی یکجہتی ہے، اکبر، اشوکا، ابوالکلام آزاد، گاندھی جی، ٹیگور ہمارے اجداد ہیں۔ اقبال، ؔ نانک، بندہ نوازؒ اور حضرت معین الدین چشتیؒ کے دم سے ہمارا بھارت آباد ہے۔ سر سید کے قول کو انہوں نے کیا خوب رباعی میں کہا ہے ملاحظہ فرمائیں۔

سر سید نے بڑی بات کہی ہے اچھی

بے مثل حقیقت ہے نہایت سچّی

دلہن کی طرح یارو حسیں ہے بھارت

ہندو و مسلمان ہیں آنکھیں اس کی

عیسائی مسلمان نہ ہی ہندو ہیں

سکھ بھی نہیں بھارت کے سبھی جگنو ہیں

جس طرح چمن میں ہے گلوں کی خوشبو

ہم ایسی ہی آپس میں ملی خوشبو ہیں

        ہمارے ملک میں اکثر و بیشتر چھوٹے بڑے تنازعات کھڑے ہوتے ہیں اور فسادات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے شعرا ء اپنے وطن کی سا  لمیت، یگانگت اور ایکتا کا دم بھرتے ہیں۔ سر قاضی سید قمر الدین قمرؔ اپنے قطعات میں کہتے ہیں کہ یہاں صبح کے وقت اذانوں، جرس اور بھجن کی صدائیں کانوں میں قند ہلاہل گھولتی ہیں، دیگر مذاہب کے لوگوں کی زبانوں میں مٹھاس دکھائی دیتی ہے۔ ہم وہ دہقاں ہیں جواپنے خون جگر سے الفت کی سینچائی کرتے ہیں، خلوص و وفا اورپیار و محبت کی چادر اوڑھ کر سوتے ہیں۔ لہذا ان کی یہ آرزو ہے کہ یہاں نہ کوئی ہنگامہ ہو اور نہ کوئی فتنہ۔

کوئی ہنگامہ نہ فتنہ ہو نہ بلوہ کوئی

نہ خرابی نہ شرارت نہ ہو جھگڑا کوئی

رام، نانک، کی مہر، گوتم و خواجہ کا کرم

نہ کوئی دیس ہو اس دیس کے جیسا کوئی

        ڈاکٹر وحید انجم نے قومی یکجہتی پر بہت اچھے قطعات کہے ہیں۔ وہ قومی یکجہتی کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک میں مسئلہ کا حل ترشول و بم سے نہیں ہے، یہ نفرتوں کو بڑھاوا دیتے ہیں اور نفرتوں کی آگ میں جلا دیتے ہیں۔ ملک کی بقا اسی میں ہے کہ ہر طرف پیار کی جوت جلے تاکہ دھرتی پریم نگر بن جائے، لوگ ایک دوجے کے سکھ دکھ میں کام

آئیں، ایک دوسرے کے درد کو محسوس کریں اور آنسو بہائیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہاتھوں کی طرح دلوں کو بھی ملائیں، ایکتا کے پھول کھلائیں، مسجد کا دیپ ہو یا کہ مندر کا دیا اپنے خونِ دل سے جلائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرآپس میں پیار قائم ہو جائے تو سکھ دکھ میں کام آنے لگیں گے اور تمام مسائل کا حل نکل آئے گا۔

