ادباردو سرگرمیاں

اردو سیمنار: میں تجھے مہماں کروں اور تو مجھے مہمان کر

اردو کے فروغ کے نام پر سیمناروں کے انعقاد کرانے والی اردو تنظیموں نے اب منظم ریکٹ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ سیمنار کی حقیقی علمی روایت کیا ہے اور ہمارے یہاں اس روایت کی مٹی کس طرح پلید ہورہی ہے، اے۔ رحمان کی اس چشم کشا تحریر میں پڑھیے۔

تحریر: اے۔ رحمان

اردو میں انگریزی لفظ سیمنار کا ترجمہ بعض لغات میں ’مذاکرہ‘ درج ہے جو اس وجہ سے ڈھیلا ہے یعنی پورے طور پر درست نہیں ہے کہ سیمنار سے جس اعلیٰ سطح کی علمی اور ادبی کاوش اورسرگرمی وابستہ ہے ’مذاکرہ‘ اس کا منصفانہ احاطہ نہیں کرتا۔ اس سرگرمی کی اہمیت کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ سیمنارلاطینی لفظ seminarium سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی ہیں وہ قطعۂ زمین جہاں ان پودوں کے بیج بوئے جاتے ہوں جنھیں پیوند کاری (transplantation) کے لیے اگایا جاتا ہے (یعنی ان پودوں کو اکھاڑ کر دوسری جگہوں پر مکمل درخت بننے کے لیے بویا جائے گا) اس اشتقاق کے دور رس مفاہیم اور مضمرات غور طلب ہیں۔ سیمنار کئی قسم کے ہوتے ہیں جن میں کاروبار کے فروغ کے لیے کیے جانے والے نیز تحریک انگیز (motivational ) سیمنار بھی شامل ہیں لیکن یہاں مقصود وہ سیمنار ہیں جو جامعات ، دانش گاہوں اور علمی ادبی تنظیموں کے ذریعے تدریس یا فروغ زبان و ادب کے مقصد سے منعقد کیے جاتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں سیمناروں کی نوعیت اور طریقۂ انعقاد قدرے مختلف ہے لیکن ایک بات جو دونوں جگہ مشترک ہے یہ ہے کہ سیمنار میں منتخب موضوع کے ماہرین یا ریسرچ اسکالرز ہی حصّہ لے سکتےٍ ہیں اور ان کے ذریعے پیش کیے گئے مقالات پر بعد میں باقاعدہ مباحثہ ہوتا ہے جس سے یا تو کوئی نتیجہ برآمد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یاموضوع اور مضمون کے تعلق سے سامنے لائے گئے نئے گوشے اور نظریات نمایاں کیے جاتے ہیں۔ جہاں تک سائنسی سیمناروں کا تعلق ہے تو وہ دنیا ہی الگ ہے اور کسی بھی سائنسی موضوع پر عموماً بین الاقوامی سیمنار ہوتے ہیں جن میں دیے گئے موضوع پر لکھے گئے مقالے یامقالات کو بہت سخت امتحان سے گزرنا ہوتا ہے۔ ایک ہی مقالہ ہو تو ماہرین اس کا تجزیہ کرکے فیصلہ صادر کرتے ہیں کہ مقالے میں جو نظریہ پیش کیا گیا ہے وہ کس حد تک درست ہے اور کیا وہ نسبتاً اونچے درجے کی تحقیق کا موضوع بن سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ سیمنار ایک نہایت اہم اور موقر علمی سرگرمی ہے جو متعلقہ علم کے سلسلۂ فروغ کی اہم کڑی سمجھی جاتی ہے۔

بعض تنظیمیں محض اسی کاروبار کے لیے بنی ہوئی ہیں جن کا وجود ان کے نام اور لیٹر ہیڈ تک محدود ہے لیکن وہ دھڑلّے سے مختلف سرکاری اور دیگر اداروں سے پیسہ لے کر سیمنار کا دھندہ چلارہی ہیں۔

