نظم

آصفہ کی موت عصری کرب کی ہے داستاں

عالمِ انسانیت ہے سن کے جس کو نوحہ خواں

احمد علی برقیؔ اعظمی

آصفہ کی موت عصری کرب کی ہے داستاں
عالمِ انسانیت ہے سن کے جس کو نوحہ خواں

ہیں وہ وحشی اور درندوں سے بھی بدتر بدنہاد
دے رہے ہیں مجرموں کا ساتھ جو قانون داں

آٹھ سالہ بچی کی عصمت دری پر ہیں جو چُپ
ہوں گی اُن کے پاس بھی اپنی چہیتی بیٹیاں

ڈوب جائیں جاکے چُلو بھر وہ پانی میں کہیں
سینکتے ہیں اس پہ جو اپنی سیاسی روٹیاں

جن کے سینے میں دھڑکتا ہے دلِ درد آشنا
آج ہیں اِس صدمۂ جانکاہ سے وہ نیم جاں

دیکھئے مِت ہندو و مُسلم کی عینک سے اسے
جان سے ہوتی ہیں پیاری سب کو اپنی بچیاں

ہوسکے توکیجئے سنجیدگی سے اس پہ غور
میں نہیں کہتا مِلائیں آپ میری ہاں میں ہاں

اپنے ہم وطنوں سے برقیؔ کی یہی ہے التجا
ساتھ دیں اک دوسرے کا بھول کر سب تلخیاں

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close