دیگر نثری اصناف

مولانا کا بیٹا

دینی دانشگاہ کی وہ چوتھی منزل تھی، آخری جماعت کے طلبہ اسی منزل پر رہتے تھے، فاروق کی فراغت کا سال تھا، وہ ذہین بھی تھا اور سرگرم بھی۔ سماجی برائیوں  کے خلاف تحریک چلانا چاہتا تھا، اس نے اپنے علاقے کے سارے ہوشمند لڑکوں  کو جمع کیا تھا، بات وہی سماجی برائیوں  کے خاتمے کی تھی، اس معاملے میں  سب اس کے ساتھ ہونے کا عہد کررہے تھے۔ سب سے آگے آگے اس کا سب سے نیک اور بے ریا دوست عبدالغفار تھا۔ اس نے جہیز کےخلاف بڑی مدلل گفتگو کی اور شرک و بدعت کے خاتمے کے ساتھ جہیز کو بھی بنیادی مسائل میں  رکھنے پر زور دیا اور اکثریت کی تائید سے بات مان لی گئی۔

 تحریک آگے بڑھی، مختلف قصبوں  میں  تحریک کے بینر تلے دینی جلسے منعقد ہوئے۔ ہر ایک جلسے میں  عبدالغفار کی تقریر اسی جہیز پر ہوتی، چھریرا بدن، بھرکلا داڑھی، پتلی لیکن فیصلہ کن آواز، روشن آنکھیں  اور متوازن قد، لوگ اس کی تقریر غور سے سنتے اور اثر لیتے۔ پھر دیکھتے دیکھتے اس کی بھی فراغت کا سال آگیا اور فضیلت کی ڈگری لے کر دانشگاہ کی چہار دیواری سے نکل گیا۔ دوچار سالوں  میں  تحریک سے جڑے سارے لڑکے فارغ ہوگئے اور سب اپنی اپنی دنیا میں  مصروف ہوگئے۔ کوئی اعلا تعلیم، کو‏ئی تجارت اور کوئی دعوت و تبلیغ اور امامت و خطابت میں  لگ گیا۔ فاروق دلی چلا گیا اور عبدالغفار نے امامت و خطابت کی راہ اپنالی۔ دیکھتے دیھکتے لوگ اس کے گرویدہ ہوگئے، اس کی آواز میں  سوز بہت تھا، دل کا صاف، تہجد گزار اور نہایت شرمیلا لیکن تقریر بڑی ناپی تولی اور اثرخیز کرتا تھا۔ صلاحیت تو واجبی ہی تھی لیکن صالحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ نوجوانی کی عمر میں  بزرگوں  والی پاکیزگی دیکھنے کو ملتی تھی، اس سے نوجوان نسل ہی نہیں  بڑے بوڑھے بھی بہت متاثر تھے۔ جہاں  وہ امامت و خطابت کا فریضہ انجام دیتا تھا وہاں  لوگ معاشی اور تعلیمی اعتبار سے بڑے مضبوط تھے پھربھی اس کی قدر بہت تھی، کچھ اچھے لوگ تو اسے اپنی بیٹیوں  کے لیے بھی کہہ چکے تھے لیکن وہ عام طور سے اس طرح کی باتیں  ٹال دیا کرتا تھا کیوں  کہ اس کے خاندان میں  یہ روایت چلی آرہی تھی کہ شادی ماں  باپ ہی کراتے تھے۔ تنخواہ اس کی بہت اچھی تو نہیں  تھی لیکن بہت خراب بھی نہیں  تھی۔ وہ ایسے بھی قناعت پسند اور صابر طبیعت کا تھا، اس لیے اسے اور بھی پریشانی نہیں  ہوتی تھی۔ ماں  باپ اور گھر کے لوگوں  سے تو چھوڑ دیجیے دور دور کے رشتہ داروں  سے بھی وہ بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ تیس کے لپیٹے میں  اس کی عمر پہنچ رہی تھی، جب کوئی مقتدی اس سے شادی کے بارے میں  سوال کرتا تو چیں  بہ جبیں  ہوئے بنا نہ رہ پاتا۔ لوگ بھی تو کم نہیں  ہوتے۔ کچھ تو یہاں  تک پوچھ دیتے کیا حضرت ! کیے نہیں  یا کرنے کی ضرورت ہی نہيں  ہے !! حالانکہ اس نے اشارے کنایے میں  گھر کے لوگوں  سے شادی کی خواہش کا اظہار کردیا تھا لیکن باپ کے حساب سے ابھی اس کی عمر شادی کی ہوئی ہی نہیں  تھی۔ خیر تین چار سال کے بعد وہ راضی ہوئے کہ مولانا کی اب شادی ہونی چاہیے۔

