دیگر نثری اصنافملی مسائل

ہندستان میں اردو کی زبوں حالی: ذمہ دار کون؟

مسعود جاوید

پچھلے دنوں انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ نے اردو حلقہ میں ہلچل مچادی دی تهی۔ رپورٹ کے مطابق 2011 کی مردم شماری میں مادری زبان کے سروے کے مطابق اردو بولنے والوں کی تعداد  4۔43 فیصد رہ گئی ہے جبکہ 2001 کے سروے میں ان کی تعداد 5۔01 فیصد تهی۔

اردو سے محبت کرنے والے لوگوں کے لئے یہ ایک رنجیدہ خبر تهی اور اس پر تبصرے اور مضامین بعنوان ” اردو کی زبوں حالی کا ذمہ دار کون؟” ایک فطری رد عمل تها لیکن یہ سوڈا واٹر چند ایک دن میں ہی گیس سے خالی ہو گیا اور حسب معمول چند پوسٹس اور مضامین کے توسط سے اظہار افسوس پر اکتفا کر لیا گیا۔ کوئی تحقیقاتی یا علمی بحث نہیں کوئی اس زبوں حالی کے اسباب و محرکات اور موجودہ دور میں اس کی اصل حیثیت کی بازیابی کے لئے کوئی لائحۂ عمل کا اعلان اردو سے متعلق اداروں، تنظیموں اور شخصیتوں کی طرف سے دیکهنے سننے اور پڑھنے کو نہیں ملا۔ جو بهی ردعمل آیا وہ  جذباتی تها اور وہ اس طرح کہ :

سب سے پہلی بات تو  یہ کہ مردم شماری کے دوران گرچہ لوگوں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ زبان کے کالم میں اردو خاص طور پر دهیان دے کر لکهائیں مگر ایسا صد فیصد ہوا ہو یہ ممکن نہیں ہے۔ کچھ کمیاں ہماری طرف سے تهیں اور کچھ زیادتیاں سرویئرز/ بلاک لیول افسر کی طرف سے ہوئیں۔ اس لئے کہ وہ لوگ بالخصوص شمالی ہند میں  زبان کے خانہ میں  ہندی لکھ دیتے ہیں اس لئے یہ عدد احتمال سے خالی نہیں ہے  اور اگر اس سروے کو بالکل صحیح مان بهی لیں تو 4۔34  اور 5۔01 میں فرق بہت بڑا نہیں ہے۔

دوسری بات یہ کہ حیثیت، مقام اور عظمت رفتہ کا ذکر کرکے تهوڑی دیر کے لئے غمگین ہوجانا کافی نہیں ہے۔ ان باتوں کا تذکرہ کرنا کہ آزادی کے لئے جس نعرہ کو سب سے زیادہ عوامی مقبولیت ملی وہ مشہور شاعر مولانا حسرت موہانی کا نعرہ ” انقلاب زندہ باد” تها جو کہ خالص اردو کا نعرہ تها۔ سبهاش چندر بوس نے اپنی تحریک کے موٹو  اردو کے تین الفاظ۔ "اتحاد – اعتماد – قربانی”   بنایاتها یا بهگت سنگھ کو پھانسی کے تختہ کی طرف جب لے جایا جارہا تها تو وہ رام پرساد بسمل کا اردو شعر ” سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے۔۔۔ پڑھتے جارہے تهے یا علامہ اقبال کا ترانہ ہند "سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا” وغیرہ کی آج کے بدلے ہوئے حالات میں  اہمیت اور relevance کیا ہے ؟ ان کا تذکرہ کر کے ہم خوش ہو سکتے ہیں فخر کر سکتے ہیں مگر  اردو دشمن عناصر کو قائل نہیں کرسکتے ہیں۔ آج کے حالات میں ان باتوں سے حکومت پر دباؤ نہیں بنا سکتے۔

