دیگر نثری اصناف

دبستان لکھنؤ و دلی کی شعری خصوصیات

شعرائے دہلی کے کلام میں جہاں زبان میں سلاست و روانی کا عنصر نمایاں ہے وہاں اختصار بھی ہے۔ اس دور میں دوسری اصناف کے مقابلے میں غزل سب سے زیاده نمایاں رہی ہے۔ اور غزل کی شاعری اختصار کی متقاضی ہوتی ہے۔ اس میں نظم کی طرح تفصیل نہیں ہوتی بلکہ بات اشاروں کنایوں میں کی جاتی ہے۔ اس لئے ان شعراءکے ہاں اختصار ملتا ہے۔ نیز غزل کا مخصوص ایمائی رنگ بھی موجود ہے۔ یہاں کے شعراءاپنے دلی جذبات و احساسات کو جو ں کا توں بڑی فنکاری سے پردے ہی پردے میں پیش کر  دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

افسانہ ’بھات‘ کا تنقیدی تجزیہ

ویسے میں نے معاشرے میں بھات کے نام پر لوگوں کو مقروض ہوتے دیکھا ہے۔ لیکن جس خوبصورتی سے توصیف بریلوی نے اس افسانے کا تانہ بانہ بنا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ سماج مین جڑ جما چکی اس برائی کو اب ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے اور نو جوان نسل کو اس خفی برائی یا لعنت سے روبرو کرانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ توصیف بریلوی نے اس افسانے کی تخلیق کرکے اس برائی کو ختم کرنے کی جانب  پہلا قدم بڑھایا ہے۔ ان کے اس قدم کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

مزید پڑھیں >>

افسانہ ’ایک ماں‘ کا سماجی اور نفسیاتی مطالعہ

افسانہ نگار کو میں افسانہ ’’ایک ماں ‘‘ کی تخلیق کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ ساتھ ہی توصیف صاحب نے اپنے افسانے میں جمالیاتی پہلوؤں کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ ماں کی اپنے بچے سے والہانہ محبت جمالیات کا ہی حصہ مانا جاتا ہے۔ اُمید کرتا ہوں کہ قارئین کے ذہنوں کے نہاں خانوں میں عرصہء دراز تک اس افسانے کی بازگشت سنائی دیتی رہے گی۔

مزید پڑھیں >>

شعری مجموعے ’ظہورِ غزل‘ کا تنقیدی مطالعہ

ظہور احمد صاحب کا کمال یہ ہے کہ ان کے سامنے زبان کی خدمت اور ذاتی شعری مشق کے لیے روزگار کبھی مسئلہ بن کر رُکاوٹ نہیں بنا۔باری تعلی اور تقدیر پر انھیں مکمل یقین اوربھروسا تھا۔وسائل کی فراوانی انھیں خوب میسر رہی۔آج اُن کی کاوش اُردو دنیا کے سامنے ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ ان کا یہ شعری مجموعہ اُردو غزل کے فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت سے پذیرائی حاصل ضرور کرے گا۔آخر میں میں ظہور احمد ظہورؔ کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں ۔

مزید پڑھیں >>

اردو سب کے لئے؟

یہ بات ہر کسی کو معلوم ہونی چاہیے کہ جہاں ہندوستان کی موجودہ شکل و شباہت اور بالغ نظری کو مستحکم کرنے میں علماء کا کردار بہت اہم رہا ہے وہیں اردو ادب پہ علماء کا یہ احسان رہا کہ انہوں نے زبان کو کبھی پیٹ کا مسئلہ نہیں بنایا وہیں اسکی اس طرح سے پرورش کرتے رہے گویا یہ انھیں کی بیٹی ہے. اس روایت کو آزادی کے بعد علماء نے اس طور سے آگے بڑھایا کہ آج بھی ان کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا. اس ضمن میں مدارس، مکاتیب، ذاتی لایبریریاں، مجلات، مسجدوں کے خطبات، مذہبی جلسے، تقاریر، مشاعرے، نعت خوانی کی روایت ایسی مثالیں ہیں کہ ادب کی نئی چادریں ادب کے  دینی جسم کو ڈھانپنے سے قاصر دکھائی پڑتی ہیں.

مزید پڑھیں >>

انور جلال پوری شاعر ہی نہیں بہترین نثر نگار بھی تھے

ا س کے بعد انور جلال پوری اپنی ذات، اپنے خاندان اور اپنے علاقے کی حدود سے باہر نکلتے ہیں اور مختلف شخصیات پر قلم اٹھاتے ہیں۔ علامہ اقبال او رمولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کے سحر سے کون صاحبِ دل بچا ہوگا۔ انور بھی نہیں بچے۔ اس تعلق سے ان کے خیالات چغلی کھاتے ہیں کہ انھیں مذکورہ دونوں شخصیات سے عقیدت ہے۔ اقبال پر تین مضامین اقبال کی عبقریت، اقبال خود آگاہی کا نقیب اور اقبال انسانی عظمت کا پیغامبر شامل کتاب ہیں۔ جبکہ مولانا آزاد پر ایک مضمون ہے جو ان کے ایک تاریخی خطبے کو محیط ہے۔

مزید پڑھیں >>

اردو اسکول اور اردو زبان: مسائل اور ان کاحل 

ماہرین تعلیم سے پوشیدہ نہیں کہ اسکولیں کسی بھی زبان کو پروان چڑھانے میں کلیدی کرداراد ا کرتی ہیں۔ آج اردو اسکولوں اور ان میں اردو زبان کی حالت سے اہل زبان بخوبی واقف ہیں۔ سالہا سال سے اپنے وجود کو سنبھالے اردو اسکولوں کی بنیادیں آج ڈھیلی پڑھنے لگی ہیں اور اس کی وجہ سماج کے وہ غیر ذمہ دار، انا پرست اور قوم و ملت، زبان و ادب، تہذیب و ثقافت سے بہ بہرہ عناصر ہیں جو ان اسکولوں کی ٹرسٹ بورڈ میں اونچے اور اعلا عہدوں پر براجمان ہیں۔ ان لوگوں نے دیمک کی طرح نہ صرف ان اردو اسکولوں کو بلکہ اردو زبان کو بھی کھوکلا کر دیا ہے۔ ان ہی لوگوں کی وجہ سے اردو اسکولوں کا نظام اور تعلیمی معیار زوال پذیر ہورہاہے اور اس کا راست اثر اردو زبان پر بھی مرتب ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

زندگی

پل پل گھڑی گھڑی دن ہفتوں میں ہفتے بناۓ ماہ ماہ اول، ماہ دوم، ماہ سوم--- ماہ دسمبر  پھرماہ جنوری یہ ماہ بنا ڈالے سال

مزید پڑھیں >>

عنوان چشتی کا رنگِ تغزل

عنوان چشتی کی غزل کے رنگوں  میں  یادوں  کی اہمیت زیادہ ہے۔ یادیں  ماضی کی لطیف حقیقتیں  بھی ہوسکتی ہیں  اور تلخ تجربات بھی۔ عنوان چشتی کی یادوں  کا سیدھا تعلق حسن اور عشق کی مختلف کیفیتوں  سے ہے۔ یہ کیفیتیں  چوں  کہ شاعر کے تجربہ و احساس سے متعلق ہیں  اس لیے اشعار میں  داخلیت کا احساس ہوتا ہے لیکن ابہام کی وہ کیفیت پیدا نہیں  ہونے پاتی جو کہ جدیدیت کے شعرا کی غزلوں  کا خاصہ کہلاتی ہے

مزید پڑھیں >>