ادب

احمد فرازؔ کی شاعری میں احتجاج اور رومانیت کے عناصر

  بلا شبہ، نثر کے مقابلے شاعری کا جادو ہر خاص و عام کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بات صرف اُردو شاعری پر ہی صادق نہیں ہوتی بل کہ دنیائے ادب کی شاعری ہر دور میں قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرتی آئی ہے۔ لیکن ایسا بہت کم ہی ہوا ہے کہ کوئی شاعر ناقدین ادب کی توجہ کا بھی مرکز بنا رہا ہو اور عام لوگوں نے اِسے دادِ تحسین بھی دی ہو۔ اُردو ادب کے دامن میں بھی ایسے بہت سے شاعر ہیں جن کی شہرت کے چرچے ہر طرف سنائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اخترؔ الایمان کی شخصیت کے چند نقوش

اخترؔالایمان(۱۹۱۵ء۔۱۹۹۶ء)کا شمار بیسویں صدی کے نما ٰیندہ نظم گو شاعروں میں ہوتا ہے۔فیضؔـ‘جوشؔ‘ن۔م۔راشدؔ اور میراجیؔ کے بعد جس شاعر نے اردو نظم نگاری کو نئی پہچان‘ جہت ‘ سمت و عروج بخشا وہ  اخترؔالایمان ہے۔اخترؔالایمان نے اپنے دور کی کسی بھی تحریک سے وابستہ ہو کر شاعری نہیں کی۔ حالاں کہ ایک طرف ان کے تعلقات ترقی پسند شاعروں اور ادیبوں سے تھے تو دوسری جانب حلقہ ارباب ذوق سے بھی ان کی دوستی تھی۔میراجی کے ساتھ ساتھ سردار جعفری‘ سجاد ظہیر‘ ملک راج آنند‘ کیفی اعظمی‘ شہر یار‘ مجروح سلطان پوری جیسے نام ور ادیبوں اور  شاعروں سے اچھے مراسم تھے۔

مزید پڑھیں >>