دیگر نثری اصناف

انگریزی شعر و ادب پر یہودی اثرات (دوسری قسط)

 گیارھویں سے دسویں صدی قبل مسیح تک طالوت، حضرت داودؑ اور حضرت سلیمان ؑکے عہد میں یہودیوں کوجوسربلندی اور طاقت نصیب ہوئی تھی وہ برقرار نہ رہ سکی تھی۔ ہر عروجے را زوال کے کُلیّے کی تہ میں جھانکا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ زوال کا گَرہن پہلے قوموں کے معتقدات و اخلاقیات کو لپیٹ میں لیتا ہے اور پھر اثر و اقتدار اور شوکت و عظمت کے سورج کی ضیا پاشیوں کو ظلمتیں گھیر لیتی ہیں ۔معلوم تاریخ ِ انبیاء میں حضرت یوسف علیہ السّلام کو ہم مصر کے اقتدار تک پہنچا ہوا دیکھتے ہیں۔انہی کے اقتدار کے عرصے میں آلِ یعقوب کنعان سے اٹھ کر مصر میں جا آباد ہوئے تھے۔آنجناب کے کچھ عرصہ بعدبنی اسرائیل کو مصر کے فرعونوں نے اپنا محکوم بنا لیا اور ان پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیے۔

مزید پڑھیں >>

‘لنگی’ افسانہ یا حقیقت بیانی!

محسن خان یونیورسیٹوں کے پروفیسرس اور اردو کے ادبی حلقوں میں ایک لفظ جوباربارسننے میں آرہا ہے وہ ہے لنگی۔ لنگی ایک فائدہ مند چیز ہے اورہرکوئی اسے پہنتا ہے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے لوگ لنگی پہننے سے ڈررہے …

مزید پڑھیں >>

احمد علی برقیؔ اعظمی کی غزلیہ شاعری: ایک جائزہ

 برقیؔ صاحب کے یہاں اچھے اشعار کی کمی نہیں ہے۔ ان سے موصوف کی شاعری کا حسن مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر وہ اپنے کلام کے حق میں جذباتیت سے کام نہ لیتے تو اس حسن و قیمت میں اور بھی اضافہ ہوتا۔ بایں ہمہ برقیؔ ؔ صاحب کی شاعری ایک حساس صاحب دل اور ماہر فن کی شاعری ہے۔ اُردو شاعری میں  برقیؔ صاحب نے اب تک جو مقام حاصل کیا ہے مستقبل میں اس میں ترقی یقینی ہے۔

مزید پڑھیں >>

شناخت کا بحران: آنکھوں کی زبان سے کانوں کی زبان تک!

حقیقت یہ ہے کہ ہم نام نہاد اردو والے مغرب اور عرب ممالک میں اپنی نئی نسل کے لیے۔ شناخت کا بحران۔ پیدا کر رہے ہیں۔ وہ اپنی صدیوں پرانی تہذیب، اپنے کلچر اور اپنی روایتوں کے امین بن کر اس وقت تک شناخت کے اس بحران سے نہیں نکل سکتے جب تک وہ اپنی مادری زبان نہیں سیکھ لیتے۔

مزید پڑھیں >>

 نوبل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ کی ناول نگاری: ایک جائزہ

 نجیب محفوظ جدید عربی ادب کے ان اساطین ــثلاثہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے عربی میں نو وارد ادبی اصناف کو بام عروج پر پہونچایا۔ اگر توفیق حکیم نے عربی ڈرامے کو اور محمود تیمور نے عربی افسانے کو بین الاقوامی معیار دیا تو نجیب محفوظ نے عربی ناول کو آفاقیت عطا کی اور اسے عالمی وقار بخشا، اور اس لایٔق بنایا کی وہ دور جدید کی ترقی یافتہ زبانوں کے ناولوں کے مقابلہ میں اپنی قدروقیمت ثابت کر سکے اور اپنے وجود کا احساس کرا سکے۔

