دیگر نثری اصناف

شناخت کا بحران: آنکھوں کی زبان سے کانوں کی زبان تک!

حقیقت یہ ہے کہ ہم نام نہاد اردو والے مغرب اور عرب ممالک میں اپنی نئی نسل کے لیے۔ شناخت کا بحران۔ پیدا کر رہے ہیں۔ وہ اپنی صدیوں پرانی تہذیب، اپنے کلچر اور اپنی روایتوں کے امین بن کر اس وقت تک شناخت کے اس بحران سے نہیں نکل سکتے جب تک وہ اپنی مادری زبان نہیں سیکھ لیتے۔

مزید پڑھیں >>

 نوبل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ کی ناول نگاری: ایک جائزہ

 نجیب محفوظ جدید عربی ادب کے ان اساطین ــثلاثہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے عربی میں نو وارد ادبی اصناف کو بام عروج پر پہونچایا۔ اگر توفیق حکیم نے عربی ڈرامے کو اور محمود تیمور نے عربی افسانے کو بین الاقوامی معیار دیا تو نجیب محفوظ نے عربی ناول کو آفاقیت عطا کی اور اسے عالمی وقار بخشا، اور اس لایٔق بنایا کی وہ دور جدید کی ترقی یافتہ زبانوں کے ناولوں کے مقابلہ میں اپنی قدروقیمت ثابت کر سکے اور اپنے وجود کا احساس کرا سکے۔

مزید پڑھیں >>

کلاسیکی انگریزی شعر و ادب پر یہودی اثر

دیکھنا یہ ہے کہ مغرب کی استعماری قوتوں نے سولھویں صدی میں خاص طور پر بلادِ اسلامیہ پر قبضے کے لیے جو قدم بڑھائے اور انیسویں صدی کے اواخر تک تقریباً سارے عالمِ کو اپنے استبدادی پنجوں میں جکڑ لیا تھا، اس ظلم و ناانصافی پر اس دور کے انگریزی اور یورپی شعرو ادب میں کوئی چیخ بلند ہوئی، کوئی صدائے احتجاج سنی گئی، کسی مزاحمتی رویے کی تحسین ہوئی؟ جواب بڑا مایوس کن ہے۔

مزید پڑھیں >>

خلیق الزماں نصرتؔ کی تنقید نگاری

خلیق الزماں نصرتؔ ایک عمدہ شاعر، ایک اچھے نقاد، بہترین انشاپرداز و افسانہ نگار، بے باک صحافی ہیں ۔ موصوف بمبئی مرکنٹائل بینک بھیونڈی شاخ میں خدمات انجام دے کرسبک دوش ہوچکے ہیں ۔تنقید و تخلیق سے متعلق خلیق الزماں نصرتؔ کی اب تک دو کتابیں منظرعام پرآئی ہیں ۔ ان کا پہلا تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ’’ شعوری رجحانات‘‘ ہے جو1996ء میں شائع ہوا۔

مزید پڑھیں >>

مرزا  اطہر ضیا: آواز اہل دل

اطہر ضیا سے میری ملاقات کبھی نہیں ہوئی لیکن ان کی شاعری جب جب  بھی میری نظر سے گزری، دل میں اترتی چلی گئی،اطہر ضیاایک ایسا  شاعر ہے جس کی شاعری پوری قوت کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، اس کا سفرِذات آپ کو اپنی زندگی کا سفرنامہ محسوس ہوگا، زندگی کے مختلف مراحل میں، زمانے کا اتار چڑھاؤ اس کی شاعری میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے، اس کی شاعری میں مختلف موضوعات ہیں  وہ اتنا تیز رو ہے کہ اسے لامکاں سے آگے نکل جانے کا خوف لاحق ہوجاتا ہے،

مزید پڑھیں >>

اردو کے فوجی کم اور سپہ سالار زیادہ: خدا محفوظ رکھے اس زباں کو

بے شک اردو کا ہر طالب علم اگر خود کو استاد اور سپہ سالار اور بادشاہ سلامت سمجھ رہا ہے تو اس میں وہ کس کا حق مار رہا ہے کہ جبینوں پر شکنیں پیدا ہورہی ہیں ۔ اچھا تو یہ ہے کہ سب پیادوں کو ہمارے اساتذۂ کرام ایسی تربیت دیں کہ وہ فوجی تو ہوں ہی، فوج کی قیادت کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجائے اور جب ان کی مقدر کی تختی پر بادشاہت کا تمغہ آویزاں ہونے کی نوبت آئے تو وہ اسے بھی کامیابی کے ساتھ نبھاسکتے ہوں ۔ اب نئی قیادت کا وقت آیا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

افتخار راغبؔ کی غزل گوئی: ایک تنقیدی مطالعہ

راغب ؔکے شعری مجموعے کے ناموں کے جائزے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’لفظوں میں احساس‘‘ صرف ان کی تخلیقی ہنر مندی کا اظہار نہیں بلکہ ان کے تنقیدی شعور کا بھی اعلانیہ ہے۔  یہ آسان کام نہیں ہے۔ انسانی زندگی کے پورے نظامِ تعلق اس کے حادثات اور تجربات کو احساس کے نئے نئے سانچے میں ڈھال کر اس طرح پیش کرنا کہ وہ عام انسانوں کے احساسات کا حصہ بن جائے ۔یہ بڑی بات ہے۔

مزید پڑھیں >>

روایت اور جدّت کا خوبصورت امتزاج: افتخار راغبؔ

 بالعموم بہت کم شعر ایسے ہوتے ہیں جو پڑھتے ہی قاری کے ذہن پر نقش ہو جائیں اور ضرب المثل بننے کی خصوصیت رکھتے ہوں ۔ اس بھیڑ میں چند شعراء ہی ایسے ہیں جنھوں نے اپنی محنت لگن اور دیانتداری سے وادیِ سخن میں اپنا جداگانہ مقام پیدا کیا ہے۔ انھیں میں ایک افتخار راغبؔ صاحب ہیں جن کے زیادہ تر اشعار تاثر اور تاثیر سے لبریز ہیں

مزید پڑھیں >>

افتخار راغبؔ کی غزل گوئی: ایک تنقیدی مطالعہ

اگر افتخار راغبؔ کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دبستانِ میرؔ کے شاعر ہیں یعنی وہ احساسات کی تازہ کاری سے معنی آفرینی کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ کبھی بہت کامیابی سے یہ کام کرجاتے ہیں اور اس کے لیے وہ تشبیہ، تلمیح اور استعارے کا بھی استعمال کرتے ہیں البتہ کبھی پرانے احساسات کی تکرار تک محدود  رہ جاتے ہیں ۔ ہر شاعری میں بلند و پست کی مثالیں مل جاتی ہیں ۔راغب ؔکے شعری مجموعے کے ناموں کے جائزے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔

مزید پڑھیں >>