 مولانا عبدالغفار کے والد  نیک طبیعت انسان تھے، صوم وصلوۃ کے پابند تھے، وضع قطع سے پورے مولانا لگتے تھے، ایسے بھی وہ نیم مولوی تو کم ازکم تھے ہی۔ مشکوۃ تک کی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ بڑی پیاری گفتگو کرتے تھے۔ زمین جائداد بھی ٹھیک ٹھاک ہی تھی۔ کئی جگہ لڑکیاں  دیکھی گئیں ، پسند ناپسند سے ہوتے ہوتے آخر کار ایک شریف گھرانے میں  رشتہ انہوں  نے طے کرلیا اور مولانا عبدالغفار سے کہا گيا کہ چاہیں  تو وہ بھی دیکھ لیں  ویسے ہم نے شادی طے کردی ہے۔ عبدالغفار کو اپنے باپ کی پسند پربھروسہ بھی تھا اور انہوں  نے ذہن پہلے سے بنایا ہوا تھا کہ شادی ان کی مرضی کے مطابق ہی کریں  گے البتہ ان کی صرف ایک شرط تھی کہ شادی سادہ اور سنت کے مطابق ہوگی، جہیز سلامی جیسی کوئی مانگ نہیں  ہوگی، انہوں  نے اپنی بڑی بہن اور بھابھی کے ذریعے والد صاحب تک اپنی یہ بات پہنچائی بھی تھی لیکن جب طے پائی تو اس میں  یہ بات بھی تھی کہ لڑکے والے لاکھ روپے نقد مع سازو سامان دیں  گے۔ مولانا عبدالغفار کے لیے یہ بات خاصی پریشان کن تھی، انہوں  نے بھائیوں ، بہنوں  اور بھابھیوں  کے پاس کھل کر اس کی مخالفت کی، اسے حرام اور ناجائز کہا اور بتلایا کہ وہ ایسی صورت میں  شادی سے انکار بھی کرسکتے ہیں ۔ مولانا نے آج تک اپنے والد صاحب سے باضابطہ آمنے سامنے گفتگو نہیں  کی تھی، وہ اکثر اپنی ضرورتیں  ماں  سے کہتے تھے اور ماں  باپ سے کہہ دیا کرتی تھیں ۔ باپ بیٹے کا رابطہ کمزور تو نہیں  تھا لیکن حجابوں  سے بہت گھرا ہوا ضرور تھا۔ بیٹیوں  نے باپ سے یہ بات بتائی اور مولانا سے گفتگو کرنے کو کہا۔ کئی دنوں  تک آپس میں  بحث مباحثے ہوتے رہے۔ آخر ایک دن باپ بیٹے کے بیچ بھی بات ہوہی گئی۔

عبدالغفار : ابو! یہ حرام ہے، شادی آپ کی مرضی سے ہو لیکن شریعت کی تو دھجیاں  نہ بکھیریں ۔

باپ : دیکھیے ! شادی کی بات طے ہو چکی ہے، اب بے مطلب کی باتیں  مت کیجیے۔

عبدالغفار : ابو ! لیکن اس سے گناہ ہوگا، آپ جانتے ہیں  میں  مولوی آدمی ہوں ۔ میری سماج میں  کیا عزت رہ جائے گی۔

باپ : فجر چھوڑتے ہیں  اس وقت نہیں  دیکھتے کہ سماج میں  کیا عزت رہ جائے گی۔

عبدالغفار : میں  مانتا ہوں  کہ کبھی کبھی کوتاہی ہو جاتی ہے، میں  شرمندہ ہوں ، ان شاءاللہ آئندہ اور زيادہ مستعدی سے ادا کرنے کی کوشش کروں  گا۔