ہاتھ کی طرح دلوں کو بھی ملائے رکھنا

پھول یکتا کے ہر اک سمت کھلائے رکھنا

دیپ مسجد کا ہو یا کوئی مندر کا دیا

خونِ دل دے کے بہرِ حال جلائے رکھنا

تیرے میرے مسئلہ کا حل نہیں ترشول و بم

آگ میں نفرت کی آخر اور جلیں گے کب تک ہم

پیار کی جوت جلے ہر دل میں دھرتی بنے پریم نگر

اک دوجے کے سکھ دکھ میں آنکھیں ہوں ہم سب کی نم

         ذاکرہ شبنم کی ایک طویل نظم ’’ پیغام‘‘ ہے جو قومی یکجہتی کی اچھی مثال ہے۔ جس میں انہوں نے ذہنوں اور دلوں کو جھنجوڑنے کی بھرپور سعی کی ہے۔ اے لوگو! ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو۔ جس دیش میں پریم کی گنگا بہتی تھی وہاں انسانوں کے بھیس میں بھیڑئیے پھر رہے ہیں اور انسانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ہر طرف نفرت کی آندھیاں چل رہی ہیں۔ یہاں مندر، مسجد، گرجا اورگردوارے سب ہیں مگر سبھی کا خدا ایک ہی ہے۔ پھر آدمی ہی آدمی کے خون کا پیاسا کیوں ہے۔ کب تک یہ موت اور بربریت کا وحشتناک کھیل ہوتا رہے گا۔ لہذا میرا یہ پیغام ہے کہ خود پرست نہ بنو بلکہ خدا پرست بن جاؤ۔ گلے لگ جاؤ، آپس میں مسکراؤاور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ اگر ایسا ہوجائے تو یہ پھیلے ہوئے نفرت کے اندھیرے دور ہوجائیں گے اور ایک نئی صبح آئے گی اور محبت عام ہو جائے گی۔

        اے میرے وطن والو/ ذرا اپنی آنکھیں تو کھولو/اپنے ذہنوں کو ٹٹولو/دیکھ سکتے ہوتو چاروں اور دیکھو تم/چشتی، نانک اور گوتم کی دھرتی پر/پریم کی گنگا بہتی تھی/ٹیپو اور گاندھی کے اس دیش میں /پھر رہے ہیں کچھ بھیڑئیے/آج انسان کے بھیس میں /ہر طرف بہہ رہا ہے لہو انسان کا کیوں /جنگ شہروں میں ہمہ وقت ہے رقصاں / ادھر ہے آگ لگی، ادھر ہے خنجر زنی/ یہ خون کی ہولیاں کیوں /چل رہی ہیں نفرت کی گولیاں کیوں /مندر ہو کہ مسجد، گرجا ہوکہ گردوارے/خدا تو سبھی کا ایک ہے/پھر زمین اور دھرتی کا کیسا بھید ہے/جس کی خاطر کٹ رہے ہیں سر/ آدمی ہی آدمی کے خون کا پیاسا بنا ہے/کب تک موت کا بربریت کا/یہ وحشتناک کھیل ہوتا رہے گا/کب تلک خون معصوموں کا بہتا رہے گا/غیریت انسانیت کو ہو کیا گیاہے/لٹ گئے کہ کٹ گئے فکر کس کو ہے یہاں /میرے وطن والو/پیغام ہے یہ میرا/خود پرست بنے ہو کیوں /خدا پرست بنو/گلے لگ جاؤ او رمسکراؤ/ یکتا کے گیت گاؤ/ ہے میرا وطن گل و گلزار چمن/اس کی مٹی میں بسی خوشبو ہے پیار کی/یہ دھرتی اجڑ نہ جائے کہیں /اسے تم بچا لو/ہندو مسلم سکھ عیسائی/ایک ساتھ پھر بول اٹھے بھائی بھائی/ اے میرے وطن والو/ذرا اپنی آنکھیں تو کھولو//اپنے ذہنوں کو ٹٹولو/اک نئی روشنی کے ساتھ /دور کر دو ان پھیلے ہوئے اندھیروں کو /نئی صبح ضرور آئے گی/قدم سے قدم ملا کر چلو/دلوں سے میل کو دور کردو/دیر ہو جائے نہ کہیں /اب بھی سنبھل جاؤ/نئی صبح ضرور آئے گی/نئی صبح ضرور آئے گی۔

        عابد اللہ اطہر شیموگوی کے یہاں قومی یکجہتی کا عنصر مناجات، نظموں اور غزلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ شاعر اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہے کہ ملک کے حالات سازگار ہوں اور سب میں بھائی چارگی قائم ہو جائے تاکہ خود بھی بدنام نہ ہوں اور نہ ہی ملک کا نام بدنام ہوجائے۔

