دیگر نثری اصناف

بہار اردو اکاڈمی کا برا حال ……!

افتخار عظیم چاند
ممتاز و معروف افسانہ نویس، سینئر جرنلسٹ و سرگرم سماجی رہنما جناب افتخارعظیم چاند، جناب محمد نسیم احمد قریشی (جنرل سکریٹری ،بزم فروغِ ادب ، پٹنہ )، ادیب و سماجی و فلاحی کارکن جناب عبدالسّتار وغیرہ نے اپنے مشترکہ بیان میں بہار اُردو اکادمی کے موجودہ سکر یٹر ی کی کارکردگی اور من مانی پر سوال اُٹھایا ہے اور کہا ہے کہ ’’چُپ رہئے تو بیجا ہے ۔ جب سے موجودہ سکریٹری مشتاق احمد نوری صاحب نے سکریٹری شپ کا عہدہ سنبھالا ہے ،تب سے بہار اُردو اکادمی ، جو پہلے پٹنہ اکادمی بن گئی تھی اور اب نوری اکادمی بن گئی ہے۔ ۱۰؍فروری ۶ ۱ ۰ ۲ ء کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلے کی مخالفت میں اب تک کئی حضرات جو باضابطہ طور پر بزرگ ،سینئر اور اُستاد ادیب ، شاعر، ناقد وصحافی ہیں ،کا مقامی روزنامے میں بیان ، ایوارڈ لوٹانے اوررکن مجلس عاملہ کی حیثیت سے اِستعفیٰ دینے کی باضابطہ خبریں شائع ہوچکی ہیں۔سب سے پہلی غور طلب بات یہ ہے کہ مجلس عاملہ کی میٹنگ مورخہ ۴؍فروری اور ۱۰؍ فروری ۲۰۱۶ء کو منعقد ہوئی تھی جس میں مطبوعہ کتب پر انعامات اور مسودے پر اشاعتی اعانت کا فیصلہ ہوا تھا۔ بہت سے لوگوں کو انعامات و اعانت کی رقم بذریعہ چیک یا ان کے اکاؤنٹ میں جمع جاچکی ہے۔لیکن مطبوعہ کتب پرانعامات و اشاعتی امداد کی باضابطہ لسٹ و خبرمورخہ ۹؍اپریل کے روزنامے میں شائع کی گئی ہے۔ انعامات کی فہرست دیکھنے سے ہم حیرت و استعجاب میں غرق ہوگئے کہ جنہیں اوّل انعام سے نوازا جانا چاہئے تھا ،اُن کا نام دوم اورسوم کی فہرست میں شامل ہے اور جنہیں دوم یا سوم کے ز مر ے میں ہونا چاہئے تھا ، اُن کا نام اوّل انعام کی فہرست میں درج ہے۔ یہ سراسر ناانصافی اورحق تلفی ہے۔ اِس طرح مستند و معتبر اُدبا و شعراء کی توہین کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں جناب ریاض عظیم آبادی کا بیان ، پروفیسر محفوظ الحسن ، پروفیسر اسلم آزاد اورجناب ظہیر صدیقی جیسی اہم شخصیات کے ایوارڈ لوٹانے کی خبر اور رکن مجلس عاملہ پروفیسر علیم اللہ حالی کے اِستعفیٰ دینے کی خبربہت سارے روز نا موں میں شائع ہوچکی ہے۔ ڈاکتر محفوظ الحسن ، ڈاکٹر اسلم آزاد اور جناب ظہیر صدیقی کے ایوارڈ لوٹانے اور جناب پروفیسر علیم اللہ حالیؔ کے مجلس عاملہ سے مستعفی ہونے پر ان حضرات کی جتنی بھی ستائش کی جائے ،کم ہے۔ ان کا یہ جرأت مندانہ اور بیباکانہ اقدام لائق صد دادو تحسین ہے۔ ہم ان کے بلند حوصلے ،عزم اور خودداری کی قدر کر تے ہوئے ان تمام مشاہیر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی حساس اور خوددار شخص سکریٹری اکادمی کے دباؤ میں آکرکام نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنی زبان بند رکھے گا ، نیز سکریٹری کے غیر منصفانہ اور غلط حرکت پر اپنی آواز بلند کرے گا۔
