دیگر نثری اصناف

یہ وہ زمین

نظرعرفان

یہ وہ زمین

کروں میں جس کو سلام

ادب سے جھکے سر اس پر

یہ علم وھنر کا صحن

یہ علم وادب کا مسکن

یہ وہ زمین

اور  وہ !

ہاں وہ تھی مثل پرندہ مہمان

ہاں، اس کے ساتھ

بیتے کچھ پل، کچھ لمحے، کچھ گھڑی

اور کچھ دن

وہ تھی میری مہمان

نہ کوئی وعدہ، نہ کچھ ایسی باتیں!

بن پڑے، پھوٹ پڑے، گر پڑے

آنکھوں کے سہارے

اس کے دو پٹے پر

اور بن پڑے محبت کی نشان

پھر نکل پڑے

میرے آنکھوں سے

محبت کا پیام

وہ حسن کی ملکہ

بڑی ہنر مند، باسلیقہ

اس کا ہے جو مجھ پر احسان

یہ وہ زمین

کروں جس کو میں سلام

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close