باپ : بے مطلب بحث کا کوئی فائدہ ہی نہیں  ہے، مجھے جو کرنا تھا وہ میں  کرچکا

عبد الغفار : آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں ، آپ خود بھی دیندار آدمی  ہيں ۔

باپ : میں  آپ کی طرح بے وقوف نہيں  ہوں ، دینداری کا مطلب حماقت میں  پڑنا نہیں  ہوتا۔

عبدالغفار : اس میں  کون سی حماقت ہے ؟ ہم تو صرف سنت کی پیروی کی بات کررہے ہیں  ؟

باپ : صاحبزادے ! بھولے مت بنیے۔ شادی میں  کتنا خرچ آئے گا، پتہ ہے آپ کو ؟

عبدالغفار : تو خرچ کم کردیتے ہيں  نہ ابو ! چھوٹا ولیمہ کریں  گے، کوئی غلط سلط رسم نہيں  ہونے ديں  گے

باپ : اچھا! جیسے سماج آپ کے حکموں  پر چلتا ہے، میاں  ! پانچ وقت کی نماز پڑھانے اور تقریر کرلینے سے سب کچھ نہیں  ہو جاتا۔ زندگی جینے اور رکھ رکھاؤ بچانے کے لیے پیسوں  کی ضرورت ہوتی ہے۔ لائیے دیجیے دولاکھ روپے اور میں  لڑکی والوں  سے کہہ دیتا ہوں  کہ انہیں  کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ۔ آپ کو نہیں  پتہ کہ ان کے ایک لاکھ دینے کے بعد بھی گھر کا ایک لاکھ خرچ ہو ہی جائے گا۔

عبدالغفار : ابو! آپ کچھ تومیرا خیال کیجیے۔ مجھے یوں  رسوا تو مت کیجیے۔

باپ : زيادہ بات کا بتنگڑ مت بنائیے، یہ معاملہ خفیہ رکھا گيا ہے، کسی کو پتہ نہیں  چلےگا

عبدالغفار : اللہ کو بھی نہيں  ؟

باپ : اب آپ چپ رہیے گا یا میں  ہی شادی توڑواکر آ جاؤں ۔ پیچھے طرف کھڑی دونوں  بہنوں  نے عبدالغفار کو اس طرح دیکھا جیسے وہ باپ سے یوں  حجت کرکے ٹھیک نہیں  کررہا ہو اور اسے چپ ہو جانا پڑا۔

رات اسے دیر تک نیند نہیں  آئی۔ وہ کیا کیا سوچتا رہا۔ اس نے دیکھا کہ وہ چوتھی منزل پر ہے اور جہیز کے خلاف اس کی تقریر ہورہی ہے، مجمع عام میں  اس نے لوگوں  کو آنسوؤں  میں  بھگودیا ہے، منبر سے اس کی آواز بلند ہورہی ہے اور لوگ توبہ کرتے جارہے ہیں ، ایک بڑے جلسے کے اسٹیج سے وہ تقریر کرکے اتر رہا ہے کہ دس بیس لوگوں  نے اسے گھیر کر زناٹے دار طمانچہ لگادیا ہے۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ لیکن جب اس نے گھبراہٹ میں  ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو پتہ چلا اس کے بستر سے متصل چارپائی پر لیٹے اس کے چھوٹے بھائی کے خراٹے کے علاوہ کمرے میں  اور کچھ نہیں  ہے اور تب اسے خیال آيا کہ وہ تو سویا ہوا تھا۔

شادی ہوگئی، دوسرے دن اس کے دوست فاروق کا فون آیا۔ اس نے دعائیں  دیں ، مبارکبادیاں  پیش کیں  اور استفسار کیا کہ عبدالغفار نے تو ضرور سادہ اور سنت کے مطابق شادی کی ہوگی۔ اس کے جواب میں  اس نے اپنے دوست سے صرف اتنا کہا کہ ہاں  شادی تو سنت کے مطابق ہی ہوتی لیکن میرے پاس دولاکھ روپے نہیں  تھے۔ یہ کہہ کر اس نے فون کاٹ دیا اور اس کی نگاہوں  کے سامنے دور دور تک اندھیرا سا چھاتا چلا گیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close