ادب

احمد ندیمؔ قاسمی: ذات و صفات

ندیمؔ ؔ صاحب واقعی درویش صفت انسان تھے۔ وہ زندگی اور اُس کے حُسن کے قدر دان تو تھے لیکن انھیں زیادہ کا حرص اور عیش و آرام کا لالچ نہیں تھا، جب کہ وہ ضروریات ِ زندگی خود اپنے دستِ محنت سے پوری کر لیتے۔ وہ کبھی چھینتے نہیں تھے لیکن اپنا کچھ چھیننے بھی نہیں دیتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی مرضی سے جتنا چاہا بانٹ دیا۔ وہ اُن کا قیمتی وقت ہی کیوں نہ تھا، کیوں کہ اُن کا پختہ یقین اس میں تھا کہ سکھ سب میں برابر تقسیم ہونا چاہیئں۔

مزید پڑھیں >>

قلم کاروان

  منگل مورخہ 9جنوری 2018 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38، G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔  ایجنڈے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں صدربزم شوری جناب سلطان محمودشاہین کا مقالہ بعنوان’’قدرت کی منصوبہ بندی‘‘پیش ہوناطے تھا۔ آج کی نشست میں بزم شوری پاکستان کاتعاون بھی شامل تھا۔ معروف کالم نگارجناب میرافسرامان نے صدارت کی۔  ادبی نشست کے آغازمیں ڈاکٹرساجدخاکوانی نے تلاوت کی اورانجینئرمجاہدحسین نے مطالعہ حدیث پیش کیا۔

مزید پڑھیں >>

پذّا بوائے: کچھ حقیقت کچھ فسانہ

توصیف بریلوی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ان تمام حالات کا بہ غور مطایعہ کر، انھیں افسانے کی شکل عطا کی۔ آنے والے وقت میں ہم ان سے ایسے ہی موضوعات پر اورکھل کر لکھنے کی اُمید کرتے ہیں ۔ ویسے توصیف بریلوی نے اپنا قاری اور نقاد خود پیدا کر لیا ہے۔ یہ ان کے لیے خوش آئین بات ہے۔ اس افسانے کو پڑھ کر ہماری تیز رفتار زندگی میں بریک لگ جائیے تو بہتر ہے۔ یہی افسانے کی کامیابی کی ضمانت ہوگی۔

مزید پڑھیں >>

ممتاز پی جی کالج میں مقابلہ شعر وسخن منعقد

آج ممتاز پی جی کالج کی لٹریری سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہورہے سالانہ مسابقاتی پروگرام کے دوسرے روز شعر وسخن کامقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ طلباء وطالبات نے اپنی خودنوشت نظمیں پڑھیں۔ اور اردو، ہندی اورانگریزی تینوں زبانوںمیں اپنے منتخب اشعار کے ذریعہ اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کامظاہرہ کیا۔

مزید پڑھیں >>

دبستان لکھنؤ و دلی کی شعری خصوصیات

شعرائے دہلی کے کلام میں جہاں زبان میں سلاست و روانی کا عنصر نمایاں ہے وہاں اختصار بھی ہے۔ اس دور میں دوسری اصناف کے مقابلے میں غزل سب سے زیاده نمایاں رہی ہے۔ اور غزل کی شاعری اختصار کی متقاضی ہوتی ہے۔ اس میں نظم کی طرح تفصیل نہیں ہوتی بلکہ بات اشاروں کنایوں میں کی جاتی ہے۔ اس لئے ان شعراءکے ہاں اختصار ملتا ہے۔ نیز غزل کا مخصوص ایمائی رنگ بھی موجود ہے۔ یہاں کے شعراءاپنے دلی جذبات و احساسات کو جو ں کا توں بڑی فنکاری سے پردے ہی پردے میں پیش کر  دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

افسانہ ’بھات‘ کا تنقیدی تجزیہ

ویسے میں نے معاشرے میں بھات کے نام پر لوگوں کو مقروض ہوتے دیکھا ہے۔ لیکن جس خوبصورتی سے توصیف بریلوی نے اس افسانے کا تانہ بانہ بنا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ سماج مین جڑ جما چکی اس برائی کو اب ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے اور نو جوان نسل کو اس خفی برائی یا لعنت سے روبرو کرانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ توصیف بریلوی نے اس افسانے کی تخلیق کرکے اس برائی کو ختم کرنے کی جانب  پہلا قدم بڑھایا ہے۔ ان کے اس قدم کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

مزید پڑھیں >>

افسانہ ’ایک ماں‘ کا سماجی اور نفسیاتی مطالعہ

افسانہ نگار کو میں افسانہ ’’ایک ماں ‘‘ کی تخلیق کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ ساتھ ہی توصیف صاحب نے اپنے افسانے میں جمالیاتی پہلوؤں کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ ماں کی اپنے بچے سے والہانہ محبت جمالیات کا ہی حصہ مانا جاتا ہے۔ اُمید کرتا ہوں کہ قارئین کے ذہنوں کے نہاں خانوں میں عرصہء دراز تک اس افسانے کی بازگشت سنائی دیتی رہے گی۔

مزید پڑھیں >>