دیگر نثری اصناف

معنٰی جانتے ہیں مگر صورت نہیں پہچانتے!

آج ملک میں جتنے لوگ اردو بول سکتے ہیں ان میں سے صرف دو تین فیصد ہی ایسے ہوں گے جو اردو پڑھ بھی سکتے ہیں ، لکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔اسی لیے کئی لوگ اردو کو دیونا گری اور رومن رسم الخط میں لکھنے کی وکالت کرتے ہیں ۔ کیونکہ برصغیر کے زیادہ تر افراد خواہ ان کی زبان کوئی بھی ہوبیشتراردو الفاظ کے معنیٰ تو جانتے ہیں مگران کی صورت نہیں پہچانتے۔اور جب اردو کاکوئی لفظ دیوناگری یا رومن میں لکھا جاتا ہے تووہ اس کے معانی تک آسانی سے پہنچ جاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

خدا کا فضل بس!

میری خا مو شی اُس کے لیے چیلنج بن چکی تھی. وہ پہلوان کی طرح ہر صورت مجھے ہر انا چاہتا تھا اب اُس نے اپنے تعلقات گنوانے شروع کر دیئے کہ میرے بہت اوپر تک تعلقات ہیں میری جما عت میں بہت اہم جگہ ہے با اثر لوگوں سے ملنا جلنا اور دوستیاں ہیں پھر اُس نے اپنی دولت کی نمائش شروع کر دی کہ میرے پا س بہت پیسہ اور پراپرٹی ہے. مجھے اُس کے انداز اور جا رحیت سے لگ رہا تھا کہ وہ ہر صورت میں مجھے تسخیر کر نے کے چکر میں تھا. وہ چاہ رہا تھا کہ میں اُس سے ہر صورت میں مرعوب ہو جائوں اور اُس کے ہا تھ پا ئوں چومنا شروع کر دوں.

مزید پڑھیں >>

ہم کس کیلئے لکھ رہے ہیں؟

ہم لکھنے والوں کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ لکھتے ہوئے اس چیز کا تجزیہ کرلیں کہ ہم جو لکھ رہے ہیں وہ ہم ہی لکھ رہے ہیں کوئی ہم سے یہ لکھواتو نہیں رہا یا پھر ہم کسی ایسے کی ترجمانی تو نہیں کررہے جو کسی بھی طرح سے ہمارے ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ ہے یا پھر کسی ایسے کی حمایت میں تو قلم کی روشنائی ضائع نہیں کر رہے جو ہمارے دین میں کسی قسم کا حرف اٹھنے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں >>

غرور کا انجام

آخر رب رحیم کریم کی لاٹھی حرکت میں آئی واردات کے دوران پو لیس مقا بلے میں زمیندار ما را گیا اور میں خدا کے عدل کے سامنے سجدہ ریزہوگیا کہ خدا کی لا ٹھی حرکت میں آتی ضرور ہے چاہے دیر سے ہی کیوں نا آئے۔ تاریخ انسانی کے اوراق ایسے ظالموں سے بھرے پڑے ہیں جن کا انجام عبرت ناک ہوا ۔

مزید پڑھیں >>

شیطان مسیحا

میں اُس دن گھر پر ہی تھا دروازے پر کسی نے آکر دستک دی تو میں نے جا کر دروازہ کھو لا لیکن دروازہ کھو لنے کے بعد جس صورتحا ل سے مجھے دو چار ہو نا پڑا میں اُس کے لیے بلکل بھی تیا ر نہ تھا ، میں نے جیسے ہی دروازہ کھولا میرے سامنے ایک دیہا تی بو ڑھا کھڑا تھا اُس نے مجھے دیکھتے ہی ہا تھ جو ڑ دئیے اور با ٓواز بلند رونا شرو ع کر دیا کہ مجھے معاف کر دیں

مزید پڑھیں >>

صحافت جو تجارت بن گئی!

ہم اس طرح کی تحریروں کو مزے لے لے کر پڑھتے اس کی طرف دوڑتے ہیں ،حقائق سے نظریں چراتے ہیں ،سچائی کو پڑھنے کی تاب نہیں لاپاتے اور خوش گپیوں کا مطالعہ ہی ہماری طبیعت کو فرحت بخشتا ہے ،یاد رکھئے اگر یہ رجحان بڑھا تو صحافت نہیں جمہوریت بھی متاثر ہوگی اور تکلیف دہ نتائج سامنے آئیں گے ،اس لئے عقل و ہوش سے کام لیجئے جذبات کی رو میں مت بہئیے ۔

مزید پڑھیں >>

اردو میڈیا زندہ باد

اردو اخبارات کے عروج و زوال کی کہانی لمبی ہے اور مختلف ادوار میں اس کے اسباب مختلف رہے ہیں اسی کے تذکرے کے لیے ایک مکمل کتاب درکار ہے اور یہ ایسا مبسوط اور پیچیدہ موضوع ہے کہ شاید ہی کوئی اللہ کا بندہ اس کی جسارت کرے لیکن اگر کبھی جزوی طور پر لکھا گیا تو وہ یقینا چشم کشا ہوگا اور اسی کو پڑھ کر یقینا کچھ دل بھر آئیں گی اور کچھ آنکھیں بھر آئیں گی۔

مزید پڑھیں >>

ہوا کے غبارے

گر ہم تاریخ انسانی کا بغور مشاہدہ کر یں تو یہ اٹل حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان کا ویری اصل میں انسان ہی رہا ہے اِس میں کو ئی شک نہیں کہ مو سمی طو فان بستیاں اُجا ڑگکئے سیلا بی مو جوں نے آبا دیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا زلزلے شہروں کو کھنڈرات میں بدل گئے وبائیں زندگیاں چاٹ گئیں وحشی درندوں نے انسانوں کا قیمہ بنا دیا لیکن انسان نے اپنا تسلط دوسروں پرقائم کر نے کے لیے بے شمار جنگیں لڑیں ہیں

مزید پڑھیں >>

اردو زبان کا مستقبل: امکانات اور اندیشے

اردو میں یہ ایک عجیب صلاحیت ہے کہ یہ دوسری زبانوں کے کلمات کو بآسانی اپنے دامن میں جگہ دیتی ہے اور فی زمانہ ان نوواردوں کی مدد سے خود کو اپڈیٹ کر لیتی ہے البتہ کبھی کبھار اس ضمن میں اسکے ساتھ زیادتی بھی ہوجاتی ہے اور آج کی انگریزی گزیدہ اور ہندی زدہ نوجوان نسل اس شنیع عمل میں پیش پیش ہے۔ وہ اردو کا حال کچھ ایسا ہی کرتی ہے جیسے کوئی اطالوی انگریزی کا کرتا ہے یا کوئی انگریز عربی کا۔

مزید پڑھیں >>