نظم

آصفہ

ایک معصوم سی روشنی بجھ گئی

ثمر آرزو

( مئوناتھ بھنجن،یوپی)

ایک معصوم سی روشنی بجھ گئی
بجھ گئی مشعلِ زندگی بجھ گئی
خار  کھل سے گئے پھول مرجھا گیا
آصفہ آصفہ آصفہ آصفہ

اپنے گلشن میں ہی مجھ کو مَسلا گیا
گھر سے بھگوان کے مجھ کو پکڑا گیا
کیا تھی میری خطا کیوں ملی ہے سزا
آصفہ آصفہ آصفہ آصفہ

مَیں تو معصوم تھی مَیں تو نادان تھی
اپنے انجام سے خود ہی انجان تھی
میری معصومیت کا ملا یہ صلہ
آصفہ آصفہ آصفہ آصفہ

جسم کے ہر لٹیرے نے لوٹا مجھے
چیختی مَیں رہی پھر بھی لُوٹا مجھے
اِس جہاں سے مجھے اُس جہاں کر دیا
آصفہ آصفہ آصفہ آصفہ

میرے قاتل سے پوچھو یہ کیا کر دیا
ماں کی آغوش سے کیوں جدا کر دیا
سُن کے یہ داستاں دل *ثمر* پھٹ گیا
آصفہ آصفہ آصفہ آصفہ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close