دیگر نثری اصناف

ہندوستان میں اردو زبان اور رسم الخط کی بقا‎

جاوید مسعود

اردو رسم الخط کے تعلق سے لوگوں کی تشویش قابلِ قدر ہے اور اس کی جانب  عوامی سطح پر تحریک کی شکل میں توجہ کی ضرورت ہے. آپ اس سے بخوبی واقف ہیں کہ اردو رسم الخط کو ختم کرکے دیوناگری اس کا بدل کے طور پر تهوپنے کی کوشش ماضی میں بهی ایک مخصوص طبقہ کرتا رہا ہے  اور  بدقسمتی سے ان کی تائید خود ہم میں سے بہت سے روشن خیال لوگ کرتے رہے ہیں . اردو اور اردو رسم الخط پر یہ الزام ہے کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے . حالانکہ ایسا نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ ہندوستان کے مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک میں بسے ہوئے مسلمانوں کی زبان ہوتی.  دراصل زبان اور کلچر کا تعلق مخصوص علاقہ میں رہنے والے با شندوں سے ہوتا ہے نا کہ مذہب سے.

انگریزی زبان عیسائی مذہب کے ماننے والوں کی زبان نہیں ہے . عربی صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے بلکہ عرب دنیا میں رہنے والے عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کی زبان بهی یہی عربی ہے. اسی طرح اردو ہندوستان کے مخصوص علاقوں میں رہنے والے مسلم اور غیر مسلم کی زبان تهی، اردو کے بڑے بڑے غیر مسلم مشہور شعراء، ادباء صحافی مصنفین گزرے ہیں اور اج بهی ہیں . اسی طرح اردو کے اخبارات جن میں حال تک پرتاپ، ملاپ، ہند سماچار اور پنجاب کیسری وغیرہ اشاعت میں رہے ہیں.  تاہم یہ بهی ایک ناقابل رد حقیقت ہے کہ اردو زبان اور اردو رسم الخط میں ہمارے دینی اور ادبی اثاثے محفوظ ہیں اور اسی طرح اردو رسم الخط عربی اور فارسی رسم الخط سے مستخرج ہے اور ہندوستانی مسلمان اس اردو رسم الخط کی مدد سے باسانی عربی میں قرآن پاک  کی تلاوت کرتا ہے اس لئے اس کی بقا کی نہ صرف  ذمہ داری ہم مسلمانوں کی ہے بلکہ ایک دینی فریضہ بهی ہے.

جہاں تک یہ بات کہ ان دنوں سوشل میڈیا پر دیوناگری رسم الخط میں اردو شاعری کا زور ہے تو یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور وہ اس طرح کہ اسے ہم اردو شعر و ادب کی مقبولیت کے طور پر بهی دیکهتے ہیں اس لئے کہ  پوسٹ کرنے والوں کی اکثریت غیر مسلم لڑکے اور لڑکیوں کی ہے جن کے اشعار نا صرف یہ کہ دیوناگری میں ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات تلفظ، تذکیر و تانیث کی غلطی اور قافیہ ردیف وزن اور بحر سے بهی خالی ہوتے ہیں.  ہم اردو والے بهی دیوناگری میں اشعار پوسٹ کرتے ہیں اور مطمح نظر ہوتا ہے bigger audience . اب یہ مسئلہ اس وجہ کر پیچیدہ اور حساس ہو جاتا ہے کہ اگر ان پر تنقید کریں تو ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور چهوڑ دیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نئی نسل اردو رسم الخط سے نانلد رہ جائے . اس لئے ایک ایسے میکانزم کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو انگلش اور ہندی میڈیم اسکولوں میں ضرور اچهی تعلیم دلائیں مگر اردو بحیثیت مادری زبان کے لئے گھروں میں اتالیق مقرر کریں یا ہر محلے میں اردو خواندگی مراکز قائم کرکے ان میں اپنے بچوں کو بلا ناغہ بھیجیں اور بچوں کو اس کی اہمیت ضرورت اور افادیت بتاتے ہوئے اس کی طرف مائل کریں.

اردو اور اردو رسم الخط کی بقا کے لیے صرف  ہمارا کوشاں ہونا کافی نہیں ہے.  ہاں ایک حد تک یہ کوشش اسے زندہ رکھ سکتی ہے مگر محض ایک طبقہ کے کچھ لوگوں کی کوشش اس کو رائج نہیں کرسکتی. اس کے لئے اس زبان کو حکومت کی سرپرستی چاہیئے اس کو روزگار سے جوڑنے والی زبان بنانے کی ضرورت ہے اور سب سے اہم یہ کہ اس کے لئے اردو کے نام پر نوازشات سے فائدہ اٹھانے والے مخلص ہوں. اترپردیش، جی ہاں گہوارہ اردو( دہلی، لکهنو اور حیدرآباد) میں اردو کو دوسری سرکاری زبان نہ بنانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسکولوں میں اردو پڑهانے کا نظم نہیں رہا اور یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ وہاں کی نئی نسل اردو بولتے ہیں مگر لکھنے اور پڑھنے سے نابلد ہیں کیونکہ مادری زبان کی وجہ سے اردو  بول چال میں رہی مگر اسکول میں بحیثیت لازمی مضمون  نہ پڑھنے کی وجہ سے لکھنا اور پڑھنا نہیں سیکھا.

  بہار میں اس کوشش کی شروعات جگن ناتھ مشرا جی نے کی اور تنفیذی مراحل کی تکمیل لالو پرساد جی کے مخلصانہ عزم سے ہوئی جس کے نتیجے میں اردو معلمین کی اسکولوں میں بحالی اور اردو مترجمین اور ٹائپسٹ کی ڈیپارٹمنٹس میں تقرری عمل میں آئی. سیاسی اختلافات اور اردو کے سلسلہ کچھ خامیوں اور کوتاہیوں سے قطع نظر، ان لیڈروں کا اردو کے لئے سنجہدہ کوشش اور دوسری سرکاری زبان بنانا ناقابل فراموش ہے.

اسکولوں میں  طلبہ کی رغبت اردو کی طرف اس لئے بھی ہوئی  کہ یہ بهی ایک job oriented سبجیکٹ ہوگیا اور ملازمت کے مواقع فراہم کرانے والا بنا.

  اس لئے میرا خیال ہے کہ ہر اس صوبے میں جہاں ہماری آبادی دس فیصد ہے وہاں اس اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت دلانے کی بهر ہور کوشش ہونی چاہئے . صرف شوقیہ پڑهنے اور لکهنے والے اس کی بقا کے ضامن نہیں ہو سکتے.

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close