اب آیئے اردو سیمناروں پر جن کے انعقاد نے اب ایک منظّم ریکٹ (مالی منفعت یا دیگر فائدے کے لیے بددیانتی سے کیا جانے والا کام) کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ہمارے یہاں ان سیمناروں کا انعقاد عموماً تین سطحوں پر کیا جاتا ہے۔ مقامی، قومی اور بین الاقوامی۔ (لفظ بین الاقوامی‘ سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر سیمنار گورکھپور میں کیا جا رہا ہے اور آپ قریبی سرحد کے پار نیپال سے ایک بھی مقالہ نگار کو مدعو کرلیں تو سیمنار کی نوعیت بین الاقوامی ہو جائے گی) اور ان کے منتظمین بھی تین اقسام کے ہوتے ہیں: تعلیمی ادارے، سرکاری اکیڈمیاں اور غیر سرکاری یعنی پرائیویٹ علمی اور ادبی تنظیمیں۔ اگر منتظم کوئی دانش گاہ (یونیورسٹی ، کالج وغیرہ) ہے تو سیمنار کے جملہ اخراجات وہی برداشت کرے گی۔ یہی اصول سرکاری اکیڈمیوں کا ہے۔ غیر سرکاری تنظیمیں سیمنار کرانے کے لیے سرکاری اداروں یونیورسٹیوں اور وزارتوں سے فنڈ حاصل کرتی ہیں۔ اثر رسوخ والی پرائیویٹ ادبی تنظیموں کو بڑی بڑی صنعتی کمپنیوں وغیرہ سے بھی سرپرستی (sponsor) مل جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں سیمنار ان تنظیموں کے لیے ایک مستقل ذریعۂ آمدنی ہوتے ہیں۔ فرض کیجیے سیمنار کے لیے ایک لاکھ روپیہ بطور گرانٹ وصول ہوا۔ پچاس ہزار میں سیمنار کرایا اور بقیہ ان کی آمدنی یا منافع سمجھیے۔ زیادہ چالاک قسم کے منتظمین تو دس بیس ہزار میں سیمنار کراکے گرانٹ کا بیشتر حصہ ہضم کر جاتے ہیں۔ بعض تنظیمیں محض اسی کاروبار کے لیے بنی ہوئی ہیں جن کا وجود ان کے نام اور لیٹر ہیڈ تک محدود ہے لیکن وہ دھڑلّے سے مختلف سرکاری اور دیگر اداروں سے پیسہ لے کر سیمنار کا دھندہ چلارہی ہیں۔ یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے اردو کے ذریعے منعقد کیے جانے والے مقامی اور قومی سیمناروں کاایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہر صدرِ شعبہ کے پاس ان کے پسندیدہ اشخاص کی فہرست ہوتی ہے اورسیمنار خواہ کسی بھی موضوع پر ہو رہا ہو فہرست میں درج پروفیسروں یا ادیبوں کو مقالہ پڑھنے کے لیے ضرور بلایا جاتا ہے۔ جواب میں وہ سب لوگ بھی باری باری اپنے سیمناروں میں ان کو بلاتے ہیں یا دوسرے سیمناروں کے لیے ان کے نام کی سفارش کرتے ہیں۔

لیکن سیمنار میں ہوتا کیا ہے ذرا وہ دیکھیے۔ اصول یہ ہے کہ سیمنار میں موضوع کے ماہرین کو بلایا جائے یا ان لوگوں کو جو اس موضوع پر تحقیق یا کسی قسم کا کام کر رہے ہوں یاکر چکے ہوں۔ لیکن ہمارے یہاں ایسی کوئی شرط یا تخصیص روا نہیں رکھی جاتی۔ ہر شخص کو ہر موضوع پر مقالہ لکھنے کے لیے مدعو کیا جاسکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو ادیب، پروفیسر یا ریسرچ اسکالر ایک سیمنار میں موازنۂ انیس و دبیر پر مقالہ پڑھ کر آیا ہے وہ دوسرے سیمنار میں عبد الرحمن بجنوری پر اور تیسرے سیمنار میں منٹو کے افسانوں پر مقالہ پڑھتا نظر آ تا ہے۔ اب ان مقالوں کی کیا وقعت یا توقیر ہو سکتی ہے یا ہوتی ہے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ وقت کی کمی اور مقالہ نگاروں کی بھرمار کے باعث کوئی ایک مقالہ نگار بھی چند منٹ سے زیادہ اپنا مقالہ نہیں پڑھ پاتا۔ اس کی ایک بد ترین مثال آگے آئے گی۔

