ادب

پروفیسر مظفر علی شہ میری’اردو یونیورسٹی اے پی’ کے وائس چانسلر نامزد

حکومت آندھرا پردیش نے 25مارچ کو جاری اپنے ایک سرکاری حکمنامہ کے ذریعے گزشتہ سال سے عثمانیہ کالج کرنول میں کارکرد ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی اے پی کے لئے اردو کے ممتاز محققـ‘نقاد‘ادیب ‘ شاعر‘مترجم ‘افسانہ نگار‘ماہر لسانیات اور صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد پروفیسر مظفر علی شہ میری کو وائس چانسلر نامزد کیا ہے۔ اردو کے استاد اردو داں طبقہ کے لئے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ حکومت نے تدریس کی اعلی درس گاہ یونیورسٹی کے اعلی انتظامی عہدے کے لئے انہیں نامزد کیا ہے۔انہیں چار سال کی مدت کے لئے اعلی عہدے پر تقرر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ،ڈاکٹر محمد عاقب دیشمکھ اورمسٹر پانڈے کا استقبال

ہندوستانی زبانوں کا مرکز، اسکول آف لینگویجز، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز ،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ،نئی دہلی میں مہاراشٹر صوبہ کے کھام گائوں ضلع بلڈانہ میں مقیم ڈاکٹر محمد راغب ڈاکٹر محمد طالب دیشمکھ (صدر شعبۂ اردو ) جی ایس سائنس ، آرٹس اینڈ کامرس پی جی کالج کھام گائوں ضلع بلڈانہ (ودربھ) امرائوتی یونیورسٹی امرائوتی ، ڈاکٹر محمد عاقب ڈاکٹر محمد طالب دیشمکھ (صدر شعبۂ اردو ) شریمتی کیشر بائی لاہوٹی آرٹس اینڈ کامرس پی جی کالج امرائوتی ضلع امرائوتی ، امرائوتی یونیورسٹی امرائوتی، اور مسٹر پانڈے صاحب مقیم امریکہ (اردو زبان کے سچے عاشق اور شیدائی) کا شعبۂ اردو میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔

مزید پڑھیں >>

معافی کی تلاش

میرے سامنے ایک نیم پا گل شخص بیٹھا تھا۔ اُ سکی عمر ساٹھ سا ل کے اوپر نیچے تھی۔ اُ سکے چہرے اور آنکھوں کے تاثرات واضح طو رپر بتا رہے تھے کے وہ اپنے حواس میں نہیں ہے۔ کو ئی بہت بڑا دکھ کر ب آکا س بیل بن کر اُس کی ہڈیوں تک سرائیت کر چکا تھا۔ وہ ہو ش اور دیوانگی کے درمیان پنڈولم کی طرح جھول رہا تھا۔ اُ سکی نیم پتھرائی آنکھوں میں تلا ش تھی۔ کھو ج تھی جب اُس پر پا گل پن کا دورہ پڑتا تو وہ نیم جان ہو جا تا اور جب اُس کے اعصاب وحواس نا رمل ہو تے تو وہ بار بار ایک ہی سوال کر تا ہر آنے جانے والے کے پیچھے دوڑتا ہر ایک سے ایک ہی با ت کر تا لیکن اُ سکی دیوانگی اُس کے سوال کا جواب کسی کے پا س بھی نہیں تھا ۔

مزید پڑھیں >>

دلت ڈسکورس اور ناول’ تخم خوں’کی موضوعاتی انفرادیت

اسے جمہوری نظام میں ووٹوں کی اہمیت ہی کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی و سماجی حاشیہ پر بھی دکھائی نہ دینے والی ذات آج اقتدار کے پھیر بدل میں اہم کردار ادا کرتی ہے مگر اس سیاسی قوت کے بعد بھی انکے حالات ناگفتہ بہ ہیں اور قابل ذکر تبدیلیاں نظر نہیں آتی ہیں مگر یہ بھی نہیں کہا جاسکتاکہ حالات آج بھی پچاس سال پہلے کی طرح ہیں ۔ممکن ہے مذہبی طبقاتی نظام آج بھی انہیں اچھوت ہی سمجھتا ہو مگر جمہوری نظام انہیں برابر کے حقوق دینے کی بات کرتا ہے ۔اسکی زمینی حقیقت کیاہے یہ الگ موضوع بحث ہے ۔ناول’’تخم خوں ‘‘ بھی اس طبقاتی نظام اور تقسیم ذات کے المیاتی مسائل پر روشنی ڈالتاہے۔’’تخم خوں ‘‘ کا موضوع گوکہ سیاسی دوغلے پن پر زیادہ فوکس کرتاہے مگر درون متن جابجا طبقاتی نظام کے اثرات،تقسیم ذات کا عذاب اور دلتوں کی زندگی کی کڑوی حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی ہے ۔

مزید پڑھیں >>

سرکار سے سوال: NEET کا امتحان اردو زبان میں کیوں نہیں؟

اردو زبان ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں چھٹے نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں رہنے والی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جس اردو میڈیم سے ہے۔ بہت سارے طلبہ ایسے ہیں جو سائنس کو اردو میڈیم سے پڑھتے ہیں اور اس کے لیے گیارھویں اور بارویں کلاس کے طلبہ کے لیے NCERT کی اردو میں کتابیں بھی موجود ہیں ۔ انھوں نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا رینکنگ میں جو زبانیں اردو کے بعد آتی ہیں NEET میں انھیں تو شامل کر لیا گیا ہے، البتہ اردو کے ساتھ ہی حکومت کا غیر منصفانہ رویہ کیوں ہے؟

مزید پڑھیں >>

 بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام غیر طرحی مشاعرہ

اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے کوشاں با کمال شاعروں اور ادیبوں کی منفرد تنظیم، بزمِ اردو قطر (قائم شدہ 1959 ء ) کی جانب سے غیر طرحی مشاعرے کا انعقاد بروز جمعہ، بتاریخ 17/ مارچ 2017ء بمطابق 18 /جمادی الآخر، 1438ھ بمقام ٹی ین جی اسکول،دوحہ میں کیا گیا۔ شعرائے کرام اور سخن فہم سامعین کی ایک بڑی تعداد نے اس پروگرام میں شرکت کی۔

مزید پڑھیں >>

غریب پروری

ہمیں یہ یا د نہیں رہتا کہ ہم تو ڈاکیے ہیں ہما ری یہ ساری شان و شوکت لش پش زندگی گا ڑیاں بنگلے چیک بکس دفتر ملازم ہا وسز ملکی و غیر ملکی دورے کسی غریب کی ڈیوٹی کے بدلے دستیاب ہیں اور جب ہم کسی ایسے بندے کو ڈیوٹی سے فارغ کر تے ہیں تو کائنات کا اکلوتا وارث ہمیں دھتکا رے ہو ئے لوگوں میں شامل کر کے کیڑے مکو ڑے بنا کر زمین پر رینگنے کے لیے چھو ڑدیتا ہے شیخ صاحب کی آنکھوں سے آنسو آبشار کی طرح بہہ رہے تھے میں نے اُس غریب پر بہت بڑا ظلم کیا ہے مجھے اُسی کی سزا مل رہی ہے اسی لیے میں نے شیخ صاحب سے کہا جا ئو اُس غریب کو ڈھونڈ کر اُس سے معافی مانگو اُس کی معا فی سے شاید پھر تمہا رے لیے خدا رزق کے دروازے کھو ل دے ۔

مزید پڑھیں >>