مزید پڑھیں >>

کلاسیکی انگریزی شعر و ادب پر یہودی اثر

دیکھنا یہ ہے کہ مغرب کی استعماری قوتوں نے سولھویں صدی میں خاص طور پر بلادِ اسلامیہ پر قبضے کے لیے جو قدم بڑھائے اور انیسویں صدی کے اواخر تک تقریباً سارے عالمِ کو اپنے استبدادی پنجوں میں جکڑ لیا تھا، اس ظلم و ناانصافی پر اس دور کے انگریزی اور یورپی شعرو ادب میں کوئی چیخ بلند ہوئی، کوئی صدائے احتجاج سنی گئی، کسی مزاحمتی رویے کی تحسین ہوئی؟ جواب بڑا مایوس کن ہے۔

مزید پڑھیں >>

خلیق الزماں نصرتؔ کی تنقید نگاری

خلیق الزماں نصرتؔ ایک عمدہ شاعر، ایک اچھے نقاد، بہترین انشاپرداز و افسانہ نگار، بے باک صحافی ہیں ۔ موصوف بمبئی مرکنٹائل بینک بھیونڈی شاخ میں خدمات انجام دے کرسبک دوش ہوچکے ہیں ۔تنقید و تخلیق سے متعلق خلیق الزماں نصرتؔ کی اب تک دو کتابیں منظرعام پرآئی ہیں ۔ ان کا پہلا تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ’’ شعوری رجحانات‘‘ ہے جو1996ء میں شائع ہوا۔

مزید پڑھیں >>

مرزا  اطہر ضیا: آواز اہل دل

اطہر ضیا سے میری ملاقات کبھی نہیں ہوئی لیکن ان کی شاعری جب جب  بھی میری نظر سے گزری، دل میں اترتی چلی گئی،اطہر ضیاایک ایسا  شاعر ہے جس کی شاعری پوری قوت کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، اس کا سفرِذات آپ کو اپنی زندگی کا سفرنامہ محسوس ہوگا، زندگی کے مختلف مراحل میں، زمانے کا اتار چڑھاؤ اس کی شاعری میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے، اس کی شاعری میں مختلف موضوعات ہیں  وہ اتنا تیز رو ہے کہ اسے لامکاں سے آگے نکل جانے کا خوف لاحق ہوجاتا ہے،

مزید پڑھیں >>

اردو کے فوجی کم اور سپہ سالار زیادہ: خدا محفوظ رکھے اس زباں کو

بے شک اردو کا ہر طالب علم اگر خود کو استاد اور سپہ سالار اور بادشاہ سلامت سمجھ رہا ہے تو اس میں وہ کس کا حق مار رہا ہے کہ جبینوں پر شکنیں پیدا ہورہی ہیں ۔ اچھا تو یہ ہے کہ سب پیادوں کو ہمارے اساتذۂ کرام ایسی تربیت دیں کہ وہ فوجی تو ہوں ہی، فوج کی قیادت کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجائے اور جب ان کی مقدر کی تختی پر بادشاہت کا تمغہ آویزاں ہونے کی نوبت آئے تو وہ اسے بھی کامیابی کے ساتھ نبھاسکتے ہوں ۔ اب نئی قیادت کا وقت آیا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

افتخار راغبؔ کی غزل گوئی: ایک تنقیدی مطالعہ

راغب ؔکے شعری مجموعے کے ناموں کے جائزے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’لفظوں میں احساس‘‘ صرف ان کی تخلیقی ہنر مندی کا اظہار نہیں بلکہ ان کے تنقیدی شعور کا بھی اعلانیہ ہے۔  یہ آسان کام نہیں ہے۔ انسانی زندگی کے پورے نظامِ تعلق اس کے حادثات اور تجربات کو احساس کے نئے نئے سانچے میں ڈھال کر اس طرح پیش کرنا کہ وہ عام انسانوں کے احساسات کا حصہ بن جائے ۔یہ بڑی بات ہے۔

مزید پڑھیں >>