ادب

کتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو

اس پر اہل ایوان نے خوب لطف لیا۔ بی جے پی میں سشما سوراج ایسی لیڈر ہیں جن کو اچھے اشعار یاد ہیں ۔ جب من موہن سنگھ بیٹھ گئے تو سشما کھڑی ہوئیں اور انھوں نے شگفتہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم نے شعر سے ہمارے اوپر حملہ کیا ہے۔ ہم بھی اس کا جواب دینا جانتے ہیں ، ہم شعر ادھار نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں >>

حدیث حسن و حکایت روزگارکی بیدارمغز شاعرہ صاحبہؔ شہریار

صاحبہ شہریار کا رنگِ تغزل قدیم و جدید اسالیبِ سخن کا ایک خوشنما امتزاج ہے۔ اُنہوں نے اپنی شاعری میں قدیم و کلاسیکی شعری روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ جدید عصری میلانات و رجحانات کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے اپنی غزلیہ شاعری میں حدیث دلبری کے ساتھ ساتھ تفسیرِ کائنات کو بھی موضوعِ سخن بنایا ہے جو ایک اچھی اور سچی شاعری کا طرۂ امتیاز ہے۔

مزید پڑھیں >>

مولانا ابوالکلام آزاد کی نظر میں سر سید اور علی گڑھ کی معنویت

 مولانا آزاد اور سرسید کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ہمدردانِ قوم میں تعلیمِ نسواں کے مسئلے پر اختلاف رہا ہے۔سر سید کی اس معاملے میں یہ رائے تھی اگر گھر کے مرد حضرات پڑھ لکھ جائیں گے تو گھر کی عورتیں خود بہ خود تعلیم یافتہ ہو جائیں گی۔لیکن مولانا آزاد کا موقف اس کے بر عکس تھا۔ وہ تعلیمِ نسواں کے زبردست حمایتی تھے۔ان کے نزدیک لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم  میں امتیاز رکھنا ایک گناہِ عظیم تھا۔یہی وجہ ہے ملک کے پہلے وزیر تعلیم بننے کے بعد انھوں نے ہندوستان کی تعلیمی پالیسی بناتے وقت اس موقف کو مد نظر رکھا اور تعلیم سب کے لیے پر خاص توجہ دی۔

مزید پڑھیں >>

’امیر خسرو اور انسان دوستی‘ کے موضوع پر خطبہ

 پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ خلیق انجم یادگاری خطبات کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ کرنل بشیر حسین زیدی کہا کرتے تھے کہ میرے پا س ایک جن ہے اور وہ ہے ڈاکٹر خلیق انجم۔ ان سے جو کام کرنے کو وہ ہوجاتا ہے۔ خلیق انجم ہمیشہ اپنے آپ کو مصروفِ کار رکھتے تھے۔ یہ اردو گھر کا موجود ہونا ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

نعت گوئی اور مدحت رسول

حاضرین مدح رسول صلی اللہ علیہ میں جو نعت گوئی شکل میں دور رسالت سے چلی آرہی ہے، ہم نے صرف اس کے چند اردونمونے ہم نے اپنے اردو بھائیوں کے گوش گذار کی ہیں، ورنہ ان شعراء کی طویل فہرست جنہوں نے حب نبوی اور عشق رسول کا  زمزمہ گایا اور   اور اپنی عقیدت ومحبت اور وارفتگی اور حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بیش بہا اور انمول تحفہ نعت گوئی کی شکل میں امت کے سامنے پیش کیا جو امت کے بچے بچے کے زبان زد ہیں، وہ ان اشعار کے گنگاتے ہیں اور اپنی خوش آزوای اور اپنے ممتاز ومنفرد ترنم اس کا ایسے زیر وبم پیش کرتے ہیں، حاضرین عشق رسول اور محبت رسول کے دریا میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

از راہِ ثواب

۔وہ بے چاری بیوہ ہے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم لوگ تو جانتے ہی ہوکہ میری پینشن آٹھ ہزار روپے ہے۔۔۔۔۔۔۔اور پھر میں آج ہی تھوڑی مرنے والا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ رہے گی تو۔ ۔۔۔۔۔ بیچاری کی باقی کی زندگی آرام سے گزر جائے گی۔بچے پال لے گی۔۔۔۔۔۔‘‘

مزید پڑھیں >>

انگریزی شعر و ادب پر یہودی اثرات (دوسری قسط)

 گیارھویں سے دسویں صدی قبل مسیح تک طالوت، حضرت داودؑ اور حضرت سلیمان ؑکے عہد میں یہودیوں کوجوسربلندی اور طاقت نصیب ہوئی تھی وہ برقرار نہ رہ سکی تھی۔ ہر عروجے را زوال کے کُلیّے کی تہ میں جھانکا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ زوال کا گَرہن پہلے قوموں کے معتقدات و اخلاقیات کو لپیٹ میں لیتا ہے اور پھر اثر و اقتدار اور شوکت و عظمت کے سورج کی ضیا پاشیوں کو ظلمتیں گھیر لیتی ہیں ۔معلوم تاریخ ِ انبیاء میں حضرت یوسف علیہ السّلام کو ہم مصر کے اقتدار تک پہنچا ہوا دیکھتے ہیں۔انہی کے اقتدار کے عرصے میں آلِ یعقوب کنعان سے اٹھ کر مصر میں جا آباد ہوئے تھے۔آنجناب کے کچھ عرصہ بعدبنی اسرائیل کو مصر کے فرعونوں نے اپنا محکوم بنا لیا اور ان پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیے۔

مزید پڑھیں >>

‘لنگی’ افسانہ یا حقیقت بیانی!

محسن خان یونیورسیٹوں کے پروفیسرس اور اردو کے ادبی حلقوں میں ایک لفظ جوباربارسننے میں آرہا ہے وہ ہے لنگی۔ لنگی ایک فائدہ مند چیز ہے اورہرکوئی اسے پہنتا ہے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے لوگ لنگی پہننے سے ڈررہے …

مزید پڑھیں >>