ایک اور بدعت جو سیمناروں میں در آئی ہے وہ ہے تکثیری صدارت۔ عربی اور فارسی دونوں لغات میں لفظ ’صدر‘ کے جو معنی درج ہیں ان کی روشنی میں صدر تو ایک ہی ہو سکتا ہے لیکن اب ہر سیمنار میں بیک نشست دو تین حضرات کی صدارت ایک عام بات ہو گئی ہے اور کئی ایک سیمناروں میں تو پوری مجلس الصدورموجود پائی جاتی ہے۔

وقت کا تقاضہ ہے کہ سیمنار کے موضوع پر سخت قسم کے قوانین اور رہنما اصول بنا کر نافذ کیے جائیں تاکہ اردو کی دہائی دے کر ذاتی مفاد کے لیے کی جانے والی اس قسم کی مضحکہ خیز اور ضرر رساں مجمع بازیوں کا سدِّ باب کیا جا سکے۔

بین الاقوامی سیمنار سب سے زیادہ مرغوب معاملہ ہے۔ آپ جس غیر ملک سے مقالہ نگار مدعو کریں اسی ملک میں آپ کو جواباً مدعو کر لیا جائے گا۔ اکثر یہ سانٹھ گانٹھ سیمنار سے پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ اب تو چند حاضر سروس پروفیسر حضرات نے کھلّم کھلّااپنی کاغذی تنظیمیں بنا کر رجسٹر کرا لی ہیں جن کے زیرِ اہتمام قومی اور بین الاقوامی سیمنار منعقد ہوتے ہیں۔ سہولیات یونیورسٹی کی یعنی مفت اور گرانٹ این سی پی یو ایل یا کسی اکیڈمی کی۔ آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام۔ ایران و مصر سے مقالہ نگار بلوایئے اور بعد میں خود ایران و مصر کی سیر کو جایئے۔ کیا خوب سودا نقد ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔

ابھی نئی دلّی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ایسا ہی ایک بین الاقوامی سیمنار منعقد ہوا جس کے کنوینر اور روحِ رواں تھے پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین۔  جنھوں نے حال ہی میں ’اردو کے فروغ‘ کے لیے ورلڈ اردو ایسوسی ایشن نام سے ایک تنظیم بھی بنائی ہے۔ اس دو روزہ سیمنار میں غیر ملکی مہمانان کے علاوہ مقالہ نگاروں کی تعداد تقریباً پچپن تھی۔ پتہ چلا مقالہ نگار تو اس سے بھی زیادہ بلا رکھے تھے لیکن بعض لوگ ذاتی مجبوریوں کی بنا پر شریک نہیں ہو سکے۔ افتتاحی تقریب، کلیدی خطبہ ،مرثیہ خوانی، اجرائے کتب اور پورے ایک درجن مہمانانِ خصوصی کی تقاریر کے علاوہ ساٹھ مقالہ نگاروں کو نو گھنٹے کی سات نشستوں میں اپنے مقالے پیش کرنے تھے۔ فی مقالہ نگار تین منٹ کا وقت مہیّا ہو سکا۔ اب تین منٹ میں تو کسی کو قاعدے سے گالیاں بھی نہیں دی جا سکتیں علمی یا ادبی مقالہ پڑھنا تو دور کی بات ہے۔ پوچھنے پر دلیل یہ دی گئی کہ تمام مقالات بعد کو کتابی صورت میں شائع کیے جائیں گے۔ اب اگر کتاب ہی شائع کرنی تھی تو مقالے منگا کر سیدھے سیدھے کتاب ہی کیوں نہیں شائع کر دی گئی، اس مداری کے تماشے کی کیا ضرورت تھی جو سیمنار کی بے حرمتی اور اردو کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

بہر حال سیمنار کے بعد خوب جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے اور اردو کا فروغ ہو رہا ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ سیمنار کے موضوع پر سخت قسم کے قوانین اور رہنما اصول بنا کر نافذ کیے جائیں تاکہ اردو کی دہائی دے کر ذاتی مفاد کے لیے کی جانے والی اس قسم کی مضحکہ خیز اور ضرر رساں مجمع بازیوں کا سدِّ باب کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

اے۔ رحمان

صاحبِ تحریر معروف کالم نگار اور سرگرم اردو تنظیم عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close