زبان اور لباس قوم سے مرتبط ہوتے ہیں جب مسلم قوم 1857 میں زوال پذیر تھی اس وقت بهی اس قوم کا ایک مقام تها اسی لئے 1857 کے برٹش راج میں اردو اور انگریزی دونوں سرکاری زبانیں تهیں اور جب بتدریج مسلم قوم کے شانہ بشانہ ہندو قوم آئی تو 1900 میں ہندی کو اردو کے مساوی درجہ دیا گیا اور آزادی کے بعد 1950 میں ہندی کو اردو پر فوقیت دی گئی۔ لینگویج ایکٹ 1962  کے تحت، 23 زبانوں کو recognition ملی۔

سکہ رائج الوقت۔ ۔۔۔۔ الناس على دین ملوکہم یعنی لوگ اپنے سرداروں کے دین کی اتباع کرتے ہیں۔ ۔اور عوام  اس حکمراں طبقہ کی عادات و اطوار زبان و لباس کو  فخریہ طور پر اپناتی ہے اور عزت محسوس کرتی ہے۔ اور جب کسی قبیلہ، طبقہ اور گروپ کی سرداری ختم ہونے لگتی ہے تو اس کے متبعین اس سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگتے ہیں۔ جب مسلم قوم کا ستارہ عروج پر تھا تو لوگوں نے مسلم تہذیب، عادات و اطوار اور  زبان و لباس کو اپنایا مگر اقتدار سے بے دخلی، سیاسی بے وقعتی اور اقتصادی تنزلی کا دور آیا تو شان و شوکت کوچ کر گئی اور رفتہ رفتہ مسلم تہذیب کو لوگ چهوڑنے لگے  اس کو اپنانا اب باعث عزت نہیں تها غیر تو غیر اپنوں نے بهی اس تہذیب ؛ زبان و لباس کو ذلت و انحطاط کا مظہر سمجها اور پهر اس تہذیب کو اپنانے کی روش چل پڑی جو صاحب اقتدار کی تہذیب تهی۔ ان کی زبان اور ان کا لباس اپنانے میں عزت محسوس کی جانے لگی۔

دوسرا دور آزادی کے بعد کا ہے جس میں ہندو اور مسلم کے درمیان نفرت کی دیوار اونچی ہوتی گئی اور تعصب کا دار دورہ ہر میدان فکر و عمل میں رہا۔اسی کا نتیجہ تھا کہ اردو کو مسلمانوں کی زبان اور ہندی کو ہندوؤں کی زبان سمجها گیا اس لئے کہ مسلمان اردو بولتے تهے جبکہ ہندو BiMaRU ریاستوں ؛  بہار مدهیہ پردیش راجستھان اور یو پی میں ہندی بولتے تھے۔

دستور ہند کی رو سے  گرچہ لسانی آزادی ہر لسانی اقلیت کو حاصل ہے  اور ہر ریاست کے مقننہ Legislature کو اختیار ہے کہ ریاست میں رائج کسی ایک یا کئی زبانوں کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے۔ متعدد ریاستوں جیسے بہار ہریانہ جهارکهنڈ مدهیہ پردیش اور اتراکهنڈ میں  ہندی کے ساتھ دوسری سرکاری زبان اختیار کی گئی ہے  مگر افسوس کہ گہوارہ اردو ؛  (دکن، لکھنؤ، دہلی اور عظیم آباد)  میں سب سے زیادہ اردو آبادی والی ریاست اتر پردیش میں اردو  غیروں کی طرف سے ناروا تعصب، سیاسی پارٹیوں کی منافقت اور اردو والوں کی سرد مہری اور مصلحت آمیز خاموشی کی بهینٹ چڑھ گئی۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم آبادی کی 47 کے بعد آنے والی نسل اردو لکهنے پڑهنے سے محروم ہوگئی۔ اب بولنے کی حد تک باقی ہے۔

