ادب

مجلس فخر بحرین کی جانب سے انور جلال پوری کے سانحۂ ارتحال پر تعزیتی نشست

معروف ناظم مشاعرہ ، ادیب، مصنف، شاعر جناب انور جلال پوری کے سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی اجلاس مجلس فخربحرین برائے فروغ اردو کے زیر اہتمام گزشتہ شب، دو جنوری بروزمنگل مجلس کے بانی محترم شکیل احمد صبرحدی کی رہائش گاہ پرمنعقد ہوا، جس میں بحرین کے معتبر شعراء کرام، نثر نگار اور ممتاز سماجی و ادبی شخصیات نے شرکت فرمائی۔ اس تعزیتی اجلاس کے میر محفل محترم شکیل احمد صبرحدی تھے جب کہ بحیثیت مہمانانِ خصوصی ڈاکٹر شعیب نگرامی، معروف ادب نواز شخصیت محترم نور پٹھان صاحب و محترم احمد عادل موجود تھے۔

مزید پڑھیں >>

شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام اردو فیسٹیول اور عالمی اردو سمینار

اردو تلنگانہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام اس سال 22 جنوری کو فن تحقیق کے موضوع پر عالمی اردو سمینار منعقد کیا جائے گا جس میں نامور محقق و ماہر اقبالیات اور شعبہ اردو کے وزیٹنگ پروفیسر ڈاکٹر سید تقی عابدی کناڈا سے شرکت کریں گے. اسی طرح ماہ فروری کی 22 تاریخ کو یونیورسٹی و ڈگری کالج کے طلباء کے بین جامعاتی ادبی مقابلوں کے اردو فیسٹیول کا انعقاد عمل میں آئے گا. ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اطہر سلطانہ صدر شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد نے شعبہ اردو کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ شعبہ جاتی کانفرنس سے کیا.

مزید پڑھیں >>

شعری مجموعے ’ظہورِ غزل‘ کا تنقیدی مطالعہ

ظہور احمد صاحب کا کمال یہ ہے کہ ان کے سامنے زبان کی خدمت اور ذاتی شعری مشق کے لیے روزگار کبھی مسئلہ بن کر رُکاوٹ نہیں بنا۔باری تعلی اور تقدیر پر انھیں مکمل یقین اوربھروسا تھا۔وسائل کی فراوانی انھیں خوب میسر رہی۔آج اُن کی کاوش اُردو دنیا کے سامنے ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ ان کا یہ شعری مجموعہ اُردو غزل کے فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت سے پذیرائی حاصل ضرور کرے گا۔آخر میں میں ظہور احمد ظہورؔ کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں ۔

مزید پڑھیں >>

اردو سب کے لئے؟

یہ بات ہر کسی کو معلوم ہونی چاہیے کہ جہاں ہندوستان کی موجودہ شکل و شباہت اور بالغ نظری کو مستحکم کرنے میں علماء کا کردار بہت اہم رہا ہے وہیں اردو ادب پہ علماء کا یہ احسان رہا کہ انہوں نے زبان کو کبھی پیٹ کا مسئلہ نہیں بنایا وہیں اسکی اس طرح سے پرورش کرتے رہے گویا یہ انھیں کی بیٹی ہے. اس روایت کو آزادی کے بعد علماء نے اس طور سے آگے بڑھایا کہ آج بھی ان کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا. اس ضمن میں مدارس، مکاتیب، ذاتی لایبریریاں، مجلات، مسجدوں کے خطبات، مذہبی جلسے، تقاریر، مشاعرے، نعت خوانی کی روایت ایسی مثالیں ہیں کہ ادب کی نئی چادریں ادب کے  دینی جسم کو ڈھانپنے سے قاصر دکھائی پڑتی ہیں.

مزید پڑھیں >>

بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام شاعرِ خلیج جلیلؔ نظامی کی الوداعی تقریب

 بزمِ اردو قطر کے خازن جناب غلام مصطفی انجم نے کثیر تعداد میں تشریف لائے  با ذوق سامعین و شعراے کرام اور مختلف تنظیموں کے نمائندو ں کا تہہِ دل سے استقبال کیانیز بزمِ اردو قطر کا مختصر تعارف بھی پیش فرمایا۔اِس موقع پر بزمِ اردو قطر  کی جانب سے جناب جلیلؔ نظامی کی شعری و ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک شیلڈ پیش کی گئی۔ قطر کے اردو حلقہ میں محمد رفیع کی یاد تازہ کراتے رہنے والے خوش گلو جناب عبد الملک قاضی کو کون نہیں جانتا۔ جناب عبدالملک قاضی کی پُر کیف آواز ہو اور جناب جلیلؔ نظامی کی غزل، تو سامعین کی کیفیت اور پروگرام کے آہنگ کا اندازہ  لگانا مشکل نہیں ہے۔ حسب توقع کچھ لمحوں کے لیے سامعین وادیِ غزل میں کھو سے گئے تھے اور بے خودی کے عالم میں داد و تحسین کے کلمات سے مسلسل نوارتے جا رہے تھے۔

مزید پڑھیں >>

انور جلال پوری شاعر ہی نہیں بہترین نثر نگار بھی تھے

ا س کے بعد انور جلال پوری اپنی ذات، اپنے خاندان اور اپنے علاقے کی حدود سے باہر نکلتے ہیں اور مختلف شخصیات پر قلم اٹھاتے ہیں۔ علامہ اقبال او رمولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کے سحر سے کون صاحبِ دل بچا ہوگا۔ انور بھی نہیں بچے۔ اس تعلق سے ان کے خیالات چغلی کھاتے ہیں کہ انھیں مذکورہ دونوں شخصیات سے عقیدت ہے۔ اقبال پر تین مضامین اقبال کی عبقریت، اقبال خود آگاہی کا نقیب اور اقبال انسانی عظمت کا پیغامبر شامل کتاب ہیں۔ جبکہ مولانا آزاد پر ایک مضمون ہے جو ان کے ایک تاریخی خطبے کو محیط ہے۔

مزید پڑھیں >>