ادب

نزار قبانی: جدتِ افکار اور جرأتِ اظہار کا استعارہ!

نزار کو جب لوگ’’شاعر المرأۃ‘‘ (شاعرِ نسواں )کہتے تھے، تو وہ مست ہوجاتے تھے اور اب بھی عام طورپر جب لوگوں کی زبان پر نزار کانام آتاہے یا کوئی ان کی شاعری پڑھتا یا سنتا ہے، تو بے ساختہ اس کا ذہن ان کے اس لقب کی طرف چلاجاتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نزار اپنی قومی نظموں، ملی ترانوں، واضح تنقیدی تصورات اور اپنے مختلف مقالات میں ایک ایسے دانشور نظر آتے ہیں، جو نہ صرف عورتوں سے محبت کرتا ہے؛بلکہ وہ اپنے وطن کی مٹی اور اس کی آب و ہوا سے بھی قلبی انس رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ڈپارٹمنٹ آف لینگویجیز اینڈ کلچرکی جانب سے خواتین کا سہ لسانی مشاعرہ کا اہتمام

ڈپارٹمنٹ آف لینگویجیز اینڈ کلچرکی جانب سے خواتین کا سہ لسانی مشاہرہ کا اہتمام کیاگیا۔ جس میں محفل خواتین سے وابستہ اوردیگر زبانو ںکی معروف شاعرات نے اپنا کلام پیش کیا۔ پروگرام کے پہلے سیشن سے معروف افسانہ نگار محترمہ قمرجمالی نے خطاب کرتے ہوئے عصرحاضراوردکن کی نسائی شاعری کے تعلق سے تفصیلی روشنی ڈالی۔

مزید پڑھیں >>