دیگر نثری اصناف

آوارہ ادب!

آوارہ ادب عام طور پر غلاموں کا ادب ہوتا ہے … خواہ وہ ظلم و جارحیت کے غلام ہوں یا خواہشات نفس کے … جب انسان روئے زمین کے کسی ظالم و سرکش حکمراں یا نفس کی کسی خواہش کا غلام بن جاتا ہے تو وہ آزادی کی کھلی فضا میں پرواز نہیں کرسکتا۔ یہی نہیں بلکہ وہ زمین کی پستیوں میں جاپہنچتا ہے اور شہوت یا غلامی کے گڑھے میں جاگرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

احسان دانش: شاعر فطرت!

احسان دانش کی شاعری ہمارے سماج کی شاعری ہے ،ہمارے دکھ درد کا بیان ہے ،ہماری زندگی کا آئینہ ہے ،وہ ہمارے احساسات و جذبات کو لفظوں کے حسیں سانچہ میں ڈھالتے ہیں ،انہیں ہماری روایتیں عزیز ہیں ،مشرقی روایتوں کے وہ دلداہ ہیں ،وہ ترقی پسند نہیں ہیں لیکن سچے ترقی پسند کو سماج کے لئے بہتر خیال کرتے ہیں ،احسان دانش کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے بیسوی صدی کی شعراء کے درمیان اپنے فن کی وجہ سے اپنا مقام اور اپنی حیثیت ثابت کی ہے

مزید پڑھیں >>

ڈاکٹر فرقان کے افسانوں میں ہندوستانی عناصر !

ڈاکٹر فرقان اپنے اسلوب ’ موضوع مواد ‘ کردار اور پلاٹ کے اعتبار سے اپنے افسانوں کا بنیادی پہلو معاشرے کی ہی جہات سے لیتے ہیں ۔وہ عصری تقاضوں اور مسائل کو جو صرف ہندوستان میں ہی درد سر بنے ہوئے ہیں اپنی تحریر میں ضبط قلم کرتے ہیں ۔ان کے افسانوں کے مطالعے سے یقینی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹر فرقان اپنے عہد کی بھر پور نمائندگی کر رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

دیارِ ادب (تحقیقی وتنقیدی مضامین)

’’دیارِ ادب‘‘دراصل ڈاکٹرعزیز سہیل کے تحقیقی وتنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جس کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصہ اوّل میں شخصیات اور مضامین شامل ہیں اورحصہ دوم میں اردوزبان وادب اور تہذیب سے متعلق مضامین کو شامل کیاگیا ہے۔ حصّہ اوّل میں پندرہ مضامین شامل ہیں

مزید پڑھیں >>

جہان دانش: تخلیقی بلندیوں کی حامل!

جہان دانش کا مطالعہ ان کی شخصیت سے وابستہ خوبیوں سے پردہ اٹھاتا ہے ،ان کی ہمت اور عزم و استقلال کی کہانی بیان کرتا ہے ،ساتھ ہی کتاب کا اسلوب اور طرز نگارش واقعات کی ترتیب، مکالموں کا انداز ان کے حافظہ اور قلم کی پختگی کے دلائل پیش کرتا ہے ،جس انداز سے انہوں نے اپنے بچپن کے واقعات کو پیش کیا ہے ،گھر کا حال ٹوٹی چھت، ٹپکتا پانی ،کتابوں کے برتن فروخت کرنا ،علاج کے لئے ماں کا ان کی آنکھ میں اپنا خون ڈالنا ،پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی مزدوری کرنا، سرمایہ داروں کے ظلم و ستم جھیلنا ،چیچک حالت میں ناگ پھنی کاٹنا ،بارش میں چونا اندر پھینکنا، ترک وطن کرنا اور اس کے علاوہ زندگی کی سختیاں بیان کرنا ،

مزید پڑھیں >>

ما بعدِ جدیدیت!

