ادب

مشاہیر: خطوط کے حوالے سے

  یہ بات سو فی صد سچ ہے کہ’’ خط آدھی ملاقات ہوتی ہے۔ ‘‘کیوں کہ بہ ذریعہ خط انسان اپنی بات اور دلی جذبات مکتوب الیہ تک با آسانی پہنچا دیتا ہے۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کی خیر و عافیت سے واقف ہو جاتے ہیں۔ مکتوب نگار کھبی کبھی اپنے مکتوب میں اُن حالات و واقعات کو بھی قلم بند کر دیتا ہے جو اُس کی نجی زندگی میں رو نماہوتے ہیں۔ خط میں طنز و مزاح، کے علاوہ ہجر و وصال کی باتیں، مسرّت و تعزیت کا اظہار، کاروبار کا احوال، اور اخلاق و اخلاص کا درس بھی دیا جاتا ہے۔ جب ان واقعات و حالات کو کوئی علمی، ادبی اور سیاسی شخص تحریر کرتا ہے تو ایسے خطوط تاریخ رقم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہ واقعات کوئی معمولی واقعات نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

کتاب ’حضرت مولانا علی میاں ندویؒ: یادوں کے جھروکے سے‘ کا رسم اجرا

12 جنوری 2018 کی رات ایک یادگار ادبی تقریب کے دوران مذکورہ کتاب کی رسم رونمائی عمل میں آئی،  تقریب کے ناظم اور جدید ترقی پسند شاعری کی معروف آواز جناب عتیق انظر صاحب نے فرمایا: کہ اس کتاب کے مصنف ہمارے عزیز دوست اور کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری جناب محمد شاہد خاں ندوی صاحب ایک علم دوست اور لکھنے پڑھنے سے گہرا تعلق رکھنے والے شخص ہیں، وہ مترجم بھی ہیں اور اس پہلے کئی کتابوں کا ترجمہ کر چکے ہیں، انکی یہ نئی کاوش برصغیر کے مشہور عالم مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کے بارہ میں ہے، اس موضوع پر مزید اظہار خیال کے لئے میں کاروان اردو قطر کے نائب صدر جناب حسیب الرحمن صاحب کو زحمت دوں گا۔

مزید پڑھیں >>

سلیم شوق پورنوی: سیمانچل کے ادبی افق پر طلوع ہوتا نیا ستارہ 

اول مولانا سرور حسین قاسمی جو کہ ایک بہترین مزاحیہ شاعر ہیں پھر ان کے حکم کے مطابق جناب تلک راج پارس جبلپوری سے منتسب ہوا .  الحمد للہ اب تک ان سے منسلک ہوں . کبھی کبھی دیگر شعرا سے بھی اصلاح کی سعادت حاصل کر لیتا ہوں .  ان میں جناب احمد ندیم مورسنڈوی، علامہ مسیح الدین نذیری قاسمی، کامران غنی  خاص طور پر قابل ذکر ہی

مزید پڑھیں >>

عظیم اردو افسانہ نگار سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو,بیسویں صدی کے عظیم الشان افسانہ نگارتھے,جنہوں نےاپنےافسانوں میں وقت کےبےرحم اورظالم سماج کوبالکل ننگاکرکےرکھ دیا,ان کےاندرمنافقت نہیں تھی وہ بدصورتی کوخوب صورت بناکرپیش کرنےکےقائل نہیں تھے,بغیرلاگ لپیٹ کےاپنی بات کہہ دیناان کاخاصہ تھا,انہوں نےسماج میں پھیلی ہوئی غلاظتوں کونہایت سچائی کےساتھ منظرعام پرلاناشروع کیا ان کےاوپرفحش نگاری کےالزامات بھی لگےمقدمہ بھی ہوالیکن ا نہوں نےکسی بھی الزام کی پرواہ نہ کی,نہ وہ مقدمہ سےہراساں ہوئے بلکہ بہت بےباکی کےساتھ اور دیوانہ وارسلگتےمسائل کواپنےافسانےکاموضوع بناتےرہے.ان کےافسانےلافانی اہمیت کےحامل ہیں ,ان کےسحرطرازافسانوں نےعالم گیرشہرت حاصل کی .

مزید پڑھیں >>

الحرا ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام شعری نشست کا انعقاد

الحرا ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام الحرا نیشنل اکیڈمی شرافت نگر  بہادرگنج، کشن گنج میں مورخہ 13 جنوری 2018 بروز سنیچر، ڈاکٹر خالد مبشر (استاد شعبئہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی) اور ڈاکٹر قسیم اختر (مدیر سہہ ماہی ابجد، ارریہ) کے اعزاز میں شعری نشست کا انعقاد ہوا۔

مزید پڑھیں >>

احمد فرازؔ کی شاعری میں احتجاج اور رومانیت کے عناصر

  بلا شبہ، نثر کے مقابلے شاعری کا جادو ہر خاص و عام کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بات صرف اُردو شاعری پر ہی صادق نہیں ہوتی بل کہ دنیائے ادب کی شاعری ہر دور میں قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرتی آئی ہے۔ لیکن ایسا بہت کم ہی ہوا ہے کہ کوئی شاعر ناقدین ادب کی توجہ کا بھی مرکز بنا رہا ہو اور عام لوگوں نے اِسے دادِ تحسین بھی دی ہو۔ اُردو ادب کے دامن میں بھی ایسے بہت سے شاعر ہیں جن کی شہرت کے چرچے ہر طرف سنائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>