ادب

ایک سیمینار، جس نے عورتوں کی مکمل آزادی پر مہر لگایی 

وومن امپاور منٹ کے اس عھد میں اس سیمینار کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ عورت جبر اور آنسووں سے آزاد نظر آیی .یہ نیے تیور کی عورت ہے، جو ادب میں بھی پوری دیانتداری اور مضبوطی کے ساتھ وقت سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار کھڑی ہے. نیی منزلوں کے حصول کے لئے اب اس نے مردوں کو نشانہ بنانا بھی بند کر دیا ہے .وہ اسی طرح اس مکمل کائنات کو دیکھ رہی ہے، جیسے کویی مرد دیکھتا ہے .اسے اپنی خود احتسابی کی کیفیت بھی پسند ہے اور آزادی کا وہ ماحول بھی جہاں کھلے دل سے وہ اپنی بات کر سکے-

مزید پڑھیں >>

اردو شاعری اور شہیدِ کربلا

عربی اور فارسی ادب میں واقعۂ کربلا اور قربانیِ شبیرؑ کے موضوع پر قدیم زمانے سے شعر و ادب میں واضح طور پر فلسفۂ حق و باطل کو بیان کیا گیا ہے۔ اپنوں بیگانوں سبھی نے نواسۂ رسولؐ کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ دانش وروں اور شاعروں نے اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔ اردو شعر و نثر میں کربلا کو حق و باطل کا ایک اہم استعارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہمیشہ کے لیے حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد ہے۔

مزید پڑھیں >>

مرزا  اطہر ضیا: آواز اہل دل

اطہر ضیا سے میری ملاقات کبھی نہیں ہوئی لیکن ان کی شاعری جب جب  بھی میری نظر سے گزری، دل میں اترتی چلی گئی،اطہر ضیاایک ایسا  شاعر ہے جس کی شاعری پوری قوت کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، اس کا سفرِذات آپ کو اپنی زندگی کا سفرنامہ محسوس ہوگا، زندگی کے مختلف مراحل میں، زمانے کا اتار چڑھاؤ اس کی شاعری میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے، اس کی شاعری میں مختلف موضوعات ہیں  وہ اتنا تیز رو ہے کہ اسے لامکاں سے آگے نکل جانے کا خوف لاحق ہوجاتا ہے،

مزید پڑھیں >>

دل میں اٹھتے سوال

 ’’یہ سن کے ہم کو دکھ ہوا بہت دکھ ہم اسکے اجت (عزت) کے کھاتر (خاطر)تاڑی کا دوکان کھول دیا اور سالی کو تاڑی بیچنے کو بیٹھا دیا۔ تب سے سالی رکمنی تاڑی بیچنے لگی اور آج سالی کہتی ہے جا تو ہمر (میرا)کون لگے ہے۔ ہاں! ہم اس کا کون ؟ کچھ تو نہیں میاں بھائی کچھ بھی نہیں۔ اس کے کھاتر ہم اب تک ایک دن بھی اپن کھولی میں نہیں سویا۔ جاڑا گرمی برسات سب رات ہم پھوٹ پاتھ پر سوتے گجارا اور سالی وہ دن رات ہر بکھت ہمارکھولی میں رہے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود اور ریاستی اردواکیڈیمی کی جانب سے ’مرقع حیدرآباد‘ کارسم اجراء

پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری اردواکیڈیمی نے کہاکہ مرقع حیدرآباد کتاب اکیڈیمی کی جانب سے شائع ہونے پرانہیں بیحد خوشی ہورہی ہے۔ اس موقع پرانہوں نے اردو کی ترقی کے لئے کئے جارہے ترقیاتی کاموں کا ذکر کیا اوراکیڈیمی کی کارکردگی کی تفصیلات بتائیں ۔عمرجلیل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ نے علامہ اعجاز فرخ سے خواہش کی کہ اس کتاب کودیگرتلگواورانگریزی زبانوں میں بھی ترجمہ کرکے شائع کیا جائے تاکہ دنیابھر کے لوگ دکن کی تاریخ سے واقف ہوسکیں ۔

مزید پڑھیں >>

ایک شام، ڈاکٹرمحمد ریاض اور ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کے نام!

معروف شاعر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی سے منسوب دوسری محفل کے آغاز میں کے ایم سی شعبہ اردو سے وابستہ ڈاکٹر امتیاز وحید نے ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے، ان کی شاعری، فکرو فن بالخصوص ان کی موضوعاتی غزل گوئی پرخصوصی گفتگو کی جس سے ان کی شاعری، فکر، فن، ملاحظات اور تجربات کا مکمل احاطہ کیا۔

مزید پڑھیں >>

اردو کے فوجی کم اور سپہ سالار زیادہ: خدا محفوظ رکھے اس زباں کو

بے شک اردو کا ہر طالب علم اگر خود کو استاد اور سپہ سالار اور بادشاہ سلامت سمجھ رہا ہے تو اس میں وہ کس کا حق مار رہا ہے کہ جبینوں پر شکنیں پیدا ہورہی ہیں ۔ اچھا تو یہ ہے کہ سب پیادوں کو ہمارے اساتذۂ کرام ایسی تربیت دیں کہ وہ فوجی تو ہوں ہی، فوج کی قیادت کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجائے اور جب ان کی مقدر کی تختی پر بادشاہت کا تمغہ آویزاں ہونے کی نوبت آئے تو وہ اسے بھی کامیابی کے ساتھ نبھاسکتے ہوں ۔ اب نئی قیادت کا وقت آیا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>