اے رب ِدو جہاں ! تری رحمت کا واسطہ

یہ  التجا ہے مجموعی تجھ سے بصد خلوص

جن کے طفیل مٹتی ہیں دنیا کی ظلمتیں

کر رفعتیں عطا انھیں امن و اماں بھی دے

غا ر ت گرانِ امن کو دے انسانیت کا غم

 جن کا شعار ظلم ہے انساں انہیں بنا

        رحیمؔ بیدری نے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے غیر مسلم احباب پر اچھی تہنیتی نظمیں کہی ہیں اور قومی یکجہتی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ان نظموں میں شاعرنے ایک طرف تہنیت پیش کی ہے تو دوسری طرف پیار ومحبت، خلوص و وفا، بھائی چارگی اور اتحاد و اتفاق کا درس دیا ہے۔ جس کی بہترین مثال ’’ رشیتہ پنوار کی چھٹی ساگرہ‘‘، ’’ کاروان امن و انصاف‘‘، ’’ تتواپدا فنکاروں کے سمیلن میں ‘‘ اور’’ کنڑا شاعرہ جگدیوی ڈبلگنڈے کے لئے‘‘ وغیرہ نظمیں ہیں۔ جہاں دیگر نظموں میں شاعر نے دوسری قوم والوں سے محبت کا ثبوت دیا ہے۔ اسی طرح درج ذیل نظم میں کنڑا شاعرہ جگدیوی کی شخصیت اور وچنوں کی خصوصیات پیش کی ہے اور نہایت محبت بھرے لہجے میں شاعر نے انہیں ماں کا درجہ دینے کی کوشش کی ہے۔ یہاں ماں اور بیٹے کاپیار دیکھئے۔

تمہارا چہرہ ماں جیسا ہے جگدیوی ڈبلگنڈے

سبھی کہتے ہیں کیا ایسا ہے جگدیوی ڈبلگنڈے

وچن کتنے لکھے ہیں، کیوں لکھے ہیں تم کو ہی معلوم

تمہارے ساتھ بسونّا ہے جگدیوی ڈبلگنڈے

مجھے بیٹا کہا کرتی ہو، ماں جیسی لگتی ہو

تمہارا میرؔ یہ بیٹا ہے جگدیوی ڈبلگنڈے

        م پ راہی کی نظم ’’ اے میرے کرناٹکا‘‘ ہے۔ در اصل یہ نظم حب الوطنی پر مشتمل ہے۔ لیکن اس میں شاعر بڑے دلچسپ انداز میں اس بات کی تلقین کرتاہے کہ سر زمینِ کرناٹک صوفی سنتوں کی دھرتی اور اولیائے کرام کا مسکن ہے۔ یہاں ایک طرف بھکتی ہے تو دوسری طرف بندہ نوازی ہے اور تمام مذاہب والوں میں آپسی محبت کا عنصر موجود ہے۔ یہی رواداری اور بھائی چارگی وقت کا تقاضا ہے کہ سب آپس میں مل جل کر رہیں تاکہ دنیا میں ہماری مثال قائم ہوجائے۔

صوفی سنتوں کی تو دھرتی تو ہے ولیوں کی زمیں

بھوگ بھکتی ہے کہیں بندہ نوازی ہے کہیں

دھرم و مذہب میں پنپتی ہے رواداری یہیں

تری چوکھٹ ہے وہ چوکھٹ جس پہ جھکتی ہے جبیں

        ناطق علی پوری نے جو قومی یکجہتی کا ثبوت اپنے کلام میں پیش کیا ہے وہ حالات حاضرہ کے تناظر میں ہے۔ امن و سلامتی کے راستہ میں آج سب سے بڑا مسئلہ اگرکچھ ہے تو وہ’’ دہشت گردی ‘‘کا ہے۔ جس کی بدولت ایک بھارت ہی کیا ساری دنیا پریشان ہے۔ جس سے نپٹنے کے سارے ہتکھنڈے ناکام ہو تے دکھائی دے رہے ہیں۔ جب کہ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں، ان سے نفرت کرنا اور ان کی مذمت کرنا نہایت ضروری ہے۔ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم بھارت میں امن و سلامتی کی خاطر بھائی چارگی کا ثبوت پیش کریں۔

