دیگر نثری اصناف

طُرفۂِ معجونی

ہماری نگاہ میں تو حسن البنا ؒ اور مودودیؒ سے بڑھ کر کوئی عاشقِ رسول ؐ نہیں ہے۔ پچھلی زوال زدہ کئی صدیوں کا اس امت پر قرض تھا جودین ِ نبی ؐکا سچا کھراتصور اجاگر کر کے  انہوں نے چکایا۔ سارے عالِم اور سارے عاشق مل کر بھی کریں تو ان کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتے۔ شعر و ادب اور فکر و فلسفہ کے آمیزے سے الجھی ہوئی بے ترتیب باتوں اور عبارتوں کا طُرفۂ ِ معجونی تیار کرنے والوں کو اس زاویے سے غور کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

آشوبِ دانش

مشاہدے کی بات ہے کہ بازار میں جن اشیاء کو عام طور پر لوگ نظر اٹھا کر دیکھنا گوارا نہیں کرتے میلوں ٹھیلوں میں وہ ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں ۔ میلے میں ’کوالٹی ‘ کے بجائے ’کوانٹٹی ‘ چلتی ہے۔ میلہ سستی اور زیادہ کی جگہ ہے۔ دام کم، کام زیادہ۔ اب توعلم و فکر اورادب و دانش کے ٹھیلے بھی میلے ہی میں لگے نظر آتے ہیں ۔ یونیورسٹیاں صرف تعلیم و تدریس کی نہیں بلکہ تحقیقِ مسلسل، نظریات و افکارکی ان تھک چھان بین، جِلائے فکر اور فروغِ علم کی کاوشوں کا مرکز ہوتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

طلعت پروین کی آزاد نظمیں

طلعت پروین بہار کی یا اردو دنیا کی چند قلمکاروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے آزاد نظم کی شروعات کی۔ طلعت ایک فطری شاعرہ ہیں یا یہ کہیں کی فطری ادیبا۔ اور ساتھ ساتھ ایک ہمدرد خاتون ہونے کی وجہ کر اِن کی نظمیں مظلوم اور بے کس کی آواز ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اکبر الہ آبادی طنز و مزاح کی چلمن سے

 حالی، اکبراوراقبال اردوکے وہ شعراء ہیں ،جنھوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ قوم وملت کی اصلاح کی اوران کوآئینہ دکھایا۔ذہنی استعداد،بصیرت اورتخلیقیت کی بناپر ان کی شاعری کانقطۂ نظراوررنگ آہنگ الگ الگ ہے؛لیکن اس میں شک نہیں کہ تینوں نے ملک کے سماجی اورمعاشرتی مسائل کواپناموضع بنایااور فن کے تقاضوں کااحترام کرتے ہوئے تینوں کامطحِ نظر اصلاح اورفلاح تھا۔

مزید پڑھیں >>

رثائی صنف ادب ’نوحہ‘ کا تاریخی و تنقیدی تجزیہ

 رثائی ادب کی سب سے قدیم اور حساس ترین صنف سخن نوحہ پر گفتگو کرنے کا مقصد اپنے اعتقاد کے اظہار سے زیادہ اپنے ادبی یقین کی آسودگی ہے۔رثائی ادب میں مرثیہ اور سلام کی طرح نوحہ بھی ایک مستقل صنف سخن کی حیثیت رکھتا ہے۔ علمائے ادب نے مرثیہ اورسلام کی ادبی افادیت کے پیش نظر اس کے کچھ اصول و ضوابط وضع کئے ہیں اوربیشترشعرا نے ان اصناف سخن میں خوب خوب طبع آزمائی بھی کی اور انیسؔ و دبیرؔ جیسے عظیم شاعروں نے بھی اس صنف سخن سے اعراض نہیں فرمایا۔

مزید پڑھیں >>

کتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو

اس پر اہل ایوان نے خوب لطف لیا۔ بی جے پی میں سشما سوراج ایسی لیڈر ہیں جن کو اچھے اشعار یاد ہیں ۔ جب من موہن سنگھ بیٹھ گئے تو سشما کھڑی ہوئیں اور انھوں نے شگفتہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم نے شعر سے ہمارے اوپر حملہ کیا ہے۔ ہم بھی اس کا جواب دینا جانتے ہیں ، ہم شعر ادھار نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں >>

نعت گوئی اور مدحت رسول

حاضرین مدح رسول صلی اللہ علیہ میں جو نعت گوئی شکل میں دور رسالت سے چلی آرہی ہے، ہم نے صرف اس کے چند اردونمونے ہم نے اپنے اردو بھائیوں کے گوش گذار کی ہیں، ورنہ ان شعراء کی طویل فہرست جنہوں نے حب نبوی اور عشق رسول کا  زمزمہ گایا اور   اور اپنی عقیدت ومحبت اور وارفتگی اور حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بیش بہا اور انمول تحفہ نعت گوئی کی شکل میں امت کے سامنے پیش کیا جو امت کے بچے بچے کے زبان زد ہیں، وہ ان اشعار کے گنگاتے ہیں اور اپنی خوش آزوای اور اپنے ممتاز ومنفرد ترنم اس کا ایسے زیر وبم پیش کرتے ہیں، حاضرین عشق رسول اور محبت رسول کے دریا میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>