سپریم کورٹ نے 5 ستمبر 2014 کے فیصلہ می اتر پردیش میں ماضی میں  اردو کے ساتھ ناانصافی پر انگلی اٹهاتے ہوئے اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے پر زور دیا۔

روایتی اردو گہواروں کی بہ نسبت بعض  غیر روایتی ریاستوں جیسے مہاراشٹر اور کرناٹک میں اردو اچهی طرح پهل ہهول رہی ہے۔
اردو زبان کی بقا محض  اردو اکیڈمیوں مشاعروں اور سیمیناروں سے ممکن نہیں ہے۔ اس زبان کو شوقیہ پڑهنے لکهنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اردو زبان کی بقا اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے اور روزگار سے جوڑنے میں ہے۔ بہار میں اردو کی بد حالی بہت حد تک اس وقت دور ہوئی جب اسے دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا اس کے لئے مقننہ میں تحریک کی منظوری اس وقت کے وزیر اعلی ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا نے دی تهی مگر عملی اقدامات وزیر اعلی لالو پرشاد یادو کے دور اقتدار میں کئے گئے۔ اور جب کوئی زبان  کسی ریاست کی دوسری سرکاری زبان بن جاتی ہے تو سرکاری خبر رساں ذرائع، اطلاعات،  مراسلات، احکامات، اشتہارات سائن بورڈز وغیرہ میں اس زبان کو جگہ مل جاتی ہے اور ان کے لئے سرکاری دفاتر میں اردو داں اسٹاف مترجم اور ٹائپست کی جگہیں نکلتی ہیں اور ملازمت دی جاتی ہے۔ بہار میں اس کی عملی شکل دیکهی گئی۔ اس کا خاطر خواہ نتیجہ سامنے آیا اور طلباء کے اندر اس job oriented زبان پڑهنے کی رغبت بڑهی حکومت نے نرسری سے لے کر اسکول کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک اردو پڑهانے کا نظم کیا۔

کاش اتر پردیش میں بهی مسلم سیاست داں اردو کے لیے سنجیدہ کوشش کرتے تو آج یہ صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پچھلے دنوں کچھ لوگوں نے اس پر اظہار افسوس کیا کہ 99 فیصد مسلم آبادی کا علاقہ جامعہ نگر میں رمضان المبارک اور عید الفطر کی مبارکباد اور ان سے متعلق دوسرے اشتہارات اردو کی بجائے ہندی میں تهے، بعض لوگوں نے   اپنے تبصروں میں اس کا گلہ کیا کہ مساجد میں بهی اعلانات ہندی میں لکهے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی باتوں سے محبان اردو کی تکلیف تو سمجھ میں آتی ہے مگر شکوہ کا کوئی جواز اس لئے نہیں ہے کہ چونکہ ریاست کی مساجد میں نمازیوں کی اکثریت ہندی پڑهنے والوں کی ہوتی ہے اور کسی بهی اعلان عام و خاص کا مقصد عام لوگوں کو اطلاع دینی ہوتی ہے اس لئے ہندی دانوں کی اکثریت کے ہیش نظر ہندی میں لکھنا مجبوری ہے کوئی گناہ نہیں ہے۔

اس لئے ادباء شعراء لیکچرارز اور مسلم  طلباء و طالبات اگر ہندی میں اردو کے نوٹس لکهیں تو اسے عیب کے خانہ میں ضرور رکھیں مگر تعجب نہ کریں۔۔ اس دور انحطاط میں  اردو رسم الخط، قواعد، گرامر، صحیح تلفظ املا وغیرہ بہت حد تک  دینی مدارس کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ مدارس کےطلباء گرچہ ماہر اقبالیات اور متخصص غالبیات نہیں ہوتے مگر زبان کی سلامتی کے بلا شبہ ضامن ہیں۔ ان کی اکثریت ساجش اور دلچشپی اش اش جیسی فاش غلطیاں نہیں کرتی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close