دشمن انسانیت ہوتے ہیں دہشت گرد لوگ

ان سے نفرت کیجئے ان کی مذمت کیجئے

اس زمینِ ہند کے واسی ہیں ہم سب ایک ہیں

دور دل سے کینہ و بغض و عداوت کیجئے

        یٰسین راہی کی نظم ’’ ایکتا‘‘ میں قومی یکجہتی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے قومی یکجہتی ہماری سوغات ہے۔ گنگا جمنی تہذیب ہماری شناخت ہے، پیار و محبت کے ترانے فضاؤں میں گونجتے ہیں۔ رشیوں، منیوں اور صوفی سنتوں نے جو محبت کا بیج بویا تھا وہ آج بھی قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں اور وقت ضرورت کام آتے ہیں۔

سکھ میں دکھ میں ساتھ نبھاتے

اک دوجے کا ہاتھ بٹاتے

لوگ جہاں پر ہاتھ بڑھا کر

یکتا کی زنجیر بناتے

دین دھرم کی بات جہاں کی

یکجہتی سوغات جہاں کی

دھرتی جس کی سونا اگلے

دن جیسی ہے رات جہاں کی

        ڈاکٹر شوکت علی خان شاہدؔ نے اپنی غزلیات میں جابجا قومی یکجہتی کی بات کی ہے۔ شاعر کا یہ خیال کہ ایک جانب سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ جب دو ہاتھ ملیں گے تو دل بھی ملیں گے۔ جب تک سارے مذاہب والے آپس میں مل کر ملک کی بقا کے بارے میں فکر نہیں کریں گے اس وقت تک یہاں محبت کے پھول نہیں کھلیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ نفرت کی دیوار گرا دیں اور آپس میں محبت کرنے لگ جائیں۔ یہاں ہم اور تم سے مراد ہندوستان کی دیگر قومیں ہیں۔

نفرت کی دیوار گرائیں ہم اور تم

سب کو پیت کا رنگ دکھائیں ہم اور تم

برسوں سے بے رنگ ہے دھرتی کا سینہ

آؤ اس پر پھول کھلائیں ہم اور تم

ہر سو علم کے دیپ جلا کر اے شاہدؔ

دنیا کو گلزار بنائیں ہم اور تم

                 قومی یکجہتی کا موضوع آج کی ادبی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لہر کبھی اٹھتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے تھم بھی جا تی ہے۔ مثلاًایودھیا، گودھرایا دادری واقعات سے متاثر ہوکر شعرا و ادباء رد عمل ظاہر کرتے ہوئے قومی یکجہتی کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور جب حالات سازگار ہوجائیں تو یہ موضوع سرد پڑجاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب بھی ٹی وی، ریڈیو پروگرام یا قومی یکجہتی کے موضوع پرسرکاری یا غیر سرکاری اداروں کی جانب سے تقریبات یا مشاعرے منعقد ہوتے ہیں یا کسی رسائل کے قومی یکجہتی نمبر نکلتے ہیں تو شعرائے کرام ضرورت کے تحت چند اشعار یا ایک آدھ نظم لکھ دیتے ہیں اور قومی یکجہتی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اس بات کے ثبوت میں آپ کسی بھی شاعر کے مجموعۂ کلام اٹھائیے اور قومی یکجہتی کا عنصر تلاش کیجیے۔ آپ صفحات پلٹتے جائیے، اس پہلو پربڑی مشکل سے دو چار اشعار کسی کے ہاں ملیں گے اور بہتوں کے ہاں مایوسی ہوگی۔

مزید دکھائیں

بی محمد داؤد محسنؔ

ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن ایس کے ۔اے ۔ہیچ ملّت کالج داونگرے۔(کرناٹک۔انڈیا) کے پرنسپل ہیں۔

متعلقہ

Close