مابعدِجدیدیت کے مطابق تنقید اور پرکھ کے پیمانے وضع کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی اس سلسلے کی تحقیق کو جھٹلانے اور نیچا دکھانے میں مصروفِ عمل ہیں ۔ یہ اتنا بڑا ہوا نہیں جتنا اس کو چند جید افراد نے بنا ڈالا ہے ضرورت اس بات کی ہے اس کی پرتوں کو کھول کر عرق کشید کیا جائے۔ مابعدِجدیدیت دراصل جدیدیت کے رحجانات کے خلاف ردِعمل کا اظہار ہے۔ یہ بنیادی طور پر ثقافت کی تشریحات، فنونِ لطیفہ یعنی ادب، مصوری ، موسیقی، فکشن، آرٹ فنِ تعمیر اور فلسفہ ، تاریخ معاشیات اور ادب میں نقل و حرکت کی پیمائش اور معیار ناپنے کی کلید ہے اور عموماً تاریخی عناصر اور تراکیب کی تشکیلِ نو کی نشاندہی کرتی ہے۔تاریخ ، پسِ منظر اور بیرونِ منظر ماحولیاتی تاثر اور زمانہ مابعدِجدیدیت کا ڈھانچہ تخلیق کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

عتیق انظر کی نظم،دوسرے جسم کی خواہش: ایک تجزیاتی مطالعہ!

عتیق انظر دوحہ کے ممتاز سینئر شاعر، ادیب اور نقاد ہیں ، پچھلے دنوں ، اللہ نے انھیں ایک نادر مرض میں مبتلا کر دیا، پورا جسم سر سے پاؤں تک چھالوں کی زد میں آگیا، چھالوں کی ایک کھیپ ختم نہیں ہوتی کہ دوسری اور تیسری وجود میں آ جاتی ہے جسم میں کوئی جگہ ایسی باقی نہیں رہ جاتی جہاں زخموں کے پھول نہ کھلے ہوں ۔

مزید پڑھیں >>

سابر متی کے دیس میں: ایک دن

یہاں آدمی ہی آدمی نظر آتے ہیں مگر کسی کو کسی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔بھری پوری سڑک پر کوئی گر جائے،اٹھانے ،سنبھالنے اور سہارا دینے والا کوئی نہیں مگر پھربھی نہ جانے ایساکیا ہے اس دہلی میں کہ لوگ اس کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں ۔یہی رازجاننے کے لیے نہ جانے یہاں کتنے لوگ آئے اور اسی کے پیٹ میں سما گئے۔

مزید پڑھیں >>

جاں بلب معاشرہ کے لیے اشفاق احمد کا ’گڈریائی‘جام!

اشفا ق احمد نے اس کہانی میں جزئیات نگاری کے سہارے متعدد واقعات کو فنکارانہ انداز سے جوڑنے کی کوشش ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے پلاٹ میں کہیں بھی جھول کا احساس نہیں ہوتا ہے اور ارتکاز کے ساتھ کہانی آگے بڑھتی رہتی ہے ۔ اس کہانی میں انھوں نے جہاں اصلاحی پہلوؤں کو ٹچ کیا ہے ، وہیں شعوری طور پر تقسیم وطن کا درد بھی شامل ہوگیا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

اظہار ؔوارثی: اردو ادب کا ایک کا نایاب ہیرا

اظہارؔ وارثی ضلع بہرائچ کی اس عظیم ہستی کا نام ہے جنکا سلسلہ مشہور صوفی بزرگ حضرت حاجی وارث علی شاہ کے خاندان سے ملتا ہیں ۔اظہار وارثی کی پیدائش صوبہ اودھ کے تاریخی شہر بہرائچ میں 21 نومبر، 1940ء کو حکیم اظہر وارثی کے یہاں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام حکیم اظہر وارثی اور والدہ کا نام کنیز سکینہ تھا۔ اظہار صاحب کے دادا حکیم صفدر وارثی اور والد حکیم اظہر وارثی شہر کے مشہور معالجین میں شمار ہوتے تھے۔

مزید پڑھیں >>