جناب افتخارعظیم چاند نے مزید کہا ہے کہ اوّل انعامات کی فہرست دیکھنے پر یہ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر شائستہ انجم نوری کی تصنیف ’’احتشام حسین کا تنقیدی شعور ‘‘ کو اوّل انعام سے نوازا گیا ہے۔ اِس ضمن میں یہ بتاتا چلوں کہ محترمہ شائستہ انجم نوری ، مشتاق احمد نوری صاحب کی اہلیہ ہیں اور اُنہوں نے ایک دہائی سے ادبی دُنیا میں قدم رکھا ہے اور چندسال سے لکھنے کی مشق ، نصابی ضرورتوں کے تحت شروع کیا ہے۔ کوئی بھی چار پانچ مراسلے اور نصف درجن تبصرے وغیرہ لکھنے سے ایک ادیب (ادیبہ) نہیں بن جاتا ہے ۔ ادبی دُنیا میں نووارد قلمکار کو اوّل انعام سے نوازا جانا حیرت کی بات ہے۔ سارے لوگ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ محترمہ ،سیکریٹری اکادمی کی مسز ہیں اور مطبوعہ کتاب پر صاحبِ تصنیف کا نام درج ہوتا ہے، چنانچہ دونوں مبصر حضرات نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اوراکادمی سے دونوں ہاتھوں سے بٹور نے کے لئے محترمہ نوری کی کتاب کو اوّل انعام کے زمرے میں رکھا ۔آج کا المیہ یہ ہے لوگ ذاتی مفاد سے اُپر نہیں اٹھ پاتے ، ان میں ذرا بھی اَنا(ego)،اخلاق (Moral) ، مرتبہ (Status)اور خودداری باقی نہیں بچی ہے۔ صرف اپنی حرص و ہوس اور فائدے کے لئے اردو زبان و ادب کے معیار کو بھی ختم کرنے کے در پئے ہیں ۔ا اوّل انعام کے مستحق پروفیسر (ڈاکٹر) قیصر ضحی عالم، ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی، ڈاکٹر محمد حامد علی خاں،ڈاکٹرمحسن رضا رضوی،نسیم مظفر پوری، گوہرشیخ پوروی، وغیرہ کو دوسرے انعام کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور جن کی کتاب پر دوسراانعام ملنا چاہئے تھا ان کو سوئم انعام دیاگیا ہے۔مثلاً نثار احمد صدیقی، منیر سیفی، سیّدہ شانِ معراج، شموئل احمد،دیپک کنول،وغیرہ وغیرہ۔
بیان کے آخر میں بہار اُردو اکادمی سے شائع ہونے والے رسالہ ’’زبان و ادب‘‘ پر بھی اپنے تاثرات و خیالات کااظہار کرتے ہوئے ان حضرات نے سکریٹری اکادمی سے یہ سوال کیاہے کہ کیا اپنے ملک میں افسانہ نگاروں کی کمی واقع ہو گئی ہے کہ وہ اس رسالہ میں پاکستان، عمان، کینڈا، امریکہ،اسٹریلیا، جرمنی،ہانگ کانگ وغیرہ کے افسانہ نگاروں کے افسانے ماہنامہ زبان و ادب میں شائع کرتے ہیں۔ بیرون ممالک کے تخلیق کاروں کو رسالہ بھیجنے میں پوسٹیج کے نا م پر اکادمی کا کتناخرچ آتاہے ؟ اور ان کے معاوضے کی رقم کی ادائیگی کی کیا صورت ہوتی ہے؟ سا بق سکریٹری بہار اُردو اکادمی جناب امتیاز احمد کریمی کے وقت میں ماہنامہ ’’زبان و ادب‘‘ کے سر ورق پر قدیم زمانے کے کسی مشاہیرادب، شاعر، ناقد یا عظیم شخصیت کی تصویر دی جاتی تھی اور اسی کے مناسبت سے نائب مدیر ماہنامہ ’’زبان و ادب‘‘ ایک معیاری و معلوماتی اور کارآمد مضمون لکھا کرتے تھے ،جس سے نئی نسل کے قلمکار خاص کرریسرچ اسکالرز یونیورسٹی کے طلبا و طالبات استفادہ کرتے تھے ۔
لہذا مذکورہ سماجی رہنماؤں و ادیبوں نے وزیر اعلیٰ بہار شری نتیش کمار اور کارگزارصدر بہار اُردو اکادمی نیزوزیر محکمۂ اقلیتی فلاح ڈاکٹر عبدالغفور سے پُر زور اپیل کی ہے کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے موجودہ سکریٹری مشتاق احمدنوری کو برطرف کرکے کوئی معتبر ، فعال، ایماندار اور اصول پرست شخص کو بہار اُردو اکادمی کا
سکر یٹر ی نامزد کیا جائے ، تاکہ بہار اُردو اکادمی کے بے جا اصراف کا سلسلہ ختم ہو ، ساتھ ہی ساتھ اکادمی میں چل رہی بندر بانٹ پر قابو پایا جاسکے اور حکومت کا پیسہ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت پر خرچ ہو ، جس سے مرتی ہوئی اردوزبان کو زندگی مل سکے ، ورنہ تاریخ کبھی ہمیں معاف نہیں کرے گی ۔(یو این این)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close