دیگر نثری اصناف

فیض احمد فیض: ترقی پسند شاعر

اس کارواں میں فیض احمد فیض بھی شامل تھے ،انہوں نے اپنی شاعری میں سماج کی گندگی معاشرہ کا کرب اور مفلسوں کا درد پیش کیا ہے ،کائنات میں جہاں بھی ظلم و ستم کے واقعات پیش آئے انہوں نے اسے اپنی شاعری کا مضوع بنایا اور غم و اندوہ میں ڈوب گئے ،فلسطینی بچے کی لوری ،اس دعوی کی دلیل ہے ،جس میں انہوں نے فلسطین کی زار کو نرالے انداز اور اچھوتے پیرائے میں بیان کیا ہے ،اور ایک بچے کی لوری میں وہاں کے حالات کئے ہیں ،اس لوری میں وہ ایک بچے کی ڈھارس بندھا رہے ہیں

مزید پڑھیں >>

عشق مجازی سے حقیقی تک!

عشق ایک فطری جذبہ ہے جس کا منبع انسانی دل ہے بس اس کی توجہ خلق سے ہٹاکر خالق کی طرف کرنے کی ضرورت ہے جسے صوفیاء کی زبان میں صرف ہمت کہتے ہیں جس کے لیے کسی معتمد شیخ ومربی سے دست گرفتگی ضروری ہے، اس کے بغیر "احسان" اور حلاوة ایمان" کا حصول ناممکن نہیں تو کم از کم مشکل ترین ضرور ہے.

مزید پڑھیں >>

ایک اور ستیہ گرہ

وہ گھر سے نکل کر سیدھے گاندھی چوک جا پہنچی اور گاندھی کے پیروں پر اپنا سر ٹیک کر باپو کو پکار اٹھی ’’باپو! کیا تونے اسی لیے لوگوں کو ستیہ اور اہنسا کا سبق سکھایاتھا؟ کیا تونے اسی دن کے لیے اپنے دیش کو آزاد کرایا تھا؟ اٹھ اور دیکھ اپنی آنکھوں سے اپنے ان دیش واسیو ں اور بھگتوں کو، وہ کیا کر رہے ہیں ؟ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ ہر طرف ظلم ہی ظلم ہے چاروں طرف زنا، ہنسا، لوٹ مار ،جھوٹ اور نہ جانے کن کن جرائم کا دورہ دورہ ہے اٹھ باپو اٹھ! جا ان دیش واسیوں کے درمیان، پھر سے اپنا سبق دوہرا اور ……

مزید پڑھیں >>

شیرازئہ خیال

اے کاش کہ کوئی ایسا واقعہ رو نما ہوجائے ۔۔ کوئی ایسا حادثہ پیش آ جائے۔۔۔ مجھے کرامات و اسرار سے بھر پور کوئی عبرت انگیز دلیل مل جائے کہ جو میرے سینے میں کالک بھرے ٹکڑے کو۔۔۔ جسے دنیا ’’دل‘‘ کہتی ہے۔۔۔۔ ایسے دھو کر چمکا دے کہ جیسے سورج کی سنہری کرنوں میں شفافیت کی کیفیات نظر آتی ہیں ۔ میں آئینے کی طرح خود کو بنا لوں کہ جس میں کسی دھوکے یا سراب کا شائبہ تک موجود نہ ہو۔

مزید پڑھیں >>

یہ آخری کارواں نہیں ہے

ایک وقت اے گا جب ہماری نسل سے بیشتر نام نہیں ہونگے .کیونکہ موت ایک حقیقت ہے .لیکن لکھنے والوں کا کارواں موجود ہوگا .فیس بک ایک بڑی حقیقت ہے . فیس بک پر اچھے رسائل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے .سبین علی اور نقاط کے مدیر نے اچھی روایت شروع کی ہے .اس سلسلے میں اہم نام ابرار مجیب کا بھی ہے .ابرار کو بھی سخت رویہ اپنانا ہوگا .تنازعات کا سلسلہ چلتا رہیگا ..لیکن اب ان نیے ناموں پر سنجیدگی سے گفتگو کرنے کا وقت آ چکا ہے ..

مزید پڑھیں >>

رنج خادم کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ!

اردو کے نام پر بہت سارے کاروبار ہیں ۔ کچھ چل رہے ہیں اور کچھ چلانے کے لیے تیار ہو رہے ہیں ۔ جمہوری نظام اور صارفی عہدمیں تنخواہ دار ملازمین ہی سب کچھ کریں گے۔ اسی لیے صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کو بھی تنخواہیں میسّر ہیں اور اسکول کے استاد یا ایک اخبار کے کارکْن صحافی کو بھی حسب ِ ضابطہ تنخواہیں ملتی ہیں ۔ سب کے فرائض طے ہیں اور انھیں کام کرنے ہوتے ہیں ۔آج کے زمانے میں ’ خدمت‘ کا لفظ کتابوں یا تقریروں میں ہی اچھا معلوم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

شاعری: ایک بلندپایہ صنف سخن

مختصر انداز میں اردو زبان و ادب کی شاعری کا ایک سرسری جائزہ لیاجائے تو غالب کی پیچیدہ خیالی ،میر کا حزن وملال ،جگر کی سرشاری ،ناسخ کی استادی ،داغ کی سادہ بیانی ،فانی کی قنوطیت وگریہ وزاری یہ سب مل کر غزل کا پیکر جمیل اختیار کرلیتے ہیں تو شاعری وجود میں آتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

یومِ احتساب: بہار اردو اکادمی کی مثبت پیش رفت!

اردو کے ادارے ہر سال شعرا و ادبا حضرات کو ان کی خدمات کے لیے انعامات سے نوازتے ہیں ۔ اردو کے سچے خادم مدارس، اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کے وہ اساتذہ ہیں جو طلبہ و طالبات کے اندر ادبی ذوق کو پروان چڑھاتے ہیں ۔ اردو اداروں کو چاہیے کہ وہ ہر سال ریاستی سطح پر اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے قابل اساتذہ کو بھی اعزاز سے نوازے۔ اس کے لیے کیا طریقہ کار ہوگا یہ باہمی مشورے سے طے کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

احمد جاوید: ہمیں سو گئے داستاں  کہتے کہتے 

اردو افسانے کی ایک بڑی آواز خاموش ہو گیی .احمد جاوید چلےگئے --.فکشن کی ایک مضبوط کڑی ٹوٹ گیی .انیس سو ستر کے عشرے میں جدیدیت کے خیمے سے جو معتبر آوازیں گونجیں ،ان میں ایک بہت اہم نام احمد جاوید کا تھا .آھستہ آھستہ اپنے دلچسپ اسلوب ،فکری روش ،ایک عجیب سا تیکھا پن ،سدھے ہوئے خوبصورت جملوں اور اسکے ساتھ انکے مخصوص بیانیہ نے میرے جیسے قاری کا دل جیت لیا .

مزید پڑھیں >>